سقوط کردہ فرشتے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سلویسٹر البانو کا تخلیق کردہ سقوط کردہ فرشتے کا خیالی مجسمہ،(1893ء)بروک لین میوزیم نیویارک شہر میں

سقوط کردہ فرشتے یا سقوط کردہ فرشتہ ایک مسیحی اصطلاح ہے اس مراد ایسے باغی، سرکش اور بد جنس فرشتے ہیں جن کو جنت سے دھتکار دیاگیا ہو۔ "سقوط کردہ فرشتے" کی اصطلاح کا ذکر نہ تو یہودی بائبل میں ہے نہ ہی اسفار قانونی دوم میں اور نہ ہی عہد نامہ جدید میں پایاجاتاہے۔ بہرحال بائبل کے مفسرین اس اصطلاح کو ایسے فرشتوں کے لیے استعمال کرتے ہیں جنہوں نے خدا کی نافرمانی کا گناہ کیا اور دھتکارے گئے۔ یہ فرشتے کسی نہ کسی طرح الجنۃ میں معرکہ خیر و شر کا حصہ تھے جبکہ اس جنگ کے کردار و محرکات آدم، ارواح خبیثہ، ابلیس اور ناظران پر مشتمل تھے۔ تاہم یہ اصطلاح فرشتوں کے متعلق ادب اور داستان میں استعمال ہوتی ہے۔
جبل الشيخ پر جن فرشتوں کے اترنے کا (نہ کہ سقوط کا) ذکر ہے کتاب حنوک میں ہوا ہے اس اصطلاح کو کلیسا توحیدی راسخ الاعتقاد اریٹیریا اور کلیسا توحید راسخ الاعتقاد ایتھوپیا نے ایک مستند اصطلاح کے طور پر قبول کیاہے جیسا کہ کتب غیر انساب میں ہوتاہے۔

سقوط کردہ فرشتوں کے متعلق بنیادی ماخذ[ترمیم]

عہدنامہ جدید کی تدوین سے فوری قبل، یہودیوں کے بہت سے فرقوں نے "خدا کے بیٹوں " اور سقوط کردہ فرشتوں کے تعلق سے بیان کیاہے جیساکہ کتاب پیدائش کے باب ششم کی آیت 1تا4:

  1. جب روئے زمین پر آدمی بہت بڑھنے لگے اور اُنکے بیٹیاں پَیدا ہوئیں۔
  2. تو خُدا کے بیٹوں نے آدمی کی بیٹیوں کو دیکھا کہ وہ خوبصورت ہیں اور جِنکو اُنہوں نے چُنا اُن سے بیاہ کر لیِا ۔
  3. خُداوند نے کہا کہ میری رُوح اِنسان کے ساتھ ہمیشہ مزاحمت نہ کرتی رہے گی کیونکہ وہ بھی تو بشر ہے تَوبھی اُسکی عمُر ایک سَو بیس برس کی ہوگی ۔
  4. اُن دِنوں میں زمین پر جبّار تھے اور بعد میں جب خُدا کے بیٹے اِنسان کی بیٹیوں کے پاس گئے تو اُنکے لِئے اُن سے اَولاد ہوئی۔ یہی قدیم زمانہ کے سُورما ہیں جو بڑے نامور ہوئے ہیں ۔

تاہم اس بارے میں اہل یہود کے دانشوروں کی رائے میں اختلاف ہے اور بہت زیادہ قوی امکان یہ ہے کہ خدا کے بیٹوں سے مراد سقوط کردہ فرشتے ہی ہیں اور ان کے زمین پر سقوط یا اترنے کے بعد ان فرشتوں نے غیر فطری طور پر انسان عورت سے شادیاں کیں اور جنسی تعلقات قائم کیے جس کے نتیجے میں جبار اور دیوقامت مخلوقات پیداہوئیں ۔

سقوط شیطان[ترمیم]

عبرانی بائبل بھی یہی بتاتی ہے کہ شیطان فرشتہ نہیں تھا تاہم ابلیس اس کا نام اور وہ نسل جن سے تھا۔ عبرانی بائبل نے شیطان کے سقوط کے بارے میں تفصیلی وضاحت بیان نہیں کی جبکہ شیطان کو انسان کا دشمن اورخدا تعالیٰ سے کم اختیارات کا حامل قراردیاہے۔ مجموعی طور پر عبرانی بائبل شیطان کو ایک مدعی، آزار دہندہ اور اغواءکنندہ کے طور پر بیان کرتی ہے۔ اس کا لقب cherub تھا جو فرشتوں کا ایک درجہ ہے۔ اس کی تصویر کشی بطور برائی کا منبع، شریر کی گئی ہے۔ بعد ازاں اسے مسیحا کے فرشتوں کے ذریعے شکست سے دوچار ہونے والا کہاگیاہے۔

مسیحی روایات[ترمیم]

مسیحی روایات میں بھی شیطان کو فرشتوں کے مقام تک پہنچنے والی مخلوق کہاگیاہے جبکہ وہ جنس کے اعتبار سے فرشتہ نہیں تھا مگر سقوط کردہ فرشتوں کا سردار تھا۔ عہدنامہ جدید کی 33 آیات میں شیطان کا ذکر 36 بار ہواہے۔ کتاب مکاشفہ میں مذکور ہے :
9۔ اور وہ بڑا اژدہا یعنی وُہی پُرانا سانپ جو اِبلِیس اور شَیطان کہلاتا ہے اور سارے جہان کو گُمراہ کر دیتا ہے زمِین پر گِرا دِیا گیا اور اُس کے فرِشتے بھی اُس کے ساتھ گِرا دِئے گئے۔
جبکہ کتاب لوقا کے باب 10 آیت 18 میں مذکور ہے:
اُس نے اُن سے کہا مَیں شَیطان کو بِجلی کی طرح آسمان سے گِرا ہُؤا دیکھ رہا تھا۔

مذہبی نقطہ نظر[ترمیم]

یہودی نقطہ نظر[ترمیم]

سقوط کردہ فرشتوں کا ذکر یہودی ماخذ ات کہ جو ہیکل کی دوبارہ تعمیر کے زمانے میں موجود تھے میں پایاجاتاہے۔ اور بالخصوص یہ اصطلاح شیطان اور عزازیل کے لیے مستعمل تھی۔ تاہم قرون وسطیٰ سے بہت سے یہودی دانشور بشمول عقلیت پسند اور روایت پسند وں نے باغی یا سقوط کردہ فرشتوں کے عقیدے کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے برائی کو خیر کے نہ ہونے یا نامکمل ہونے میں متصور کر دیا۔

مسیحی نقطہ نظر[ترمیم]

مسیحیوں نے سقوط کردہ فرشتوں کا تصور کتاب مکاشفہ کے باب 12 اور کتاب لوقا کے باب 10 آیت 18 سے لیاہے۔

اسلامی نقطہء نظر[ترمیم]

قرآن پاک میں فرشتوں کا ذکر 90 بار جمع کے صیغے کے طور پر اور اللہ کے فرمانبرداروں کے طور پر آیاہے۔ اسلام کے مطابق شیطان جنوں میں سے تھا کیونکہ فرشتے نافرمانی کا مادہ نہیں رکھتے۔ قرآن پاک میں شیطان کے سقوط سے قبل دیگر فرشتوں کے ہمراہ ان سورتوں 2:34, 7:11, 15:29, 17:61, 18:50, 20:116, 38:71میں ذکر آیاہے۔ شیطان کو ابلیس کا خطاب حاصل تھا جو اپنی باغیانہ روش اور سرکشی کے باعث اللہ کے دربار سے راندہ ہوا۔ تب شیطان نے زمین پر انسانوں کو لبھاوا دیکر جہنم میں داخل کرنے کا عزم کیا کیونکہ اللہ نے اس کو قیامت کے دن تک مہلت دے دی تھی۔ اسلام میں یہ عقیدہ پایاجاتا ہے کہ انسانوں کی طرح جنوں کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اچھائی اور برائی میں تمیز کرکے کسی ایک کو منتخب کرکے اللہ کی فرماں برداری یا نافرمانی کا اظہار کریں۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ جنات بھی اعمال میں اختیار رکھتے ہیں۔
ہاروت اور ماروت دو فرشتے تھے جو بابل کی بستی میں بھیجے گئے تھے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں۔ قرآن میں یہ واضح ہے کہ فرشتوں کی سرشت میں خود مختاری نہیں مگر ماسوائے یہ کہ اللہ کی فرماں برداری کریں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • ed. by Gary Anderson۔ Literature on Adam and Eve۔ Leiden: Brill۔ آئی ایس بی این 9004116001۔
  • Bernard J. Bamberger۔ Fallen angels : soldiers of satan's realm۔ Philadelphia, Pa.: Jewish Publ. Soc. of America۔ آئی ایس بی این 0827607970۔
  • edited by James H. Charlesworth۔ The Old Testament pseudepigrapha۔ Peabody, Mass.: Hendrickson۔ آئی ایس بی این 1598564919۔
  • Gustav Davidson۔ A dictionary of angels: including the fallen angels۔ New York: Free Press۔ صفحہ 111۔ آئی ایس بی این 978-0-02-907052-9۔
  • Karel van der Toorn, Bob Becking, Pieter W. van der Horst, DDD۔ Dictionary of deities and demons in the Bible (DDD)۔ Leiden: Brill۔ آئی ایس بی این 9004111190۔
  • James D. with Merrill Chapin Tenney, Moisés Silva (editors) Douglas۔ Zondervan Illustrated Bible Dictionary۔ Grand Rapids, Mich.: Zondervan۔ آئی ایس بی این 9780310229834۔
  • Andrei A. Orlov۔ Dark mirrors: Azazel and Satanael in early Jewish demonology۔ Albany: State University of New York Press۔ آئی ایس بی این 1438439512۔
  • Rutherford H. Platt۔ Forgotten Books of Eden۔ Forgotten Books۔ صفحہ 239۔ آئی ایس بی این 1605060976۔
  • Annette Yoshiko Reed۔ Fallen angels and the history of Judaism and Christianity : the reception of Enochic literature۔ Cambridge [u.a.]: Cambridge University Press۔ صفحہ 1۔ آئی ایس بی این 978-0-521-85378-1۔
  • Howard Schwartz۔ Tree of souls: The mythology of Judaism۔ New York: Oxford U Pr۔ آئی ایس بی این 0195086791۔
  • Archie T. Wright۔ The origin of evil spirits the reception of Genesis 6.1-4 in early Jewish literature۔ Tübingen: Mohr Siebeck۔ آئی ایس بی این 3161486560۔