سوہدرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(سودھرا سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
سوہدرہ
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
بلندی 222 میل (728 فٹ)
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)

سوہدرہ (انگریزی: Sodhra) پاکستان کا ایک آباد مقام ہے۔ سوہدرہ جس کو کتب تواریخ میں سودرہ ،سودہرہ، سدرہ، جندرہ، ابراہیم آباد کے نام سے لکھا گیا ہے، تاریخ مخزن پنجاب میں لکھا ہے کہ اس قصبہ کی آبادی بہت پرانی ہے اصلی بانی اس کا ملک ایاز، غلام و محبوب سلطان محمود غزنوی کا تھا،جس نے پنجاب کی حکومت کے وقت دریاۓ چناب کے کنارے پر اس شہر کو آباد کرنا چاہا تھا، چونکہ اس کی تجویز یہ تھی کہ اس شہر میں ایک سو دروازے ہوں اور بہت بڑا شہر ہو ،اس سبب سے اس کا نام سودرہ مشہور ہو گیا، اس نے یہاں پہلے پختہ قلعہ کی بنا ڈالی اور فصیل و عالی شان حویلیاں تعمیر کیں، مگر ابھی تمام شہر آبادنہیں ہوا تھا کہ وہ لاہور کی آبادی میں مصروف ہو گیا، جو راجا آنند پال کے محاصرہ کے وقت اجڑ گیا تھا اور اس شہر کی آبادی کی طرف اس کی توجہ رہی، سلطنت مغلیہ میں اس کی آبادی بڑی عروج پر تھی،،محمود غزنوی کے والد امیر سبکتگین(977–997) کے عہد حکومت کے حوالے سے تاریخ فرشتہ میں لکھا ہے اسی زمانے میں سبکتگین نے ہندوؤں کا وہ بت خانہ جو سودرہ کے کنارے پر واقع تھا مسمار کیا، تاریخ سیالکوٹ میں درج ہے کہ محمود غزنوی (998-1030) انند پال کا تعاقب کرتے ہوئے سوہدرہ کے نزدیک چناب کے کنارے پہنچا تو انند پال جموں کے جنگلوں میں چھپ گیا جو سوہدرہ سے شروع ہوتے تھے سوہدرہ اس وقت پرگنہ سیالکوٹ میں شامل تھا، اس کی آبادی ایک لاکھ سے اوپر تھی،محمود سوہدرہ کے کنارے پر خیمہ زن ہو گیا طویل جنگوں کے بعد آرام کے لیے یہیں تادیر قیام کیا، اکبر بادشاہ (1556-1605) کے عہد کے حوالے سے آئین اکبری میں لکھا ہے کہ سودہرہ دریائے چناب کے کنارے پر آباد ہے جہاں ایک بلند اور پختہ مینار بھی ہے، مزید لکھا ہے کہ اس کی پیداوار 121421 بیگے اور بسوئے ہے اس کی فوج کے 100 سوار ہیں جبکہ 1000 فوجیوں پر مشتمل اس کے پیادے ہیں،جبکہ اس میں چیمہ قوم کے افراد ہیں؛ ماثر الامرا اور تاریخ ہندوستان میں درج ہے کہ جہانگیر کے بیٹے خسرو نے جب بغاوت کی تو وہ سوہدرہ سے گرفتار ہوا تھا، خلاصتہ التاریخ میں ہے کہ شاہجہان کے دور میں امیر مردان خان نے اپنے بیٹے کے نام پر ابراہیم آباد موضع آ باد کیا جو سودہرہ سے متصل تھا، وہاں ایک خوش منظر باغ کی بنیاد رکھی جو شالا مار کا جواب ہے اوردلچسپ عمارتیں تعمیر کیں، دریائے توی سے ایک نہر بھی لایا .کل 6 لاکھ روپے خرچ ہوئے سوہدرہ میں احمد شاہ ابدالی اور میر منوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، احمد شاہ کی زمزمہ توپ سوہدرہ کے نزدیک چناب میں ڈوب گئی تھی،جو بعد میں ہری سنگھ بھنگی کے نام پر بھنگیاں والی توپ کہلائی۔، ابھی تک لاہور کے عجائب گھر کے سامنے موجود ہے سکھ عہد میں بھی سوہدرہ کو اہمیت حاصل رہی قلعہ سوہدرہ میں مہان سنگھ اوررنجیت سنگھ براجمان رہے اوریہاں کئی جنگیں لڑیں ،جب رنجیت سنگھ سوہدرہ پرگنہ پر قابض تھا تو اس کی تقسیم یوں کی،،، سوہدرہ کے کل گاؤں 48،، سکھ سلطنت سے پہلے صاحب سنگھ بھنگی کے پاس تھا،،رنجیت سنگھ نے فتح کر کے دیوان دھنپت رائے کو دے دیا اور اس کا انتظام کاردار کے سپرد تھا بعہد انگریز 1886 میں سوہدرہ میونسپلٹی ختم کر دی گئی،اور تحصیلدار کے زیر انتظام آ گیا، 1883 میں ذیلداری نظام رائج ہوا، تذکرہ رووسائے پنجاب کتاب میں سوہدرہ کے رٰیس لالہ گنڈا مل اور اس کے خاندان کا تفصیلی ذکر آتا ہے

سوہدرہ کی شخصیات[ترمیم]

تفصیل کے لیے ملا حظہ ہو

تفصیلات[ترمیم]

سودھرا کی مجموعی آبادی 222 میٹر سطح سمندر سے بلندی پر واقع ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]