سردار احمد پیرزادہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید سردار احمد پیرزادہ
Syed Sardar Ahmed Pirzada Portrait.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 27 مارچ 1961(1961-03-27)
جوہرآباد  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نسل پنجابی
مذہب اسلام
عارضہ نابینا پن  ویکی ڈیٹا پر بیماری (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تعليم ایم اے (جرنلزم)
مادر علمی پنجاب یونیورسٹی، لاہور
پیشہ صحافی
پیشہ ورانہ زبان اردو
کارہائے نمایاں اے پی این ایس (اردو) ایوارڈ 2012
رضاکارانہ خدمات برائے پی ڈبلیو ڈی

سید سردار احمد پیرزادہ اردو زبان کے پہلے نابینا صحافی، دانشور، تجزیہ و کالم نگار،[1] مقتدرہ قومی زبان کے ماہانہ جریدہ اخبار اردوکے ایڈیٹر اور ریڈیو، ٹی وی کے اینکر پرسن ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

سید سردار احمد پیرزادہ 27 مارچ 1961 میں جوہر آباد، خوشاب، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ وہ پیدائشی طور پر بینا تھے تاہم گلوکیمیا کے مرض کے باعث جلد ہی ان کی بینائی جاتی رہی۔ انہوں نے عام تعلیمی اداروں سے ہی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور اس دوران میں وہ زندگی کے بہت سے کٹھن مراحل سے گزرے ،لیکن تعلیم کو جاری رکھا اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے جرنلزم کیا۔

کیرئیر کا آغاز[ترمیم]

سید سردار احمد پیرزادہ نے ایم اے کے بعد میدانِ صحافت میں قدم رکھا۔ انہوں نے رپورٹر اور سب ایڈیٹر کی حیثیت سے مختلف قومی اخباروں میں خدمات انجام دیں۔ جن میں روزنامہ جنگ ،روزنامہ نوائے وقت،[2] روزنامہ جسارت، مشرق اور ہفت روزہ استقلال شامل ہیں۔ وہ ایک انگریزی ماہنامے "ڈپلومیٹ "کے بھی ایڈیٹر رہے ہیں۔ وہ 1988 میں مقتدرہ قومی زبان سے منسلک ہوئے۔ اس کے علاوہ وزارتِ اطلاعات و نشریات، قومی ورثہ میں پبلک ریلیشن آفیسر کے طور پر کام کیا۔ وہ 2003 میں ماہنامہ اخبار اردو کے ایڈیٹر اور 2011 میں سب ایڈیٹر بنے۔ اس دوران میں انہوں نے پاکستان میں اردو کے عنوان سے پانچ کتب پر مبنی ایک سیریز شائع کروائی ہے۔

رضا کارانہ خدمات[ترمیم]

سردار احمد پیرزادہ پاپولیشن ویلفئیر ڈپارٹمنٹ کے لیے کئی سال تک رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں معذور افراد کی نمائندگی کے لیے بہت عرصہ جدوجہد کی اور بالآخر کامیابی ہوئی۔ انہوں نے پی ڈبلیو ڈی اور مختلف این جی اوز کے ساتھ مل کر معذور افراد سے متعلق آگاہی اور ان کی بہبود کے لیے بہت کام کیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے بہت سے پیش کردہ نظریات نے مقبولیت پائی ہے۔

صحافت اور میڈیا سے وابستگی[ترمیم]

سردار احمد پیرزادہ اپنی گریجویشن سے بھی پہلے 1985 سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ اس دوران میں انہوں نے اپنے نابہنا ہونے کی بنیاد پر مخالفین کی بہت سی مخالفتیں اور مشکلات سہیں۔ لیکن سفر جاری رکھا۔ وہ باقاعدہ طور پر 2007 میں پاکستان کے پہلے نابینا صحافی تسلیم کیے گئے۔ اور ان کی معذوری ہی ان کی قوت کا باعث بن گئی۔ انہوں نے روزنامہ پاکستان میں ملازمت شروع کی۔ اور مئی 2007 میں نوائے وقت پاکستان سے وابستہ ہوئے۔ ان کو دیکھتے ہوئے دیگر نابینا نوجوانوں نے بھی میدانِ صحافت کا رخ کیا۔ سردار احمد پیرزادہ نے 2010 میں ایف ایم 97 ریڈیو اینکر کے طور پر ٹاک شو سن رائز کے مہمان پیش کیا۔ جولائی 2013 میں ریڈیو سٹیشن کو خیر باد کہا۔ وہ ٹی وی پر بھی ٹاک شوز میں شریک ہوئے جن میں حامد میر کا کیپیٹل ٹاک بھی شامل ہے۔ ان کے لکھے ہوئے آرٹیکلز اور کالمز کو پچھلے چند سالوں میں نمایاں شہرت ملی اور بین الاقوای سطح پر بھی ان کے تراجم الیکٹرانک میڈیا پر پیش کیے گئے۔ آج کل ان کے کالم ای اخبار ہم سب میں بھی شائع ہو رہے ہیں۔[3]

اہم خدمات اور کامیابیاں[ترمیم]

  • اے پی این ایس (اردو) ایوارڈ 2012
  • این پی سی گولڈ میڈل ایوارڈ برائے صحافتی خدمات از نظریہِ پاکستان کونسل ،27 مارچ 2013
  • چولستان ایوارڈ 2012 برائے میڈیا سروس از چولستان ڈویلوپمینٹ کونسل ،اپریل 2012
  • پریس کلب پاکستان لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور اعزازی ممبر شپ از این پی سی، دسمبر 2013

حوالہ جات[ترمیم]