شہاب دہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شہاب دہلوی
معلومات شخصیت
پیدائش 22 اکتوبر 1922  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 29 اگست 1990 (68 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہاولپور  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (22 اکتوبر 1922–14 اگست 1947)
Flag of Pakistan.svg پاکستان (15 اگست 1947–29 اگست 1990)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مؤرخ،  شاعر،  صحافی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سید مسعود حسن المعروف شہاب دہلوی (پیدائش: 20 اکتوبر 1922ء - وفات: 29 اگست 1990ء) اردو زبان کے پاکستان سے تعلق رکھنے و الے نامور شاعر، مؤرخ اور اردو زبان کے مشہور جریدے الزبیر کے بانی مدیر تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

شہاب دہلوی 20 اکتوبر، 1922ء کو دہلی، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے[1][2][3]۔ ان کا اصل نام سید مسعود حسن رضوی تھا۔ تقسیم ہند کے بعد انہوں نے بہاولپور، پاکستان میں سکونت اختیار کی اور یہاں سے ہفت روزہ الہام اور سہ ماہی الزبیر جاری کیے۔ ان کی نثری کتب میں مشاہیر بہالپور، اولیائے بہاولپور، خواجہ غلام فرید: حیات و شاعری، بہاولپور کی سیاسی تاریخ، خطہ پاک اوچ اور وادیٔ جمنا سے وادیٔ ہکڑا تک شامل ہیں، جبکہ ان کے شعری مجموعے نقوش شہاب، گل و سنگ اور موج نور کے نام سے شائع ہوئے۔ انہوں نے الزبیر کے کئی اہم نمبر بھی شائع کیے جن میں آپ بیتی نمبر، جنگ آزادی نمبر، کتب خانے نمبر اور بہاولپور نمبر کے نام سرِ فہرست ہیں۔[2][3]

تصانیف[ترمیم]

  • نقوش شہاب (شاعری)
  • گل و سنگ (شاعری)
  • موج نور (نعتیں،قصائد،مرثیے)
  • مشاہیر بہالپور (سوانح)
  • اولیائے بہاولپور (سوانح)
  • خواجہ غلام فرید: حیات و شاعری (تنقید)
  • خطہ پاک اوچ (تاریخ)
  • وادیٔ جمنا سے وادیٔ ہکڑا تک
  • تکملہ سیرالاولیاء (ترجمہ)
  • جنگ نامہ (1965ء پاک بھارت جنگ پر رزمیہ)
  • بہاولپور میں اُردو (لسانیات)
  • بہاولپور کی سیاسی تاریخ (تاریخ)

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

رہ حیات کی تنہائیوں کو کیا کہیے ہجوم شوق کی رسوائیوں کو کیا کہیے
مرے وجود کا بھی دور تک مقام نہیں ترے خیال کی گہرائیوں کو کیا کہیے
غموں کی اوٹ سے بھی ہو سکیں نہ تر پلکیں نہ برسے ابر تو پروائیوں کو کیا کہیے
شرار زیست کی اک جست ہے بہت لیکن نفس کی مرحلہ پیمائیوں کو کیا کہیے
ترے جمال کو چھو کر نکل رہی ہے سحر طلوع مہر کی رعنائیوں کو کیا کہیے[4]

شہاب دہلوی کے فن و شخصیت پر کتب ومقالہ جات[ترمیم]

  • شہاب دہلوی: حیات اور کارنامے،(پی ایچ ڈی مقالہ)، ڈاکٹر مزمل بھٹی، نگران ڈاکٹر شفیق احمد، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، 1999ء

وفات[ترمیم]

شہاب دہلوی 29 اگست، 1990ء کو بہاولپور، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ بہاولپور میں قبرستان پیر حامد عقب شیر باغ میں سپردِ خاک ہوئے۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]