غزوہ ہند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
India 78.40398E 20.74980N.jpg

غزوہ ہند یا حدیث غزوہ ہند پیغمبر اسلام محمدﷺبن عبد اللہ کی پیش گوئِیوں میں مذکور ایک جہاد ہے جس کے متعلق چند احادیث روایت مروی ہیں۔ اس پیش گوئی کے مطابق برصغیر میں مسلمانوں اور کافروں کے درمیان میں ایک جنگ ہو گی، جس میں مسلمان فتح یاب ہوں گے۔[1]

احادیث

ابوہریرہ سے مروی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ:

"میرے جگری دوست رسول اللہ نے مجھ سے بیان کیا کہ" اس امت میں سندھ و ہند کی طرف لشکروں کی روانگی ہوگی" اگر مجھے کسی ایسی مہم میں شرکت کا موقع ملا اور میں (اس میں شریک ہوکر) شہید ہو گیا تو ٹھیک، اگر (غازی بن کر) واپس لوٹ آیا تو میں ایک آزاد ابو ہریرہ ہوں، جسے اللہ تعالیِ نے جہنم سے آزاد کر دیا ہوگا"[2][3][4]

امام نسائی نے اسی حدیث کو اپنی دو کتابوں میں نقل کیا ہے جس کا مفہوم ہے کہ:

"نبی کریم نے ہم سے غزوہ ہند کا وعدہ فرمایا۔ (آگے ابوہریرہ فرماتے ہیں) "اگر مجھے اس میں شرکت کا موقع مل گیا تو میں اپنی جان و مال اس میں خرچ کردوں گا۔ اگر قتل ہو گیا تو میں افضل ترین شہداء میں شمار کیا جاوں گا اور اگر واپس لوٹ آیا تو ایک آزاد ابوہریرہ ہوں گا۔"[5][6]

محمدﷺبن عبد اللہ کے آزاد کردہ غلام ثوبان روایت کرتے ہیں۔[7]

میری امت میں دو گروہ ایسے ہوں گے جنہیں اللہ تعالیِ نے آگ سے محفوظ کر دیا ہے، ایک گروہ ہندوستان پر چڑھائی کرے گا اور دوسرا گروہ جو عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ ہوگا۔[8][9][10][11][12][13][14][15][16]

ابوہریرہ کی دوسری حدیث ہے، ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم نے ہندوستان کا تذکرہ کیا اور ارشاد فرمایا:

"ضرور تمہارا ایک لشکر ہندوستان سے جنگ کرے گا ، اللہ ان مجاہدین کو فتح عطا فرمائے گا حتیٰ کہ وہ (مجاہدین) ان کے بادشاہوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے اور اللہ ان کی مغفرت فرمادے گا۔ پھر جب وہ مسلمان واپس پلٹیں گے تو عیسیٰ ابن مریم﷤ کو شام میں پائیں گے۔ ابوہریرہ نے فرمایا " اگر میں نے وہ غزوہ پایا تو اپنا نیا اور پرانا سب مال بیچ دوں گا اور اس میں شرکت کروں گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطاء کردی اور ہم واپس پلٹ آئے تو میں ایک آزاد ابوہریرہ ہوں گا جو ملک شام میں اس شان سے آئے گا کہ وہاں عیسیٰ ابن مریم کو پائے گا۔ یارسول اللہ! اس وقت میری شدید خواہش ہوگی کہ میں ان کے پاس پہنچ کر انہیں بتاؤں کہ میں آپ کا صحابی ہوں ۔ "(راوی کا بیان ہے) کہ حضور مسکرا پڑے اور ہنس کرفرمایا:" بہت زیادہ مشکل، بہت زیادہ مشکل۔"[17]

تشریح

اکثر علما کا ماننا ہے کہ اس پیشن گوئی میں غزوہ محمد بن قاسم سے لے کر محمود غزنوی، شہاب الدین غوری، احمد شاہ ابدالی اور قضیہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کی مجوزہ جنگ بھی شامل ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ عہد ِنبوت سے لے کر تا قیامت برصغیر (ہندوستان) میں پیش آنے والی مسلمانوں اور غیر مسلموں کی تمام لڑائیوں کو 'غزوہ ہند' قرار دے دینا درست ہے۔[18]

حوالہ جات

  1. "Ghazwa-e-Hind"۔ tthefatwa.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-08-08۔
  2. مسند احمد : 369/2
  3. مسند ابوہریرہ : 8467
  4. البدایہ والنہایۃ، الاخبار عن غزوہ الہند: 223/6، از حافظ علامہ عمادالدین ابن کثیر
  5. السنن المجتبیٰ : 42/6 ،کتاب الجہاد باب غزوہ ہند: 3174،3173
  6. السنن الکبریٰ للنسائی: 28/3، باب غزوہ الہند: 4382۔4383
  7. "Hadith – The Book of Jihad – Sunan an-Nasa'i – Sunnah.com – Sayings and Teachings of Prophet Muhammad (صلى اللہ عليہ و سلم)"۔ sunnah.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-09-21۔
  8. مسند احمد : 278/5، حدیث ثوبان : 21362
  9. السنن المجتبیٰ للنسائی:668/2، حدیث: 2575
  10. السنن الکبریٰ للنسائی: 28/3، باب غزوۃ الھند: 4384
  11. الجہاد: 665/2 فضل غزوۃ البحر حدیث : 228
  12. السنن الکبریٰ للبھیقی : 76/9، کتاب السیر، باب ماجاء فی قتال الھند : 186
  13. البدایۃ والنھایۃ، الاخبار عن غزوۃ الھند : 223/6
  14. الفردوس بما ثور الخطاب : حدیث 4164
  15. تاریخ الکبیر : 72/6، تذکرہ عبد الاعلیٰ بن عدیالبھرانی الحمص : 1747، از امام بخاری
  16. تاریخ دمشق : 248/52، از ابن عساکر
  17. کتاب الفتن، غزوۃ الھند : 409/1۔ 410، حدیث : 1236۔ 1238
  18. "غزوۂ ہند"۔ lasjan.fandom.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-24۔