غیر منقوط نعت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

غیر منقوط نعت: نقطے کے بغیر الفاظ پر مشتمل مدح رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہا جاتا ہے۔

اردو معرا میں نعت[ترمیم]

ہر دم درود سرورؐ عالم کہا کروں

ہر لمحہ محو روئے مکرم ؐرہا کروں​

اسم رسولؐ ہوگا، مداوائے درد دل​

صل علیٰؐ سے دل کے دکھوں کی دوا کروں​

ہر سطر اس کی اسوہ ہادیؐ کی ہو گواہ​

اس طرح حال احمدؐ مرسل کہا کروں​

معمور اس کو کر کے معرا سطور سے ​

ہر کلمہ اس کا دل کے لہو سے لکھا کروں​

گو مرحلہ گراں ہے، مگر ہو رہے گا طے​

اسم رسولؐ سے ہی در دل کو وا کروں​

ہر دم رواں ہو دل سے درودوں کا سلسلہ​

طے اس طرح سے راہ کا ہر مر حلا کروں​

دے دوں اگر رسول مکرم ؐ کا واسطہ!​

دل کی ہر اک مراد ملے، گر دعا کروں​

اس کے علاوہ سارے سہاروں سے ٹوٹ کر​

اللہ کے کرم کے سہارے رہا کروں​

ہو کر رہے گا سہل، ہر اک مرحلہ کڑا​

اللہ کے کرم کا اگر آسرا کروں​

اردو کو اک رسالۂ الہام دوں ولی​

لوگوں کو دور ہادی عالم عطا کروں​

محمد ولی​

مدح رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مولانا ولی رازی کی سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی غیر منقوط کتاب " ہادیٔ عالم" سے ماخوذ ہے۔

پاکستان سے[ترمیم]

وہ محکوموں کا حامی اور مدد گار

وہ محکوموں کا ہمدم اور روادار

وہ اُمّی اور وہ امّ الکلامی

کرے اللہ سے وہ ہمکلامی

عصا اسلام کا وہ کملی والا

وحی اللہ کی اس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حوالہ

سرودِ لا الہٰ اس کا دمامہ

کمالِ آ گہی، اُس کا عمامہ

وہ صالح ،صلح کُل ،مسعود و محمود

وہی ہے حاصلِ آ رام و آ سود

وہ عاصم عدل کی سوداگری کا

اسی کے سر ہے سہرا،سروری کا

وہی اولادِ آ دم کا موکد

وہی احمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہی محمود و حامد

وہی ہمدم وہی ہر دکھ کا مرہم

درود اس کا ہمارا ورد ہر دم

سلام اے داعیِ وحی ِ الٰہی

سلام اے لا و الّا کی گواہی

سلام اے صلح کامل کے مدرس

سلام اے عدلِ دائم کے مو سس

  • منظر پھلوری کے بھی غیر منقوطہ نعتیہ مجموعے شائع ہو چکے ہیں،

اشفاق احمد[ترمیم]

طلسم اسم ِ محمد (ص) کا دائرہ ہے کوئی

مری دعا کی کمائی کا سلسلہ ہے کوئی

کرم کی راہ سے آئے کسی سحر کی طرح

اسے کہو در امکاں کھلا ہوا ہے کوئی

وصال و وصل کی گرمی اسی کے دم سے ہے

طلوع مہر مسلسل کا آسرا ہے کوئی

دکھائی دے کسی صحرا سے گل کدہ کس کا

ہوا کمال کی ہے اور ہرا ہرا ہے کوئی

کہا کہ ہے مرا اللہ احد و واحد

گلی گلی کہے، لولاک صدا ہے کوئی

سوائے سرورِ عالم کے اور اے عالم

مرا سوال ہے کہ درد کی دوا ہے کوئی

ابو الحسین آزاد/مدحِ رسولِ مکرّم صلی اللہ علی رسولہ و سلم[ترمیم]

رسولِ اُمَم ہے، امامُ الوَری ہے

مرے ٹوٹے دل کا وہی آسرا ہے

مہَک اُس کے علْم و عمل کی ہے ہر سُو

اُسی کے ہی دم سے معطّر ہَوا ہے

کروں ہر گھڑی وردِ اسمِ محمد

کہ ہر درد کی، ہر الَم کی دوا ہے

ملی ہے دوعالم کی سرداری اُس کو

سُوحا کم ہر اِک اُس کے در کا گدا ہے

ردائے کرم اُس کی ہر سُو کھِلی ہے

دلوں کی مراد ہر کوئی لے رہا ہے

کوئی کس طرح واں سے محروم اٹھے؟

عطا و کرَم کا کھُلا سلسلہ ہے

رہا محوِ اصلاحِ عالم وہ ہر دم

ہرِ اِک آدمی کا اُسے دُکھ رہا ہے

مٹے سارے عالَم سے گمراہی ساری

اِسی واسطے درد ہر اِک سَہا ہے

ہری ہو گئی ہر لڑی دل کی اُس سے

اور اُس کی ہی آمد سے ہر گُل کھِلا ہے

وہی سادگی ہو کے سرکار و سلطاں

کہ مٹی کا گھر اُس کی آرام گاہ ہے

کمال اُس کے معلوم ، ہوں کِس کو سارے؟

کہ وہ علم کی حد سے ہی ماورا ہے

بھارت سے[ترمیم]

عارف گیاوی (1941ء-2020ء) - حضرت مولانا سید حسین احمد قاسمی گیاوی رحمہ اللّٰہ، سابق امام و خطیب جامع مسجد، ساکچی، جمشید پور، جھارکھنڈ، بھارت (سن فراغت:1964ء-1383ھ) کا ایک یادگار اور خوبصورت غیر منقوط نعتیہ کلام:

رہے سَر کو ہر دم ہوائے محمد

ملے دردِ دل کو دوائے محمد


دو عالم کی حرص وہوس سے الگ ہے

ہے آسودہ ہر دم گدائے محمد


ہے اسلام اللہ کی راہِ محکم

اصولِ مکمل کو لائے محمد


الٰہی! ملے کالی کملی کا ٹکڑا

مرے کام آئے رِدائے محمد


ہے درسِ محمد کہ اللہ ہے واحد

سدا آرہی ہے صدائے محمد


کلامِ الٰہی اور اسلام لائے

عطائے الٰہی، عطائے محمد


رہائی ملے ہم کو درد و الم سے

مِرے کام آئے لِوائے محمد


سرِ لوح وکرسی رَسائی ہوئی ہے

رسولوں کے سردار آئے محمد


سرور وسکوں دل کو حاصل ہوا ہے

حرم سے ہے آئی ہوائے محمد


ہمہ دم، ہر اِک لمحہ رحم وکرم ہے

عدو کے ليے ہے دعائے محمد


محمد کا اسوہ عمل ہو ہمارا

الٰہی! عطا کر ادائے محمد


ہر اِک لَمحہ دل سے کرو وِرد، اَحمدؔ!

درودے محمد سلامِ محمد

صلى الله عليه وسلم

حلِ الفاظ:

ہواے محمد: آرزوے محمد

لِواے محمد : محمد صلى الله عليه وسلم کا جھنڈا

وِلاے محمد : محمد صلى الله عليه وسلم کی محبت

مزید دیکھیے[ترمیم]

اللہ کے احساس کا احساں کوئی کم ہے

سارا ہی کم اس در ِ والا کا کرم ہے

حاصل ہے اسی محرم اسرار کے دم سے

وہ سرورِ لولاک ہے، سردار امم ہے

ہے ورد ِ مہ و سال وہی اسم گرامی

ہر عہدِ سحر اسم محمد (ص) کا کرم ہے

اک درد کا لمحہ اسے سرکار عطا کر

دل سادہ و معصوم ہے، محروم الم ہے

دل کہے حوصلے والا ہے، سحر کا موسم

وہ مگر کس لیے کالا ہے سحر کاموسم

اے مری حدِ گماں ! مہر مسلسل ہے ادھر

کہ محمد (ص) کا حوالہ ہے سحر کا موسم

آسماں اور سحر اور کوئی اور سحر

اک سما وار رسالہ ہے سحر کا موسم

ہے کوئی ردِ عمل کہ کوئی معصوم طلوع

ہاں مگر حاصل ئ لالہ ہے سحر کا موسم