ماہنامہ ساتھی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ماہنامہ ساتھی کراچی
ماہنامہ ساتھی لوگو.PNG
Monthly Sathee.jpg
نومبر 2017ء کے چالیس سالہ خاص نمبر کا سرورق
مدیر عبد الرحمن مومن
سابقہ مدیران فہرست دیکھیے
مصور محمد وجاہت خان
قسم بچوں کا ادب
دورانیہ ماہنامہ
ناشر سرفراز احمد
پہلا شمارہ اگست 1977 (1977-08)[1]
ملک پاکستان
بمقام کراچی، ایف 206، سلیم ایونیو، بلاک 13-بی گلشن اقبال
زبان اردو
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائث ماہنامہ ساتھی

ساتھی پاکستان سے شائع ہونے والا بچوں کا اردو زبان کا ماہنامہ رسالہ ہے۔ اس کا پہلا شمارہ اگست 1977ء[2] کو کراچی سے شائع ہوا۔ شروع میں اس کا نام پیامی تھا جو مئی 1978ء میں تبدیل کر کے ساتھی کر دیا گیا۔ کلیم چغتائی رسالے کے شریک بانی اور پہلے مدیر تھے۔

خاکہ و مستقل سلسلے[ترمیم]

ساتھی میں موجود مواد بچوں کی اُردو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں مختلف طریقوں سے معلومات بھی فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے اساتذہ ساتھی کو بچوں کی معلومات میں اضافے کے علاوہ ان کا شوق مطالعہ بڑھانے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔

  • کہانیاں اور نظمیں

مختلف اقسام کی کہانیاں اور نظمیں بچوں کے لیے ذخیرہ الفاظ اور زبان کی فصاحت کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ان کہانیوں سے بچوں کی نہ صرف کرادار سازی ہوتی ہے بلکہ شوق مطالعہ اور مثبت انداز میں سوچنے کی عادت بھی پروان چڑھتی ہے۔

  • سائنسی تجربے

اپنے ماحول سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے جہاں معلومات اہم ہوتی ہیں وہیں سائنسی تجربے بچوں میں سیکھنے کا شوق بھی پیدا کرتے ہیں۔ سائنسی تجربے ساتھی کے مستقل سلسلوں میں شامل ایک دلچسپ سلسلہ ہے۔

یہ صفحہ دنیا بھر کی مختلف خوبصورت اور تاریخی مساجد کی تعمیر اور تزئین و آرائش سے متعلق معلومات پر مبنی ہوتا ہے جس کا مقصد طلبہ میں اسلامی ثقافت کی پہچان اور تاریخ سے شناسائی فراہم کرنا ہے ۔

  • اسلامی مضامین

صحابہؓ وصحابیاتؓ کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ یقینا اچھے کردار اور اچھے ذہن کے مالک بننے کے لیے صحابہؓ کی زندگی ہمیں مختلف پہلوﺅں سے رہنمائی فراہم کرتی ہے اور اسی کے پیش نظر اس سلسلے کو فروغ دیا گیا ہے۔

  • آپ کی تخلیق

بچوں میں لکھنے کی صلاحیت کو پروان چڑھانے کے لیے ساتھی میں ہر ماہ نئے لکھاریوں کے لیے” آپ کی تخلیق“ کا سلسلہ شامل ہوتا ہے۔ جس میں بچوں کی تخلیق کردہ کہانیاں اور نظمیں شامل اشاعت ہوتی ہیں۔

  • جانوروں کی دنیا

جانور ہمارے ماحول کا اہم ترین حصہ ہیں۔ جانوروں سے متعلق دلچسپ معلومات پر مبنی مضامین بچوں کو ان جانوروں کی عادات اور ان کے ماحول سے آگاہی دیتے ہیں۔

  • کارٹون کہانیاں

بچوں میں چھوٹی عمر سے ہی مطالعہ کا شوق پیدا کرنے کے لیے مختصر جملوں پر مشتمل کارٹون کہانیاں خاص اہتمام سے شائع کی جاتی ہیں جو نا صرف ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ ساتھ ساتھ بچوں کے اخلاق کو سنوارنے کے لیے سبق آموز بھی ہوتی ہیں۔

  • آپ کی نگارشات

بچوں میں ادبی ذوق پیدا کرنے کے لیے چھوٹے بچوں کے لیے یہ سلسلہ باقاعدگی کے ساتھ شائع کیا جاتا ہے۔ جس میں بچوں کے ارسال کی ہوئی نظمیں اور کہانیاں شامل اشاعت ہوتی ہیں۔

  • شکاریات سراغ رسانی کی داستانیں

عہد بلوغت کے طلبہ میں ذوق مطالعہ کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف نوعیت کی شکاری مہم، مہم جوئی یا سراغ رسانی پر مبنی داستانیں ساتھی کا اہم حصہ ہیں۔ ان داستانوں کے ذریعے طلبہ کا ذوق مطالعہ پختگی کی جانب گامزن ہوتا ہے۔

  • لڑکیوں کے لیے خاص کہانیاں

اُمور خانہ داری میں لڑکیوں کو طاق کرنے اور اُنہیں سگھڑ بنانے کے لیے خاص کہانیوں، مضامین کی اشاعت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

  • ذرا کھلکھلائیے

مزاح انسانی نفسیات پر اچھے اثرات مرتب کرتا ہے۔ جہاں لطائف کے ذریعے انسان کی شخصیت میں لطافت کا عنصر پروان چڑھتا ہے، وہیں اس کے ذریعے مزاح کا اچھا ذوق بھی مقصود ہوتا ہے۔ اسی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے ساتھی میں لطائف کا انتخاب بہت احتیاط کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

  • دل پہ دستک

علامہ اقبال نے قرآن مجید کے پیغام کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کے لیے عام کیا ہے۔ یہ سلسلہ اقبال کی شاعری کو آسان انداز میں بچوں تک پہنچانے کا اہم ذریعہ ہے۔

  • تاریخ کی کھوج

بچوں کی تاریخی معلومات کو بڑھانے اور ان کی اردو کو بہتر بنانے کے لیے سوالات پر مشتمل یہ مقابلہ دیا جاتا ہے جس میں حصہ لے کر بچے بہت سی معلومات سے مستفیض ہوتے ہیں اور بچے صحیح جواب دے کر انعام بھی حاصل کرتے ہیں جو ان کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتا ہے۔

  • اُردو زبان ہماری

اُردو زبان کے حوالے سے اطہر ہاشمی کا خاص مضمون شامل کیا جاتا ہے۔ جس سے بچے کی اُردو نہ صرف بہتر ہوتی ہے بلکہ ان کو اردو قواعد کی پہچان بھی ہوجاتی ہے۔

  • ساتھی مصوری

بچوں میں فنون لطیفہ کے اہم رکن مصوری میں مہارت پیدا کرنے کے لیے مصوری کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ جس میں بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اُن کی تخلیقات شائع کی جاتی ہیں

قسط وار ناول[ترمیم]

عنوان ناول نگار تفصیل
کمانڈو فور منیر احمد راشد کتابی صورت میں کئی بار شائع ہو چکا ہے، دعوہ اکیدمی نے سال کا بہترین ناول کا انعام دیا
اب کیا ہو گا؟ میر شاہد حسین سائنس فکشن اصلاحی ناول
جزیرے کے قیدی اگاتھا کرسٹی جاسوسی ناول

مدیران[ترمیم]

شمار نام عرصہ
1 کلیم چغتائی اگست 1977ء
2 آفتاب الدین ستمبر 1978ء
3 شاہد رفیع مجاہد ستمبر1979ء
4 اعظم منہاس جنوری 1984ء
5 سعود کمال عباسی نومبر 1984ء سے 1987ء
6 صادق جمیل ستمبر 1987ءسے دسمبر1989ء
7 سید شمس الدین جنوری 1990ء سے دسمبر1991ء
8 قاضی سراج الدین جنوری 1992ء سے مئی 1994ء
9 صہیب جمال جون 1994ء سے ستمبر 1995ء
10 عبد الحامد اکتوبر 1995ء سے فروری 1997ء
11 عبد الفرید بروہی مارچ 1997ء سے مارچ 1998ء
12 ضیاءشاہد اپریل 1998ء سے اپریل 2000ء
13 میر شاہد حسین مئی 2000ء سے اپریل2002ء
14 راحیل یوسف اپریل2002ء سے ستمبر 2003ء
15 کاشف شفیع اکتوبر 2003ء سے نومبر 2005ء
16 نجیب احمد حنفی دسمبر 2005ء سے مارچ 2010ء
17 شمعون قیصر اپریل2010ء سے مارچ 2013ء
18 سید فصیح اللہ حسینی 2013 اپریل سے مارچ 2016ء
19 محمد طارق خان اپریل 2016ء تاحال
  • کلیم چغتائی

کلیم چغتائی پیامی کے پہلے مدیر تھے۔ ابتدا میں ساتھی کے کل صفحات 16 تھے اور قیمت 20پیسے تھی۔ جنوری 1978ءصفحات 24 کردیے گئے۔

  • آفتاب الدین

اس کے بعد ”آفتاب الدین“ ستمبر 1978ءسے ساتھی کے مدیر رہے، اُن کے دور میں پہلا خانمبر ”امتحان نمبر “نکالاگیا۔ مئی 1978ءمیں پیا می کا نام بدل کر موجودہ نام ”ساتھی“ رکھ دیا گیا۔ ساتھی کے نام میں تبدیلی میں دو ساتھیوں کو یہ اعزاز حاصل ہوا۔ ان کی تجویز پر ساتھی کا نام رکھا گیا۔ یہ دو لڑکے دہلی بوائز اسکول کے ”شارق ممتاز“ اور کے ایم اے بوائز اسکول کے طالب علم ”عبد الرحمن“ تھے۔ ستمبر 1978ءمیں ساتھی کا ایک رنگ کا سر ورق بنایا گیا۔ اس وقت ساتھی کی قیمت 50پیسے تھی۔ ساتھی کے سالنامے کی روایت ستمبر 1979ءسے شروع ہوئی۔

  • شاہد رفیع مجاہد

پہلا سالنامہ نئے مدیر ”شاہد رفیع مجاہد“ نے تیار کیا۔ جون 1982ءمیں ساتھی کا سرورق رنگا رنگ کر دیا گیا۔

  • اعظم منہاس

جنوری 1984ءمیں ”اعظم منہاس“ نے مدیر کی حیثیت سے چارج سنبھالا۔

  • سعود کمال عباسی

اعظم منہاس کے بعد ”سعود کمال عباسی“ نے جگہ مدیر کی جگہ لے لی اور کافی طویل عرصے تک یعنی نومبر 1984ءسے 1987ءتک ساتھی کو سنوارتے رہے۔ ساتھی کا سائز پہلے کچھ چھوٹا تھا لیکن آج کل آپ جو سائز دیکھتے ہیں۔ وہ سعودکمال عباسی نے ہی تیار کیا تھا۔ ان کے دور میں سالنامہ ستمبر سے باقاعدہ شروع ہوا۔ اس کے علاوہ ”آزادی نمبر“ اگست 1985ءمیں شائع ہوا۔ یہ بڑے کام سر انجام دے کر آپ بھی رخصت ہوئے اور اپنی جگہ ”صادق جمیل“ کو چھوڑ گئے۔

  • صادق جمیل

صادق جمیل نے پرانی روایتوں کو بر قرار رکھا اور ساتھی کو مزید خوب صورت اور موٹا تازہ کرنے میں جمے رہے ۔۔۔۔ اور ہاں ساتھی کا مقبول عام سلسلہ ”کمانڈو فور“ جو منیر احمد راشد نے تحریر کیا تھا۔ ان ہی کے دور میں سالنامے سے شروع ہوا۔ دسمبر1987ءسے ساتھی کے ساتھیوں کو انعاما ت بھی دینے کی روایت شروع کی گئی۔ اب ہر ماہ کی بہترین تحریر کے مصنف کو انعامات بھی دے ے جانے لگے۔ اس طرح ”صادق جمیل“ ستمبر 87ءسے دسمبر89ءتک ساتھی کے ساتھ رہے۔ ان ہی کا وہ تاریخ ساز دور تھا۔ جب ساتھی مجلے کی شکل سے نکل کر ماہنامے کی شکل اختیار کر گیا۔ ساتھی کی باقاعدہ رجسٹریشن جنوری 89ءمیں ملی۔

  • سید شمس الدین

”سید شمس الدین“ جنوری 90ءسے دسمبر91ءتک ساتھی کے مدیر رہے لیکن اتنے مختصر عرصے میں آ پ نے ساتھی کو چار چاند لگا دیے۔ اب ساتھی کے اندر تحریروں کے ساتھ اسکیچز لگانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ دو رنگوں میں پہلی بار ساتھی شائع ہوا اور ”ساتھی رائٹرز ایوارڈ“ کی پہلی منفرد تقریب بھی مارچ 90ءمیں آپ ہی نے منعقد کی۔ اسی سال ”کمپیوٹر نمبر“ شائع ہوا۔ اتنے سارے اہم کام سر انجام دے کر آپ کا سنہرا دور ختم ہوا۔

  • قاضی سراج الدین

نئے مدیر ”قاضی سراج الدین“ نے ساتھی کو نئے جدید دور میں داخل کر دیا۔ سب سے پہلے تو فروری 92ء میں ساتھی کا ”پندرہ سالہ نمبر“ شائع کرکے ساتھی کی سا لگرہ منائی گئی۔ یہ خاص نمبر 160 صفحات جتنا موٹا تھا اور قیمت پانچ روپے تھی۔ پھر اگلے ماہ ساتھی رائٹرز ایوارڈ کی کامیاب تقریب مارچ 92ءمیں منعقد ہوئی۔ اسی ماہ میں ساتھی آل پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی کا رکن بھی بنا۔ اب ساتھی کی قیمت مستقل چار روپے کردی گئی۔ جبکہ صفحات موجودہ صفحات 112 جتنے ہو گئے۔ اسی سال ساتھی کا خاص نمبر ”سائنس اسپیشل“ شائع ہوا۔ قاضی سراج نے تین خاص نمبر ایک ہی سال میں نکالنے کا منفرد اعزاز حاصل کیا۔ یہ بات ثابت کرتی تھی کہ قاضی سراج کے ارادے مضبوط اور عزائم جواں تھے۔ اسی سال ”کمانڈو فور“ کا مقبول سلسلہ اپنی آخری قسط کے ساتھ اختتام پزیر ہوا۔ چونکہ اس سال تین خاص نمبر لانے کی وجہ سے سالنامہ شائع نہ ہو سکا تھا۔ اس لیے پہلی بار سالنامہ مارچ 1993 میں شائع ہوا۔ اس کے فوری بعد اپریل کا شمارہ ”حقوق اطفال نمبر“ شائع ہوا۔ اس خاص نمبر کو دعوة اکیڈمی نے بچوں کے رسائل میں دوسرا انعام دیا۔ اس سال بھی جولائی 93ءمیں ساتھی رائٹرز ایوارڈ کی تقریب منعقد ہوئی جو پھر بہت عرصہ تک منعقد نہ کی جاسکی۔ اگست 93ءمیں آپ نے” جیوے پاکستان نمبر“ شائع کیا۔ یہ آپ کا آخری خاص نمبر تھا لیکن اب ساتھی کو چار چاند لگ چکے تھے۔ ساتھی کی مقبولیت بہت بڑھ چکی تھی۔ ہر کوئی ساتھی کا ساتھی بننا چاہتا تھا۔ جاتے جاتے قاضی سراج ساتھی کو دسمبر 93ءمیں آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کا رکن بھی بناگئے۔ صرف اتنا ہی نہیں۔ ساتھی کا دوسرا ایڈیشن بھی اگست 92ءسے ہی نکلنا شروع ہوا ہے۔ اس طرح ساتھی کو بیک وقت دو زبانوں میں شائع ہونے کا اہم اعزاز حاصل ہوا۔ یعنی اب ساتھی اردو کے علاوہ حیدر آبادسے سندھی زبان میں بھی شائع ہونے لگا۔ مارچ 94ءمیں ”خاص بچے خاص شمارہ“ شائع ہوا۔ ساتھی کو پاکستان بھر میں اتنا پسند کیا گیا کہ دعوة اکیڈمی نے بچوں کے رسائل میں اول انعام سے نوازا۔ اس اہم اعزاز کو لیے قا ضی سراج رخصت ہو ئے اور ”صہیب جمال“ کو اپنی جگہ چھوڑ گئے۔

  • صہیب جمال

صہیب جمال نے بھی قاضی سراج کی تقلیدکرنے کی بے انتہا کوشش کی مگر ان دنوں کاغذ کی قیمتوں میں بے انتہا اضا فہ ہونے کے باعث اخراجات کو سنبھالنا انتہائی مشکل ہو گیا تھا۔ صہیب جمال نے اس کے باوجود معیار میں کوئی کمی نہ آنے دی۔ آپ سب سے کم عرصہ اپنی ذمہ داری نبھاسکے۔

  • عبد الحامد

آپ کے بعد عبد الحامد نے ساتھی کو سنوارنے کا عہد کیا۔ لیکن آپ نے ساتھی کے اندر رنگا رنگ صفحات کا خاتمہ کرکے قیمت کو مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ یہ روایت بہت عرصہ تک قائم رہی۔ آپ نے عام صفحات میں ہی خاص نمبر شائع کیے۔ جس میں”صحت نمبر“، ”فروغ تعلیم نمبر“ اور ”اطفا ل پاکستان نمبر“ شامل ہے لیکن ان منفرد خاص نمبرز میں ساتھی کی صحت کمزور ہی رہی۔ عبد الحامد جاتے جاتے ایک خاص کام ضرور کر گئے کہ ساتھی پبلی کیشنز کے تحت پہلا نا ول ”کمانڈو فور“ جو بہت مقبول ہوا تھا اور جس کے شائع کرنے کا بہت بار اعلان کیا گیا تھالیکن شائع نہ ہوسکاتھا، اسے بہترین سرورق کے ساتھ شائع کروایا۔[3]

  • عبد الفرید بروہی

عبد الحامد کے بعد عبد الفرید بروہی مارچ 97ءمیں آئے۔ آپ نے پاکستان کی گولڈن جوبلی کے موقع پر ساتھی کا ضخیم ترین شمار ہ نکا لنے کا عزم کیااور پھر اسے ”عزم آزادی نمبر“کے نام سے شائع کیا۔ ساتھی کی صحت دیکھ کر پرانے خاص نمبرز کی یاد تازہ ہو گئی۔ بہت عرصے بعد ساتھی کافی صحت مند نظر آنے لگا۔ ساتھی کو پھر سے بے حد مقبولیت حاصل ہونے لگی۔ آپ کا عزم اور ارادے قاضی سراج سے کسی طرح کم نہ تھے۔ بہت جلد ساتھی کے بیس سال مکمل ہونے پر آپ نے اسے شایان شان طریقے سے منایااور” بیس سالہ نمبر“اس زمانے میں ریکارڈ توڑ صفحات یعنی 148 صفحات پر مشتمل نکالا۔ عبد الفرید بروہی اس وقت دعوة اکیڈمی شعبہ بچوں کے ادب کے ڈائریکٹر ہیں۔ اگلے سال آپ بھی رخصت ہوئے اور ساتھی کو ضیاءشاہدکے سپرد کر گئے۔

  • ضیاء شاہد

ضیاءشاہد نے آتے ہی پہلے ماہ اپریل 98ءمیں ”ماں نمبر“ معمولی صفحات کے اضافے کے ساتھ شائع کیا۔ اس میں کلر صفحات کی کمی ساتھیوں نے شدت سے محسوس کی۔ اس کمی کو آپ نے ستمبر کے ”سالنامے“ میں پورا کر دیا اور بیس سالہ نمبر کی ضخامت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 166 صفحات شائع کیے۔ اس کی قیمت بارہ روپے تھی اور یہ اپنے اندر رنگین صفحات لیے ہوئے تھا۔ پھر اگلے سال جون 99ءمیں آپ نے ”ورلڈ کپ اسپیشل“ 136 صفحات کے ساتھ نکالا جس میں رنگین صفحات بھی شائع کیے۔ اس خاص نمبر کے بعد نومبر 99ء میں عام شمارے کی طرح ”حقوق اطفال نمبر“ شائع کیا۔

  • میر شاہد حسین

نئی صدی شروع ہوئی تو ”میر شاہد حسین“ نے ضیاءشاہد کی جگہ لے لی۔ آپ نئے صدی کے نئے عزائم لیے ہوئے تھے۔ آپ نے آتے ہی مئی 2000ءمیں ”صحت و صفائی نمبر“ شائع کیا۔ جس کے ساتھ ایک خوب صورت پزل کا تحفہ مفت دیا گیا۔ جسے ساتھیوں نے بے حد پسند کیا۔ اس خاص نمبر کے 136 صفحات تھے۔ پھر ستمبر 2000ءمیں سالنامہ شائع کیا۔ اس کے ساتھ دیدہ زیب اسٹیکر کا تحفہ مفت دیا گیا اور صفحات 136 ہی رکھے گئے۔ آپ نے نئی صدی کے آغاز پر پرانی روایت ”رائٹرز ایوارڈ“ کا آغاز کیا۔ اس طرح یہ تقریب جولائی93ءکے طویل عرصے بعد 15 اکتوبر 2000ءکو ایو یکیو کلب، گلشن اقبال میں منعقد کی گئی۔ اگلے ماہ نومبر 2000ءمیں ”آزادی کشمیر نمبر“ شائع ہوا۔ جس کے صفحات عام شماروں کے برابر تھے۔ اس طرح نئی صدی کا آغاز تین خاص نمبر اور رائٹرز ایوارڈ کی تقریب کو منعقد کرکے کیا گیا۔ اگلے سال صرف دو خاص نمبر شائع ہوئے۔ ایک تو عام شمارے کی موٹائی لیے ہوئے ”بچے اور امن“ کے عنوان سے شائع ہوا۔ جس کے سرورق کو دعوة اکیڈمی نے پاکستان بھر میں بہترین سر ورق قرار دیا اور دوسرا خاص نمبر ”سالنامہ“ اکتوبر2001ءمیں شائع ہوا۔ اس کے صفحات کی تعداد 152 رکھی گئی تھی۔ لیکن خاص بات یہ تھی کہ اس کے ساتھ ایک منفرد لیڈو || Lido گیم کا تحفہ مفت دیا گیا۔ جس میں اچھائی اور برائی کے درمیان میں فر ق کرتے ہوئے جنت تک پہنچنے کی تلقین کی گئی تھی۔ یہ تحفہ آئیڈے کے لحاظ سے خاصا منفرد ثابت ہوا۔ 13 جنوری 2002 کو ریجنٹ پلازہ میں دوسری بار”رائٹرز ایوارڈ“ کی تقریب منعقد کی گئی۔ ان تقاریب کی افادیت یہ ہوئی کہ گمشدہ اور نئے لکھاری دوبارہ سے ساتھی کو نکھارنے کی طرف مائل ہوئے اور ساتھی کی دلکشی میں اضافہ کرنے لگے۔ اپریل2002ءمیں میر شاہد حسین رخصت ہوتے ہوئے راحیل یوسف کو چھوڑ گئے۔

  • راحیل یوسف

آپ کے لیے یہ سال چیلنج کا درجہ رکھتا تھا کیونکہ ساتھی کو 25 سال مکمل ہوچکے تھے اور آپ نے اس چیلنج کو نہ صرف قبول کیابلکہ ساتھی کو اتنا موٹا کر دیا کہ میں ساتھی اب تک اتنا موٹا کبھی نہ ہوا تھا۔ اس میں شامل رنگا رنگ صفحات اور خوب صورت آئیڈیاز نے ساتھی کواتنا حسین کر دیا تھا کہ آج تک ساتھی اس حوالے سے یاد رکھا جاتا ہے۔ اس کی قیمت سب سے زیادہ یعنی 20 روپے تھی۔ جولائی 2003ءمیں ”حیرت ناک نمبر“ عام شمارے کے صفحات میں شائع کیا مگر یہ رنگا رنگ صفحات ساتھ لیے ہوئے تھا۔ ستمبر 2003ءمیں راحیل یوسف نے بہت جلدی ساتھی کو چھوڑ دیا اور کاشف شفیع کے حوالے کر دیا۔

  • کاشف شفیع

آپ نے آتے ہی پہلے ماہ ہی رائٹرز ایوارڈ کی تقریب ریجنٹ پلازہ میں منعقد کی۔ اگلے ماہ اکتوبر 2003ءمیں سالنامہ شائع کیا۔ جس کے صفحات کی تعداد 176 رکھی گئی۔ اگلے سال مئی 2004ءمیں ایک منفرد سلسلہ ”جیتو کمپیوٹر کوئز“ شروع کیا۔ جس سے ساتھیوں نے ساتھی کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور ساتھی کی مقبولیت پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی۔ اسی شمارے سے دوبارہ رنگین صفحات کا آغاز مستقل کر دیا گیا۔ اب تو ہر شمارہ ہی خاص نمبر دکھائی دینے لگا۔ جولائی 2004ءمیں ”جنگل نمبر“144 صفحات کے ساتھ شائع ہوا۔ پھر اگلے ماہ ہی ”آزادی نمبر“120 صفحات کے ساتھ آیا اور اکتوبر2004ءمیں سالنامہ بھی شائع کر دیا۔ اس کی قیمت 18 روپے تھی اور صفحات 176 تھے۔ مارچ 2005ءمیں بہت عرصہ بعد ایک اور مقبول قسط وار ناول ”گوریلا فائٹرز“ شانِ مسلم کے قلم سے شائع ہوا۔ اپریل 2005ءمیں آپ نے بھی رائٹرز ایوارڈ کی تقریب ریجنٹ پلازہ میں منعقد کی۔ ستمبر2005ءمیں حسب معمول سالنامہ شائع ہوا۔ جس کے ساتھ ایک منفرد کارڈ گیم مفت دیا گیا۔ اس کی قیمت 18 روپے اور صفحات 192 تھے۔ اس طرح کاشف شفیع جاتے جاتے پچیس سالہ نمبر کی تاریخ کو دہرا گئے۔

  • نجیب احمد حنفی

جی ہاں دسمبر 2005ءمیں جو ”قائد اعظم “ نمبر آپ نے پسند کیا تھا۔ وہ نجیب احمد حنفی نے آتے ہی نکالا تھااور بہت خوب نکالا تھا۔ خاص نمبر کے ساتھ ایک قائد اعظم کی آٹو گراف بک بھی مفت دی گئی تھی۔ اس کے صفحات160 تھے مگر ایک صدی اپنے اندر سمائے ہوئے تھا۔ 2006ءمیں دو خاص نمبر آپ نے ساتھی کے پڑھے ہوں گے۔ ستمبر 2006ءکا سالنامہ اور دسمبر 2006 ءمیں ”عالم اسلام نمبر۔“ 15 اپریل 2007ءمیں آواری ٹاورز میں رائٹرز ایوارڈ کی تقریب منعقد کی گئی۔ ستمبر 2007ءمیں 30سالہ نمبر اپنی آب وتاب کے ساتھ شائع ہوا۔ 30روپے قیمت کے ساتھ 200 صفحات پر مشتمل یہ سالنامہ اب تک شائع ہونے والے سالناموں اور خاص نمبروں کو صفحات کے لحاظ سے پیچھے چھوڑگیا۔ اس کے ساتھ اینیمل کارڈ گیم کا تحفہ بھی تھا۔ جنوری 2008ءمیں نجیب احمد حنفی کی ادارت میں ہی 152صفحات پر مشتمل ”کارنامہ نمبر“ نکالا گیا۔ اس خاص نمبر کی قیمت 20 روپے رکھی گئی۔ جون 2008ءمیں 152صفحات کا ”بور نمبر“ نکالا گیا۔ بور نمبر کی قیمت معمولی فرق کے ساتھ 22روپے مقرر کی گئی۔ ”بور نمبر“ کو اپنے انوکھے آئیڈیاز کی وجہ سے قارئین نے خوب سراہا۔ اس خاص نمبر میں بور قارئین کو جھنجھنا بطور تحفہ بھجوایا گیا۔ ابھی قارئین نے ساتھی کا ”بور نمبر“ ہضم کیا بھی نہیں تھا کہ نومبر 2008ءکو 160صفحات اور 30روپے کی قیمت میں”سالنامہ“ لایا گیا۔ یوں تو نجیب حنفی اپنے انوکھے آئیڈیاز کی وجہ سے ساتھی کے منفرد ایڈیٹر رہے ہیں لیکن ان کا سب سے بڑا کارنامہ 17 اپریل 2009 کو فاران کلب میں رائٹرز ایوارڈ کے ساتھ بچوں کا ”کل پاکستان مشاعرے“ کا انعقاد تھا۔ اس مشاعرے میں پاکستان بھر کے شعرا کو اکھٹا کیا گیا تھا۔ جولائی 2009ءمیں 152صفحات پر مشتمل ”شرارت نمبر“ اور نومبر2009ءمیں 168صفحات پر مشتمل ”سالنامہ“ شائع کیا گیا۔ ان کی قیمت بالترتیب 25اور 30 تھی۔ شرارت نمبر میں ساتھی کی ٹیم کے ساتھ ہونے والی شرارت نے قارئین کے ذہنوں پر اپنے نقوش چھوڑ دیے اور پھر اسی سال اس سالنامے میں ساتھی کو سجانے والی ٹیم کا قارئین کے گھر چھاپہ بہت مقبول ہوا۔ یہ ”نجیب احمد حنفی“ کی ادارت میں شائع ہونے والا آخری ”سالنامہ“ تھا۔ بالاخر نجیب احمد حنفی بھی ساتھی کو چھوڑ گئے۔

  • شمعون قیصر

جون 2010ءمیں 168 صفحات پر مشتمل ”سائنس نمبر“ نئے مدیر ”شمعون قیصر“ کی ادارت میں نکلا۔ اب تک قیمتوں میں معمولی فرق کے ساتھ خاص نمبر شائع کیے جا رہے تھے۔ سائنس نمبر کی قیمت بھی 30روپے رکھی گئی تھی۔ جبکہ نومبر 2010ءمیں ہمیشہ کی طرح پورے طمطراق سے 168صفحات 30روپے کی قیمت پر مشتمل ”سالنامہ“ لایا گیا۔ اس سالنامے میں بچوں کے لیے سندباد 4Dسینما کا مفت ٹکٹ بھی شامل تھا۔ شمعون قیصر نے نجیب احمد حنفی کے کیے ہوئے کام کو خوش اسلوبی کے ساتھ آگے بڑھایا۔17اپریل 2011ءکو ریجنٹ پلازہ میں ”ساتھی رائٹرز ایوارڈ“ کی پروقار تقریب ہوئی۔ جولائی 2011میں طویل مدت کے بعد ساتھی کی قیمت میں 5روپے کا اضافہ کرکے ساتھی 25روپے کا کر دیا گیا۔ لیکن ساتھی اب بھی دیگر رسائل کے مقابلے میں کم قیمت تھا اور ہے۔ اگست2011ءمیں ”تعمیر پاکستان نمبر“ اور دسمبر 2011ءمیں ”سالنامہ“ شائع ہوا۔ اب کاغذ مسلسل منہگا ہوتا جا رہا تھا۔ جس کی وجہ سے ان دونوں خاص شماروں کی قیمت 35جبکہ صفحات 168 تھے۔ سالنامے کے ساتھ گزشتہ سال کی طرح سندباد 4Dسینما کا مفت ٹکٹ شامل تھا۔ اس سال بھی دو خاص نمبر شائع ہوئے تھے۔ جولائی 2012ءمیں 160صفحات کا ”سیر سپاٹے نمبر“ نکالا گیا۔ نومبر 2012ءمیں 168صفحات پر مشتمل ”سالنامہ“ شائع کیا گیا۔ سیر سپاٹے کی قیمت 35روپے جبکہ سالنامے کی قیمت 45 روپے مقرر کی گئی۔ اب ساتھی مکمل ردہم میں آچکا تھا۔ سالنامے میں سند باد 4D سینما کا ٹکٹ قارئین کے اصرار پر مسلسل دیا جانے لگا۔ شمعون قیصر کو ایک اعزاز یہ بھی حاصل ہوا کہ ان کے دور میں نئے لکھاریوں کی رہنمائی کے لیے بنایا گیا”ساتھی گائیڈنس فورم“ متحرک ہوا۔ جاتے جاتے شمعون قیصر نے کاغذ کی بڑھتی ہوئی قیمت کے سبب میری قیمت میں مزید 5روپے کا اضافہ کرکے ساتھی کو توانائی بخشی۔

  • فصیح اللہ حسینی

”شمعون قیصر“ کے بعد ”فصیح اللہ حسینی“ نے مدیر کی کرسی سنبھال لی۔ ”فصیح اللہ حسینی“ نے آتے ہی 9جون 2013ءکو آرٹس کونسل کراچی میں ”رائٹرز ایوارڈ“ کی تقریب کا انعقاد کر ڈالا اور پھر جون 2013ءمیں ”بچپن نمبر“ شائع کیا گیا۔ یہ بچپن نمبر ”نجیب احمد حنفی“ کے 30 سالہ نمبر کے تعاقب میں 200صفحات کا نکالاگیا۔ اس خاص نمبر میں جہاں دلچسپ انعامی سلسلے تھے۔ وہیں کچھ خاص قارئین کے لیے جو بچپن نمبر پڑھنے کے باوجود تشنگی محسوس کر رہے تھے، ان کے لیے بذریعہ کوپن چسنی دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس خاص نمبر کی قیمت 50روپے طے کی گئی تھی۔ 2013ءکے ماہ نومبر میں ساتھی کا 35سالہ نمبر اپنی آب وتاب کے ساتھ لایا گیا۔ اس سالنامے نے ضخامت میں پچھلے تمام ریکارڈ توڑدیے۔ 240 صفحات اور 50روپے کا یہ سالنامہ اپنے منفرد آئیڈیاز کی وجہ سے ادبی حلقوں میں خوب سراہا گیا۔ اپریل 2014ءمیں ساتھی گائیڈنس فورم کے تحت نئے قلمکاروں کی تربیت کے لیے ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس ورکشاپ کے نگراں مجلس ادارت کے اعظم طارق کوہستانی تھے۔ معروف قلمکاروں اور ٹرینرز نے نوجوانوں کی تربیت کا سامان کیا۔ جون 2014ءمیں ساتھی کے ساتھیوں نے ایک مشکل ہدف کو مقصود بناتے ہوئے مریخ نمبر نکالا۔ اس نمبر کے حوالے سے میرے ساتھیوں نے خوب محنت کی اور بچوں کے ادب میں پہلی بار کسی رسالے نے اس موضوع پر خاص نمبر نکالا تھا۔ ان تمام خاص نمبرز اور سالناموں کی قیمتیں مستقل 50روپے ہی رکھی گئیں تھی۔ پچھلی روایتوں کے برعکس اس بار سالنامہ اکتوبر 2014ءمیں لایا گیا۔ 2015ءکے ماہ مئی میں 176صفحات پر مشتمل آئیڈیا نمبر لایا گیا۔ نت نئے خیالات اور مستقبل کا نقشہ کھینچتے یہ آئیڈیاز خوب پسند کیے گئے۔ نومبر2015ءساتھی کے ساتھیوں کے لیے بہت بھاری رہا۔ نومبر میں سالنامہ اور کل پاکستان بچوں کا مشاعرہ+رائٹرز ایوارڈ جیسے اہم کام کرنے تھے۔ ساتھی کی ٹیم اب کافی مضبوط تھی۔ اس لیے 168صفحات اور 50روپے کی قیمت پر مشتمل سالنامہ لایا گیا۔ نومبر میں ہی پاکستان میں بچوں کا کل پاکستان مشاعرہ کے انعقاد نے ساتھی کے چاہنے والوں میں اضافہ کیا۔ کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقد اس مشاعرے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں عوام کو شرکت کی کھلی دعوت دی گئی تھی۔ جنوری 2016ءمیں ساتھی گائیڈنس فورم کے تحت تیسری ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس ورکشاپ کے نگراں مجلس ادارت کے اعظم طارق کوہستانی تھے۔ جس میں شہر کے معروف قلمکاروں اور ٹرینرز نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارا۔ اتنے اہم کام کر کے بلاآخر سید فصیح اللہ حسینی بھی ساتھی سے رخصت ہوئے اور محمد طارق خان کو اپنا جانشین چھوڑ گئے۔

ادبی حلقوں میں محمد طارق خان اپنے قلمی نام اعظم طارق کوہستانی کے نام سے معروف ہیں۔ آج کل اعظم طارق کوہستانی ہی ساتھی کے مدیر اعلیٰ ہیں۔[4]طارق خان نے ماہنامہ ساتھی کی ادارت اپریل 2016ء میں سنبھالی۔ اپریل 2016ء ہی سے ہر کہانی کے آخر میں ”مشکل الفاظ کے معنی“ کا سلسلہ شروع کیا گیا جو ایک روایت بن گئی، علاوہ ازیں دسمبر 2016ء میں ساتھی گائیڈنس فورم کے تحت چوتھی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس ورکشاپ کے نگراں مجلس ادارت کے انچارج عبد الرحمن مومن تھے۔ جس میں شہر کے معروف قلمکاروں اور ٹرینرز نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارا۔ 2016ء سے ساتھی میں نئے سلسلے بھی شامل کیے گئے جس میں ”آپ کی نگارشات“، ”الفا ظ کا تعاقب“ وغیرہ شامل ہیں۔ ساتھی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے نومبر2016ء میں سالنامہ لایا گیا۔ جس میں دوبارہ میرے ٹائٹل پیج کے لوگو میں غیر معمولی تبدیلی کی گئی۔ ماہنامہ ساتھی نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے اپریل 2017ء میں فاران کلب کراچی میں رائیٹرز ایوارڈ زکے نام سے شان دار تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں ملک بھر سے مشہور و معروف شعرا اور ادبا نے شرکت کی۔ رائیٹرز ایوارڈ میں سال 2015ء اور 2016ء کے بہترین شعرا اورقلمکاران کو ایوارڈز دیے گئے۔ 2017ء میں شعبہ آئی ٹی کو منظم کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ساتھی کو فعال کیا گیا اور دیدہ زیب ویب سائٹ کا افتتاح کیا گیا۔

خاص شمارے[ترمیم]

شمار موضوع ماہ و سال مزید
1 امتحان نمبر ستمبر 1978ء پہلا خاص نمبر
2 آزادی نمبر اگست 1985ء
3 کمپیوٹر نمبر جولائی 1990ء
4 پندرہ سالہ نمبر فروری 1992ء 160 صفحات
5 آزادی کشمیر نمبر جولائی 1992ء
6 سائنس اسپیشل نومبر 1992ء
7 حقوق اطفال نمبر اپریل 1993ء دعوة اکیڈمی کی طرف سے دوسرا انعام
8 جیوے پاکستان نمبر اگست 1993ء
9 خاص بچے خاص شمارہ مارچ 1994ء دعوة اکیڈمی کی طرف سے اول انعام
10 اطفال پاکستان نمبر مارچ 1997ء
11 عزم آزادی نمبر اگست 1997ء
12 بیس سالہ نمبر نومبر 1997ء 148 صفحات
13 ماں نمبر ماہ اپریل 1998ء
14 ورلڈ کپ اسپیشل جون 1999ء 136 صفحات
15 حقوق اطفال نمبر نومبر 1999ء
16 صحت و صفائی نمبر مئی 2000ء 136 صفحات، مع خوب صورت پزل کا تحفہ
17 آزادی کشمیر نمبر نومبر 2000ء
18 بچے اور امن جولائی 2001ء سرورق کو دعوة اکیڈمی نے پاکستان بھر میں بہترین سر ورق قرار دیا
19 پچیس سالہ نمبر ستمبر 2002ء
20 حیرت ناک نمبر جولائی 2003ء
21 جنگل نمبر جولائی 2004 ء 144 صفحات
21ب آزادی نمبر اگست 2004ء 120 صفحات
22 قائدِ اعظم نمبر دسمبر 2005ء 160 صفحات، مع قائد اعظم کی آٹو گراف بک بطور تحفہ
23 عالمِ اسلام نمبر دسمبر 2006ء
24 تیس سالہ نمبر ستمبر 2007ء 200 صفحات، مع اینیمل کارڈ گیم کا تحفہ
25 کارنامہ نمبر جنوری2008ء 152 صفحات
26 بور نمبر جون 2008ء 152صفحات مع جھنجھنا بطور تحفہ
27 شرارت نمبر جولائی 2009ء 152صفحات
28 سائنس نمبر جون0102ء 168 صفحات
29 تعمیر پاکستان نمبر اگست 2011ء صفحات 168
30 سیر سپاٹے نمبر جولائی 2012ء 160صفحات
31 بچپن نمبر جون 2013ء 200صفحات
32 پینتس سالہ نمبر نومبر 2013ء 240 صفحات
33 مریخ نمبر جون 2014ء
34 آئیڈیا نمبر مئی 2015ء 176صفحات
35 ابو نمبر[5] مئی 2016ء
37 بھول نمبر[6] مئی 2017ء
38 چالیس سالہ نمبر[7] نومبر 2017ء 288 صفحات، رسالے کے چالیس سال پورے ہونے پر
39 شکایت نمبر[8] مئی 2018ء 208صفحات

ساتھی رائٹرز ایوارڈ[ترمیم]

شمار ماہ و سال
پہلاساتھی رائٹرز ایوارڈ مارچ 1990ء
دوسراساتھی رائٹرز ایوارڈ مارچ 1992ء
تیسرا ساتھی رائٹرز ایوارڈ جولائی 1993ء
چوتھا ساتھی رائٹرز ایوارڈ اکتوبر 2000ء
پانچواں ساتھی رائٹرز ایوارڈ جنوری 2002 ء
چھٹاساتھی رائٹرز ایوارڈ ستمبر 2003 ء
ساتواں ساتھی رائٹرز ایوارڈ اپریل 2005ء
آٹھواں ساتھی رائٹرز ایوارڈ اپریل 2007ء
نواں ساتھی رائٹرز ایوارڈ اپریل 2009ء[9]
دسواں ساتھی رائٹرز ایوارڈ اپریل 2011ء
گیارہواں ساتھی رائٹرز ایوارڈ جون 2013ء
بارہواں ساتھی رائٹرز ایوارڈ نومبر 2015ء
تیراہواں ساتھی رائٹرز ایوارڈ اپریل 2017ء

بچوں کا کل پاکستان مشاعرہ[ترمیم]

  • 17 اپریل 2009، فاران کلب کراچی، نجیب احمد حنفی
  • 4 نومبر 2015، ایکسپو سینٹر کراچی، سید فصیح اللہ حسینی

تصاویر[ترمیم]

لوگو[ترمیم]

خاص شماروں کے سرورق[ترمیم]

دیگر سرورق[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]