محمد جوناگڑھی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد جوناگڑھی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1890  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جوناگڑھ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 1941 (50–51 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مترجم،  مصنف،  عالم  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

مولانا محمد جوناگڑھی (ولادت: 1890ء - وفات: 1941ء) برطانوی ہند میں عالم دین تھے۔ آپ صوبہ گجرات میں ضلع کاٹھیاوار کے شہرت یافتہ شہر جوناگڑھ میں 1890ء میں پیدا ہوئے، جو متحدہ ہندوستان میں اسلامی ریاست کے نام سے معروف تھا۔ آپ کے والد محترم محمد ابراہیم غلہ کی تجارت کرتے تھے، والدہ کا نام ”بیوی حواء“ تھا آپ کا تعلق میمن خانوادہ سے تھا، جس کی عظمت و عزت ضرب المثل تھی۔ مولانا کے والد محترم ابتدا ہی سے حریت فکر اور معتدل خیالات کے مالک تھے تقلیدی مذہب ان کو بہت دیر تک مطمئن نہ کر سکا اس لیے انھوں نے مسلک سلف سے رشتہ استوار کر لیا۔

ابتدائی تعلیم اور پہلی شادی[ترمیم]

مولانا جوناگڑھی نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن مالوف میں مولانا محمد عبد اللہ صاحب جوناگڑھی سے حاصل کی آپ نے جب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو والد محترم نے آپ کی شادی ایک نیک سیرت خاتون موسومہ “امینہ” سے کر دی چونکہ تعلیم و تعلم کا کوئی ارادہ نہیں تھا اس لیے آپ نے عطر کی تجارت شروع کر دی اور بڑی کامیابی سے اس تجارت میں لگے رہے، جب بیوی امینہ کے بطن سے ایک خوبصورت بچہ پیدا ہوکر لقمہٴ اجل بن گیا تو آپ کو شدید صدمہ پہنچا، اس رنج و الم کی شب و تار میں صبح امید آنے سے قبل ہی جب دوسرے بچہ کی ولادت کے موقع پر آپ کی شریک حیات امینہ نے داعیٴ اجل کو لبیک کہا تو آپ بری طرح ٹوٹ گئے، اس صدمہٴ جانکاہ کی وجہ سے طبیعت میں تکدر اور انقباض پیدا ہو گیا، اہل خانہ کی غیر ضروری مداخلت نے مزاج میں تلخی و ترشی پیدا کر دی یہاں تک کہ اپنے والدین کی لاعلمی میں نقل مکانی کا آپ نے پروگرام بنا لیااور عازم سفر ہوئے۔

سفر دہلی اور حصول علم[ترمیم]

اس زمانہ میں شہر دہلی مسلم بیداری کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیم اور تہذیب و تمدن کا عظیم مرکز تھا، لائق و فائق اساتذہ اور شہرہٴ آفاق علما یہاں قیام پزیر تھے، لہذا 1913ء میں 22 سال کی عمر میں اپنے مادر وطن کی محبت و کشش سے خود کو آزاد کر کے بڑے خفیہ طریقہ سے دہلی پہنچے اور “مدرسہ امینیہ” میں داخلہ لے کر یکسوئی کے ساتھ حصول تعلیم میں مشغول ہو گئے، مگر مدرسہ کی مخصوص و محدود فضا سے جلد ہی اوب گئے۔ کتاب و سنت کے اس شاہین کو مدرسہ امینیہ کی فضا تنگ اور ناقص معلوم ہوئی اور نئے نشیمن کی تلاش انہیں مولانا عبد الوہاب ملتانی رحمة اللہ علیہ کے مدرسہ دارالکتاب والسنہ لے گئی، مولانا موصوف، سید نذیر حسین محدث دہلوی کے ارشد تلامذہ میں سے تھے، وہاں آپ نے اپنی خداداد صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔

خانگی احوال[ترمیم]

دہلی کے قیام کے زمانہ میں آپ کی غیر معمولی ذہانت، تیز فہمی، فراست اور نظم و نسق کا مشاہدہ کرتے ہوئے دہلی کے متعدد تجار اور رئیسوں نے آپ کے پاس شادی کے پیغامات بھیجوائے لیکن آپ نے زوجہٴ مولانا عبد الوہاب ملتانی رحمة اللہ علیہ کی ہمشیرہ کو ترجیح دی اور ان سے عقد کر لیا، جس سے آپ کی کئی اولاد ہوئی، اسی دوران مادر وطن کی کشش آپ کو جوناگڑھ لے گئی اور وہاں خاندان کے اصرار اور مادر وطن کے حق کی رعایت کرتے ہوئے دوسری شادی کی جس سے آپ کی کئی اولاد ہوئی۔

رحمانیہ کا ذکر خیر[ترمیم]

سید نذیر حسین محدث دہلوی کے درس حدیث اور نواب صدیق حسن خان بھوپالی رحمة اللہ علیہ کے بھوپال کی علمی فضا کے بعد [دارالحدیث رحمانیہ دہلی] وہ واحد ادارہ تھا جس میں جید اور مستند علما کرام کی ایک صالح اور غیرت مند جماعت تیار کی۔ شیخ عبد الرحمان اور شیخ عطاء الرحمان جو دہلی کے صاحب ثروت اور مخیر اہل حدیث برادران تھے انہوں نے صوفی محمد عبد اللہ اور علامہ عبد العزیز رحیم آبادی رحمة اللہ علیہ کی تحریق پر دہلی کے صدر مقام باڑہ ہندوراوٴ میں دارالحدیث رحمانیہ کے نہ صرف قائم کرنے کا ارادہ کیا بلکہ ایک لاکھ کی رقم صرف کرکے اس کی عظیم الشان بلڈنگ قائم کی۔ مولانا جوناگڑھی رحمتہ اللہ علیہ کا شیخ عبد الرحمان شیخ عطاء الرحمان اور ان کے قائم کردہ جامعہ رحمانیہ سے والہانہ لگاوٴ اور حقیقی تعلق تھا مولانا کی ہمدردیاں ہمہ وقت دارالحدیث رحمانیہ کے ساتھ رہتیں۔ دارالحدیث رحمانیہ کے اجلاس اور خصوصی پروگرام میں بھی مولانا جوناگڑھی شریک ہوا کرتے تھے، چنانچہ رحمانیہ کے سترھویں سالانہ اجلاس میں بحیثیت صدر ایک جامع خطاب کیا جو بعد میں “مقالہٴ محمدی” کے نام سے طبع ہوا۔

مدرسہ محمدیہ کا قیام[ترمیم]

تعلیمی مراحل کے بعد عملی زندگی میں اپنے خیالات کو کارگر بنانے کی نیت سے سب سے پہلے ایک دینی مدرسہ کے قیام کی بابت سوچا اور آخرش اجمیری گیٹ اہل حدیث مسجد کو مذاکرہٴ علمیہ کا مرکز اور مثالی تعلیم گاہ قرار دیا اور اس ادارہ کا نام بھی آپ نے مدرسہ محمدیہ رکھا، اس میں دیگر اساتذہ کے ساتھ ساتھ آپ خود بنفس نفیس بیرونی طلبہ کی علمی تشنگی بجھانے کی سعی بلیغ فرماتے۔

صحافتی سرگرمیاں[ترمیم]

اجمیری گیٹ میں قیام کے دوران مولانا مرحوم نے تصنیف و تالیف کا کام جاری رکھا، تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کے مقصد سے ایک ماہنامہ “گلدستہٴ محمدیہ” کے نام سے جاری کیا، بعد میں اس رسالے نے ایسی مقبولیت حاصل کی کہ 1912ء میں اخبار محمدی کے نام سے پندرہ روزہ ہو گیا، یہ اخبار آپ کی وفات کے ایک سال بعد 1942ء تک جاری رہا اور پھر بے وجہ بند ہو گیا۔

تصنیف و تالیف[ترمیم]

آپ کی تصانیف کی خدمات بھی کسی پہلو سے معمولی نہیں ہے، آپ کے تصانیف کی تعداد تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد پہنچتی ہے، ہر کتاب اپنی جگہ پر ایک قیمتی جوہر سے کم درجہ کی نہیں ہے ان کتابوں کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کی مدت حیات میں اکثر کتابیں دسیوں مرتبہ زیور طباعت سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آچکی تھیں، مولانا داوٴد راز نے آپ کی تصنیفی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کو قلمی میدان کا بے باک مجاہد کہا ہے مولانامحمد جوناگڑھی رحمتہ اللہ علیہ کی جملہ تصانیف کا مرکزی موضوع تقلید و تعصب کی تردید اور کتاب و سنت کی تائید ہے آپ نے اپنی کتابوں میں راہ حق سے منحرف فرقوں پر اتنے زور کا حملہ کیا ہے کہ مد مقابل حواس باختہ ہے، فقہی موشگافیوں سے پردہ ہٹایا ہے اور واضح انداز میں یہ ثابت کیا ہے کہ فقہا نے کس کس طرح دین کو اجاڑا اور برباد کیا ہے، سنت رسول کی ویرانی کے کیا کیا سامان کیے ہیں اور اپنی خود ساختہ اور خود نوشتہ کتابوں پر تقدس کے کیسے کیسے دخول چڑھائے ہیں اور اس خول کے پردے میں ہوائے نفس کی تکمیل کے کیا کیا انتظامات کیے ہیں اور جنس لطیف و کثیف کے سلسلے میں اپنے مطالبے، مشاہدے اور تجربات کا مسائل کے نام پر کیسی باریکی و خردبینی سے ذکر کیا ہے، مولانا نے کتابیں لکھ لکھ کر ان کی مقدس کتابوں کے حوالے سے ان سب کا پردہ فاش کیا ہے اور ان سے پردہ اٹھا کر عامة المسلمین کو حق بینی و حق شناسی کی دعوت دی ہے۔

تفسیر محمدی[ترمیم]

ترجمہ تفسیر ابن کثیر پانچ جلدوں میں آپ کا لافانی شاہکار ہے، آپ کے تصنیف کردہ قرآن حکیم کی لائق اعتبار ایک اہم تفسیر ہے، عربی و اردو زبان بولنے والے دونوں طبقہ کے لوگوں کے اندر اس تفسیر نے بے حد مقبولیت حاصل کی پوری تفسیر کل پچیس سو صفحات پر مشتمل ہے اس ترجمہ کو مولانا نے آٹھ سال میں مکمل کیا۔ http://www.elmedeen.com/cat-177-تفسیر-ابن-کثیر-مترجم-اردو

خطبات محمدی[ترمیم]

یہ آپ کی معروف اور اہم کتابوں میں سے ایک ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری حیات مبارکہ میں مختلف دینی مجالس و مجامع میں خطاب فرماتے ہوئے اپنی شیریں زبان میں جتنے خطبے دیے ہیں ان سب کو سارے ذخیرہٴ احادیث سے چن کر خطبات نبوی کے موتیوں کو جمع کر دیا ہے۔

ترجمہ اعلام الوقعین[ترمیم]

علامہ حافظ ابن قیم الجوزیہ کی معرکة الآراء کتاب اعلام الموقعین عن رب العالمین کا اردو ترجمہ ہے جو “دین محمدی” کے نام سے موسوم ہے، اس کتاب کا مختصر نام اگر چہ “دین محمدی” ہے مگر اس کا پورا نام “دلائل المحققین باحادیث سید المرسلین” ہے، مولانا نے اس کے ترجمہ کا کام 1934 میں شروع کیا اور چار سال کی مدت میں 1938ء میں مکمل کیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کو جب اس عظیم کتاب کے اردو ترجمہ کا علم ہوا اور آپ کی نظر سے وہ ترجمہ گذرا تو آپ نہایت متاثر ہوئے اور بڑی مسرت کااظہار کیا اور متعدد خطوط کے ذریعہ وقت کے امام الہند نے خطیب الہند کو تہنیت و مبارک باد پیش کی۔

دیگر کتابوں کے تراجم[ترمیم]

مولانا محمد جوناگڑھی رحمة اللہ علیہ نے تفسیر ابن کثیر اور اعلام الموقعین جیسی ضخیم اور معرکة الاعراء کتابوں کے ترجمہ ہی پر اکتفا نہیں کیا اس کے علاوہ آپ نے مندرجہ ذیل مفید اور علمی کتابوں کو عربی سے اردو میں منتقل کیا۔

﴿1﴾ “فتح الغفور فی وضع الایدی علی الصدور” آپ نے اس کا ترجمہ “سنت محمدی” کے نام سے شائع کیا۔

﴿2﴾ “جزء رفع الیدین” کا اردو ترجمہ “برھان محمدی” کے نام سے شائع کیا۔

﴿3﴾ “سیرت محمدی” کا سیرت نبوی کے موضوع پر امام جعفر ابن جریر طبری کی کتاب “خلاصة السیر” کا سلیس اردو ترجمہ ہے۔

﴿4﴾ “امام محمدی” آپ کا لافانی شاہکار ہے جو حقیقت میں محدث علامہ خطیب بغدادی ﴿متوفیٰ 462ھ ﴾ کی عربی کتاب “تاریخ بغداد” کے ایک جزء کا ترجمہ ہے۔

﴿5﴾ “فضائل محمدی” یہ کتاب بھی علامہ خطیب بغدادی کی قابل قدر تصنیف “شرف اصحاب الحدیث” کا اردو ترجمہ ہے۔

﴿6﴾ “ایمان محمدی” یہ کتاب امام ابوبکر احمد البیہقی ﴿384ھ تا 458ھ﴾کی تصنیف مختصر “شعب الایمان” کا اردو ترجمہ ہے۔

﴿7﴾ “عقائد محمدی” امام عبد اللہ بن حنبل کی عربی کتاب، “کتاب السنہ یا عقیدہ اہل السنہ” کا سلیس ترجمہ ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

کتابیات[ترمیم]

  • مولانا محمد جونا گڑھی کي سوانح مولانا محمد داود راز دہلوی، ڈاکٹر مجیب الرحمان اور محمد تنزیل الصدیقی الحسینی نے لکھی ہے ۔
  • کتاب “اعلام الموقعین”﴿اردو﴾ ۔