محمد علی فاضل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
استاد العلمأ علامہ محمد علی فاضل

استاد العلمأ علامہ الشیخ محمد علی فاضل مدظلہ العالی پاکستان کے ایک معروف شیعہ عالم دین ہیں۔

پیدائش اور تعلیم[ترمیم]

حجة الاسلام علامہ محمدعلی فاضل 1944ء میں پاکستان کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں پیداہوئے ،ابتدائی تعلیم مقامی مڈل (موجودہ ہائی)سکول میں حاصل کرنے کے بعد 1958ء میں مخزن العلوم الجعفریہ ملتان میں عالم عربی تک دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد فاضل عربی کے امتحان کے لیے جامعہ امامیہ لاہور میں داخلہ لیااور 1962ء میں پاکستان میں دینی تعلیم کی سند”فاضل عربی“ بورڈآف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (جامعہ پنجاب) لاہورسے حاصل کرنے کے بعد چھ سال تک ملک کے مختلف دینی مدارس اورمساجدمیں علمی اورتبلیغی خدمات انجام دیتے رہے،اور1968ءمیں اعلی تعلیمات کے حصول کے لیے حوزہ علمیہ قم المقدسہ تشریف لے گئے اوراس وقت کے حجج اسلام اسداللہ بیات،ابوالفضل موسوی،عباس دوزدانی ،مصطفی اعتمادی اورجعفرسبحانی جیسے ماہرین علوم وفنون اورقابل قدراساتذہ کرام سے سطحیات کومکمل کر لیا۔[1]

پاکستان واپسی[ترمیم]

1973ء میں ڈیرہ غازیخان کے بعض اکابراورمومنین کی درخواست پرپاکستان کے اس شہرتشریف لے گئے اوردینی مدرسہ قائم کرکے تدریسی اورتبلیغی خدمات انجام دیتے رہے ،ساتھ ہی حضرت امام خمینی کی قیادت میں چلائی جانے والی اسلامی انقلاب کی تحریک کی کامیابی کے لیے پاکستان میں اپنی مقدوربھرکوشش کی۔

دوبارہ ایران روانگی اور مصروفیات[ترمیم]

1979ء میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے چندماہ بعددوبارہ حوزہ علمیہ قم تشریف لے گئے اورتحصیل علم میں مشغول ہو گئے ،اورآیات عظام گلپائیگانی، مرعشی نجفی، شریعتمداری، شیرازی اورحرم پناہی کے دروس خارجہ سے بھرپوراستفادہ کیا۔

اسلامی انقلاب ایران میں آپ کا حصہ اور خدمات[ترمیم]

اسلامی انقلاب کے صدورکے لیے اپناشرعی اوراخلاقی فریضہ جانتے ہوئے اردوزبان میں لٹریچرکی نشرواشاعت کے لیے کوششیں شروع کر دیں،چنانچہ مجلہ ہائے ماہنامہ”جہاد“قم،”پیام امت “تہران،”الشہید“تہران کااردوزبان میں اجراءاوران کی نشرواشاعت آپ ہی کی کاوشوں کانتیجہ ہے ،جس سے دنیابھر کے اردودان طبقہ کے لیے اسلامی انقلاب کو سمجھنے میں بڑی مددملی ہے۔اسی دوران آپ نے دفترتبلیغات اسلامی قم کے ”شعبہ روحانے ت“سے محاذجنگ پرتبلیغی امورکی بجاآوری کے لیے درخواست کی جومنظورکرلی گئی اورآپ کوملک کی مغربی سرحدوں کی طرف” قرار گاہ نجف اشرف “بھیج دیاگے ااورآپ نے قرارگاہ کے مسئول(انچارج)امورمبلغین کے ہمراہ کردستان، ایلام اور خوزستان کے اگلے مورچوں میں تبلیغی خدمات سر انجام دیں ا وریہ سلسلہ تقریباًپانچ چھ ماہ تک جاری رہا۔اسی اثنامیں ثقافتی خدمات کی بجاآوری کے لیے آپ ادارہ ارشاداسلامی زاہدان کے مدیر کل(ڈائریکٹر جنرل) کی درخواست پرزاہدان تشریف لے گئے اورآپ کو اردوزبان کے ذریعہ خدمت انقلاب کی پیشکش کی گئی ،چنانچہ آپ نے وہاں پراردوکلاسوں کااجراءفرمایاجن سے کافی تعدادمیں طلباءاورطالبات نے استفادہ کیا، اسی دوران میں ادارہ کی طرف سے اردو، ہفت روزہ ”ارشاد“ کااجراءآپ کی ادارت میں کیاگے ا،جس کے ساتھ انہی کلاسوں کے طلباءوطالبات نے تعاون کیااور ہفت روزہ کامیابی سے چلتا رہا،اس کے مضامین، مراسلات ،خبریں اورتبصرے اس قدرجاندارہوتے تھے کہ برصغیرکے بعض اخبارات اس سے استفادہ اوراقتباس کیاکرتے تھے۔

اس کے ساتھ ہی آپ کو”ریڈیوزاہدان“کے شعبہ اردوکی طرف سے تعاون کی دعوت دی گئی جو آپ نے بڑی خوشی سے قبول فرما لی اور حتی الامکان اس کے ساتھ اسلامی انقلاب کی ثقافتی خدمات کے لیے بھرپورحصہ لیااوریہ سلسلہ برابردوسال جاری رہا۔پھرامام جمعہ زہدان نے صوبہ بلوچستان(ایران)کے مرکزی شہر”ایرانشہر“میں ”سازمان تبلیغات اسلامی “ کے دفتر کے اجراءکے لیے سازمان تبلیغات اسلامی کے مرکزی دفترتہران سے آپ کی مدیریت کی درخواست کی جو فوری طورپرمنظورکرلی گئی،چنانچہ مرکزکی طرف سے آپ کوایرانشہرجاکردفترقائم کرکے رپورٹ کرنے کا آرڈر موصول ہوااورآپ ایرانشہرتشریف لے گئے اورسازمان کادفترقائم کرکے اپنی ثقافتی ،تبلیغی اورتعلیمی سرگرمیوں کاآغاز کر دیا اور دو سال کے قلیل عرصہ میں ا س نوبنیاددفترکوملک کے دوسرے دفاتر کے شانہ بشانہ لاکھڑا کیا اور اتحاد بین المسلمین کے لیے اس قدرشبانہ روز کوششیں کیں کہ دوسوسے زائدعلماءتشیع وتسنن کے متعددسیمینار،کانفرنسیں اوراجلاس منعقد کیے، جس کی وجہ سے فریقین کے علماءکونزدیک سے نزدیک ترآنے اورسمجھنے کاموقعہ ملااس اس وقت کایہ نونہال آج ایک ثمر آوردرخت کی مانندصوبہ بلوچستان کواپنے فیوض وبرکات سے مستفیدومستفیض کر رہاہے،للہ الحمد

ایرانشہرمیں تقریباًپانچ سال تک خدمات انجام دینے کے بعدآپ نے اپنی علمی تشنگی کوبجھانے کے لیے حوزہ علمیہ قم واپس جانے کی درخواست کی جوقبول کرلی گئی ،اس دوران تحصیل علم کے ساتھ ساتھ آپ نے دفترتبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم کے ساتھ بھی اس کے ”قسمت آموزش“(تعلیمی وتدریسی شعبہ)سے تعاون جاری رکھا۔

پاکستان سے خدمت دین و ملت کی دعوت[ترمیم]

پاکستان سے علامہ سیدصفدرحسین نجفی مرحوم اوران کے رفقاءکارکی طرف سے پاکستان آکردینی خدمات سر انجام دینے کی دعوت دی گئی مگرآپ نے اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے مزیدکچھ عرصہ قم ہی میں رہنے کی اجازت طلب کی، مگر دوسرے سال پھربھرپورطریقے سے دعوت کودہرایاگیا،آخرکارمجبوراًآپ کوپاکستان کے لیے رخت سفرباندھنا پڑا۔

راجن پور میں جامعہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی بنیاد[ترمیم]

پاکستان میں تشریف لانے کے بعد آپ نے پنجاب کے ضلع راجن پور میں ایک عظیم الشان مدرسہ ”جامعہ امام جعفر صادق علیہ السلام“کی بنیاد رکھی جہاں سے فارغ التحصیل علماءکرام پاکستان کے طول و عرض میں مصروف عمل ہیں۔

حوزہ علمیہ زینبیہ سلام اللہ علیہا کا قیام[ترمیم]

آپ کی سر پرستی اور جامعہ ہذا کے زیر اہتمام دختران ملت کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے ”حوزہ علمیہ زینبیہ ؑ“ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا، جس سے اب تک کافی تعداد میں خواتین بہرہ ور ہوچکی ہیں اور علمی و تبلیغی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اور اب اس سلسلہ کو آگے چلانے کے لیے آپ کے فرزند ارجمند علامہ محمد تقی فاضل یہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تحریر ی خدمات[ترمیم]

1۔ تفسیرالمعین:قرآن مجیدکی مختصرترین تفسیرجواحادیث معصومین کی علیہم السلام کی روشنی میں تحریرکی گئی ہے،ایران اور

2۔ ترجمہ قرآن مجید:تفسیرنورکی روشنی میں قرآن مجیدکاترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔

3۔ تفسیرنمونہ:کی ستائیس جلدوں میں سے آخری پانچ جلدوں کے ترجمہ اورتصحیح میں آپ کاتعاون شامل ہے،اسی طرح

4۔ پیام قرآن:کی پہلی دوجلدوں کا ترجمہ اورتصحیح ۔

5۔ میزان الحکمت:آیت اللہ محمد،محمدی ری شہری کی دس ضخیم جلدوں پرمشتمل تقریباً52ہزاراحادیث معصومین (ع) کامجموعہ ہے،اس کتاب کی دس جلدوں کاترجمہ آپ ہی کے قلم کاشاہکا رہے جن میں سے آٹھ کا ترجمہ چھپ چکاہے ،باقی دوکاترجمہ ہوچکاہے جوعنقریب چھپ کرمنظرعام پرآنے والاہے۔ ان شاء اللہ۔

6۔ تفسیرنور:اسلامی جمہوریہ ایران کے جیدعالم دین اورمفسرقرآن حجة الاسلام والمسلمین محسن قرائتی دامت برکاتہ کی تفسیرقرآن مجیدجوبارہ جلدوں پرمشتمل ہے۔

7۔ منہاج البراعہ شرح نہج البلاغہ:نجف اشرف کے مجتہد،حضرت آیت اللہ سیدحبیب اللہ خوئی قدس سرہ نے نہج البلاغہ کی 21جلدوں پرمشتمل شرح تحریرفرمائی ہے۔

مفاتیح الجنان کامل: تالیف: ثِقَۃُ الْمُحَدِّثِین الحَاجْ شَیخْ عَبَّاسْ قُمِّی (قُدِّسَ سِرُّہ) ترجمہ: استاد العلمأ علامہ محمد علی فاضل مدظلہ العالی

مفاتیح الجنان ایک ایسے وسیع دسترخوان کی مانند ہے جس میں انواع و اقسام کے روحانی اور معنوی ماکولات و مشروبات سجائے گئے ہیں،  جن سے ہر طرح کے افراد اپنی خواہش اور طلب کے مطابق استفادہ کر رہے ہیں۔

       چونکہ دعائیں، انسان کے لیے غذائے جان اور روحانی و نفسانی درد کی دوا ہوتی ہیں لہذا لازم ہے کہ ان سے روحانی اور معنوی ضرورت  کے مطابق  استفادہ کیا جائے۔

       مرحوم آیت اللہ بہجت رضوان اللہ تعالی علیہ سے سوال کیا گیا کہ ایسا عمل بتائیں جس سے ہمیں روحانی اور معنوی سربلندی حاصل ہو سکے۔ تو انہوں نے فرمایا: ’’ مفاتیح الجنان ‘‘ کی طرف رجوع کرو جو دعا زیادہ تمہارے دل کو لگے۔

 مفاتیح الجنان کے تین حصے ہیں: پہلے حصے میں تعقیبات نماز، ہفتہ  کے دنوں کی دعائیں، شب و روز ِجمعہ کے

اعمال اور کچھ مشہور دعائیں اور مناجات ہیں۔دوسرے حصے میں سال کے تمام مہینوں کے اعمال ہیں۔ جبکہ تیسرا حصہ زیارات کے ساتھ مخصوص ہے جس میں چہاردہ معصومین علیہم السلام میں سے ہر ایک کی زیارات ہیں۔ زیارات جامعہ ہیں، جو ہر امام معصوم کے لیے پڑھی جاسکتی ہیں اور آخر میں امام زادوں اور بزرگوار علما اور اہلِ قبور کی زیارات کو ذکر کیا گیا ہے۔

       الباقیات الصالحات۔ مرحوم محدث قمی ؒ کی ایک نہایت ہی قابلِ قدر اور انمول کتاب ہے، جس میں دعائیں، ذکر و اذکار، ورد اور تعویذات شامل ہیں اور ایک بزرگ کے بقول: ’’الباقیات الصالحات‘‘ ایک ایسا خزانہ ہے جو معنوی جواہرات سے معمور ہے لیکن اس کی قدر ابھی تک پہچانی نہیں جا سکی‘‘

9۔ احکام اسلام: دین کے تمام فرعی احکام جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰة، خمس جہاد وغیرہ کے تمام مسائل کا تفصیلی ذکراس کتاب میں کیا گیا ہے۔ جس سے عالم اسلام استفادہ کر رہا ہے۔ باقیات الصالحات مفاتیح الجنان:ثقة المحدثین حاج شیخ عباس قمی رحمة اللہ علیہ کی اعمال اورزیارات پرمشتمل مشہورعالم کتاب مفاتیح الجنان کے ساتھ کتاب”باقیات الصالحات“کااردوترجمہ بھی آپ ہی کے خامہ گوہرریزکا شاہکا رہے، تقریباًہرشیعہ مسجد،امام بارگاہ اورگھرمیں موجود ہے۔

10۔ کاروان شہادت(مدینہ تا مدینہ منزل بہ منزل): مقتل امام حسین علیہ السلام پر مشتمل یہ کتاب آپ کی عظیم تالیفات میں سے ایک ہے جس میں حضرت امام حسین علیہ السلام کا مدینہ سے مکہ، مکہ سے کربلا تک کا سفر منزل بہ منزل پیش کیا گیا ہے، اس کے علاوہ اسرائے کربلا کا کربلا سے کوفہ و شام اور واپسی مدینہ تک کا سفر بھی اسی کتاب میں شامل ہے۔ یہ کتاب ایک ریفرنس کی حیثیت رکھتی ہے جس کے مستند ہونے میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے۔

11۔ آسان عقائد:اصول دین پرمختصرمگرمدلل گفتگوجس میں توحیدسے لیکرمعاد(قیامت) تک ہرایک موضوع پر اختصار مگراستدلال کے ساتھ گفتگوکی گئی ہے۔ کالجوں اوریونیورسٹیوں کے طلباءکے لیے بہت مفیدہے اورملک کے کئی دینی مدارس میں بطورنصاب پڑھائی جاتی ہے ۔

12۔ معاد:اے ران کے معروف خطیب حجة الاسلام والمسلمین محمدتقی فلسفی رحمة اللہ علیہ کی تصنیف کاآپ نے ترجمہ فرمایاہے، معاد(قیامت)پرقرآن وحدیث کی روشنی میںگفتگوکی گئی ہے اورسائنس اورفلسفہ کی روشنی میں اس کے اثبات میں دلائل پیش کیے گئے ہیں ۔

13۔ ماہ رمضان اوراعتکاف:اردوزبان میں اعتکاف کے موضوع پرپہلی تفصیلی کتاب ،جس میں اعتکاف کے فضائل طریقہ کاراورمراجع عظام کے فتاویٰ کوپیش کیاگے اہے ،ساتھ ہی ماہ رمضان کی دعاﺅں اوراعمال کو درج کیاگیاہے ۔

14۔ احکام اموات:مرنے والے سے متعلق تفصیلی احکام ،بستربیماری سے لیکرتدفین کے آخری مراحل بلکہ زے ارت قبور تک کے مسائل کوتفصیل کے ساتھ بیان کیاگیاہے۔

15۔ نورولایت:حضرت امیرعلیہ السلام کی ولایت ،امامت اورخلافت بلافصل پرعقلی اورنقلی دلائل کوتفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ،ساتھ ہی”علی صوت العدالة الانسانیہ“کے معروف عالم مسیحی رائٹر جارج جرداق کاتفصیلی انٹرویوشامل ہے ۔

16۔ ایک سوچودہ قرآنی سوال اوران کے جوابات:ایرانی دانشور آقای حسن جمشیدی کی تالیف کاآپ نے ترجمہ فرمایا ہے۔

17۔ مودت فی القربیٰ:قرآن مجیدکی آے ت مودت کی روشنی میں ثابت کیاگیاہے کہ پیغمبراسلام کے قریبیوں سے مودت ایک خدائی فریضہ ہے جسے ہرامتی کااداکرناواجب ہے اور”قربیٰ “سے مرادعلی ؑوفاطمہ ؑ، حسنین شریفین ؑ اوران کی نسل سے معصوم ائمہ ؑ ہیں،کتاب کایہ ایڈیشن ختم ہوچکاہے۔

18۔ خواتین سے متعلقہ مسائل حج وعمرہ:جناب آقای محمدحسین فلاح زادہ کی تالیف ہے جس میں خواتین سے متعلقہ مخصوص مسائل حج اورعمرہ کومراجع عظام کے فتاویٰ کی روشنی میں بیان کیاگیاہے۔

19۔ ایمان مجسم: ”برز الایمان کلہ الی الکفر کلہ“ آج کل ایمان کل کفر کے مقابلہ میں جا رہا ہے۔ اس فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مدنظر رکھتے ہوئے مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کی سیرت پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔

20۔ آخری نبی کا آخری خطبہ: خلافت بلافصل اور ولایت علی علیہ السلام کے سلسلے میں دیا جانے والا میدان غدیر خم میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کا آخری مفصل خطبہ اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اس خطبہ کی سند محققانہ انداز میں پیش کی گئی ہے۔

21۔ اس کے علاوہ :سازمان تبلیغات اسلامی مرکزکی طرف سے مترجم کے نام کے بغے راکثروبیشترشائع ہونے والی کتب آپ کے قلم کاشاہکا رہیں اورپاک وہندکے دینی مدارس میں پڑھائی جاتی ہیں۔

زیرطبع کتابیں:

1۔ تفسیرنور

2۔ منہاج البراعہ

3۔ قرآن مجسم، سیرت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

4۔ مخدومہ کونین، مقام و منزلت: حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت پر مشتمل کتاب۔

5۔ پیکر صلح و صفا، شہزادہ سبز قبا: سبط اکبر حضرت امام حسن علیہ السلام کی سیرت پر مشتمل کتاب۔

6۔ اسلام کی نظر میں انسانی حقوق: حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی زبان مبارک سے بیان کیے گئے انسانی حقوق کو بنیاد بناتے ہوئے انسان کے تمام حقوق کو اس کتاب میں بیان کیا گیا ہے۔

6۔ تفسیر دعائے مکارم الاخلاق: حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی عظیم دعا ”دعائے مکارم الاخلاق“ کی تفسیر عظیم علمی نکات کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔

7۔ علوم حدیث: علم حدیث پر منفرد کتاب جس میں تعارف کے علاوہ فریقین کے نزدیک تاریخ حدیث پر تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ {{{مضمون کا متن}}}

حوالہ جات[ترمیم]

کتاب کاروان شہادت، منزل با منزل

  1. "علامہ محمد علی فاضل"۔ علامہ محمد علی فاضل۔ جامعہ امام جعفر صادق علیہ السلام۔

حوالہ جات[ترمیم]

[1]

Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

https://fazil.pk

  1. "Official Website"۔ علامہ محمد علی فاضل مدظلہ۔ علی رضا فاضل۔