مریخ کی آب و ہوا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
22 فروری 1980ء میں وائی کنگ اول سے لی گئی لی گئی مریخ کی ایک تصویر

مریخ کی آب و ہوا سائنس دانوں کے لیے صدیوں سے دلچسپی کا باعث اس لیے رہی ہے کیونکہ مریخ وہ واحد چٹانی سیارہ ہے جس کی سطح کو براہ راست مفصل طور پر زمین سے دوربین کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے۔

اگرچہ مریخ چھوٹا ہے جس کی کمیت زمین کا 11 فیصد جبکہ سورج سے زمین کے مقابلے 50 فیصد زیادہ فاصلہ بھی ہے، تاہم اس کی آب و ہوا کافی مشابہ ہے، جیسا کہ قطبی برفیلی ٹوپیاں، موسمیاتی تغیر اور قابل مشاہدہ موسمیاتی نمونے۔ یہ مسلسل سیارہ شناسوں اور ماہرین موسمیات کی تحقیق کا ہدف بنا رہا ہے۔ موسمی تبدیلی اور میعادی برفیلے دوروں جیسی مماثلت کی وجہ سے اگرچہ مریخ کی آب و ہوا زمین سے مماثلت رکھتی ہے تاہم کچھ بہت زیادہ اہم اختلافات بھی موجود ہیں جیسے کہ انتہائی پست حرکی جمود۔ مریخ کا کرۂ فضائی کی اونچائی لگ بھگ 11 کلومیٹر یعنی زمین سے 60 فیصد زیادہ ہے۔ آب و ہوا کی اہمیت زیادہ اس وقت ہوتی ہے جب حیات حال یا ماضی میں سیارے پر موجود رہی ہو۔ آب و ہوا میں لوگوں کی زیادہ دلچسپی ناسا سے آنے والی ان خبروں کی بنیاد پر بڑھ گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی قطبی برفیلی ٹوپی پر بڑھتا ہوا عمل تصعید شاید مریخ پر متوازی عالمگیری حرارت کا سبب بن رہا ہے۔[1] اگرچہ حقیقت یہ ہے کہ مریخ کا درجہ حرارت گزشتہ چند دہائیوں میں اور گر کر ٹھنڈا ہوا ہے۔

زمین پر موجود آلات کی موجودگی میں مریخ کی تحقیق سترویں صدی سے کی جا رہی ہے تاہم مریخ کی کھوج کا آغاز صرف 1960ء کے عشرے کے وسط سے شروع ہوا ہے جس میں قریب سے اس کا مشاہدہ کیا گیا۔ قریب سے گزرنے والے خلائی جہاز اور مدار گردوں نے اوپر رہتے ہوئے اعداد و شمار کو مہیا کیا جبکہ کئی خلائی گاڑیوں اور جہاں گردوں نے براہ راست ماحولیاتی پیمائشوں کو ہمیں فراہم کیا۔ زمین کے مدار گرد جدید آلات نے آج ہمیں کچھ مفید "بڑی تصویر" دی ہے جس سے ہم نسبتاً بڑے موسمی مظہر کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ 

سب سے پہلا مریخ کے قریب سے گزرنے والا خلائی جہاز مرینیر چہارم تھا جو وہاں 1965ء میں پہنچا تھا۔ اس نے تیزی سے دو دنوں میں (14-15 جولائی 1965ء) کو اس کو پار کر لیا تھا۔ یہ مہم محدود تھی اور مریخ کی آب و ہوا کے بارے میں اس کی مہیا کردہ معلومات خام تھیں۔ بعد میں مرینیر مہمات (مرینیر ششم و مرینیر ہفتم) نے مریخ کی آب و ہوا کے بارے میں کچھ تشنہ لبی کو پورا کیا۔ اعداد و شمار پر انحصار کرنے والی آب و ہوا کی تحقیقات کا آغاز 1975ء میں وائی کنگ پروگرام کے ساتھ شروع ہوا اور مریخ پڑتال گرمدار گرد جیسے کھوجیوں کے ساتھ اب تک جاری ہے۔

اس مشاہداتی کام کو سائنسی کمپیوٹر نقل سے بھی مدد دی گئی جو مریخ کا عمومی گردشی نمونہ کہلاتا ہے۔[2] اس نمونے کے مختلف راستوں نے نہ صرف مریخ کے موسم کے بارے میں بڑھتی ہوئی معلومات دی بلکہ اس طرح کے نمونوں کی حد کو بھی بیان کیا۔

تاریخی آب و ہوا کے مشاہدات[ترمیم]

1704ء میں جیاکومو مرالڈی نے پتا لگایا کہ جنوبی قطب مریخ کے محوری قطب کا مرکز نہیں ہے۔[3] 1719ء کی مخالفت (جب کوئی دوسرا سیارہ اس مقام پر ہو کہ اس کے اور سورج کے درمیان زمین بیچ میں آ جائے) کے دوران، مرالڈی نے دونوں قطبین اور ان کے طول میں ہونے والے وقتی تبدیلی کا مشاہدہ کیا۔

ولیم ہرشل وہ پہلا فرد تھا جس نے اپنے 1784ء کے مقالے میں پہلی مرتبہ مریخ کے کرۂ فضائی کی کم کثافت کا اندازہ لگایا۔ اس مقالہ کا نام تھا "سیارہ مریخ کے قطبی علاقوں کی حیرت انگیز ساخت، اس کے محور کا جھکاؤ، اس کے قطبین کا محل وقوع اور اس کی کرہ نما صورت، اس کے اصل نصف قطر و ماحول سے متعلق چند سراغ "۔ جب دو دھندلے ستارے مریخ کے قریب سے گزرے تو ان کی روشنی پر کوئی فرق نہیں پڑا، اس طرح ہرشل نے صحیح طرح سے اندازہ لگا لیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مریخ کے ارد گرد روشنی سے مزاحم ہونے والا کرۂ فضائی بہت ہی تھوڑا سا ہے۔ 

ہنوری فلوگرگیس کی 1809ء میں کی جانے والی "زرد بادلوں" کی مریخ کی سطح پر دریافت مریخ کے دھول کے طوفانوں کا پہلا معلوم مشاہدہ ہے۔[4] فلوگرگیس نے 1813ء میں مریخی بہار کے موسم میں قطبی برف کو کافی زیادہ کم ہوتا ہوا دیکھا۔ اس کا قیاس کہ اس مشاہدے کا مطلب یہ ہوا کہ مریخ زمین سے زیادہ گرم ہے غلط ثابت ہوا۔

مریخی قدیمی موسمیات[ترمیم]

مریخ کے ارضیاتی وقت کے لیے دو قسم کی تاریخوں کا استعمال اب کیا جا رہا ہے۔ اس میں سے ایک شہابی گڑھوں کی کثافت پر انحصار کرتا ہے اور اس کے تین ادوار ہیں: نواچین (نوحی دور)، ہسپیرین (ہیسپرائی دور) اور ایمیزونی(دیونی دور)۔ جبکہ دوسرا معدنیاتی تاریخ کا ہے اس کے بھی تین ادوار ہیں۔ فیلوشئین، تهیکیئن اور سڈریکیئن۔

حالیہ مشاہدات و نمونہ جات نے نہ صرف مریخ پر حالیہ دور کے آب و ہوا اور ماحول کے بارے میں معلومات فراہم کی ہے بلکہ ماضی کے موسم اور کرۂ فضائی کے بارے میں بھی ہمیں بتایا ہے۔ کافی عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا تھا کہ نوحی دور میں مریخ کا کرۂ فضائی کاربن سے لبریز تھا۔ مریخ پر معدن مٹی کے ذخائر کے حال ہی میں کیے جانے والے طیفی مشاہدے اور معدن مٹی بنانے کی شرائط[5] بتاتی ہیں کہ اس دور میں مٹی میں کاربونیٹ یا تو نہیں ہیں یا پھر انتہائی قلیل مقدار میں ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائڈ سے لبریز ماحول میں مٹی ہمیشہ کاربونیٹ کے ساتھ ہوتی ہے اگرچہ یہ کاربونیٹ بعد میں آتش فشانی تیزابیت کی وجہ سے حل ہو جاتی ہے۔

آپرچونیٹی جہاں گرد کے ذریعہ مریخ پر آبیدہ معدن بشمول کچا لوہا اور جیرو سائٹ (لوہے اور پوٹاشیم کا آبی سلفیٹ) کی دریافت اور اسپرٹ جہاں گرد سے گوتھائٹ کی دریافت نے اس نتیجہ پر پہنچایا کہ ماضی بعید میں موسمی حالات مریخ پر پانی کے آزادانہ بہاؤ کی اجازت دیتے تھے۔ مریخ پر موجود کچھ شہابی گڑھوں کی شکلیات بتاتی ہیں کہ تصادم کے وقت زمین گیلی تھی۔[6] میدانی کٹاؤ کی شرح [7] اور مریخی وادیوں کے جال [8] دونوں کے ارض شکلہ کے مشاہدات مریخ کے نوحی دور(4 ارب برس سے بھی پہلے) میں گرم و مرطوب ماحول کا عندیہ دیتے ہیں۔ تاہم مریخی شہابیوں کے تجزیے بتاتے ہیں کہ سطح کے قریب مریخ کا درجہ حرارت کم از کم پچھلے چار ارب برسوں سے 0 ° سینٹی گریڈ سے نیچے ہی رہا ہے۔[9]

کچھ سائنس دان کہتے ہیں کہ تھارسس آتش فشانوں کا مریخ کی آب و ہوا پر اہم اثر ہے۔ پھٹتے ہوئے آتش فشاں عظیم مقدار میں گیس بالخصوص پانی کے بخارات اور کاربن ڈائی آکسائڈ کو اگلتے تھے۔ آتش فشانوں سے کافی گیس خارج ہوئی تھی جس نے مریخ کی ابتدائے آفرینش کے ماحول کو زمین کے ماحول سے زیادہ کثیف بنا دیا تھا۔ آتش فشانوں نے پانی کو بھی کافی مقدار میں خارج کیا ہوگا جس سے اس نے پورے سیارے کی سطح تو 120 میٹر کی گہرائی تک ڈھانک لیا ہوگا۔ کاربن ڈائی آکسائڈ ایک نباتاتی خانے کے اثر والی گیس ہے جو سیارے کا درجہ حرارت بڑھاتی ہے: یہ حرارت کو زیریں سرخ اشعاع کو جذب کرکے بڑھا دیتی ہے۔ لہٰذا تھارسس آتش فشاں کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج کرکے مریخ کو ماضی میں زمین کی طرح کا بنا سکتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ کبھی مریخ میں کافی زیادہ کثیف اور گرم کرۂ فضائی اور سمندر اور/ یا جھیلیں بھی موجود ہو سکتی تھیں۔[10] بہرحال مریخ کی آب و ہوا کے اس معقول عالمگیر موسم کے نمونے کو بنانا انتہائی دشوار گزار ثابت ہو چکا ہے جس میں درجہ حرارت تاریخ کے کسی بھی لمحے میں0 ° سے اوپر رہا ہو۔[11] بہرحال اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے نمونے کی درستی سے پیمانہ بندی میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

موسم [ترمیم]

مریخی صبح  کی دھندلاہٹ  - وائی کنگ  مدار گرد اول  (تصویر  1976ء میں لی گئی)۔

مریخ کا درجہ حرارت اور گردش برس تا برس تبدیل ہوتی ہے ( جس طرح سے کسی بھی کرۂ فضائی رکھنے والے سیارہ کا ہونا چاہیے)۔ مریخ میں سمندر نہیں ہیں، جو زمین پر سالانہ اندرونی تغیر کے کافی حد تک ذمہ دار ہوتے ہیں۔ مریخ مدار گرد کیمرے سے حاصل کردہ اعداد و شمار نے مارچ 1999ء میں آنا شروع کیا اور مریخی ڈھائی برس کے عرصے کی نگہبانی کی[12] جس سے معلوم ہوا کہ مریخ کا موسم تکرار پزیر ہے اس طرح سے وہاں کے موسم کا اندازہ زمین کے موسم کے مقابلے میں آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی واقعہ کسی برس کے خاص موقع پر وقوع پزیر ہوتا ہے، دستیاب مواد (جتنا منتشر ہے) بتاتا ہے کہ اس بات کا کافی امکان ہے کہ وہ اگلے برس تقریباً اسی محل وقوع پر دہرایا جائے گا بس ایک آدھ ہفتے کا فرق ہو سکتا ہے ۔

29 ستمبر 2008ء کو فینکس خلائی گاڑی نے بادلوں سے گرتی ہوئی برف کو اپنے اترنے کی جگہ سے 4.5 کلومیٹر اوپر ہیمڈل شہابی گڑھے کے قریب دیکھا تھا۔ زمین پر پہنچنے سے پہلے بخارات کی بارش ورگا (بادلوں سے تقاطر کی دھاریاں جو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی بھاپ بن کر اُڑ جاتی ہیں) مظہر کہلاتی ہے۔[13]

بادل [ترمیم]

فینکس خلائی جہاز کے اترنے کی جگہ پر برف کے بادلوں کی دس منٹ کے دوران ہونے والی حرکت (29 اگست 2008ء

مریخی دھول کے طوفان باریک ذرّات کو کرۂ فضائی میں شامل کر دیتے ہیں جن کے گرد بادل بنتے ہیں۔ یہ بادل سیارے کی سطح سے بہت زیادہ اونچائی 100 کلومیٹر تک دور جا کر بن سکتے ہیں۔[14] یہ بادل بہت دھندلے ہوتے ہیں اور ان کو صرف سورج کی روشنی کو منعکس ہوتا ہوا اندھیرے آسمان میں ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس طرح سے وہ میان کروی بادلوں کی طرح لگتے ہیں جن کو زمین پر شب میں نظر آنے والے تابناک بادل بھی کہتے ہیں جو ہمارے سیارے سے لگ بھگ 80 کلومیٹر اوپر واقع ہوتے ہیں۔

درجہ حرارت [ترمیم]

مریخی درجہ حرارت کو کئی طرح سے ناپا جاتا ہے:

مریخی درجہ حرارت کی پیمائش خلائی دور سے پہلے سے کی جا رہی ہے۔ بہرحال ریڈیائی فلکیات کے ابتدائی آلات ور طریقہ جات کی وجہ سے حاصل ہونے والے نتائج خام اور ایک دوسرے سے مختلف ہوتے تھے۔[15][16]

ابتدائی سیارے کے پاس سے گزرنے والے کھوجیوں (مرینیر چہارم) اور بعد کے مدار گردوں نے فِضا کے بالائی طبقات کے طبعی اور کیمیائی مظاہرِ کا مُطالعہ کرنے کے لیے ریڈیائی گرہن کا استعمال کیا۔ پہلی سی کی گئی طیف پیمائی سے حاصل کردہ کیمیائی بناوٹ کے ساتھ درجہ حرارت اور دباؤ کو معلوم کیا جاتا تھا۔ پھر بھی اڑان سے کی جانے والے گرہن صرف ان خصائص کی پیمائش کر سکتے تھے زمین سے مریخ کی قرص کو دکھائی دینے والے دخول و اندراج کے خط پرواز کے دو قاطع کے ساتھ ہوتے۔ اس کی وجہ سے موسم کی تصویر کسی خاص مقام کی کسی مخصوص وقت میں ہی حاصل ہو سکتی تھی۔ مدار گردوں نے بعد میں ریڈیائی قطع کرنے کی تعداد کو بڑھا دیا۔  

بعد کی مہمات جن کی شروعات دہرے مرینیر ششم اور ہفتم کے ساتھ سوویت کے مریخ دوم و سوم کے ساتھ ہوئی، ان میں زیریں سرخ اشعاع کا سراغ لگانے والے سراغ رساں موجود تھے جن کا کام شعاع افگن روشنی کی توانائی کو ناپنا تھا۔ مرینیر نہم وہ پہلا کھوجی تھا جس نے مریخ کے مدار میں 1971ء میں اپنے دوسرے آلات اور ریڈیائی ٹرانسمیٹر کے ساتھ زیریں سرخ شعاع پیما اور طیف پیما رکھا۔ وائی کنگ اول و دوم نے نہ صرف اپنے پیش رو کی ہم قدمی زیریں سرخ حرارتی نقشہ گر سے کی۔[17] بلکہ مہم ان دور دراز حساسیوں کی معلومات سے برمحل شہابی گرج کی تصدیق کے ساتھ ساتھ[18] اپنے نزول کے وقت بلند عرض البلد درجہ حرارت اور دباؤ کو ناپنے والے آلات کا بھی استعمال کر سکتی تھی۔[19]

مریخ پر مختلف برمحل حاصل ہونے والی اوسط درجہ حرارت کی قدریں ناپی گئی ہیں [20] جس میں عام قدر منفی 55 °C کی ہے۔[21] سطح کا درجہ حرارت خط استواء پر دوپہر میں تقریباً 20 °Cتک پہنچ سکتا ہے جبکہ قطبین پر کم سے کم درجہ حرارت منفی 153 °C تک کا ہوتا ہے۔[22] وائی کنگ خلائی جہاز کے اترنے کی جگہ پر اصل درجہ حرارت 17.2 °C تا 107 °C تھا۔ وائی کنگ مدار گرد نے جو مٹی کا سب سے زیادہ گرم درجہ حرارت کا تخمینہ لگایا وہ 27 °C تھا۔[23] اسپرٹ جہاں گرد نے دن میں سب سے زیادہ بلند درجہ حرارت 35 °C تک ناپا اور باقاعدگی سے ناپا گیا درجہ حرارت موسم سرما کے علاوہ 0 °C سے اوپر ہی تھا۔[24]

یہ بتاتا گیا کہ "رات کے وقت لیے گئے ہوا کے درجہ حرارت کے اعداد و شمار ہر شمالی بہار اور ابتدائی شمالی موسم گرما میں مشاہدہ کیے گئے تجرباتی سہو (±1 °C ) کے اندر سے ملتے جلتے ہیں تاہم دن میں حاصل کردہ اعداد و شمار کچھ اور کہانی بیان کرتے ہیں جس میں درجہ حرارت سال بہ سال اس موسم میں 6 °C تک کا تغیر بتاتا ہے۔[25] دن رات میں یہ اختلاف غیر متوقع ہے اور ٹھیک سے سمجھا نہیں گیا"۔ جنوبی بہار اور گرما میں تغیر کی وجہ دھول کے طوفان ہوتے ہیں جو رات کے پست درجہ حرارت کی قدر کو بڑھتے اور دن کے درجہ حرارت کی زیادہ سے زیادہ قدر کو کم کرتے ہیں۔[26] یہ نتائج سطح کے اوسط درجہ حرارت میں کم (20 °C) گراوٹ اوربالائی کرۂ فضائی میں معتدل (30 °C) بڑھاوا دیتے ہیں۔[27]

وائی کنگ سے پہلے اور بعد میں زمین سے بذریعہ خرد امواج طیف پیمائی سے مریخ کے درجہ حرارت کو اور جدید طریقے سے ناپا گیا۔ کیونکہ خرد امواج کی کرن، جو 1 آرک منٹ کے اندر کی ہوتی ہے، سیارے کی قرص سے بڑی ہوتی ہے، لہٰذا نتائج سیاروی اوسط کو ظاہر کرتے ہیں۔[28] بعد میں مریخ سیاروی سرویر کے حرارتی اخراجی طیف پیما اور کچھ حد تک 2001ء مریخ مہم کے تھیمس نے نہ صرف زیریں سرخ اشعاع سے پیمائش کی بلکہ خلائی گاڑی، جہاں گرد اور زمینی خرد امواج کے اعداد و شمار کا موازنہ بھی کیا۔ مریخ جانچ پڑتال گر مدار گرد کا مریخ موسم آواز پیما اسی طرح کے کرۂ فضائی کا خاکہ حاصل کر سکتا ہے۔

اعداد و شمار "وائی کنگ مہم کے دوران [29] کی نسبت مریخ پر حالیہ دہائیوں میں عمومی طور پر سرد کرۂ فضائی کا درجہ حرارت اور کم گرد کی اڑان کوبتاتے ہیں"، ہرچند کہ وائی کنگ سے حاصل کردہ پچھلے اعداد و شمار کو بھی کم کیا گیا ہے۔[30] ٹی ای ایس کے اعداد و شمار "زیادہ سرد ( 10 تا 20 کیلون) کا سیاروی کرۂ فضائی کا درجہ حرارت بتاتے ہیں جس کو 1997ء کے دوران حاصل کیا بمقابل 1997ء کے حضیضِ شمس کے دوران " اور "مریخ کا کرۂ فضائی سیاروی اوج شمسی کے دوران ٹھنڈا، کم دھول والا اور بادلوں سے زیادہ لبریز تھا بنسبت اس کے جو وائی کنگ کی موسمی تحقیقات سے حاصل ہوا تھا اور اس میں بھی وائی کنگ اعداد و شمار میں ولسن اور رچرڈسن نے نظر ثانی کی تھی۔[31]  

بعد میں تسلیم کیے گئے موازنے میں کوشش کی گئی کہ متروک خلائی جہاز کی اطلاعات کو ضم کیا جائے، "یہ ہوائی درجہ حرارت کا خرد امواج کا نامچہ ہے جو سب سے زیادہ نمائندگی کرنے والا ہے"۔ وائی کنگ کے آئی آر ٹی ایم اور ایم جی ایس ٹی ای ایس کے درمیان کوئی قابل پیمایش سیاروی اوسط درجہ حرارت کا رجحان موجود نہیں ہے۔ "وائی کنگ اور ایم جی ایس ہوا کا درجہ حرارت اس دوران لازمی طور پر ناقابل شناخت ہوگا، جس سے معلوم چلتا ہے کہ وائی کنگ اور ایم جی ایس کے دور میں لازمی طور پر ایک ہی جیسی آب و ہوا کی حالت موجود ہوگی۔ اس نے ایک "مضبوط شاخیت" شمالی اور جنوبی نصف کرۂ کے درمیان پائی، " مریخی سالانہ چکر کا کافی زیادہ متشاکل نمونہ: ایک شمالی بہار اور موسم گرما جو نسبتاً ٹھنڈا ہے، نہ زیادہ دھول والا ہے اور نسبتاً پانی کے بخارات اور برف کے بادلوں سے لبریز ہے اور جنوبی موسم گرما وائی کنگ سے مشاہدہ کیے گئے گرم کرۂ فضائی کے درجہ حرارت کی طرح ہے، جس میں پانی کے بخارات اور پانی کی برف کم ہے اور دھول کی سطح کافی زیادہ ہے۔

مریخی پڑتال گر جہاں گرد کے ایم سی ایس (مریخ موسمی صدا پیما) آلے نے وہاں پہنچنے کے بعد ایم جی ایس کے ساتھ مل کر تھوڑے عرصے تک کام کیا؛ کم قابلیت والا مریخ مہم کا تھیمس اور مریخ ایکسپریس کے اسپائی کیم کے اعداد و شمار کو بھی ایک اچھی طرح سے حاصل کیے گئے نامچے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایم سی ایس اور ٹی ای ایس سے حاصل کردہ درجہ حرارت عمومی طور پر ایک دوسرے سے میل کھاتے ہیں،[32] تاہم محققین نے تجزیاتی صحت سے کم ممکنہ خنک کے بارے میں بتایا ہے، ایم سی ایس ایم وائی 28 درجہ حرارت اوسطاً 0.9 (دن میں) اور 1.7 کیلون (رات میں) ٹی ای ایس ایم وائی 24 کی پیمائش سے زیادہ ٹھنڈا بتاتے ہیں۔[33]

آب ہوا معلومات برائے Mars, 4.5ºS, 137.4ºE (2012-present)
مہینا جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
بلند ترین °س (°ف) 6
(43)
6
(43)
1
(34)
0
(32)
7
(45)
14
(57)
20
(68)
19
(66)
7
(45)
7
(45)
8
(46)
8
(46)
20
(68)
اوسط بلند °س (°ف) −7
(19)
−18
(0)
−23
(−9)
−20
(−4)
−4
(25)
0
(32)
2
(36)
1
(34)
1
(34)
4
(39)
−1
(30)
−3
(27)
−5.7
(21.7)
اوسط کم °س (°ف) −82
(−116)
−86
(−123)
−88
(−126)
−87
(−125)
−85
(−121)
−78
(−108)
−76
(−105)
−69
(−92)
−68
(−90)
−73
(−99)
−73
(−99)
−77
(−107)
−78.5
(−109.3)
ریکارڈ کم °س (°ف) −95
(−139)
−127
(−197)
−114
(−173)
−97
(−143)
−98
(−144)
−125
(−193)
−84
(−119)
−80
(−112)
−78
(−108)
−79
(−110)
−83
(−117)
−110
(−166)
−127
(−197)
ماخذ#1: سینٹرو ڈی ایسٹروبائیو لوجیا [34]
ماخذ #2: دوسرے[35][36]، مریخی موسم[37]</ref>

کرۂ فضائی کے خوائص و ترکیب [ترمیم]

سیارہ مریخ  - سب سے فراواں گیسیں ( کیوریوسٹی جہاں گرد  سے اکتوبر 2012ء میں کیا گیا نمونے کا تجزیہ ۔

کم کرۂ فضائی کا دباؤ [ترمیم]

مریخی کرۂ فضائی زیادہ تر کاربن ڈائی آکسائڈ پر مشتمل ہے اور سطح کا اوسط دباؤ 600 پاسکل ہے جو زمین کے 101,000 پاسکل کے دباؤ سے کافی کم ہے۔ اس کا ایک اثر یہ ہوتا ہے کہ مریخ کا کرۂ فضائی زمین کے کرۂ فضائی کی نسبت بہت تیزی کے ساتھ دی ہوئی توانائی سے رد عمل کرتا ہے۔[38] نتیجتاً مریخ میں ثقلی اثرات کی بجائے شمسی حرارت سے زبردست حرارتی موجیں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ امواج کافی اہمیت کی حامل بھی ہو سکتی ہیں اور فضائی دباؤ کا یہ کل 10 فیصد تک کا حصّہ بن سکتی ہیں (عام طور سے یہ 50 پاسکل تک کی ہوتی ہیں)۔ زمین کا کرۂ فضائی بھی روزانہ یا نیم روزہ مدوجزر رکھتا ہے تاہم اس کا اثر اتنا زور دار زمین کے کرۂ فضائی کی زیادہ کمیت کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ ہرچند کہ مریخ پر درجہ حرارت نقطہ انجماد (0 °C) سے اوپر پہنچ جاتا ہے تاہم مائع پانی سیارے کے زیادہ تر حصّہ پر قائم نہیں رہ سکتا کیونکہ کرۂ فضائی کا دباؤ پانی کے تہرے نقطے سے کہیں نیچے ہیں اور پانی کی برف عمل تصعید سے گزر کر پانی کے بخارات میں بدل جاتی ہے۔ استثناء میں سیارے کے نیچے پست والے حصّے ہیں خاص طور سے ہیلس پلانیشیا کے تصادمی طاس جو اس طرح کا مریخ پر سب سے بڑا شہابی گڑھا ہے۔ یہ اتنا گہرا ہے کہ کرۂ فضائی کا دباؤ اس کی تہ میں 1155 پاسکل تک جا پہنچتا ہے جو تہرے نقطہ سے زیادہ ہے لہٰذا اگر درجہ حرارت 0 °C سے اوپر جاتا ہے تو وہاں مائع پانی موجود ہو سکتا ہے۔

ہوا [ترمیم]

کیوریوسٹی جہاں گرد کا پیراشوٹ مریخ  کی ہوا میں پھڑپھڑا تا ہوا (ہائی رائز /ایم آر او) (12 اگست 2012ء سے 13 جنوری 2013ء تک)۔

مریخ کی سطح میں حرارتی جمود بہت ہی پست ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو یہ تیزی سے گرم ہو جاتا ہے۔ عام طور پر روز کا درجہ حرارت قطبی علاقوں سے آگے پیچھے جھولتا ہے اور لگ بھگ 100 کیلون ہوتا ہے۔ زمین پر ہوائیں اکثر ایسے علاقوں میں بنتی ہیں جہاں بر حرارتی جمود تیزی سے تبدیل ہوتا ہے جیسا کہ سمندر سے خشکی۔ مریخ پر سمندر نہیں ہیں تاہم وہاں پر ایسے علاقے موجود ہیں جہاں مٹی کا حرارتی جمود تبدیل ہوتا ہے جس کی وجہ سے باد سبا و باد نسیم چلتی ہیں جس طرح سے زمین پر سمندری ہوا چلتی ہے۔[39] انٹاریس منصوبہ "مارس اسمال اسکیل ویدر" نے حال میں مٹی کے قدیمی نمونوں کی وجہ سے موجودہ سیاروی آب و ہوائی نمونوں میں ہونے والی کچھ چھوٹی کمزوریاں دیکھی ہیں "مریخ پر حرارت کا سطح پر آنا اور واپس جانا کافی اہم ہے، لہٰذا مٹی کی جانچ کو کافی صحت کے ساتھ کیا جانا ہے۔"[40] اس طرح کی کمزوریوں کو درست کر لیا گیا جس سے مستقبل میں مزید صحت کے ساتھ جانچ کی جا سکے گی تاہم پرانے مریخی آب و ہوائی نمونے پر انحصار کرنا کافی مشکوک ہوگا۔ کم ارض البلد پر ہیڈلے کا چکر کام کرتا ہے اور یہ اسی طرح کا عمل ہے جو زمین پر باد مراد و باد مخالف پیدا کرتا ہے۔ بلند ارض البلد پر اونچے اور پست دباؤ والے علاقوں کا سلسلہ موسم پر اپنا غلبہ جمائے ہوئے رہتا ہے جس کو باروکلینک موجی دباؤ کہتے ہیں۔ مریخ زمین کی نسبت ٹھنڈا اور خشک ہے کیونکہ وہاں پر دھلائی کرنے کے لیے کسی قسم کی بارش نہیں ہوتی (سوائے کاربن ڈائی آکسائڈ کی ژالہ باری کے )۔[41] اس طرح کا حالیہ طوفانی جھکڑ ہبل خلائی دوربین نے دیکھا ہے۔ (تصویر نیچے ہے)۔ مریخ اور زمین کے ہیڈلے کے چکر میں جو اہم فرق ہے وہ ان کی رفتار کا ہے جس کی پیمائش الٹ کر وقت کے پیمانے پر کی ہے۔[42] الٹ کر وقت کا پیمانہ 100 مریخی دن ہے جبکہ زمین پر یہ ایک برس کا ہوتا ہے۔

مریخی گرد کے بگولے  - ایمیزونی  پلانیشیا  میں  (10 اپریل 2001ء) (مزید) ویڈیو (02:19))

دھول کے طوفانوں کا اثر [ترمیم]

2001ء میں ہیلس طاس کے دھول کے طوفان
سولس , 1225 (4.1), 1233 (3.8), 1235 (4.7) کے دوران مریخی افق کا وقفہ جاتی  نظارہ  بتاتا ہے کہ جولائی 2007ء میں کتنی سورج کی روشنی  دھول کے طوفان سے رکی۔ 4.7 کا تاؤ  99 فیصد  روشنی میں کمی کا بتاتا ہے۔
مریخ پر دھول کے طوفان۔
نومبر 18، 2012ء
نومبر 25، 2012ء
آپرچونیٹی اور کیوریوسٹی جہاں گردوں کے محل وقوع پر غور کریں (ایم آر او)۔

جب1971ء میں مرینیر نہم مریخ پر پہنچا تو دنیا کو امید تھی کہ سطح کی نئی تازہ تصویر مفصل دیکھنے کو ملے گی۔ تاہم اس وقت انھیں دیکھنے کو جو چیز ملی وہ سیاروی پیمانے کا دھول کا طوفان تھا اور جو واحد چیز اس دھند میں نظر آ رہی تھی[43] وہ گرانڈیل آتش فشاں اولمپس مونس تھا۔ طوفان ایک ماہ کے عرصے تک چلا، سائنس دانوں کو معلوم ہوا کہ یہ ایک ایسا مظہر ہے جو مریخ پر کافی عام ہے۔

جیسا کہ وائی کنگ خلائی جہاز نے سطح سے دیکھا، " سیاروی دھول کے طوفان کے دوران یومیہ درجہ حرارت پچاس ڈگری سے لے کر صرف دس ڈگری کے درمیان ہی رہتا ہے اور اس دوران ہوا کی رفتار کافی تیز ہو جاتی ہے – حقیقت میں طوفان کے آنے کے ایک ہی گھنٹے میں یہ بڑھ کر 17 میل فی سیکنڈ تک ہو جاتی ہے جہاں جھکڑوں کی رفتار 26 میل فی سیکنڈ تک جا پہنچتی ہے۔ اگرچہ کسی بھی جگہ کسی بھی قسم کے مادّے کی منتقلی کا مشاہدہ نہیں کیا گیا، اس کی بجائے دھول جب سطح پر بیٹھی تو سطح پر ہونے والی روشنی اور اختلاف میں بتدریج کمی دیکھی گئی ۔" 26 جون 2001ء کو ہبل خلائی دوربین نے دھول کے طوفان کو مریخ کے ہیلس طاس میں دیکھا (تصویر داہنی طرف ہے)۔ ایک دن کے بعد طوفان پھٹ کر ایک سیاروی واقعہ بن گیا۔ مداری پیمائش سے معلوم ہوا کہ اس دھول کے طوفان نے سطح کے اوسط درجہ حرارت کو گرا دیا جبکہ مریخ کے کرۂ فضائی کے درجہ حرارت کو 30 °C تک بڑھا دیا۔ مریخی کرۂ فضائی کی کم کثافت کا مطلب یہ ہوا کہ 18 سے 22 میٹر فی سیکنڈ کی ہوائیں دھول کو سطح سے اٹھانے کے لیے درکار ہوتی ہیں، تاہم کیونکہ مریخ بہت زیادہ خشک ہے، لہٰذا دھول کرۂ فضائی میں زمین کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک قیام کر سکتی ہے۔ زمین پر دھول کو جلد ہی بارش دھو ڈال دیتی ہے۔ دھول کے طوفان کے بعد آنے والے موسم میں دن کا درجہ حرارت اوسط درجہ حرارت سے 4 °C کم تھا۔ اس کی وجہ سیاروی پیمانے پر ہلکے رنگ کی دھول تھی جس نے سیارے کو ڈھانپا ہوا تھا اور جو دھول کے طوفان سے نکلی تھی اور اس نے وقتی طور پر مریخ کا درجہ بیاض بڑھا دیا تھا۔[44]

2007ء کے وسط میں ایک سیاروی پیمانے کے دھول کے طوفان نے شمسی توانائی سے چلنے والے اسپرٹ اور آپرچونیٹی مریخ کھوجی جہاں گردوں کے لیے خطرہ کا نقارہ اس طرح بجایا کہ شمسی پینل سے حاصل کردہ توانائی کی مقدار کو اتنا کم کر دیا کہ ان کو زیادہ تر سائنسی تجربات بند کرنے پڑے اور طوفان کے ختم ہونے کا انتظار کرنا پڑا۔[45] دھول کے طوفانوں کے ختم ہونے کے بعد بھی جہاں گردوں کو ملنے والی توانائی کافی کم تھی کیونکہ دھول کے بیٹھنے میں کافی وقت لگا تھا۔

حضیض شمس کے دوران دھول کے طوفان کافی عام ہیں کیونکہ اس وقت سیارہ اوج شمس کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ سورج کی روشنی کو حاصل کرتا ہے۔ اوج شمس کے دوران پانی کی برف کے بادل کرۂ فضائی میں بن کر دھول کے ذرّات سے متعامل ہوتے ہیں اور سیارے کے درجہ حرارت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔[46]

ایسا قیاس کیا جاتا ہے کہ مریخ پر دھول کے طوفان، طوفانوں کو بنانے میں اسی طرح کا کردار ادا کر سکتے ہیں جیسا کہ زمین پر پانی کے بادل کرتے ہیں۔1950ء کے عشرے کے بعد سے کیے جانے والے مشاہدات بتاتے ہیں کہ کسی مخصوص مریخی برس میں دھول کے سیاروی طوفانوں کے آنے کا امکان لگ بھگ تین میں سے ایک ہے۔[47]

  تبدیلی[ترمیم]

مریخ پر ارضیاتی تبدیلی کا عمل مریخ کے کرۂ فضائی کی ہوا کے نظام میں چیزوں کو شامل کرنے کے لیے کافی اہم ہے۔ اچھلتے کودتے ریت کے ذرّات اسپرٹ جہاں گرد پر لگے ہوئے ایم ای آر سے مشاہدہ کیے گئے ہیں۔[48] نظریہ و حقیقی مشاہدات آپس میں ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے، کلاسیکل نظریہ اصل جہاں کے قلانچیں بھرتے ذرّات کے بارے میں خاموش ہے۔[49] ایک نیا نمونہ زیادہ بہتر طور سے نئے جہاں کے مشاہدات کے بارے میں بتاتا ہے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرتے ہوئے ذرّات برقی میدان پیدا کرتے ہیں جس سے اس عمل میں مزید تیزی آ جاتی ہے۔ مریخ کے دھول کے اچھلتے کودتے ذرّات زمین کے ذرّات کے مقابلے میں نہ صرف 100 گنا زیادہ اونچا اور لمبا خط پرواز رکھتے ہیں بلکہ ان کی سمتی رفتار بھی 5 تا 10 گنا زیادہ ہوتی ہے۔[50]

متواتر شمالی  چھلے دار بادل [ترمیم]

مریخ پر عظیم الجثہ بادلوں  کا ہبل خلائی دوربین سے نظارہ

شمالی قطبی علاقے میں ایک بڑا ڈونَٹ جیسی صورت کا بادل مریخی برس میں لگ بھگ ایک ہی وقت میں نظر آتا ہے اور اس کا حجم بھی ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔[51] یہ صبح بنتا ہے اور مریخ کی دوپہر ہونے تک منتشر ہو جاتا ہے۔ بادل کا بیرونی قطر لگ بھگ 1,600 کلومیٹر کا ہوتا ہے جبکہ اندرونی سوراخ یا آنکھ 320 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔[52] بادل کے بارے میں گمان ہے کہ وہ پانی کی برف کا ہوگا لہٰذا اس کا رنگ مریخ کے دوسرے عمومی دھول کے طوفانوں کے برخلاف سفید ہوتا ہے۔

یہ آندھی کے طوفان کی طرح ہوتا ہے تاہم یہ گھومتا نہیں ہے۔ بادل شمالی موسم گرما میں اونچے ارض البلد پر ظاہر ہوتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ ایسا شمالی قطب پر منفرد آب و ہوا کی صورت حال کی وجہ سے ہوتا ہے۔ آندھی جیسے طوفانوں کو پہلی مرتبہ وائی کنگ مدار گرد کے نقشہ جاتی پروگرام کے دوران دیکھا گیا، تاہم شمالی چھلے دار بادل اس سے تین گنا زیادہ بڑے تھے۔ بادلوں کا سراغ کافی کھوجیوں اور دوربینوں بشمول ہبل اور مریخ سیاروی سرویر نے لگایا ہے۔

دوسرے دہرائے جانے والے واقعات میں دھول کے طوفان اور دھول کے جھکڑ ہیں۔

میتھین کی موجودگی [ترمیم]

میتھین کا نقشہ
مریخ پر میتھین - ممکنہ ماخذ و غرقاب

ہرچند کہ میتھین زمین پر نباتاتی خانے کے اثر والی گیس ہے، اس کی معمولی مقدار کی مریخ پر موجودگی کے دعوے کا اثر مریخ کے سیاروی آب و ہوا پر انتہائی تھوڑا اثر ہوگا۔ فی ارب میں سے چند حصّوں میں میتھین کے مرتکز ہونے کا سراغ لگا ہے اور مریخ کے کرۂ فضائی میں اس کی موجودگی کا پہلی مرتبہ ناسا کی ایک ٹیم نے گوڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر میں 2003ء میں پتا لگایا۔[53][54]

مارچ 2004ء میں مریخ کھوجی مدار گرد [55][56][57][58] اور کینیڈا فرانس ہوائی دوربین [59] سے زمین سے کیے جانے والے مشاہدات بھی بتاتے ہیں کہ میتھین کرۂ فضائی میں ایک مول کا کچھ ہی حصّہ ہے یعنی لگ بھگ 10 نینو مول فی مول۔[60] بہرحال ان مشاہدات کی پیچیدگی نے ان نتائج کے معتبر ہونے پر گرما گرم مباحثوں کو جنم دے دیا ہے۔[61]

کیونکہ موجودہ مریخی حالات میں بالائے بنفشی اشعاع کو میتھین کو توڑنے میں صرف 350 برس کا عرصہ درکار ہوگا، لہٰذا اگر میتھین موجود ہے تو کوئی ایسے ماخذ بھی موجود ہوگا جو اس کو دوبارہ فضا میں بھر رہا ہوگا۔[62] آبیدہ مشبک[63] یا پانی کی چٹانوں میں ہونے والے رد عمل[64] میتھین کا ممکنہ ارضیاتی ماخذ ہو سکتے ہیں تاہم فی الوقت مریخی میتھین کے وجود یا اس کے ماخذ کے بارے میں کوئی اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔

کیوریوسٹی جہاں گرد مریخ پر اگست 2012ء میں اترا۔ یہ اس قابل تھا کہ نہ صرف وہاں پر موجود گیسوں کی صحت کے ساتھ پیمائش کر سکے بلکہ میتھین کے مختلف ہم جاؤں کو بھی ایک دوسرے سے الگ شناخت کرسکے۔[65] ہم آہنگ لیزر طیف پیما سے کیے جانے والی پہلی پیمائش نے اشارہ دیا کہ ایک ارب میں سے 5 حصّہ میتھین خلائی گاڑی کے اترنے والی جگہ پر موجود تھی۔[66] 19[67][68][69] ستمبر 2013ء کو ناسا کے سائنس دانوں نے کیوریوسٹی سے مزید ناپ تول کی جس میں انہوں نے بتاتا کہ کرۂ فضائی میں موجود میتھین کا سراغ نہیں مل سکا۔ اس کے ملنے کے امکان کی قدر 0.18±0.67 فی ارب حصّے کی تھی جس کی زیادہ سے زیادہ حد 1.3 فی ارب حصّہ تھی (95% اعتمادی انتہا کے ساتھ)۔[70]

16 دسمبر 2014ء میں ناسا نے بتاتا کہ کیوریوسٹی جہاں گرد نے "دس گنازیادہ " مریخ کے کرۂ فضائی میں مقامی میتھین کی مقدار کا سراغ لگایا ہے۔ نمونہ جاتی پیمائش " 20 ماہ کے دوران درجن بھر" لیے گئے جس میں پتا لگا کہ 2013ء کے آخر اور 2014ء کے شروع میں اوسطاً فی ارب میں 7 حصّے میتھین کرۂ فضائی میں پائی گئی۔" اس سے پہلے اور بعد میں اوسط اس سطح کا دسواں حصّہ تھی۔[71][72]

ہندوستانی مریخ مدار گرد مہم 5 نومبر 2013ء کو چھوڑی گئی جس میں کوشش کی جائے گئی کہ اگر میتھین وجود رکھتی ہے تو اس کا سراغ لگا کر اس کے ماخذ کی نقشہ کشی کی جا سکے۔[73] ایکزو مارس گیسی سراغ رساں جہاں گرد کا چھوڑنے کا منصوبہ 2016ء میں ہے جو نہ صرف میتھین کی مزید تحقیق کرے گا[74][75] بلکہ اس کی انحلال ہونے کے بعد بننے والی ضمنی پیداوار فارمل ڈی ہائیڈ اور میتھانول کا بھی تجزیہ کرے گا۔

کاربن ڈائی آکسائڈ کی نقاشی [ترمیم]

مریخ پڑتال گر جہاں گرد سے حاصل کردہ تصاویر مریخ کی منفرد آب و ہوا کی وجہ سے ہونے والے ایک غیر معمولی کٹاؤ کو بتاتی ہیں۔ بہار کی گرمی کچھ علاقوں میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی برف کو عمل تصعید سے گزارتی ہے جس سے وہ اوپر کی جانب بہتی ہے جس سے انتہائی غیر معمولی نقوش بنتے ہیں جس کو "عنکبوتی نالیاں" کہتے ہیں۔[76] صاف شفاف کاربن ڈائی آکسائڈ کی برف سردیوں میں بنتی ہے اور جب بہار میں سورج کی روشنی سطح کو گرم کرتی ہے، تو وہ کاربن ڈائی آکسائڈ کو گیس میں تبدیل کر دیتی ہے جو شفاف کاربن ڈائی آکسائڈ کی برف میں سے گزرتے ہوئے اوپر کی طرف جاتی ہے۔ برف میں موجود کمزور مقامات کی وجہ سے برف کاربن ڈائی آکسائڈ کے چشمے بناتی ہے۔ 

پہاڑ [ترمیم]

سیارہ مریخ  - طیرانپذیر گیسیں ( کیوریوسٹی جہاں گرد اکتوبر 2012ء)

مریخی طوفان مریخ کے بڑے پہاڑی سلسلوں پر کافی اثر انداز ہوتے ہیں۔[77] انفرادی پہاڑ جیسا کہ اولمپس مونس (27 کلومیٹر) مقامی موسم پر اثر انداز ہو سکتا ہے تاہم بڑے موسمیاتی اثرات تھارسس علاقے میں موجود بڑے آتش فشانوں کے اجتماع کی وجہ سے ہو سکتے ہیں۔

پہاڑیوں کی وجہ سے ایک دہرایا ہوا موسمی اثر کا مظہر مرغولہ نما دھول کے بادل ہیں جو ارشیا مونس کے اوپر بنتے ہیں۔ ارشیا مونس کے اوپر مرغولہ دھول کے بادل آتش فشاں کے اوپر 15 سے 30 کلومیٹر تک اونچے ہو سکتے ہیں۔[78] ارشیا مونس کے اوپر مریخی سال کے دوران ہر وقت بادل موجود رہتے ہیں جو موسم گرما کے آخر میں اوج پر پہنچ جاتے ہیں۔ [79]

پہاڑ کے گرد موجود بادل موسمی تغیر کا اظہار کرتے ہیں۔ اولمپس مونس اور ایسکریس مونس پر بادل جنوبی نصف کرہ کی موسم بہار و گرما میں ظاہر ہوتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ 900,000 مربع کلومیٹر سے لے کر 1,000,000 مربع کلومیٹر تک کے علاقے میں موسم بہار کے آخر میں جا پہنچتے ہیں۔ موسم سرما میں بہت ہی کم بادل نظر آتے ہیں۔ مریخ کے عمومی چکر کے نمونے سے لگائے گئے اندازے کیے گئے مشاہدات سے میل کھاتے ہیں۔ 

قطبی ٹوپیاں [ترمیم]

ایک خاکہ جو یہ بتاتا ہے کہ مریخ آج سے لگ بھگ 21 لاکھ برس سے لے کر 4 لاکھ برس کے دوران  برفیلے دور میں کیسا دکھائی دیتا ہوگا، اس وقت مریخ کا محوری جھکاؤ آج کے جھکاؤ سے کہیں زیادہ سمجھا جاتا ہے۔
ہائی رائز سے لی گئی " گہرے گنبدوں جیسے داغوں"  اور پنکھے نما ساختوں کی تصویر  جس کو مریخ پر کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کے چشمے  جنوبی قطب کے برفیلے قرطاس پر بناتے ہیں۔

مریخ کے جنوبی اور شمالی قطبین پر برف کی ٹوپیاں ہیں جو زیادہ تر پانی کی برف پر مشتمل ہیں؛ بہرحال منجمد کاربن ڈائی آکسائڈ (خشک برف) اس کی سطح پر بھی موجود ہے۔ خشک برف شمالی قطبی علاقے (پلانم بوریم) میں صرف سردی میں جمع ہوتی ہے، گرمیوں میں مکمل طور پر عمل تصعید سے گزرتی ہے جبکہ جنوبی قطبی علاقے میں آٹھ میٹر تک کی موٹی دائمی خشک برف کی تہ موجود ہے۔[80] اس فرق کی وجہ جنوبی قطب کی زیادہ اونچائی ہے۔

موسم سرما میں قطبین پر کرۂ فضائی اس قدر مرتکز ہو جاتا ہے کہ کرۂ فضائی کا دباؤ اس کی اوسط قدر کا ایک تہائی رہ جاتا ہے۔ یہ تکثیف ہونے اور بخارات بننے کا عمل کی وجہ سے غیر تکثیف شدہ گیسوں کے تناسب میں معکوس تبدیلی کی صورت میں بنتا ہے۔ مریخ کے مدار کا بیضوی پن دوسرے عوامل کے ساتھ اس چکر پر اثر انداز ہوتا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائڈ کے عمل تصعید کی وجہ سے بہار و خزاں کی ہوائیں اس قدر طاقتور ہوتی ہیں کہ وہ اوپر بیان کیے ہوئے سیاروی دھول کے طوفانوں کا سبب بن جاتی ہیں۔[81]

شمالی قطبی ٹوپی مریخ کے شمالی موسم گرما میں لگ بھگ 1,000 کلومیٹر کے رقبے کا ہو جاتا ہے [82] اور اندازہً 16 لاکھ مکعب کلومیٹر برف پر مشتمل ہوتا ہے جس کو اگر ٹوپی پر برابر پھیلایا جائے تو 2 کلومیٹر گہری تہ بنا دے گی[83]( اس کا مقابلہ گرین لینڈ کی 28 لاکھ 50 لاکھ مکعب کلومیٹر کی برف کی تہ سے کیا جا سکتا ہے)۔ جنوبی قطبی ٹوپی کا نصف قطر 350 کلومیٹر ہے جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ موٹائی 3 کلومیٹر کی ہے۔[84] دونوں قطبین مرغولہ نما حوض دکھاتی ہیں جس کے بارے میں پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ وہ برف کے عمل تصعید اور پانی کے بخارات کی تکثیف کے ساتھ ساتھ شمسی حرارت کا نتیجہ ہوں گی۔[85][86] برف میں گھس کر تجزیہ کرنے والی ریڈیائی لہروں- ایس ایچ اے آر اے ڈی سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے حالیہ نتائج بتاتے ہیں کہ مرغولہ نما حوض ایک منفرد واقعہ میں بنے ہیں یہ بلند قطب سے آنے والی بلند کثافت کی نشیبی ہواؤں سے بنے ہیں جنہوں نے بڑے طول موج کے فرش بھی بنائے ہیں۔[87][88] مرغولہ نما صورت کوریولس اثر (زمین کی گردِش کی وجہ سے کِسی مُتحرک چیز کے رُخ میں اِنحراف)سے بنے ہیں، بعینہ جیسے زمین پر ہوائیں آندھی میں مرغولے بناتی ہیں۔ حوض کسی بھی برف کی ٹوپی کے ساتھ نہیں بنی بلکہ انہوں نے 24 لاکھ سے لے کر 5 لاکھ کے درمیان ماضی میں بننا شروع کیا جب موجودہ برف کی ٹوپی تین تہائی بن چکی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسمی تبدیلی کی وجہ سے یہ بننا شروع ہوئی۔ مریخی موسموں میں آنے والے درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ کے بعد دونوں قطبین سکڑ کر دوبارہ بڑھے ہیں؛ اس کے علاوہ کچھ لمبے عرصے تک چلنے والے رجحانات بھی ہیں جن کو ابھی تک مکمل نہیں سمجھا گیا ہے۔ 

جنوبی نصف کرہ کے موسم بہار کے دوران جنوبی قطب پر خشک برف کے اجتماع میں ہونے والی شمسی حرارت کی وجہ سے کچھ جگہوں پرجزوی شفاف برف کی سطح کے نیچے دبی ہوئی کاربن ڈائی آکسائڈ جمع ہو جاتی ہے، تاریک زیریں طبق دھوپ کو جذب کرکے گرم ہو جاتا ہے۔ ضروری دباؤ حاصل کرنے کے بعد، گیس برف کو چشموں جیسی دھاروں کی صورت میں پھاڑ دیتی ہے۔ ہرچند کہ اخراج کا مشاہدہ براہ راست نہیں کیا گیا، تاہم یہ اپنے ثبوت تاریک گنبد جیسے دھبوں اور برف کے اوپر ہلکے پنکھ کی صورت میں چھوڑ دیتی ہے۔ یہ دھبے اور پنکھ اس ریت و دھول سے بنتے ہیں جو اس طرح کے اخراج کے ساتھ نکلتے ہیں۔ مکڑی جیسے دراڑوں کے نمونے گیس کے گرد موجود برف کے نیچے بن جاتے ہیں [89][90](دیکھیے مریخ پر چشمے۔) ٹرائیٹن پر وائیجر دوم نے جو نائٹروجن گیس کے اخراج کا مشاہدہ کیا وہ بھی اسی طرح کے نظام کی وجہ سے وقوع پزیر سمجھے جاتے ہیں۔

شمسی ہوا [ترمیم]

مریخ نے اپنے مقناطیسی میدان کا زیادہ تر حصّہ چار ارب برس پہلے کھو دیا تھا۔ نتیجتاً شمسی ہوا اور کائناتی اشعاع مریخ کے روانی کرہ سے براہ راست متعامل ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ سے اس کا کرۂ فضائی لطیف ہی رہتا ہے۔ اگر شمسی ہوائیں بیرونی کرۂ فضائی کی پرت سے مسلسل جوہروں کو نہ اکھاڑیں تو اس کا کرۂ فضائی اس قدر مہین نہ ہوتا۔[91] مریخ پر کرۂ فضائی کا زیادہ تر نقصان اسی شمسی ہوا کے زیر اثر ہوا ہے۔ موجودہ نظریہ کمزور شمسی ہوا کے بارے میں بتاتا ہے لہٰذا فی الوقت مریخ کے ماحول کی تباہی ماضی کے مقابلے میں کافی کم ہے۔

موسم [ترمیم]

بہار میں برف میں ہونے والا تصعیدی عمل برف کی پرت کے نیچے موجود دھول کو موسمی برف کے اوپر پنکھ جیسی صورت  کے ذخائر  کی شکل  دے دیتی ہے۔

مریخ اپنے محور پر 25.2° جھکا ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مریخ پر موسم اسی طرح ہوتے ہیں جیسے کہ زمین پر۔ مریخ کے مدار کا بیضوی پن 0.1 ہے جو زمین کے موجودہ تقریباً 0.02 کے بیضوی پن سے کہیں زیادہ ہے۔ مریخ کے مدار کے زیادہ بیضوی پن کی وجہ سے سیارے کے سورج کے گرد چکر لگانے کے دوران آفتاب زدگی میں کافی تغیر رہتا ہے (مریخ کا ایک برس 687 دن یعنی زمین کے لگ بھگ 2 برس کے برابر ہوتا ہے)۔ زمین کی طرح مریخ کا ترچھا پن موسم پر غالب رہتا ہے، زیادہ بیضوی پن کی وجہ سے جنوبی نصف کرہ میں موسم سرما لمبا جبکہ شمالی نصف کرہ میں کم اور گرم رہتا ہے۔

اب یہ بات اچھی طرح معلوم ہو گئی ہے کہ برف اس وقت جمع ہوئی تھی جب مریخ کا محوری جھکاؤ آج کے مقابلے میں کافی مختلف تھا ( سیارے کے گھماؤ کا محور کافی ڈگمگاتا ہے یعنی کہ اس کا زاویہ وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے)۔[92][93][94] چند برسوں پہلے مریخ کے محور کا جھکاؤ حالیہ 25 ڈگری کی بجائے 45 ڈگری تھا۔ اس کے جھکاؤ کو ترچھا پن بھی کہتے ہیں۔ اس میں تغیر کی وجہ اس کے دو چوتھے مہتاب ہیں جو اس کے جھکاؤ کو ہمارے چاند کی طرح استحکام نہیں بخشتے۔

مریخ کے اکثر خدوخال بطور خاص اسمینس لاکس چو گوشہ میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ برف کے کافی ذخائر موجود ہوں گے۔ برف کے ماخذ کو بیان کرنے کا سب سے مقبول نمونہ یہ ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ سیارے کی محوری گردش کے جھکاؤ میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کی وجہ سے آب و ہوا تبدیل ہو گئی ہو گئی۔ کچھ وقتوں میں تو جھکاؤ 80 درجے سے بھی زیادہ تھا۔[95][96] جھکاؤ میں بڑی تبدیلیاں مریخ پر برف سے لبریز کئی خدوخال کو بیان کرتی ہیں۔ 

تحقیق بتاتی ہے کہ جب مریخ کا جھکاؤاس کے حالیہ 25 درجے کے جھکاؤ سے 45 درجے تک پہنچتا ہے تو برف قطبین پر مزید مستحکم نہیں رہتی۔[97] مزید براں اتنے بلند جھکاؤ پر ذخیرہ شدہ ٹھوس کاربن ڈائی آکسائڈ (خشک برف) بھی عمل تصعید سے گزرتی ہے، اس طرح سے کرۂ فضائی کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ یہ بڑھا ہوا دباؤ کرۂ فضائی میں مزید دھول کے جمع ہونے کا باعث بنتا ہے۔ کرۂ فضائی میں موجود نمی ژالہ یا جمی ہوئی برف کے دانوں کی صورت میں گرتی ہے۔ حساب بتاتے ہیں کہ اس طرح کا مادّہ وسطی ارض البلد میں مرتکز ہو جائے گا۔[98][99] مریخی ماحول کا عمومی چکر کا نمونہ بتاتا ہے کہ برف سے بھرپور دھول انھیں علاقوں میں جمع ہو گئی جہاں برف سے لبریز خدوخال موجود ہیں۔ جب جھکاؤ کم قدر کی طرف واپس جاتا ہے تو برف واپس عمل تصعید( براہ راست گیس میں بدل جاتی ہے) سے گزرتی ہے اور اپنے پیچھے دھول چھوڑ دیتی ہے۔[100][101] پیچھے چھوڑے جانے والی دھول نیچے کے مادّے کو ڈھک لیتا ہے اس طرح اونچے جھکاؤ کے ہر چکر میں کچھ برف سے لبریز غلاف پیچھے رہ جاتا ہے۔[102] یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہموار سطح کی غلاف کی پرت شاید نسبتاً حال کے مادّے کو ظاہر کرتی ہے۔ نیچے اس ہموار غلاف کی پرتوں کی کچھ تصاویر موجود ہیں جو کبھی آسمان سے گرے تھے۔ 

موسم غیر یکساں لمبائی بتاتے ہیں جو درج ذیل ہیں:

موسم سولس
(مریخ پر)
دن
(زمین پر)
شمالی موسم بہار، جنوبی موسم خزاں: 193.30 92.764
شمالی موسم گرما، جنوبی موسم سرما: 178.64 93.647
شمالی موسم خزاں، جنوبی موسم بہار: 142.70 89.836
شمالی موسم سرما، جنوبی موسم گرما: 153.95 88.997

ترچھے پن اور بیضوی پن کی صف بندی میں تقدیم کی وجہ سے عالمگیری حرارت اور ٹھنڈے ہونے کا عمل ( عظیم موسم گرما و سرما) 170,000 برس کے دورانیے کے ساتھ۔[103] 

زمین کی طرح مریخ کا ترچھا پن کچھ عرصے کے بعد تبدیل ہوتا ہے جس کی وجہ سے آب و ہوا میں لمبے عرصے تک رہنے والی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ ایک مرتبہ پھر مریخ پر اس کا اثر زیادہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس کوئی ایسا چاند نہیں ہے جو اس کو استحکام دے سکے۔ نتیجتاً ترچھا پن 45 درجے تک تبدیل ہو سکتا ہے۔ فرانس کے نیشنل سینٹر فار سائنٹفک ریسرچ کے جیکس لسکر دلیل دیتے ہیں کہ اس طرح آب و ہوا کی تبدیلی مریخ کے شمالی قطب کی برفیلی ٹوپی کی پرتوں کی ہیئت میں دیکھی جا سکتی ہے۔[104] حالیہ تحقیق بتاتی ہے مریخ ایک گرم بین ثلجی دور میں ہے جو 100,000 برس سے زیادہ عرصے سے موجود ہے۔[105]

کیونکہ مریخی سیاروی مساحت کنندہ مریخ کا مشاہدہ چار مریخی برس تک کرتا رہا تھا لہذا یہ معلوم ہوا کہ مریخی موسم سال بہ سال ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ اس میں پائے جانے والے فرق کا براہ راست تعلق مریخ پر پہنچنے والی شمسی توانائی میں ہونے والی تبدیلی ہے۔ سائنس دان تو اس قابل بھی ہو گئے ہیں کہ بیگل دوم کے اترنے کے دوران موجود موسم کا اندازہ لگا سکیں۔ علاقائی دھول کے طوفان اس جگہ پائے گئے جہاں دھول دستیاب تھی۔[106]

حالیہ ماحولیاتی تبدیلی[ترمیم]

جنوبی قطب کی برفیلی ٹوپی پر موجود کھڈ

جنوبی قطب (پلانم اوسٹرائل) کے ارد گرد مریخی پچھلے کچھ برسوں میں علاقائی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ 1999ء میں مریخ سیاروی سرویر نے مریخی جنوبی قطب میں منجمد کاربن ڈائی آکسائڈ کے جوہڑوں کی تصاویر لیں۔ ان کی حیرت انگیز صورت اور سمت کی وجہ سے ان جوہڑوں کو سوئس پنیر جیسی صورت سے جانا جانے لگا۔2001ء میں خلائی جہاز نے اسی جوہڑ کی دوبارہ تصویر لی اور معلوم ہوا کہ یہ تو اپنا حجم بڑھا چکے ہیں اور مریخی ایک برس میں پیچھے کی طرف 3 میٹر بڑھا۔[107] اس طرح کی چیز خشک برف کی پرت میں ہونے والے عمل تصعید کی وجہ سے ہوتی ہے اس طرح سے اندرونی پانی کی برف سامنے آ جاتی ہے۔ مزید حالیہ مشاہدات بتاتے ہیں کہ مریخ کے جنوبی قطب پر موجود برف مسلسل عمل تصعید سے گزر رہی ہے۔[108] برف میں موجود جوہڑ مسلسل 3 میٹر فی مریخی برس کے بڑھ رہے ہیں۔ مالن کہتی ہیں کہ مریخ پر موجودہ حالت نئی برف بننے کے نہیں ہیں۔ ناسا کی ایک پریس ریلیز میں اشارہ دیا گیا ہے کہ مریخ پر "آب و ہوا میں تبدیلی وقوع پزیر ہو رہی ہے"۔[109] مریخ مدار گرد کیمرے سے کیے جانے والے مشاہدات کے خلاصے کی مدد سے محققین قیاس کرتے ہیں کہ کچھ خشک برف مرینیر نہم اور مریخ سیاروی سرویر مہمات کے دوران جمع ہوئی ہے۔ حالیہ شرح کمی کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ برف کے اجتماع صرف چند سوبرس میں ہی ختم ہو جائیں گے۔

سیارے پر دوسری جگہ کم ارض البلد والے علاقوں میں پانی کی برف موجودہ موسم کے حالات میں ہونے والی برف سے زیادہ ہے۔[110][111][112] مریخ مہم " ہمیں مریخ پر حالیہ سیاروی آب و ہوا میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں اشارے دے رہی ہے،" جیفری پلوٹ اپنے2003ء میں شایع شدہ کام میں کہتے ہیں جو ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے پروجیکٹ سائنس دان ہیں۔ ان کا یہ کام غیر ہم رتبہ نظر ثانی کی صورت میں شایع ہوا تھا۔

انتسابی نظریات[ترمیم]

قطبی تبدیلیاں[ترمیم]

کولاپرٹ و دیگر نے مریخ کے عمومی چکر کی نقل بنائی ہے جس میں معلوم ہوا کہ مریخ کے جنوبی کرہ کے قریب مقامی آب و ہوا فی الوقت ہو سکتا ہے کہ غیر پائیدار ہو۔ نقل کی گئی عدم استحکامی علاقے کی جغرافیائی جڑ میں بیٹھی ہوئی ہے جس سے مصنفین نے اندازہ لگایا کہ قطبی برف کا عمل تصعید سیاروی مظہر کی بجائے مقامی مظہر ہے۔[113] محققین بتاتے ہیں کہ مستقبل شمسی ضو فشانی کے باوجود بھی قطبین اس قابل ہیں کہ برف کا ذخیرہ کرنے یا اس کو ضائع کرنے کی شرح میں تبدیلی کر سکیں۔ حالت کی تبدیلی کو شروع کرنے کا ذمہ دار یا تو کرۂ فضائی میں بڑھتی ہوئی دھول کی مقدار ہے یا پھر قطبی ٹوپی پر پانی کی برف کے اجتماع سے ہونے والی درجہ بیاض میں تبدیلی ہے۔[114] اس نظریے میں اس وقت سے کچھ مسئلہ لگتا ہے جب سے 2001ء میں سیاروی پیمانے پر آئے ہوئے دھول کے طوفان کے بعد برف کا اجتماع نہ ہو سکا۔ ایک دوسرا مسیکہ یہ ہے کہ مریخ کے عمومی چکر کے نمونوں کی درستی اس وقت اور کم ہوتی ہے جب مظاہر کا پیمانہ زیادہ مقامی ہوتا ہے۔

یہ دلیل دی جاتی ہے کہ "جنوبی قطب کی پھیلی ہوئی برف میں مشاہدہ کی جانے والی تبدیلیاں قطعی طور پر علاقائی آب و ہوا میں ہونے والی تبدیلی کی وجہ سے ہیں اور نہ صرف ان کا سیاروی مظہر سے کوئی لینا دینا ہے، بلکہ بیرونی طاقتوں سے بھی ان کا کوئی تعلق نہیں بنتا۔ نیچر میں خبر لکھتے ہوئے چیف نیوز اور فیچر مدیر آلیور مورٹن کہتے ہیں "دوسری شمسی اجسام کی حرارت آب و ہوا کی ارتباہی کی وجہ سے ضبط ہو گئی۔ مریخ پر حرارت میں کمی کی وجہ اڑتی ہوئی دھول کا سنگ سیاہ کی چٹانوں کے بڑے بڑے حصّوں کو ننگا کرنا ہے جو دن میں گرم ہو جاتے ہیں۔[115]

شمسی شعاع ریزی[ترمیم]

کے آئی عبد س اماٹوف نے تجویز دی کہ مریخ اور زمین دونوں پر ایک ساتھ مشاہدہ کی گئی "متوازی عالمگیری حرارت" کی وجہ ایک ہی ہو سکتی ہے: لمبے عرصے میں شمسی شعاع ریزی میں ہونے والی تبدیلی۔[116] اگرچہ کچھ افراد جو عالمگیری حرارت کی سائنس کو رد کرتے ہیں اس بات کو ثبوت کے طور پر پیش کرکے کہتے ہیں کہ انسان ماحولیاتی تبدیلی کا باعث نہیں ہے، [117] عبد س اماٹوف کا نظریہ سائنسی دنیا میں قبول نہیں کیا گیا۔ اس کے قیاسات کسی ایسے جریدے میں شایع نہیں ہوئے جہاں ان پر ہم رتبہ لوگوں نے نظر ثانی کی ہو۔ ان کو دوسرے سائنس دانوں نے رد کر دیا ہے جو کہتے ہیں کہ " یہ خیال کسی نظریے یا مشاہدات کی بنیاد پر نہیں ہے" اور یہ طبیعی فہم کے برخلاف ہے۔"[118] دوسرے سائنس دانوں نے تجویز ڈی کہ مریخ کے مدار میں پائے جانے والی بے قاعدگیاں یا ممکنہ طور پر شمسی اشعاع ریزی اور مداروی اثرات مل کر اس کا سبب ہوں۔[119]

آب و ہوائی خطے [ترمیم]

درجہ حرارت اور تبدیل شدہ ازمقام نگاری، درجہ بیاض، حقیقی شمسی اشعاع کی بنیاد پر بنائے گئے مریخی سیاروی آب و ہوا کےخطّے۔

میدانی آب و ہوائی خطوں کو سب سے پہلے ولادیمیر کوپن نے روئیدگی جماعت بندی کی بنیاد پر وضع کیا۔ آب و ہوائی جماعت بندی کو مزید درجہ حرارت اور بارش کی بنیاد کیا گیا اور مزید حصّوں میں درجہ حرارت اور شبنم کے موسمی تغیر کی تقسیم کی بنیا پر توڑا کیا؛ ایک علاحدہ جماعت اضافی آب و ہوا کے خطوں کی بھی ہے جیسے کہ اونچی ارض البلد میں۔ مریخ میں نہ تو سبزہ روئیدگی ہوتی ہے نہ ہی بارش، لہٰذا کوئی بھی آب و ہوائی جماعت بندی صرف درجہ حرارت کی بنیاد پر ہی کی جا سکتی ہے؛ اس نظام میں مزید بہتری شاید دھول کی تقسیم، پانی کے بخارات اور برف باری سے کی جا سکے۔ شمسی آب و ہوا کے خطے بھی مریخ پر آسانی کے ساتھ وضع کیے جا سکتے ہیں۔[120]

حالیہ مہمات [ترمیم]

2001ء مریخ مہم فی الوقت مریخ کے مدار میں چکر لگا رہے ہے اور اپنے آلے ٹی ای ایس کی مدد سے سیاروی کرۂ فضائی کا درجہ حرارت ناپنے میں مصروف ہے۔ مریخ پڑتال گر جہاں گرد فی الوقت مدار سے روزانہ آب و ہوا اور ماحول کے مشاہدات میں مصروف ہے۔ اس کے آلات میں سے ایک مریخ موسمی صدا پیما آب و ہوا کے مشاہدات کے لیے بطور خاص بنایا گیا ہے۔ ایم ایس ایل کو 2011ء میں چھوڑا گیا تھا جو مریخ پر 6 اگست 2012ء پر اتر گیا تھا۔[121] جہاں گرد ماوین اور منگلیان فی الوقت مریخ کے گرد چکر لگا رہے ہیں اور اس کے کرۂ فضائی کی تحقیق میں مصروف ہیں۔

کیوریوسٹی جہاں گرد – مریخ کے گیل شہابی گڑھے پردرجہ حرارت،دباؤ،نمی (اگست 2012 – فروری 2013)

مستقبل کی مہمات[ترمیم]

ایکزو مارس گیسوں کا سراغ لگانے والا مدار گرد 2016ء میں چھوڑا جائے گا۔

مزید دیکھیے [ترمیم]

حوالہ جات [ترمیم]

  1. فرانسس ریڈی (ستمبر 23، 2005ء)۔ "ایم جی ایس مریخ کا بدلتا چہرہ دیکھ رہا ہے"۔ ایسٹرو نامی میگزین۔ اخذ کردہ ستمبر 6، 2007ء۔
  2. ناسا۔ "مریخ عمومی چکر کا نمونہ"۔ ناسا اخذ کردہ فروری 22، 2007ء۔
  3. مریخ کی کھوج 1700 صدی میں
  4. مریخ کی کھوج 1800 صدی میں
  5. "مٹی پر تحقیق مریخ کے نظریات کو بدل سکتی ہے۔" سائنس ڈیلی۔ جولائی 19، 2007ء۔ اوریجنل سے حاصل کردہ دستاویزات بروزستمبر 30، 2007ء۔ اخذ کردہ ستمبر 6، 2007ء۔
  6. کار، ایم ایچ ؛ و دیگر (1977ء)۔ "مریخ کے شہابی تصادموں سطحی بہاؤ کے خارج شدہ مادّے کا محل وقوع"۔ جے جیوفز۔ ریز۔ 82: 4055–65۔ Bibcode:1977JGR۔۔۔82۔4055 C doi:10۔1029/js082i028p04055۔
  7. گولومبک، ایم پی ؛ برجیس، این ٹی (2000ء)۔ "مریخ پر کٹاؤ کی شرح اور ماحولیاتی تبدیلی پر اس کے اثرات: خضر راہ کے اترنے کی جگہ سے معلوم ہوئی حدود"۔ جے جیوفز۔ ریز۔ 105 (E1): 1841–1853۔ Bibcode:2000JGR۔۔105۔1841G doi:10۔1029/1999je001043۔
  8. کراڈوک، آر اے ؛ ہاورڈ، اے ڈی (2002ء) "گرم مرطوب ابتدائی مریخ پر بارش کی صورت"۔ جے جیوفز۔ ریز۔ 107: E11۔ Bibcode:2002JGRE۔107۔5111 C doi:10۔1029/2001JE001505۔
  9. شسٹر، ڈیوڈ ایل ؛ ویز، بنجامن پی (جولائی 22، 2005ء)۔ "شہابیوں کے درجہ حرارت کی تقویم سے مریخی سطح کا قدیم درجہ حرارت"۔ سائنس 309 (5734): 594–600۔ Bibcode:2005Sci۔۔۔309۔۔594S doi:10۔1126/science۔1113077۔ پی آئی ایم ڈی 16040703۔
  10. ہارٹمین، ڈبلیو 2003ء۔ مسافر کے لیے مریخ کا ہدایت نامہ۔ ورک مین پبلشنگ۔ نیویارک۔
  11. ایبرلی، آرایم (1998ء)۔"ابتدائی ماحولیاتی نمونے"۔ جے جیوفز۔ ریز۔ 103(E12): 28467–79۔ Bibcode:1998JGR۔۔10328467H doi:10۔1029/98je01396۔
  12. "مریخی کھوجی جہاں گردوں اور بیگل دوم کے اترنے کی جگہوں کا موسم"۔ مالن اسپیس سائنس سسٹمز۔ اخذ کردہ ستمبر 8، 2007ء۔
  13. "ناسا کی مریخی خلائی گاڑی نے برف کو گرتا ہوا دیکھا، مٹی کا تجزیہ مائع ماضی کے بارے میں اشارہ دیتے ہیں"۔ ستمبر 29، 2008ء۔ اخذ کردہ اکتوبر 3، 2008ء۔
  14. مریخ کے بادل زمین کے کسی بھی بادل سے کہیں زیادہ اونچے ہیں
  15. پٹیٹ، ای؛ و دیگر (ستمبر 1924ء)۔ "سیارہ مریخ پر تابکاری کی پیمائش"۔ ایسٹرونامیکل سوسائٹی آف پیسفک کی اشاعت 36 (9): 269–272۔ Bibcode:1924PASP۔۔36۔۔269P جے ایس ٹی او آر 40693334۔
  16. کوبلنٹز، ڈبلیو (جون 1925ء) "سیارہ مریخ کے درجہ حرارت کا اندازہ" ایسٹرونومچی نیکرچٹن 224: 361–378۔ Bibcode:1925AN۔۔۔224۔۔361C doi:10۔1002/asna۔19252242202۔
  17. "نیشنل اسپیس سائنس ڈیٹا سینٹر: زیریں سرخ حرارتی نقشہ گر (آئی ایئر ٹی ایم)"۔ اخذ کردہ ستمبر 14، 2014ء۔
  18. "نیشنل اسپیس سائنس ڈیٹا سینٹر: موسمیات" ۔ اخذ کردہ ستمبر 14، 2014ء۔
  19. "نیشنل اسپیس سائنس ڈیٹا سینٹر: کرۂ فضائی کی ساخت "۔ اخذ کردہ ستمبر 14، 2014ء۔
  20. آئیڈلمین، البرٹ (2001ء)۔ "مریخ کی سطح پر درجہ حرارت"۔ فزکس فیکٹ بک۔
  21. "فوکس سیکشنز : سیارہ مریخ"۔ MarsNews.com۔ اخذ کردہ ستمبر 8، 2007ء۔
  22. "مریخ کا حقائق نامہ"۔ ناسا اخذ کردہ جون 20، 2013ء۔
  23. جیمزای ٹلمین مریخ – درجہ حرارت کا جائزہ
  24. شدید سیارے نے اپنا محصول حاصل کر لیا۔ جیٹ پروپلشن لیبارٹری کی خصوصی کہانی، جون 12، 2007ء۔
  25. لیو، جنجن؛ مارک آئی رچرڈسن؛ آر جے ولسن (15 اگست 2003ء)"سیاروی موسمی اور حرارتی زیریں سرخ اشعاع میں خلائی جہاز کا آب و ہوا کا وسط سال کا نامچہ" Journal+of+Geophysical+Research&as_ylo=&as_yhi=&btnG=Search (اسکالرریسرچ)۔ جرنل آف جیو فزیکل ریسرچ 108 (5089): 5089۔ Bibcode:2003JGRE۔108۔5089L doi:10۔1029/2002JE001921۔ اخذ کردہ ستمبر 8، 2007ء۔
  26. ولیم شیہان، سیارہ مریخ: مشاہدات اور دریافتوں کی تاریخ، باب 13 ( ویب پر دستیاب)
  27. گرول، مارک اے؛ برجن، ایڈون اے؛ میلنک، گرے جے؛ Tolls، وولکر (2005ء)۔ 2001ء کے سیاروی دھول کے طوفان دوران سطح اور کرۂ فضائی کا درجہ حرارت"۔ ایکارس 175 (1): 23–3۔ Bibcode:2005Icar۔۔175۔۔۔23G doi:10۔1016/j۔icarus۔2004۔10۔009۔
  28. کلانسی، آر (اگست 30، 1990ء)۔"مریخی کرۂ فضائی میں 0-70 کلومیٹر تک حرارتی ساخت میں ہونے والی 1975ء تا 1989ء کے دوران خرد امواج کے طیف سے حاصل کردہ سیاروی تبدیلی"۔ جرنل آف جیو فزیکل ریسرچ 95 (9): 14،543–14،554۔ Bibcode:1990JGR۔۔۔9514543C doi:10۔1029/jb095ib09p14543۔
  29. بیل، جے؛ و دیگر (اگست 28، 2009ء)۔ " مریخ پڑتال گرجہاں گرد مریخ رنگین شبیہ ساز (ایم اے آر سی آئی) : آلہ کی وضاحت، قطریہ پیمائی اور کارکردگی"۔ جرنل آف جیو فزیکل ریسرچ 114 (8)۔ Bibcode:2009JGRE۔114۔8S92B doi:10۔1029/2008je003315۔
  30. ولسن، آر؛ رچرڈسن، ایم (2000ء)۔"وائکنگ اول مہم کے دوران مریخی آب و ہوا: کرۂ فضائی کازیریں سرخ اشعاع سے پیمائش کیے ہوئے درجہ حرارت پر نظر ثانی"۔ ایکارس 145: 555–579۔ Bibcode:2000Icar۔۔145۔۔555W doi:10۔1006/icar۔2000۔6378۔
  31. کلانسی، آر (اپریل 25، 2000ء)۔ زمینی ملی میٹر، ایم جی ایس ٹی ای ایس اور وائکنگ سے کیے گئے کرۂ فضائی کے درجہ حرارت کا ایک دوسرے سے موازنہ: موسمی اور ششماہی درجہ حرارت میں تغیر اور مریخی سیاروی کرۂ فضائی میں دھول کا جمع ہونا"۔ جرنل آف جیو فزیکل ریسرچ 105 (4): 9553–9571۔ Bibcode:2000JGR۔۔105۔9553C doi:10۔1029/1999JE001089۔
  32. کلینبوہل، اے؛ و دیگر (اکتوبر 2009ء)۔ مریخی ماحولیاتی آواز پیما مددگار خاکہ سے حاصل کردہ کرۂ فضائی دباؤ، درجہ حرارت اور دھول اور پانی کی برف کی کثافت"۔ جرنل آف جیو فزیکل ریسرچ 114 (E10)۔ Bibcode:2009JGRE۔11410006K doi:10۔1029/2009je003358۔
  33. بینڈ فیلڈ، جے ایل؛ و دیگر (2013ء)۔ "مریخی ماحولیاتی آواز پیما اور حرارتی اخراج طیف پیما سے کی گئی پیمائش سے تابکاری کا موزانہ"۔ ایکارس 225: 28–39۔ Bibcode:2013Icar۔۔225۔۔۔28B doi:10۔1016/j۔icarus۔2013۔03۔007۔
  34. اسٹاف (2015ء)۔ "مریخ کا موسم"۔ سینٹرو ڈی ایسٹروبائیولوجیا (سی اے بی)۔ اخذ کردہ مئی 31، 2015ء۔
  35. اسٹاف۔ "مریخ کے حقائق"۔ ناسا اخذ کردہ مئی 31، 2015ء۔
  36. ہوفمین، نک (اکتوبر 19، 2000ء)۔ "مارس ڈیلی – سفید مریخ: سرخ سیارے کی کہانی پانی کے بغیر"۔ سائنس ڈیلی۔ اخذ کردہ مئی 31، 2015ء۔
  37. Mars Weather (@MarsWxReport) | Twitter
  38. مریخ عمومی چکر کا نمونہ جماعت "مریخ کا کم سطحی دباؤ"۔ ناسا اخذ کردہ فروری 22، 2007ء۔
  39. مریخ عمومی چکر کا نمونہ جماعت "مریخ کی صحرائی سطح"۔ ناسا اخذ کردہ فروری 25، 2007ء۔
  40. انٹاریس منصوبہ "مریخ کا چھوٹے پیمانے کا موسم" (ایم ایس ڈبلیو)
  41. فرانکویس فارگیٹ۔ "مریخ کے قطبین پر اجنبی موسم" (پی ڈی ایف)۔ سائنس۔ اخذ کردہ فروری 25، 2007ء۔
  42. مریخ عمومی چکر کا نمونہ جماعت۔ "مریخی منطقہ حارہ"۔ ناسا اخذ کردہ ستمبر 8، 2007ء۔
  43. ناسا۔ "دھول کے طوفانوں کو ہضم کرتا سیارہ"۔ ناسا اخذ کردہ فروری 22، 2007ء۔
  44. فینٹون، لوری کے ؛ گیزلر، پال ای؛ ہیبرلی، رابرٹ ایم (2007ء)۔ "مریخ پر حالیہ درجہ بیاض میں ہونے والی تبدیلی عالمگیری حرارت اور ماحول پر زور لگا رہی ہے" (پی ڈی ایف)۔ نیچر 446 (7136): 646–649۔ Bibcode:2007Natur۔446۔۔646F doi:10۔1038/nature05718۔ پی آئی ایم ڈی 17410170۔
  45. مریخی کھوجی جہاں گرد کی منزل کی اطلاع، آپرچونیٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ
  46. "مریخ پر دھول کے طوفان"۔ whfreeman.com. اخذ کردہ فروری 22، 2007ء۔
  47. زورک، رچرڈ ڈبلیو؛ مارٹن، لیونارڈ جے (1993ء)۔ "سیارے کا ششماہی تغیر – مریخ پر چلنے والے دھول کے طوفان"۔ جرنل آف جیو فزیکل ریسرچ (جریدہ of جیوفزیکل ریسرچ) 98 (E2): 3247–3259۔ Bibcode:1993JGR۔۔۔98۔3247Z doi:10۔1029/92JE02936۔ اخذ کردہ مارچ 16، 2007ء۔
  48. جی لینڈس، و دیگر، "خرد شبیہ نگار سے دیکھے گئے شمسی ارے پر دھول و مٹی کے اجتماع"، 37ویں لونر اینڈ پلانٹری سائنس کانفرنس، ہیوسٹن، ٹیکساس، مارچ 13–17، 2006ء۔ پی ڈی ایف فائل (مزید خلاصہ ناسا گلین ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی 2006ء میں بھی ہے۔ رپورٹ)
  49. کوک، جیسپر ایف؛ رینو، نلٹن او (2008ء) "دھول اڑاتی ہوا میں برق سکونی"۔ فزیکل ریویولیٹرز 100 (1): 014501۔ arXiv:0711۔1341۔ Bibcode:2008PhRvL100a4501K doi:10۔1103/PhysRevLett۔100۔014501۔ پی آئی ایم ڈی 18232774۔
  50. المیڈ ا، مریلو پی؛ و دیگر (2008ء)۔ "مریخ پر عظیم تبدیلی"۔ پی این اے ایس 105 (17): 6222–6226۔ Bibcode:2008PNAS۔105۔6222A doi:10۔1073/pnas۔0800202105۔ پی ایم سی 2359785۔ پی آئی ایم ڈی 18443302۔
  51. مریخی سیاروی مساحت کنندہ – "آٹھ سالہ سالگرہ"
  52. ڈیوڈ برانڈ اور رے ویلارڈ (مئی 19، 1999ء)۔"ہبل خلائی دوربین سے کورنیل کی ٹیم کا مریخ کے شمال میں گھومتا ہوا گرانڈیل طوفان کا مشاہدہ"۔ کورنیل نیوز۔ اخذ کردہ ستمبر 6، 2007ء۔
  53. موما، ایم جے؛ نوواک، آر ای؛ ڈی سینٹی، ایم اے؛ بونوف، بی پی، "مریخ پر میتھین کی حساس تلاش"(صرف خلاصہ)۔ امریکن ایسٹرو نامیکل سوسائٹی، ڈی پی ایس اجلاس #35، #14۔18۔
  54. مائیکل جے موما۔ "مریخ کی میتھین نے حیات پانے کی امیدیں بڑھا دیں"۔ Skytonight.com۔ اوریجنل سے حاصل کردہ دستاویزات بروز فروری 20، 2007ء۔ اخذ کردہ فروری 23، 2007ء۔
  55. وی فورمیسانو، ایس اٹریا ٹی انکریناز، این اگناٹیف، ایم گررانا (2004ء) "مریخ کے کرۂ فضائی میں میتھین کا سراغ"۔ سائنس 306 (5702): 1758–1761۔ Bibcode:2004Sci۔۔۔306۔1758F doi:10۔1126/science۔1101732۔ پی آئی ایم ڈی 15514118۔
  56. فرانسس ریڈی (مارچ 7، 2006ء)۔ "ٹائٹن، مریخ کی میتھین برف پر ہوسکتی ہے"۔ ایسٹرونامی میگزین۔ اخذ کردہ ستمبر 6، 2007ء۔
  57. وی فورمیسانو، ایس اٹریا ٹی انکریناز، این اگناٹیف، ایم گررانا (2004ء) "مریخ کے کرۂ فضائی میں میتھین کا سراغ"۔ سائنس 306 (5702): 1758–1761۔ Bibcode:2004Sci۔۔۔306۔1758F doi:10۔1126/science۔1101732۔ پی آئی ایم ڈی 15514118۔
  58. "مریخ ایکسپریس نے مریخی کرۂ فضائی میں میتھین کی موجودگی کی تصدیق کردی"۔ ای ایس اے۔ مارچ 30، 2004ء۔ اخذ کردہ اگست 19، 2008ء۔
  59. وی اے کراسنوپول اسکایا، جے پی میلارڈ، ٹی سی او وین (2004ء) "مریخی کرۂ فضائی میں میتھین کا سراغ: حیات کا ثبوت؟"۔ ایکارس 172 (2): 537–547۔ Bibcode:2004Icar۔۔172۔۔537K doi:10۔1016/j۔icarus۔2004۔07۔004۔
  60. ای ایس اے پریس ریلیز۔ "مریخ ایکسپریس نے مریخی کرۂ فضائی میں میتھین کی موجودگی کی تصدیق کردی۔" ای ایس اے۔ اوریجنل سے حاصل کردہ دستاویزات بروز فروری 24، 2006ء۔ اخذ کردہ مارچ 17، 2006ء۔
  61. زہنلی، کیون؛ فریڈمین، رچرڈ ایس ؛ کیٹلنگ، ڈیوڈ سی "کیا مریخ پر میتھین موجود ہے؟"۔ ایکارس 212 (2): 493–503۔ Bibcode:2011Icar۔۔212۔۔493Z doi:10۔1016/j۔icarus۔2010۔11۔027۔
  62. مارٹن باکم (2006ء)۔ "مریخ پر حیات؟" امریکن سائنٹسٹ 94 (2)۔ اوریجنل سے حاصل کردہ دستاویزات بروز فروری 23، 2006ء۔ اخذ کردہ فروری 26، 2007ء۔
  63. تھامس، کیرولن؛ و دیگر (جنوری 2009ء)۔"زیر زمین آبیدہ مشبک میں قید میتھین کی مقدار میں تغیر"۔ پلانٹری اینڈ اسپیس سائنس 57 (1): 42–47۔ arXiv:0810۔4359۔ Bibcode:2009P&SS۔۔57۔۔۔42 T doi:10۔1016/j۔pss۔2008۔10۔003۔ اخذ کردہ اگست 2، 2009ء۔
  64. تزاز، امینڈا ایم؛ بیباوٹ، بریڈ ایم؛ کیلی، چیرل اے؛ پولی، جینیفر؛ چانٹن، جیفری پی"حیاتیاتی میتھین کے ہم جاوں کی تعریف نو: درون رسوب کی میتھین"۔ ایکارس 224 (2): 268–275۔ Bibcode:2013Icar۔۔224۔۔268 T doi:10۔1016/j۔icarus۔2012۔06۔008۔
  65. ٹینی بوم، ڈیوڈ (جون 9، 2008ء)۔"مریخ کی میتھین کا مشاہدہ"۔ ایسٹرو بائیولوجیکل میگزین۔ اوریجنل سے حاصل کردہ دستاویزات بروز ستمبر 23، 2008ء۔ اخذ کردہ اکتوبر 8، 2008ء۔
  66. "مریخ کیوریوسٹی جہاں گرد نیوز ٹیلیکون -نومبر 2، 2012ء"۔
  67. کر، رچرڈ اے (نومبر 2، 2012ء)۔ "کیوریوسٹی نے مریخ پر میتھین کو پایا یا نہیں"۔ سائنس ( جرنل )۔ اخذ کردہ نومبر 3، 2012ء۔
  68. وال، مائک (نومبر 2، 2012ء)۔ "کیوریوسٹی نے مریخ پر میتھین کو پایا یا نہیں"۔ Space.com۔ اخذ کردہ نومبر 3، 2012ء۔
  69. چانگ، کینتھ (نومبر 2، 2012ء)۔"مریخ پر میتھین کی امید گہنا گئی"۔ نیویارک ٹائمز۔ اخذ کردہ نومبر 3، 2012ء۔
  70. ویبسٹر، کرسٹوفر آر؛ مہافی، پال آر؛ اٹریا، سوشل کے ؛ فلیسچ، گریگوری جے؛ فارلے، کینتھ اے (ستمبر 19، 2013ء)۔ "مریخ کی میتھین کی فراوانی پر بلند و پست حد"۔ سائنس 342: 355–357۔Bibcode:2013Sci۔۔۔342۔۔355W doi:10۔1126/science۔1242902۔ اخذ کردہ ستمبر 19، 2013ء۔
  71. ویبسٹر، گائے؛ جونز، نینسی نیل؛ براؤن، ڈیوائینی (دسمبر 16، 2014ء)۔ "ناسا جہاں گرد نے سرگرم اور قدیمی نامیاتی کیمیا مریخ پر پائی"۔ ناسا اخذ کردہ دسمبر 16، 2014ء۔
  72. چانگ، کینتھ (دسمبر 16، 2014ء)۔"ایک عظیم لمحہ: جہاں گرد نے وہ سراغ پا لیے جو مریخ پر حیات کے بارے میں اشارے دیتے ہیں"۔ نیویارک ٹائمز۔ اخذ کردہ دسمبر 16، 2014۔
  73. اسٹاف (ستمبر 2012ء)۔ "منگلیان -مشن کے اغراض و مقاصد"۔ انڈین اسپیس سائنس ڈیٹا سینٹر۔ اخذ کردہ اکتوبر 8، 2013ء۔
  74. رینکن، پال (جولائی 9، 2009ء)۔"ایجنسی نے مریخ کے پہلے قدم کا خاکہ بنا لیا"۔ بی بی سی نیوز۔ اخذ کردہ جولائی 26، 2009ء۔
  75. "ناسا کا مدار گرد مریخی میتھین کی تلاش 2016ء میں کرے گا"۔ تھائی انڈین نیوز۔ مارچ 6، 2009ء۔ اخذ کردہ جولائی 26، 2009۔
  76. چانگ، کینتھ (دسمبر 12، 2007ء)۔ "مریخ جہاں گرد- کھوج کسی زمانے میں قابل سکونت ماحول کا بتاتی ہے۔" نیویارک ٹائمز۔ اخذ کردہ اپریل 30، 2010ء۔
  77. مریخ عمومی چکر کا نمونہ جماعت "مریخی پہاڑی سلسلے" ناسا اخذ کردہ ستمبر 8، 2007ء۔
  78. "PIA04294: ارسیا مونس پر مکرر بادل"۔ ناسا اخذ کردہ ستمبر 8، 2007ء۔
  79. بینسن؛ و دیگر (2006ء)۔" ایم او سی نے ششماہی پانی کی برف کے بادلوں کے تغیر کو مریخ کے اہم آتش فشانوں کے اوپر دیکھا"۔ ایکارس 184 (2): 365–371۔ Bibcode:2006Icar۔۔184۔۔365B doi:10۔1016/j۔icarus۔2006۔03۔014۔
  80. ڈارلنگ، ڈیوڈ۔"مریخ کی قطبی ٹوپیاں، فلکی حیاتیات، فلکیات اور خلائی اڑان کا انسائیکلوپیڈیا "۔ اخذ کردہ فروری 26، 2007ء۔
  81. مریخ عمومی چکر کا نمونہ جماعت۔ "مریخ کے خشک برف کی قطبی ٹوپیاں"۔ ناسا اخذ کردہ فروری 22، 2007ء۔
  82. "میرا فیلڈ کا اسٹار انٹرنیٹ ایجوکیشن پروگرام کا چکر"۔ Mira.org اخذ کردہ فروری 26، 2007ء۔
  83. کار، مائیکل ایچ (2003ء)۔" مریخ پر سمندر:مشاہداتی ثبوتوں کا تجزیہ اور ممکنہ مقدر"۔ جرنل آف جیو فزیکل ریسرچ 108 (5042): 24۔ Bibcode:2003JGRE۔108۔5042C doi:10۔1029/2002JE001963۔
  84. فلپس، ٹونی۔ "مریخ پگھل رہا ہے"۔ سائنس، ناسا"۔ اخذ کردہ فروری 26، 2007ء۔
  85. پلیٹیئر، جے ڈی(2004ء)۔"مریخ پر خمدار خندق کس طرح بنی؟" جیولوجی 32 (4): 365–367۔ Bibcode:2004Geo۔۔۔۔32۔۔365P doi:10۔1130/G20228۔2۔ اخذ کردہ فروری 27، 2007ء۔
  86. "مریخی قطب نے ٹوپی کے اسرار کو حل کر دیا مارس ٹوڈے"۔ مارچ 25، 2004ء۔ اخذ کردہ جنوری 23، 2007ء۔
  87. اسمتھ، آئزک بی؛ ہولٹ، جے ڈبلیو (2010ء)۔"مریخ پر خمدار خندق کا آغاز و ہجرت کی وجوہات آشکار"۔ نیچر 465 (4): 450–453۔ Bibcode:2010Nature۔۔۔۔32۔۔450P doi:10۔1038/nature09049۔
  88. "مریخ پر خمدار ساخت کی بالاخر توضیح ہو گئی"۔ Space.com۔ مئی 26، 2010ء۔ اخذ کردہ مئی 26، 2010ء۔
  89. برنہم، رابرٹ (اگست 16، 2006ء)۔"گیس کی دھاروں کے کہر نے مریخ کا مکڑیوں سے پردہ فاش کر دیا"۔ ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کی ویب سائٹ۔ اخذ کردہ اگست 29، 2009ء۔
  90. کیفر، ہو ایچ؛ کرسچنسن، فلپ آر؛ ٹیٹس، ٹموتھی این (اگست 17، 2006ء)۔"مریخی موسمی جنوبی قطب کی برفیلی ٹوپی میں برف کی شفاف سل کے نیچے عمل تصعید سے بننے والے کاربن ڈائی آکسائڈ کی دھاریں"۔ نیچر (نیچر پبلشنگ گروپ) 442 (7104): 793–796۔ Bibcode:2006Natur۔442۔۔793K doi:10۔1038/nature04945۔ پی آئی ایم ڈی 16915284۔ اخذ کردہ اگست 31، 2009ء۔
  91. مریخ پر شمسی ہوائیں
  92. میڈلین، جے و دیگر 2007ء۔ مریخ:شمالی وسط عرض البد میں ہونے والی گلیشیر بستگی کے لیے پیش کردہ ماحولیاتی منظرنامہ"۔ لونر پلانٹ۔ سائی۔ 38۔ خلاصہ 1778۔
  93. میڈلین، جے و دیگر 2009ء۔ ایمیزونی مریخی شمالی وسط عرض البد میں ہونے والی گلیشیر بستگی: ایک پیش کردہ ماحولیاتی منظرنامہ"۔ ایکارس: 203۔ 300-405۔
  94. مسچنا، ایم و دیگر 2003ء۔ مریخی پانی اور کاربن ڈائی آکسائڈ کی مداروی دھکیل:ایک عمومی چکر کی تحقیق بشمول سادے طیران پزیر اسکیم کے ساتھ"۔ جے جیوفز۔ ریز۔ 108۔ (E6)۔ 5062۔
  95. ٹوما، جے؛ وزڈم، جے (1993ء)۔"مریخ کا انتشاری جھکاؤ"۔ سائنس 259: 1294–1297۔ Bibcode:1993Sci۔۔۔259۔1294 T doi:10۔1126/science۔259۔5099۔1294۔
  96. لسکر، جے؛ کوریہ، اے؛ گاسٹنیو، ایم؛ جوٹل، ایف؛ لیورارڈ، بی؛ روبٹل، پی (2004ء)۔"مریخ پر طویل عرصے پر مبنی ارتقا اور آفتاب زدگی کی منتشر مقدار"۔ ایکارس 170: 343–364۔ Bibcode:2004Icar۔۔170۔۔343L doi:10۔1016/j۔icarus۔2004۔04۔005۔
  97. لیوی، جے؛ ہیڈ، جے؛ مارکانٹ، ڈی؛ کوولوسکی، ڈی (2008ء)۔ "ناسا فینکس کی تجویز کردہ اترنے کی جگہ پر عمل تصعید سے ہونے والے حرارتی سکڑاؤ کے کثیرالاضلاع شگاف: زیریں طبق کی خصوصیات اور آب و ہوا سے شکلیاتی ارتقا کے مضمرات"۔ جیوفز۔ ریز۔ لیٹ۔ 35: 555۔ Bibcode:2008GeoRL۔35۔4202L doi:10۔1029/2007GL032813۔
  98. لیوی، جے؛ ہیڈ، جے؛ مارکانٹ، ڈی (2009ء)۔ مریخ پر حرارتی سکڑاؤ کے کثیرالاضلاع شگاف: درجہ بندی،تقسیم اور ہائی رائز مشاہدوں سے ہونے والے ماحولیاتی اثرات"۔ جے جیوفز۔ ریز۔ 114۔ Bibcode:2009JGRL۔114۔1007L doi:10۔1029/2008JE003273۔
  99. ہوبر، ای، ڈی ریس، ایم الرچ، ایف پریسکر، ایف ٹراوتھن، ایم زانیتی، ایچ ہیزنگر، آر جو مین، ایل جوہانسن، اے جانسن، ایس وین گاسیلٹ، ایم الومو۔ 2011ء۔"مریخی وسطی عرض البلد کے علاقوں میں ارضیاتی ارتقا: سولبارڈ میں برفانی دور سے پہلے کی ارض سازی سے معلومات"۔ بالمی، ایم، اے بارگرے، سی گلاگر، ایس گوٹا (ایڈیشن)۔ مریخی ارضی شکلہ۔ جیو لوجیکل سوسائٹی، لندن۔ خصوصی اشاعت : 356۔ 111-131
  100. میلن، ایم؛ جکوسکی، بی (1995ء)۔"ماضی و حالیہ دور کے دوران مریخی زمینی برف کا برتاؤ اور تقسیم"۔ جے جیوفز۔ ریز۔ 100: 11781–11799۔ Bibcode:1995JGR۔۔10011781M doi:10۔1029/95je01027۔
  101. شورغوفر، این (2007ء)۔"مریخ کے برفانی دور کے محرکات"۔ نیچر 449: 192–194۔ Bibcode:2007Natur۔449۔۔192S doi:10۔1038/nature06082۔
  102. میڈلین، جے، ایف فارگیٹ، جے ہیڈ، بی لیورارڈ، ایف مونٹمیسن۔ 2007ء۔ عمومی چکر کے نمونے کے ساتھ شمالی وسطی عرض البلد کے برفانی تودوں کی چھان بین مریخ پر ہونے والی ساتویں بین الاقوامی کانفرنس"۔ خلاصہ 3096۔
  103. اسٹین سیگوروسن۔ "مریخ پر عالمگیر حرارت؟" رئیل کلائمیٹ۔ اخذ کردہ فروری 21، 2007ء۔
  104. جیکس لسکر (ستمبر 25، 2002ء)۔"مریخی لڑکھڑاہٹ ماحولیاتی تبدیلی"۔ بی بی سی۔ اخذ کردہ فروری 24، 2007ء۔
  105. فرانسس ریڈی۔ "ٹائٹن، مریخ کی میتھین برف پر موجود ہوسکتی ہے"۔ ایسٹرونامی میگزین۔ اخذ کردہ مارچ 16، 2007ء۔
  106. مالن، ایم و دیگر 2010ء۔1985-2010 کے دوران مریخی مدار گرد کیمرے سے کی جانے والی چھان بین کا جائزہ"۔ مارس انفارمیٹکس۔http://marsjournal.org
  107. "ایم او سی نے جنوبی قطبی ٹوپی پر تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ہے"۔ مالن اسپیس سائنس سسٹمز۔ اخذ کردہ فروری 22، 2007ء
  108. تبخیر ہوتی ہوئی برف۔ Astronomy.com۔ اخذ کردہ فروری 22، 2007ء۔
  109. مدار گردوں کی لمبی عمر نے سائنس دانوں کو مریخ پر ہونے والے بدلاؤ پر نظر رکھنے میں مدد کی ہے
  110. اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ مریخ حالیہ برفانی دور سے نکلا ہے
  111. ہیڈ، جے؛ مسٹارڈ، جے؛ و دیگر "مریخ پر حالیہ برفانی دور"۔ نیچر 426: 797–802۔ Bibcode:2003Natur۔426۔۔797H doi:10۔1038/nature02114۔
  112. ہیڈ، جے؛ نیوکم، جی؛ و دیگر (17 مارچ 2005ء)۔"مریخ پرمنطقہ حارہ تا وسطی عرض البلد برف کا اجتماع، بہاؤ اور گلیشیر بستگی"۔ نیچر 434: 346–351۔ Bibcode:2005Natur۔434۔۔346H doi:10۔1038/nature03359۔
  113. کولپریٹ، اے؛ بارنس، جونیئر؛ ہیبرلی، آر ایم ؛ ہولینگسورتھ، جے ایل؛ کیفر، ایچ ایچ ؛ ٹیٹس، ٹی این (مئی 12، 2005ء)۔"مریخ کے جنوبی قطب کا درجہ بیاض"۔ نیچر 435 (7039): 184–188۔ Bibcode:2005Natur۔435۔۔184C doi:10۔1038/nature03561۔ پی آئی ایم ڈی 15889086۔
  114. جکوسکی، بروس ایم؛ ہیبرلی، رابرٹ ایم (1990ء)۔ "مریخی قطبی ٹوپیوں کی سال بہ سال غیر پائیداری"۔ جے جیوفز ریز 95: 1359–1365۔ Bibcode:1990JGR۔۔۔95۔1359J doi:10۔1029/JB095iB02p01359۔
  115. "رسائی: نظام شمسی میں گرم دور" نیچر نیوز
  116. "عالمگیر حرارت کی سچائی کے لیے مریخ کو دیکھیں"۔ نیشنل پوسٹ۔ اخذ کردہ مارچ 2، 2007ء۔
  117. "مریخ پر عالمگیر حرارت، برفیلی ٹوپیاں پگھل رہی ہیں"۔ اسکپٹیکل سائنس۔ اخذ کردہ ستمبر 17، 2013ء۔
  118. کر تھان (مارچ 12، 2007ء)۔"زمین اور دوسرے سیاروں پر گرمی بڑھانے کے لیے سورج کو الزام"۔ لائیو سائنس۔ اخذ کردہ ستمبر 6، 2007ء۔
  119. کیٹ رے ویلیس۔ "مریخ کا حرارت کی وجہ سے پگھلنا انسانوں کی طرف نہیں بلکہ سورج کی طرف اشارہ کرتا ہے، سائنس دن کہتے ہیں"۔ نیشنل جیوگرافک سوسائٹی۔ اخذ کردہ مارچ 2، 2007۔
  120. ہرگٹائی ہینرک (2009ء)۔ "مریخ کی آب و ہوا کے خطے" (پی ڈی ایف)۔ لونر اینڈ پلانٹری انسٹی ٹیوٹ۔ اخذ کردہ مئی 18، 2010ء۔
  121. "کیوریوسٹی جہاں گرد نے مریخ کو چھو لیا"۔ سی بی ایس نیوز۔

بیرونی روابط [ترمیم]