مظفر ادیب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مظفر ادیب
Majajan-adeeb.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1934  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ممبئی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 26 مارچ 2006 (71–72 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات دورۂ قلب  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی ممبئی یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ اداکار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

فلمی اداکار۔ پاکستانی فلموں کے مشہور ولن۔ اصل نام مظفر ادیب تھا لیکن فلم دنیا میں صرف ادیب کے نام سے جانے گئے۔ ریاست جموں کشمیر کے ایک پٹھان خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ قیام پاکستان سے قبل ان کے والدین سلسلہ معاش میں کشمیر سے ممبئی منتقل ہو گئے۔ ادیب نے ممبئی میں ہی تعلیم مکمل کی اور اردو ادب میں ایم اے کیا۔

انہوں نے اپنی فنی زندگی کا آغاز سکرپٹ رائٹنگ سے کیا۔ انیس سو چھپن میں پہلی مرتبہ ہدایت کار ایس ایم یوسف کی فلم ’پاک دامن‘ میں ولن کا کردار ادا کیا۔ ممبئی میں ایس ایم یوسف کے ساتھ چند فلمیں اور آنجہانی پرتھوی راج کے ساتھ ایک فلم ’انسان‘ کرنے کے بعد وہ پاکستان آ گئے۔ یہ غالباً انیس سو باسٹھ کی بات ہے۔

یہاں ان کی پہلی فلم ’دال میں کالا‘ تھی۔ اور آخری فلم مجاجن۔ انہوں نے چار سو سے زائد فلموں میں کام کیا۔ ان کی دیگر مشہور فلموں میں مولا جٹ، ہیرا پتھر، شیر خان، ظلم دا بدلا، یہ امن، زرقا، فرنگی، شہید اور آنسو بن گئے موتی شامل ہیں۔

ادیب نے تھیٹر پر بھی کام کیا اورایک اندازے کے مطابق ان کے سٹیج ڈراموں کی تعداد پچاس ہے۔ انہوں نے چند ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کیا۔ ایک ٹی وی ڈرامے میں سرسید احمد خان کا کردار انہوں نے بڑی خوبصورتی سے نبھایا۔

تین شادیاں کیں اور ایک اولاد ہوئی جو ذہنی طور پر معذور رہی۔ دل کا دورہ پڑنے سے لاہور میں انتقال کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]