مقبرہ خان جہاں بہادر کوکلتاش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مقبرہ خان جہاں بہادر ظفر جنگ کوکلتاش
مقبرہ خانِ جہاں بہادر کوکلتاش
Tomb of Khan-e-Jahan Bahadur Kokaltash.jpg
مقبرہ خانِ جہاں بہادر ظفر جنگ کوکلتاش
بنیادی معلومات
مقام محلہ گنج، نزد ریلوے پھاٹک، لاہور نہر، لاہور، پنجاب، پاکستان
متناسقات 31°33′34.74″N 74°21′59.57″E / 31.5596500°N 74.3665472°E / 31.5596500; 74.3665472متناسقات: 31°33′34.74″N 74°21′59.57″E / 31.5596500°N 74.3665472°E / 31.5596500; 74.3665472
تعمیراتی تفصیلات
نوعیتِ تعمیر مقبرہ
طرز تعمیر ہند-اسلامی طرز تعمیر، مغلیہ طرز تعمیر
سنہ تکمیل غالباً دسمبر 1697ء1698ء
تفصیلات
گنبد 1
گنبد کا قطر (داخلی) 33 گز (99 فٹ)، (30.1752 میٹر)
مواد خشتی سادہ، سنگ مرمر

مقبرہ خانِ جہاں بہادر کوکلتاش محلہ گنج، نزد لاہور نہر، لاہور میں واقع ہے جو سترہویں صدی عیسوی میں اورنگزیب عالمگیر کے عہدِ حکومت کے آخری سالوں میں تعمیر کیا گیا۔ یہ مقبرہ اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں لاہور میں تعمیر کیے جانے والے آخری مقابر میں سے ہے۔

محل وقوع[ترمیم]

مقبرہ خانِ جہاں بہادر مقبرہ نصرت خان کے جنوب مشرق میں لبِ لاہور نہر پر واقع ہے۔ موجودہ مغلپورہ ریلوے چوک (شالیمار فلائی اوور) سے مقبرہ خانِ جہاں بہادر کا فاصلہ 1.33 کلومیٹر ہے اور لاہور نہر کے سڑک پار موجودہ لیسکو کے دفتر سے فاصلہ 170 میٹر ہے۔ یہ علاقہ ریلوے کی سرکاری اراضی کا حصہ ہے اور یہ محلہ گنج کہلاتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

یہ مقبرہ خان جہاں بہادر ظفر جنگ کوکلتاش کا ہے جو مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے عہدِ حکومت میں اُمراء میں شامل تھے۔ اورنگزیب عالمگیر نے خانِ جہاں بہادر کو 11 اپریل 1691ء کو صوبہ لاہور کا مغل صوبیدار مقرر کیا۔ خانِ جہاں قریباً ڈھائی سال تک صوبیداری کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ جون 1693ء میں مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے خانِ جہاں بہادر کو معزول کر دیا جس کے بعد تک وہ لاہور میں ہی مقیم رہے۔ معزولی کے چار سال بعد بروز ہفتہ 9 جمادی الاول 1109ھ مطابق 23 نومبر 1697ء کو خانِ جہاں بہادر کا انتقال لاہور میں ہوا۔

یہ مقبرہ کس شخصیت کا ہے؟[ترمیم]

مؤرخین کا اِس بات پر اِختلاف ہے کہ یہ کس شخصیت کا مقبرہ ہے؟ سترہویں صدی اور اٹھارہویں صدی عیسوی کے مؤرخین کا اتفاق ہے کہ یہ خانِ جہاں بہادر ظفر جنگ کوکلتاش کا مدفن ہے جو مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے عہدِ حکومت میں لاہور کے با اِقتدار اُمراء میں سے ایک تھے۔ مؤرخ کنہیا لال کے مطابق خانِ جہاں بہادر مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے عہدِ حکومت میں امیر الامراء اور وزیر تھا جو 1010ھ/1602ء میں لاہور میں فوت ہوا اور اُسے یہاں دفن کیا گیا۔[1]

تاریخی شواہد سے اِس بات کی تحقیق ممکن ہے کہ یہ مقبرہ کس شخصیت کاہے؟۔ اگر خانِ جہاں بہادر عہدِ اکبری میں بقید حیات تھا تو اُس کا تذکرہ کہیں نہ کہیں اکبری عہد کی تواریخ میں ضرور مذکور ہوتا، لیکن عہدِ اکبری میں اِس نام کی کوئی شخصیت لاہور میں بطور مغل صوبیدار نظر نہیں آتی۔ البتہ عہدِ عالمگیری میں خانِ جہاں بہادر بحیثیت مغل صوبیدار لاہور نظر آتا ہے۔ دوسری قوی شہادت یہ ہے کہ اِس مقبرہ کی عمارت مقبرہ انارکلی، مقبرہ علی مردان خان، مقبرہ آصف خان کے مقابر سے مشابہ ہے اور یہ تمام مقابر سولہویں صدی عیسوی کے بعد تعمیر کیے گئے جیسے کہ مقبرہ انارکلی 1599ء سے 1615ء کے درمیانی عرصہ میں تعمیر کیا گیا، مقبرہ علی مردان خان 1657ء میں تعمیر کیا گیا، مقبرہ آصف خان 1641ء میں تعمیر کیا گیا۔ تو اِن تمام مقابر کے سنہ ہائے تعمیرات سے اِس شہادت کو تقویت ملتی ہے کہ خانِ جہاں بہادر عہدِ اکبری میں نہیں بلکہ عہدِ عالمگیری میں بقید حیات تھے۔ اِس تاریخی شہادت سے مؤرخ کنہیا لال کا قول غیر تصدیق شدہ معلوم ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں خود خافی خان نظام الملک نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف منتخب اللباب میں جا بجاء خان جہاں بہادر کا تذکرہ کیا ہے جس سے اُس کا عہدِ عالمگیری میں بقید حیات ہونے کا مصدقہ ثبوت مل جاتا ہے۔

ہیئتِ عمارت[ترمیم]

مقبرہ میں موجود خانِ جہاں بہادر ظفر جنگ کوکلتاش کی قبر

مقبرہ کی تعمیر غالباً خانِ جہاں بہادر کی وفات کے بعد دسمبر 1697ء میں شروع ہوئی اور 1698ء میں یہ مقبرہ تکمیل کو پہنچا۔ مقبرہ کی عمارت خشتی ہے۔ سنگ سرخ مغلیہ طرز تعمیر کا خاص جزو ہے لیکن مقبرہ خانِ جہاں بہادر میں سنگ سرخ قطعی استعمال نہیں کیا گیا۔ تمام عمارت چھوٹی سرخ اینٹ سے تعمیر کی گئی ہے۔ مقبرہ کا طرزِ تعمیر عین مقبرہ انارکلی، مقبرہ علی مردان خان، مقبرہ آصف خان کے طرزِ تعمیر پر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن سبھی مقابر پر سنگ سرخ کا استعمال تو ہوا ہے مگر مقبرہ خانِ جہاں بہادر پر سنگ سرخ کی بجائے چھوٹی سرخ اینٹ کا استعمال جابجاء ہوا ہے۔

چبوترا[ترمیم]

مقبرہ ہشت پہلو چبوترا پر تعمیر کیا گیا ہے جو خشتی اور پختہ ہے اور اِس کی بلندی سطح زمین سے تقریباً 6 فٹ 4 انچ ہے۔ چبوترے پر چڑھنے کے لیے 4 سیڑھیاں ہیں جو مؤرخ کنہیا لال اور مؤرخ  نور احمد چشتی کے زمانہ میں 6 تھیں۔[1][2] غالباً سطح زمین کی بلندی کے بعد سیڑھیاں صرف 4 باقی رہ گئی ہیں۔  چبوترے کا فرش بھی خشتی ہے جو ہشت پہلو شکل میں تعمیر کیا گیا ہے۔ چبوترے کے ہر پہلو کا طول 16 گز ہے اور آٹھوں گوشوں سے یہ طول 120 گز (360 فٹ) ہے۔ چبوترے کی ابتدائی حدود سے مقبرہ کی ہشت پہلو دیواروں تک کا فاصلہ 10.25 گز  (30.75 فٹ) ہے۔[2]

چبوترے کی سیڑھیاں- ستمبر 2014ء

ہشت پہلو دیواروں کی محرابیں[ترمیم]

جنوب مغربی سمت کی محرابِ کلاں 

مقبرہ کی ہشت پہلو دیواروں میں ایک ایک محراب کلاں موجود ہے جو دو منزلہ ہیں۔ محراب کلاں کی بلندی سطح زمین سے 4.75 گز (14.75 فٹ) ہے اور محراب کا عرض 2.25 گز (6.75 فٹ) ہے۔ یہ محرابِ کلاں دو درجہ ہیں، ایک درجہ پائیں جانب اور ایک درجہ بالائی جانب ہے۔ ہر محرابِ کلاں میں 2 دروازے ہیں، ایک دروازہ پائیں منزل میں ہے جس سے مقبرہ کے اندرونی جانب داخل ہوا جاسکتا ہے اور دوسرا دروازہ بالائی منزل میں ہے جو پائیں والے دروازے کی نسبت چھوٹا ہے اور اِس سے بالائی منزل میں کھڑے ہوکر مقبرہ کو اندرونی جانب سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ 8 بڑی محرابوں میں کل 8 بڑے دروازے پائیں منزل کے اور 8 چھوٹے دروازے بالائی منزل میں موجود ہیں۔ دونوں دروازوں کے گوشوں میں خشتی طاقچے بنے ہوئے ہیں۔ تاحال سات محرابوں کے پائیں دروازے آہنی جنگلوں سے بند ہیں اور صرف مغربی دروازہ جو مقبرہ میں داخل ہونے کا راستہ ہے، کھلا ہے۔

زیریں منزل[ترمیم]

زیریں منزل ہشت پہلو شکل میں ہے جس کے عین وسط میں قبر موجود ہے۔ حالیہ قبر 4 درجہ پختہ اینٹوں کی بنی ہوئی ہے۔ برٹش راج کے ابتدائی زمانہ میں جب لاہور کی میاں میر چھاؤنی کی تعمیر ہو رہی تھی تو انگریزی صاحبان نے اِس مقبرہ کو ناچ گھر بنالیا تھا۔ بعد ازاں مقبرہ ریلوے کے ملازمین کے زیر اثر آگیا تو اِنہی ملازموں نے مقبرہ کے اِردگرد رہائش اختیار کرلی۔ زیریں منزل میں موجود 8 بڑی محرابوں کے وسط میں 8 بڑے دروازے ہیں جن کا طول 2 گز (6 فٹ)  اور عرض 1.50 گز (4.5 فٹ) ہے۔ ہر محرابِ کلاں کے بیرونی جانب کا فرش چھوٹی پختہ اینٹ کا ہے۔ زیریں منزل کے عین وسط میں قبر خانِ جہاں بہادر ظفر جنگ کوکلتاش واقع ہے جو اول سنگ مرمر سے مزین کی گئی تھی مگر مہاراجا رنجیت سنگھ کے عہدِ حکومت میں جب سنگ مرمر عمارات سے اُتروا لیا گیا تو اِس قبر سے بھی سنگ مرمر اُکھڑوا لیا گیا اور قبر صرف خشتی باقی رہ گئی تھی۔ جب انگریزوں نے اِس مقبرہ کو ناچ گھر میں تبدیل کیا تو شمال مشرقی اور مشرقی سمت کی محرابِ کلاں کو منہدم کر دیا تھا تاکہ راستہ کشادہ ہو سکے اور قبر کو مسمار کر دیا گیا تھا۔ مؤرخ نور احمد چشتی کے زمانہ 1867ء تک قبر خانِ جہاں بہادر کا نشان تک بھی باقی نہ رہا تھا، جسے بعد ازاں محکمہ اوقاف پنجاب نے دوبارہ کھدائی کے باعث دریافت کیا اور اِس کا موجودہ نشان تعمیر کروایا۔ انگریزی صاحبان نے جو دو محرابیں مشرقی اور شمال مشرقی سمت کی منہدم کروادی تھیں، اُس کے سبب سے گنبد کو فراہم کیے جانے والے سہارے کے خطرہ سے محکمہ اوقاف پنجاب نے اِسی گوشہ میں جدید اینٹوں کا ایک ستون تعمیر کروایا تاکہ گنبد کو سہارا فراہم کیا جاسکے۔ اِس ستون سے گنبد کے ایک جانب جُھک جانے یا گر جانے کا خطرہ ختم ہو گیا ہے۔

بالائی منزل[ترمیم]

پائیں منزل سے داخلی دروازہ (جو مغرب میں واقع ہے) کی محرابِ کلاں میں بالائی منزل تک رسائی کے لیے سیڑھیاں موجود ہیں جن سے مقبرہ کی دوسری منزل میں باآسانی پہنچا جاسکتا ہے۔ سیڑھیوں کا دروازہ آہنی جنگلہ دار ہے۔ جب اِن سیڑھیوں سے دوسری منزل میں داخل ہوا جائے تو ہشت پہلو غلام گردش میں پہنچتے ہیں۔ اِس غلام گردش سے اندرونی جانب قبر خانِ جہاں بہادر نظر آتی ہے۔ یہ غلام گردش اندرونی جانب سے بالکل کھلی ہوئی ہے، غالباً تعمیر کے وقت اِس جگہ جالیاں لگائی گئی ہوں گی جو اب موجود نہیں ہیں۔ غلام گردش کا فرش  سادہ پختہ اینٹوں کا بنا ہوا ہے اور دیواروں بھی خشتی سادہ ہیں۔ غلام گردش والے راستے سے بیرونی ہشت پہلو محرابوں کے دروازوں سے تا حدِ نگاہ تک باآسانی دیکھا جاسکتا ہے۔ اِسی منزل میں مغربی سمت اور شمال مشرقی سمت میں سیڑھیاں ہیں جن سے گنبد تک رسائی ممکن ہے۔

گنبد[ترمیم]

مقبرہ کے گنبد کا بیرونی منظرجس میں کشادہ سوراخ دکھائی دیتے ہیں۔

مقبرہ کا گنبد عالیشان طرز پر تعمیر کیا گیا جو عین قبر کے اُوپر ہے۔ چھت کے عین وسط میں ایک بڑا شاندار و عالیشان گنبد موجود ہے،  مقبرہ کی اندرونی جانب دیکھنے سے گنبد کے وسط میں ایک کشادہ سوراخ نظر آتا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ گنبد بھی اندر سے دو منزلہ اور باہر سے ایک منزلہ ہے۔ اِس گنبد کے اوپر جانے کے لیے دو زِینے موجود ہیں، ایک زینہ مغربی سمت اور دوسرا زینہ شمالی مشرقی سمت میں واقع ہے۔ فی زمانہ مغربی زینہ سے گنبد تک پہنچا جاسکتا ہے اور شمال مشرقی گوشہ والا زینہ مسمار ہوچکا ہے۔ گنبد کا ارتفاع ہر سمت سے دو منزلہ ہے۔ پہلی منزل تو یہی ہے جس کا ذکر ہوا اور دوسری منزل جو غلام گردش ہے جو مقبرہ کے اندرونی جانب سے بھی دیکھی جاسکتی ہے۔گنبد کی ظاہری خدوخال سے گمان ہوتا ہے کہ یہ سنگِ مرمر سے مزین تھا اور غالباََ مہاراجا رنجیت سنگھ کے عہدِ حکومت میں وہ سنگ مرمر اُتروا لیا گیا کیونکہ گنبد کے بیرونی سطح پر کشادہ سوراخ دیکھے جاسکتے ہیں جو گنبد کی خشتی سطح پر واضح ہیں۔ گنبد کا طول بالائی چھت سے 10.25 گز (30.25 فٹ) ہے اور اندرونی جانب سے گنبد کا قطر 33 گز (99 فٹ) ہے۔ بالائی چھت سے گنبد والی منزل میں ہشت پہلو دیواریں تا کمر بلند تھیں جو فی زمانہ موجود نہیں ہیں۔[3] 8 گوشوں میں پانی کے اخراج کے واسطے پرنالے موجود ہیں۔گنبد پر کلس کے لیے مخروطی خشتی  بنیاد بھی بنی ہوئی ہے جس سے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اِس گنبد پر انتہائی شاندار کلس لگایا گیا تھا جو امتدادِ زمانہ کی نذر ہو گیا۔1881ء میں برٹش راج کے عہد میں مؤرخ کنہیا لال ہندی کی معرفت گنبد کی مرمت و بحالی کا کام کیا گیا جس سے گنبد کا توازن برقرار رکھنے کے لیے محرابوں کو مزید مضبوط کر دیا گیا۔ 

مقبرہ کے گنبد کا اندرونی منظر جس میں کشادہ سوراخ نظر آتا ہے۔

ہشت پہلو برجیاں[ترمیم]

گنبد کے ہمراہ 8 چھوٹی برجیاں ہشت پہلو تعمیر کی گئی تھیں۔ مؤرخ کنہیا لال اور مؤرخ نور احمد چشتی کے زمانہ تک اِس گنبد کے ہمراہ 7 چھوٹی برجی نما برجیاں (گنبدیاں) موجود تھیں جو فی زمانہ موجود نہیں ہیں۔ یہ چھوٹی برجیاں مقبرہ کے ہشت پہلو گوشوں پر تعمیر کی گئی تھیں، انگریزی صاحبان نے جب مشرقی سمت سے مقبرہ کی محرابِ کلاں کو منہدم کیا تو وہ چھوٹی برجی بھی ساتھ منہدم کردی گئی۔ 1867ء تک سات چھوٹی برجیاں موجود تھیں۔ ہر برجی ہشت پہلو طرز کی مثمنہ تھی، اِن کے آٹھوں جانب سے کھلے دروازے تھے، ہر برجی کی بلندی بالائی منزل پر سے ڈیڑھ گز (4.5 فٹ) تھی اور اِس کے ہر دروازے کا فاصلہ گنبد سے ایک ایک گز (3 فٹ) تھا۔ اِن برجیوں کی بلندی بالائی چھت (جو گنبد والی چھت ہے) سے 8 گز (24 فٹ) تھی اور اِن کے اندر جائے نشست 2.75 گز (8.25 فٹ) تھی۔ ہر برجی کے دروازے کی بلندی 1.75 گز (5.25 فٹ) تھی۔[3] ہر برجی اندرونی جانب سے کاشی کار کام سے مزین تھی۔ جن برجیوں کا تذکرہ اِن دونوں مؤرخین نے کیا، غالباً وہ مقبرہ علی مردان خان پر واقع چھوٹی برجیوں جیسی ہوں گی جو ہشت پہلو ہیں اور اُن کے بھی 8 چھوٹے دروازے ہیں اور اِن پر چھوٹے گنبد بنے ہوئے ہیں۔ شمال مغربی گوشہ کے زیریں زینہ موجود تھا جو مسمار ہوچکا ہے۔ فی زمانہ یہ سب برجیاں منہدم ہوچکی ہیں اور سوائے گنبد کے بالائی منزل کی چھت پر کچھ باقی نہیں رہا۔

نگارخانہ[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب کنہیا لال: تاریخ لاہور، صفحہ 226۔ مطبوعہ لاہور 2009ء۔
  2. ^ ا ب نور احمد چشتی: تحقیقات چشتی، صفحہ 970۔ مطبوعہ لاہور 2006ء۔
  3. ^ ا ب نور احمد چشتی: تحقیقات چشتی، صفحہ 971۔ مطبوعہ لاہور 2006ء۔