منور لکھنوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(منور لکھنؤی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
منور لکھنوی
At Zia Fatehabadi.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1897[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لکھنؤ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1970 (72–73 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مصنف،  ومترجم،  وشاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

منور لکھنؤی یا منشی بشیشور پرشاد (پیدائش: 8 جولائی 1897ء— وفات: 24 مئی 1970ء) اردو زبان کے لکھنؤی دبستان کے مشہور شاعر تھے۔

سوانح[ترمیم]

ابتدائی حالات اور خاندان[ترمیم]

منور لکھنؤی 8 جولائی 1897ء کو آبائی مکان محلہ نوبستہ، لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ پیدائشی نام بشیشور پرشاد تھا۔ قوم کے سکسینہ کائیستھ تھے۔منور کے ایک بڑے بھائی بابو رام شنکرپرشاد بھی تھے۔ وہ بھی خاندانی روایات اور ماحول کے زیر اثر صحافت اور شعرگوئی میں دلچسپی لیتے تھے۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد منور اَودھ اخبار، لکھنؤ کے شعبہ اِدارت میں ملازم ہو گئے۔ منور نے ذاتی ہفتہ وار اخبار تفریح کے نام سے بھی جاری کیا۔منور کے والد اُفق بڑے شاعر اور ادیب تھے۔ لیکن بدقسمتی سے وہ شراب نوشی کی عادت قبیحہ میں مبتلا تھے۔اِسی عادت قبیحہ نے جلد ہی اُن کی موت کا سامان کر دیا۔ والد کی وفات کے بعد منور کی تعلیم پر ناخوشگوار اثرات پڑے۔ اُس وقت یہ آٹھویں درجے کا امتحان دے چکے تھے۔لیکن گھر کی حالت اِس قابل نہیں رہ گئی تھی کہ یہ آگے تعلیم جاری رکھ سکتے۔ بڑے بھائی بابورام شنکرپرشاد کی بے وقت موت کے صدمے سے گھر کے حالات مزید خراب ہو گئے۔کم عمری میں ہی منور پر خاندان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری پڑ گئی جبکہ اُس وقت منور کی عمر سولہ برس تھی۔ بھائی بابورام شنکرپرشاد کی وفات کے بعد اَودھ اخبار میں اُن کی ملازمت کی جگہ مقرر ہو گئے تھے۔ ستمبر 1913ء میں کوشش کرکے ریلوے کے حسابات کے دفتر میں عارضی ملازمت کرلی۔ اِس ملازمت پر مشاہرہ 1800 روپئے مقرر ہوا تھا۔خوش قسمتی یہ ہوئی کہ منور کی یہ ملازمت جلد ہی مستقل ہو گئی۔ اِسی ملازمت کے دوران منور نے 1919ء میں پرائیویٹ اِمتحان کے دسویں درجے کی سند حاصل کرلی۔ اِس سے ترقی کا راستہ کھل گیا لیکن اُنہوں نے ذاتی مطالعے اور محنت سے اپنی استعداد میں بہت اِضافہ کر لیا تھا۔ فارسی زبان اور سنسکرت زبان میں خوب مہارت رکھتے تھے اور اِن دونوں زبانوں کی کتب کو باآسانی ترجمہ کرتے رہے۔ منور عمر بھر ریلوے کے اِسی محکمے سے وابستہ رہے اور مختلف مقامات جیسے کہ لاہور، دہلی اور لکھنؤ میں تبادلے کی خاطر سفر کرتے رہے۔ آخری مرتبہ وہ ماہِ اکتوبر 1927ء میں دہلی گئے اور اُس کے بعد دہلی میں ہی مقیم ہو گئے۔ محکمہ ریلوے سے ماہِ جنوری 1957ء میں سبکدوش ہو گئے اور پنشن پر زندگی بسر کرنے لگے۔[2]

شاعری[ترمیم]

منور کو شعرو سخن سے دلچسپی ابتدائی زمانے میں پیدا ہو گئی تھی، گھر کی فضا بھی ادبی تھی جس کا اثر منور پر پڑا۔ شروع میں اُن کا کلام اپنے بڑے بھائی کے پرچہ تفریخ اور اَودھ اخبار میں شائع ہوتا رہا۔بعد ازاں وہ اپنا کلام مختلف ادبی رسائل و جرائد میں بھیجنے لگے۔ منور کے چچا منشی رام سہائے تمنا بھی ایک ماہانہ پرچہ ’’دربار‘‘ شائع کرتے تھے، اُس میں نظم و نثر ہوتی تھیں۔ پرچے کی دیکھ بھال منور کے سپرد ہوئی تو نثر کو ڈاکٹر گوری سہائے اور نظم کو منور دیکھتے تھے۔ 1930ء میں ایک روزنامہ وطن کے نام سے جاری ہوا تو منور کا کلام اُس میں بھی چھپتا رہا۔

وفات[ترمیم]

آخری دِنوں میں منور کی صحت بہت خراب رہنے لگی تھی۔ مرض فواق (ہچکی کا مرض) میں مبتلا ہو گئے تھے۔ ذیابیطس کی شکایت نے اُن کو لاغر کر دیا تھا۔ آخری ایام میں بینائی بھی بہت کمزور ہو گئی تھی۔ اِن سب عوارض کے باوجود یہ گمان تک نہیں تھا کہ وہ قریب المرگ ہیں۔ کہیں نا کہیں ادبی مجالس میں نظر آتے تھے۔ 24 مئی 1970ء کو صبح پونے سات بجے خاموشی سے اِس جہاں سے جہانِ ابدی کی طرف رخصت ہو گئے۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/380025 — بنام: Munavvar Lakhnavī — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. مالک رام: تذکرہ معاصرین، جلد 1، صفحہ 209/210۔ مطبوعہ دہلی
  3. مالک رام: تذکرہ معاصرین، جلد 1، صفحہ 211/212۔ مطبوعہ دہلی