منوپور کی لڑائی (1748ء)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

منوپور کی لڑائی 1748ء میں درانی سلطنت اور سلطنت مغلیہ کے مابین دہلی میں ہونے والی ایک عسکری لڑائی تھی جس میں احمد شاہ درانی کو شکست ہوئی اور مغل فوج فتح یاب ہوئی۔ یہ لڑائی احمد شاہ درانی کے ہندوستان پر پہلے حملے کا حصہ تھی جو لاہور پر درانی فوج کی فتح کے بعد دہلی میں پہلی شکست تھی جس نے احمد شاہ درانی کو ہندوستان سے واپسی پر مجبور کیا۔

حالاتِ جنگ[ترمیم]

1748ء میں جب احمد شاہ درانی ہندوستان پر اپنے پہلے حملے کے دوران لاہور میں ٹھہرا ہوا تھا کہ اُسے پے در پے یہ خبریں ملنے لگیں کہ دہلی میں مغل شہنشاہ محمد شاہ ایک بہت بڑی فوجی مہم اُس کے مقابلے کے لیے روانہ کر رہا ہے۔ جب یہ خبریں دہلی سے موصول ہو رہی تھیں تو اُس وقت احمد شاہ درانی لاہور کے قریب شاہدرہ میں واقع مقبرہ جہانگیر کے احاطے میں خیمہ زن تھا۔ ابھی مغل فوج دہلی سے 16کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچی تھی کہ اُس کو خبر ملی کہ احمد شاہ درانی لاہور پر قابض ہو گیا ہے اور اَب خود لشکر کی قیادت کرتے ہوئے دہلی لکی طرف بڑھ رہا ہے۔ مغل فوج کے شاہی دَستوں کے مشیروں نے مغل شہنشاہ محمد شاہ کو تجویز پیش کی کہ ولی عہد کو لشکر شاہی میں بطور قائد ساتھ روانہ کر دیا جائے۔ محمد شاہ نے احمد شاہ بہادر کو لشکرِ شاہی کے ساتھ روانہ کر دیا جو سونی پت کے مقام پر مغل فوج سے جا ملا۔ 21 فروری 1748ء کو پانی پت میں مغل فوج کا لشکر دوبارہ ترتیب دیا گیا اور ہر اعتبار سے ہتھیاروں سے لَیس کر دیا گیا۔ یکم مارچ 1748ء کو کرنال میں یہ خبر ملی کی سرہند کا مغل فوجدار علی محمد خاں روہیلہ اَنولہ میں جا کر رہائش پزیر ہو گیا ہے۔ مارچ میں یہ مغل فوج سرہند پہنچ چکی تھی اور 8 مارچ 1748ء تک یہیں پر ٹھہری رہی۔ 9 مارچ 1748ء کو شاہی فوج ماچھی واڑہ کی طرف کوچ کرگئی۔ اِس کُوچ کرجانے کا خیال یہ تھا کہ دریائے ستلج لدھیانہ کے مقابلے میں زیادہ پایاب ملے گا اور آسانی سے عبور کر لیا جائے گا مگرلدھیانہ اور سرہند سے گزرتی ہوئی اِس شاندار شاہراہ کو ترک کردینے کا انجام یہ ہوا کہ احمد شاہ درانی کے لیے دہلی کا راستہ بالکل صاف ہو گیا اور یہ ایک غلطی تھی جس نے احمد شاہ درانی کو دہلی میں داخل ہونے کا ایک عذر فراہم کر دیا۔16 مارچ 1748ء کو احمد شاہ درانی نے دریائے ستلج عبور کرکے سرہند شہر پر قبضہ کر لیا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. گنڈا سنگھ: احمد شاہ درانی، صفحہ 84 تا 87۔