مولوی یونس خالص
| مولوی یونس خالص | |
|---|---|
| (عربی میں: مولوي محمد يونس خالص) | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 1919ء صوبہ ننگرہار |
| تاریخ وفات | 19 جولائی 2006ء (86–87 سال) |
| شہریت | |
| اولاد | مطیع الحق خالص |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | دار العلوم حقانیہ |
| استاذ | عبدالحلیم زروبوی |
| پیشہ | سیاست دان |
| عسکری خدمات | |
| لڑائیاں اور جنگیں | افغانستان میں سوویت جنگ |
| درستی - ترمیم | |
افغانستان میں روسی افواج کے خلاف مزاحمتی کمانڈر اور حزب اسلامی (خالص) کے سربراہ۔افغانستان کے صوبہ ننگر ہار کے چھوٹے سے گاؤں خوگیانی میں پیدا ہوئے۔ 1975ء میں افغانستان میں کیمونسٹ انقلاب کے آغاز میں مولوی یونس خالص نے اپنے خاندان سیمت پاکستان ہجرت کی۔ 1978 میں انھوں نے حزب اسلامی کے نام سے ایک مزاحمتی تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ اس تنظیم میں امریکی فوج کومطلوب گلبدین حکمت یار بھی شامل تھے تاہم بعض اختلافات کی وجہ سے وہ بعد میں الگ ہو گئے اور انھوں نے بعد میں اپنی الگ پارٹی بنالی۔
مولوی خالص نے 1979 میں روسی افواج کے خلاف مسلح مزاحمت شروع کی اور اسی سال صوبہ ننگر ہار کے بلند پہاڑی سلسلے تورہ بورہ کے مقام پر اپنا پہلا جہادی مرکز کھولا۔ مولوی یونس خالص نے افغانستان میں سترہ سال تک روسی افواج اور ان کے انخلاء کے بعد ان کے حامیوں کے خلاف مزاحمت میں حصہ لیا۔
روس کے خلاف جنگ میں امریکا کے نے ان کو ہیرو کا درجہ دیا اور انھیں خصوصی طور پر وائیٹ ہاوس میں مدعو کیا گیا جہاں ریگن نے انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔ لیکن گیارہ ستمبر کے بعد دوسرے جہادی شخصیات کے طرح ان کو بھی دہشت گرد کا خطاب ملا۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد انھوں نے اکتوبر دوہزار تین میں افغانستان میں موجود امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف ’ جہاد‘ کا اعلان کیا جس کے بعد سے وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ روپوش ہو گئے۔ ان کے موت کے بعد بھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ زندگی کے آخری ایام انھوں نے کہاں گزارے۔ ان کی وصیت کے مطابق ان کو کسی نامعلوم مقام پر دفن کیا گیا۔ وہ افغانستان کے واحد رہنما تھے جنھوں نے گروہی (فیکشنل) جنگوں میں حصہ نہیں لیا۔ وہ ایک اسلامی سکالر اور عالم ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر بھی تھے۔
حوالہ جات
[ترمیم]- 1919ء کی پیدائشیں
- 2006ء کی وفیات
- 19 جولائی کی وفیات
- پاکستان میں افغان تارکین وطن
- پشتون شخصیات
- صوبہ ننگرہار کی تاریخ
- صوبہ ننگرہار کی شخصیات
- ضد شیعیت
- پشتو شعرا
- دار العلوم حقانیہ کے فضلا
- 1910ء کی دہائی کی پیدائشیں
- افغان سیاست دان
- سنی علماء اسلام
- عسکری قیادت
- افغان مسلم
- شخصیات بلحاظ پشتون نسب
- افغان عسکری کارکنان
- افغان اسلام پسند
- افغان سنی مسلم
- افغان شعراء
- افغان مذہبی رہنما
- افغان مصنفین
- سوویت-افغان جنگ کی شخصیات
- عسکری قائدین
