ناظم پانی پتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ناظم پانی پتی
پیدائش محمد اسماعیل
15 نومبر 1920(1920-11-15)ء
لاہور، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان)
وفات 18 جون 1998(1998-06-18)ء
لاہور، پاکستان
قلمی نام ناظم پانی پتی
پیشہ فلمی کہانی کار، شاعر
زبان اردو، پنجابی
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
اصناف فلمی کہانی کار، فلمی نغمہ نگاری
نمایاں کام دل میرا توڑا، مجھے کہیں کا نہ چھوڑا تیرے پیار نے‘ نغمہ
چندا کی نگری سے آ جا ری نندیا (نغمہ)
میری مٹی کی دنیا نرالی (نغمہ)

ناظم پانی پتی (پیدائش: 15 نومبر، 1920ء - وفات: 18 جون، 1998ء) پاکستان کے ممتاز فلمی نغمہ نگار اور کہانی کار تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

ناظم پانی پتی 15 نومبر، 1920ء کو لاہور، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد اسماعیل تھا۔ ناظم پانی پتی کے بڑے بھائی ولی صاحب اور بھاوج ممتاز شانتی فلمی دنیا سے وابستہ تھے۔ ناظم پانی پتی نے ابتدا میں لاہور کی فلمی صنعت کی متعدد فلموں کے لیے نغمہ نگاری کی جن میں خزانچی، پونجی، یملا جٹ، چوہدری، زمیندار اور شیریں ف رہاد کے نام شامل تھے۔ 1945ء سے 1955ء تک وہ بمبئی میں مقیم رہے جہاں انہوں نے 25 سے زائد فلموں کے نغمات لکھے۔ ان کی مشہور فلموں میں مجبور، بہار، شیش محل، لاڈلی، شادی، سہارا، مٹی، نوکر، پدمنی، بیوی، ہیر رانجھا اور جگ بیتی کے نام شامل ہیں۔ لتا منگیشکر کے اولین نغمات میں سے ایک نغمہ دل میرا توڑا مجھے کہیں کا نہ چھوڑا ناظم پانی پتی کا ہی لکھا ہوا تھا، یہ نغمہ ماسٹر غلام حیدر نے فلم مجبور کے لیے ریکارڈ کیا تھا۔ 1955ء میں وہ لاہور آ گئے جہاں انہوں نے متعدد فلموں کے لیے یادگار نغمات تحریر کیے۔ ان فلموں میں لخت جگر، شاہی فقیر، سہیلی، بیٹی اور انسانیت کے نام سرفہرست ہیں۔[1]

مشہور نغمات[ترمیم]

  • دل میرا توڑا، مجھے کہیں کا نہ چھوڑا تیرے پیار نے (مجبور)
  • چندا کی نگری سے آ جا ری نندیا (لخت جگر)
  • میری مٹی کی دنیا نرالی (شام سویرا)

وفات[ترمیم]

ناظم پانی پتی 18 جون، 1998ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ لاہور میں ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔[1][2]

خارجی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]