نوری المالکی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عزت مآب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سابقہ شرف دہندہ (P511) ویکی ڈیٹا پر
نوری المالکی
(عربی میں: نوري المالكي خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Nouri al-Maliki with Bush, June 2006, cropped.jpg 

مناصب
وزیر اعظم عراق   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
20 مئی 2006  – 8 ستمبر 2014 
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (عربی میں: نوري كامل المالكي‎ خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 20 جون 1950 (68 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iraq.svg عراق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت حزب الدعوۃ الاسلامیۃ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
تعداد اولاد 5   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد اولاد (P1971) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

نوری المالکی نام نوري كامل محمد حسن المالكي، تاریخ پیدائش 20 جون 1950، جواد المالكي اور أبو إسراء کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ یہ ایک عراقی سیاست دان ہیں، یہ 2006 سے 2014تک عراق کے وزیر اعظم رہے ہیں، پھر 2014 میں نائب صدر کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ یہ اسلامی دعوۃ پارٹی کے سیکریٹری جنرل ہیں۔ انکی پہلی کابینہ نے 20مئی2006 میں حلف اٹھایا تھا جبکہ دوسری کا بینہ نے 21دسمبر2010 میں حلف اٹھایا تھا المالکی نے اپنی سیاسی زندگی ایک شیعہ لیڈر کے طور پر شروع کی جس نے صدام کی حکومت کو 1970 میں چیلنج کر دیا تھا۔ ایک شیعہ لیڈر کی حثیت سے اس نے ایرانی اور شامیوں کی مدد سے صدام مخالف سرگرمیاں جاری رکھیں۔ یہاں تک کے اس کو حکومت حاصل ہو گئی۔ مگر وہ حکومٹ چلانے میں ناکام رہا، شمالی عراقی باغیوں کے ہاتھوں پے در پے شکست کھانے کے بعد وہ حکومت چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔ اس نے 14اگست2014 کو اپنے استعفیٰ کا اعلان کر دیا۔ 

نوری المالکی نام نوري كامل محمد حسن المالكي، تاریخ پیدائش 20 جون 1950، جواد المالكي اور أبو إسراء کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ یہ ایک عراقی سیاست دان ہیں، یہ 2006 سے 2014تک عراق کے وزیر اعظم رہے ہیں، پھر 2014 میں نائب صدر کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ یہ اسلامی دعوۃ پارٹی کے سیکریٹری جنرل ہیں۔ انکی پہلی کابینہ نے 20مئی2006 میں حلف اٹھایا تھا جبکہ دوسری کا بینہ نے 21دسمبر2010 میں حلف اٹھایا تھا المالکی نے اپنی سیاسی زندگی ایک شیعہ لیڈر کے طور پر شروع کی جس نے صدام کی حکومت کو 1970 میں چیلنج کر دیا تھا۔ ایک شیعہ لیڈر کی حثیت سے اس نے ایرانی اور شامیوں کی مدد سے صدام مخالف سرگرمیاں جاری رکھیں۔ یہاں تک کے اس کو حکومت حاصل ہو گئی۔ مگر وہ حکومٹ چلانے میں ناکام رہا، شمالی عراقی باغیوں کے ہاتھوں پے در پے شکست کھانے کے بعد وہ حکومت چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔ اس نے 14اگست2014 کو اپنے استعفیٰ کا اعلان کر دیا۔