چار ایشیائی شیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
چار ایشیائی شیر
Four Asian Tigers with flags.svg
چار ایشیائی شیر: ہانگ کانگ، سنگاپور، جنوبی کوریا اور تائیوان
چینی نام
روایتی چینی 亞洲四小龍
سادہ چینی 亚洲四小龙
لغوی معنی Asia's Four Little Dragons
کوریائی نام
ہانجا 아시아의 네 마리 龍
لغوی معنی Asia's four dragons
ملایو نام
ملایو Empat Harimau Asia
تامل نام
تامل நான்கு ஆசியப் புலிகள்

چار ایشیائی شیر (انگریزی: Four Asian Tigers) یا چای ایشیائی ڈریگن ایشیا کی چار بڑھتی ہوئی معیشتوں ہانگ کانگ، سنگاپور، جنوبی کوریا اور تائیوان کو کہا جاتا ہے جہاں صنعت نے 1960ء کی دہائی سے لے کر 1990ء کی دہائی تک برق رفتاوی سے ترقی کی۔ 21ویں کے آغاز تک یہ چاروں عالمی بینک اعلیٰ آمدنی معیشت میں جگہ بنا چکے تھے۔ سنگاپور اور تائیوان دنیا کے بڑے مالی ادارے بن چکے تھے۔تائیوان اور جنوبی کوریا نے برقیات اور آلات کی صنعت میں اپنا مقام بنایا۔ ان کی معشیتی ترقی کی وجہ سے دنیا کے کئی ترقی پزیر ممالک کے لیے راہ ہدایت ثابت ہوئیں جن میں جنوب مشرقی ایشیا کی ٹائیگر کلب معیشتیں بالخصوص قابل ذکر ہیں۔[1][2][3]

جائزہ[ترمیم]

Growth in per capita خام ملکی پیداوار in the tiger economies between 1960 and 2014[4]

ایشیا میں معاشی بحران، 1997ء سے قبل چار ایشیائی شیر معیشتیں ایشائی معجزہ کے طور پا جانی جاتی تھیں۔ انہوں نے درآمد اور ڈولپمنٹ پالیسیوں کی مدد سے ایسی ترقی کی کہ باقی ملکوں کو عجوبہ سا لگنے لگا تھا۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق ان پالیسیوں میں مکیرواکونومک مینیجمینٹ کا انضمام تھا۔[5] ان چاروں میں سب سے پہلے صنعت کاری کا تجربہ کانے والا ملک ہانگ کانگ تھا جہاں 1950ء کی دہائی میں کپڑے کی صنعت لگائی گئی، کپڑوں کے علاوہ الیکٹرانکس اور پلاسٹک کی جملہ مصنوعات تیار جانے لگیں اور عالمی بازار میں درآمد کی جانے لگیں۔[6]ملائیشیا سے آزادی ملنے کے بعد سنگاپور میں اکانومک ڈولپ مینٹ بورڈ بنایا گیا اور ملک کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے بہت سی اکانومک پالیسیوں کو نافذ کیا گیا۔[7] خارجی سرمایہ کاری کو لبھانے کے لیے ٹیکس میں کمی کر دی گئی۔ تائیوان اور جنوبی کوریا میں صنعت کاری کا آغاز 1960ء کی دہائی میں شروع ہوا اور حکومت سے خوب مدد ملی۔ حکومت نے صنعت کاری کی زبردست پالیسیاں بنائیں اور دونوں ملکوں نے ہانگ کانگ اور سنگاپور کی طرح درآمد پر خوب توجہ دی۔[8] چاروں ملک جاپان کی ترقی سے متاثر تھے اور جاپان کی طرح تعلیم اور بنیادی ڈھانچہ میں سرمایہ کر کے اس کی طرح ترقی کرنا چاہتے تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Can Africa really learn from Korea?"۔ Afrol News۔ مورخہ 16 دسمبر 2008 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2009۔
  2. "Korea role model for Latin America: Envoy"۔ Korean Culture and Information Service۔ مورخہ 22 اپریل 2009 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2009۔
  3. Leea، Jinyong; LaPlacab, Peter; Rassekh, Farhad (2 September 2008). "Korean economic growth and marketing practice progress: A role model for economic growth of developing countries". Industrial Marketing Management 37 (7): 753–757. doi:10.1016/j.indmarman.2008.09.002. 
  4. Data for "Real GDP at Constant National Prices" and "Population" from Economic Research at the Federal Reserve Bank of St. Louis۔
  5. John Page۔ "The East Asian Miracle: Four Lessons for Development Policy"۔ بہ Stanley Fischer؛ Julio J. Rotemberg۔ NBER Macroeconomics Annual 1994, Volume 9۔ Cambridge, Massachusetts: MIT Press۔ صفحات 219–269۔ آئی ایس بی این 978-0-262-06172-8۔ ڈی او آئی:10.1086/654251۔ مورخہ 2 فروری 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  6. "Economic History of Hong Kong" وثق شدہ بتاریخ 17 April 2015 در وے بیک مشین, Schenk, Catherine. EH.net 16 March 2008.
  7. "Singapore Infomap – Coming of Age"۔ Ministry of Information, Communications and the Arts۔ مورخہ 13 جولا‎ئی 2006 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جولا‎ئی 2006۔
  8. Michael H. Hunt۔ The World Transformed: 1945 to the Present۔ Bedford/St. Martin's۔ صفحہ 352۔ آئی ایس بی این 978-0-312-24583-2۔