چالیس چراغ عشق کے (ناول)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
چالیس چراغ عشق کے (ناول)
(انگریزی میں: The Forty Rules of Love ویکی ڈیٹا پر عنوان (P1476) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مصنف الیف شافاق  ویکی ڈیٹا پر مصنف (P50) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اصل زبان انگریزی  ویکی ڈیٹا پر کام یا نام کی زبان (P407) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ادبی صنف ناول  ویکی ڈیٹا پر طرز (P136) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ اشاعت 2009  ویکی ڈیٹا پر تاریخ اجرا (P577) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

چالیس چراغ عشق کے ترکی، انگریزی، اردو اور عربی میں شائع ایک مقبول ناول کا عنوان ہے۔ یہ ناول ترکی کی مشہور ناول نگار ایلف شفق کا سب سے مشہور ناول ہے۔ اس ناول کا پلاٹ جلال الدین رومی اور ان کے پیر و مرشد شمس تبریز کے ارد گرد گھومتا ہے۔ یہ ناول ساڑھے سات لاکھ کی تعداد میں شائع ہوا اور ترکی کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے۔[1]

کردار[ترمیم]

کہانی[ترمیم]

اس ناول کا موضوع مشرق و مغرب اور ماضی و حال کے مابین محبت اور روحانی و دنیاوی محبت ہے جس کو جلال الدین رومی اور ان کی پیر و مرشد شمس الدین تبریزی کے قصے کے ذریعہ بیان کیا گیا ہے۔ ایلف شفق کے اس مشہور ناول کا اردو ترجمہ ’’چالیس چراغ عشق کے ‘‘ نام سے ہما انور نے کیا ہے۔

ناول کی کہانی حقیقت اور تخیل کا امتزاج ہے اور معروف صوفی شاعر جلال الدین رومی اور درویش شمس تبریز کے گرد گھومتی ہے۔ ’’چالیس چراغ عشق کے ‘‘ دو مختلف زمانوں میں دو ایسی محبتوں کا بیان ہے، جن کی بنیاد تصوف تھی۔ ناول کا مرکزی کردار امریکی ریاست میساچوسٹس میں مقیم ایک گھریلو خاتون ایلا ہے، جس کی زندگی کی ڈگر ایک صوفی درویش سے رابطے پر بدل جاتی ہے۔ ایلف شفق نے انتہا پسندی اور عدم برداشت سے بھری اس دنیا میں مولانا روم اور شمس تبریز کی صورت محبت کی آفاقیت اور انسانیت سے محبت کا فلسفہ بیان کیا ہے۔ اپنے روحانی استاد اور رفیق کی یاد میں، مولانا روم نے اپنے شہکار شعری دیوان کو’’ دیوانِ شمس تبریز‘‘ کا نام دیا۔ ان کی لازوال صوفی شاعری، مثنوی مولوی معنوی کو ’’ہست قرآں درزبانِ پہلوی‘‘ کہا جاتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]