تھیلیسیمیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

تھیلیسیمیا (Thalassemia) ایک موروثی بیماری ہے یعنی یہ والدین کی جینیاتی خرابی کے باعث اولاد کو منتقل ہوتی ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے مریض کے جسم میں خون کم بنتا ہے۔

جینیاتی اعتبار سےتھیلیسیمیا کی دو بڑی قسمیں ہیں جنہیں الفا تھیلیسیمیا اور بی ٹا تھیلیسیمیا کہتے ہیں۔ نارمل انسانوں کے خون کے ہیموگلوبن میں دو الفا alpha اور دو بی ٹا beta زنجیریں chains ہوتی ہیں۔ گلوبن کی الفا زنجیر بنانے کے ذمہ دار دونوں جین (gene) کروموزوم نمبر 16 پر ہوتے ہیں جبکہ بی ٹا زنجیر بنانے کا ذمہ دار واحد جین HBB کروموزوم نمبر 11 پر ہوتا ہے۔

الفا تھیلیسیمیا کے مریضوں میں ہیموگلوبن کی الفا زنجیر alpha chain کم بنتی ہے جبکہ بی ٹا تھیلیسیمیا کے مریضوں میں ہیموگلوبن کی بی ٹا زنجیرbeta chain کم بنتی ہے۔ اس طرح خون کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔

مرض کی شدت کے اعتبار سے تھیلیسیمیا کی تین قسمیں ہیں۔ شدید ترین قسم تھیلیسیمیا میجر کہلاتی ہے اور سب سے کم شدت والی قسم تھیلیسیمیا مائینر کہلاتی ہے۔ درمیانی شدت والی قسم تھیلیسیمیا انٹرمیڈیا کہلاتی ہے۔

ایک طرح کا تھیلیسیمیا کبھی بھی دوسری طرح کے تھیلیسیمیا میں تبدیل نہیں ہو سکتا یعنی الفا تھیلیسیمیا کبھی بھی بی ٹا تھیلیسیمیا میں تبدیل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی بی ٹا کبھی الفا میں۔ اسی طرح نہ تھیلیسیمیا مائینر کبھی تھیلیسیمیا میجر بن سکتا ہے اور نہ ہی میجر کبھی مائینر بن سکتا ہے۔ اسی طرح انکے مرض کی شدت میں اضافہ یا کمی نہیں ہو سکتی۔

ہر بچے میں 23 کروموزوم باپ سے آتے ہیں اور 23 ماں سے۔ اگر باپ ماں دونوں تھیلیسیمیا مائینر کے حامل ہوں تو انکے 25 فیصد بچے تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہو سکتے ہیں

تھیلیسیمیا مائینر[ترمیم]

تھیلیسیمیا مائینر کی وجہ سے مریض کو کوئ تکلیف یا شکایت نہیں ہوتی نہ اسکی زندگی پر کوئ خاص اثر پڑتا ہے۔علامات و شکایات نہ ہونے کی وجہ سے ایسے لوگوں کی تشخیص صرف لیبارٹری کے ٹیسٹ سے ہی ہو سکتی ہے۔ ایسے لوگ نارمل زندگی گزارتے ہیں مگر یہ لوگ تھیلیسیمیا اپنے بچوں کو منتقل کر سکتے ہیں۔ تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا بیشتر افراد اپنے جین کے نقص سے قطعاً لاعلم ہوتے ہیں اور جسمانی ، ذہنی اور جنسی لحاظ سے عام لوگوں کی طرح ہوتے ہیں اور نارمل انسانوں جتنی ہی عمر پاتے ہیں۔

تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا خواتین جب حاملہ ہوتی ہیں تو ان میں خون کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔

تھیلیسیمیا میجر[ترمیم]

کسی کو تھیلیسیمیا میجر صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب اسکے دونوں والدین کسی نہ کسی طرح کے تھیلیسیمیا کے حامل ہوں۔

تھیلیسیمیا میجر کے مریضوں میں خون اتنا کم بنتا ہے کہ انہیں ہر دو سے چار ہفتے بعد خون کی بوتل لگانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایسے بچے پیدائش کے چند مہینوں بعد ہی خون کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں اور انکی بقیہ زندگی بلڈ بینک کی محتاج ہوتی ہے۔ کمزور اور بیمار چہرے والے یہ بچےکھیل کود اور تعلیم دونوں میدانوں میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور معاشرے میں صحیح مقام نہ پانے کی وجہ سے خود اعتمادی سے محروم ہوتے ہیں۔ بار بار خون لگانے کے اخراجات اور ہسپتالوں کے چکر والدین کو معاشی طور پر انتہائ خستہ کر دیتے ہیں جس کے بعد نامناسب علاج کی وجہ سے ان بچوں کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں بہترین علاج کے باوجود یہ مریض 30 سال سے 40 سال تک ہی زندہ رہ پاتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے مریضوں کی عمر لگ بھگ دس سال ہوتی ہے۔ اگر ایسے بالغ مریض کسی نارمل انسان سے شادی کر لیں تو انکے سارے بچے لازماً تھیلیسیمیا مائینر کے حامل ہوتے ہیں۔

وراثت مرض[ترمیم]

  • اگر والدین کسی بھی قسم کے تھیلیسیمیا کے حامل نہ ہوں تو سارے بچے بھی نارمل ہوتے ہیں۔
  • اگر والدین میں سے کوئ بھی ایک تھیلیسیمیا مائینر کا شکار ہو تو انکے 50 فیصد بچے تو نارمل ہوں گے جبکہ بقیہ 50 فیصد بچے تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا ہوں گے۔ یعنی یہ ممکن ہے کہ ایسے کسی جوڑے کےسارے بچوں کو تھیلیسیمیا مائینر ہو یا چند بچوں کو ہو یا کسی بھی بچے کو نہ ہو۔
  • اگر دونوں والدین تھیلیسیمیا مائینر کا شکار ہوں تو 25 فیصد بچے نارمل، 50 فیصد بچے تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا جبکہ 25 فیصد بچے تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا ہوں گے۔
  • اگر والدین میں سے کوئ بھی ایک تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہو تو انکے سارے کے سارے بچے تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا ہوں گے۔
  • اگر والدین میں سے کوئ بھی ایک تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہو اور دوسرا تھیلیسیمیا مائینر کا شکار ہو تو انکے 50 فیصد بچے تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا ہوں گےجبکہ بقیہ 50 فیصدبچے تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا ہوں گے۔
  • اگر دونوں والدین تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہوں تو سارے کے سارے بچے بھی تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا ہوں گے۔

پاکستان میں تھیلیسیمیا مائینر کی شرح[ترمیم]

حکومتی سطح پر پاکستان میں اسکے لیئے کوئ سروے نہیں کیا گیا ہے لیکن بلڈ بینک کے اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں بی ٹا تھیلیسیمیا پایا جاتا ہے اور بی ٹا تھیلیسیمیا مائینر کی شرح 6 فیصد ہے یعنی سن 2000 میں ایسے افراد کی تعداد 80 لاکھ تھی۔ جن خاندانوں میں یہ مرض پایا جاتا ہے ان میں لگ بھگ 15 فیصد افراد تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا ہیں۔

کراچی میں قائم تھیلیسیمیا کے علاج اور روک تھام سے متعلق ادارے عمیر ثنا فاﺅنڈیشن کے تیار کردہ تحریری مواد کے مطابق اس وقت پاکستان میں تھیلیسیمیا میجر کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے اور ہر سال ان مریضوں میں 6 ہزار کا اضافہ ہورہا ہے۔

احتیاطی تدابیر[ترمیم]

  • تھیلیسیمیا مائینر یا میجر کے افراد کی آپس میں شادی نہیں ہونی چاہیئے۔ جن خاندانوں میں یہ مرض موجود ہے انکے افراد کو اپنے خاندان میں شادی نہیں کرنی چاہیئے۔
  • اگر ایسے افراد شادی کر چکے ہوں تو وہ بچے پیدا کرنے سے پہلے ماہرین سے ضرور مشورہ کریں۔
  • اگر ایسے افراد شادی کر چکے ہوں اور حمل ٹھہر چکا ہو تو حمل کے دسویں ہفتے میں بچے کا تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ کروایں۔

تشخیص[ترمیم]

خون کا ایک ٹیسٹ جسے ہیموگلوبن الیکٹروفوریسز (Hemoglobin electrophoresis) کہتے ہیں اس بیماری کی تشخیص کر سکتا ہے۔ تھیلیسیمیا کی تشخیص کے لیئے یہ ٹیسٹ زندگی میں ایک ہی دفعہ کیا جاتا ہے اور چھ ماہ کی عمر کے بعد کیا جاتا ہے۔ اگست 2011 میں کراچی میں آغا خان ہسپتال کی لباریٹریاں یہ ٹسٹ 1420 روپیہ میں کرتی تھیں۔

چھ ماہ سے زیادہ عمر کے نارمل افراد میں ہیموگلوبن کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔ ہیموگلوبن A سب سے زیادہ ہوتا ہے یعنی 96%۔ ہیموگلوبن A2 صرف 3% ہوتا ہے جبکہ ہیموگلوبن F محض ایک فیصد ہوتا ہے۔ ہیموگلوبن A2 اور ہیموگلوبن F میں beta chain نہیں ہوتی. ہیموگلوبن A2 دو الفا اور دو ڈیلٹا زنجیروں سے ملکر بنتا ہے جبکہ ہیموگلوبن F دو الفا اور دو گاما زنجیروں پر مشتمل ہوتا ہے اور اسے α2γ2 سے ظاہر کرتے ہیں۔ پیدائش سے پہلے بچے کے خون میں 95% تک ہیموگلوبنF ہوتا ہے مگر 6 مہینے کی عمر تک اسکی مقدار کم ہوتے ہوتے ایک فیصد تک رہ جاتی ہے اور اسکی جگہ ہیموگلوبن A لے لیتا ہے۔ ( A برائے adult اور F برائے foetal۔)

تھیلیسیمیا مائینر کے حامل افراد میں ہیموگلوبن A2 کی مقدار بڑھ کر 3.5-7% ہو جاتی ہے۔

تھیلیسیمیا مائینر کے حامل افراد کے خون کے خلیئے یعنی RBC جسامت میں چھوٹے ہوتے ہیں۔ اس حالت کو microcytosis کہتے ہیں۔
تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا بچوں کی تلی (spleen) بہت بڑی ہوتی ہے جسکی وجہ سے انکا پیٹ پھولا ہوا ہوتا ہے۔

علاج[ترمیم]

تھیلیسیمیا ایک جینیاتی بیماری ہے اور یہ ساری زندگی ٹھیک نہیں ہوتی۔
اگر خون کی کمی ہو تو تھیلیسیمیا مائینر کے حامل افراد کو روزانہ ایک ملی گرام فولک ایسڈ (Folic acid) کی گولیاں استعمال کرتے رہنا چاہیئے تاکہ ان میں خون کی زیادہ کمی نہ ہونے پائے۔ خواتین میں حمل کے دوران اسکی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔

بی ٹا تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا افراد کو ہر دو سے چار ہفتوں کے بعد خون چڑھانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایک بوتل خون میں تقریباً 250 ملی گرام لوہا (Iron) موجود ہوتا ہے جسے انسانی جسم پوری طرح خارج نہیں کر سکتا۔ بار بار خون کی بوتل چڑھانے سے جسم میں Iron کی مقدار نقصان دہ حد تک بڑھ جاتی ہے اور اسطرح Hemosiderosis کی بیماری ہو جاتی ہے جو دل اور جگر کو بہت کمزور کر دیتی ہے۔ اس لیئے بار بار خون لگوانے والے مریضوں کو iron chelating دوائیں استعمال کرنی پڑتی ہیں جو جسم سے زائید iron خارج کر دیتی ہیں۔ ایسی ایک دوا کا نام desferrioxamine ہے جو ڈرپ میں ڈال کر لگائ جاتی ہے۔ اسکی قیمت تقریباً 5000 روپیہ ماہانہ پڑتی ہے۔ یہ ہفتے میں پانچ دن لگانی پڑتی ہے اور ہر ڈرپ آٹھ سے دس گھنٹے میں ختم ہوتی ہے۔[1]


جسم سے آئرن کم کرنے کے لیئے کھانے کی گولیاں بھی دستیاب ہیں مگر وہ بہت مہنگی پڑتی ہیں مثلاً deferasirox) Exjade) اور (Ferriprox (deferiprone


اگر تلی (spleen) بہت بڑی ہو چکی ہو تو جراحی کے ذریعے اسے کاٹ کر نکال دیتے ہیں۔

تھلیسیمیا میجر کا علاج ہڈی کے گودے کی تبدیلی bone marrow transplant سے بھی ہو سکتا ہے جس پر 15 سے 20 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔

الفا تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا بچے کم عمری میں ہی مر جاتے ہیں۔

روک تھام[ترمیم]

قبرص (Cyprus) میں پیدا ہونے والے ہر 158 بچوں میں ایک تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہوتا تھا لیکن شادی سے پہلے اسکریننگ ٹیسٹ لازم قرار دیئے جانے کے بعد اب یہ تعداد تقریباً صفر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ایران اور ترکی میں بھی شادی سے پہلے اسکریننگ کرانا لازمی ہے۔

تھیلیسیمیا اور ملیریا[ترمیم]

نارمل انسانوں کی بہ نسبت تھیلیسیمیا مائینر کے حامل افراد ملیریا کا کم شکار ہوتے ہیں۔ تھیلیسیمیا ان علاقوں میں زیادہ پایا جاتا ہے جہاں ملیریا زیادہ پایا جاتا ہے۔


مزید دیکھیئے[ترمیم]


بیرونی ربط[ترمیم]