جنوبی لبنان تنازعہ 1978ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

-

جنوبی لبنان تنازعہ 1978ء
بسلسلۂ: عرب اسرائیل جنگیں
Litani1978.jpg
اسرائیلی ٹینک جنوبی لبنان میں داخل ہوتے ہوئے
تاریخ 14 تا 21 مارچ 1978ء
مقام جنوبی لبنان
نتیجہ جنوبی لبنان سے پی ایل او کا اخراج
متحارب
Flag of Israel.svg اسرائیل
جیش لبنان جنوبی
Flag of Palestine.svg پی ایل او
قوت
25،000 نامعلوم
نقصانات
20 نامعلوم


1978ء میں اسرائیلی افواج کی جانب سے دریائے لیطانی عبور کرکے لبنان پر کی جانے والی جارحیت کو "جنوبی لبنان تنازعہ 1978ء" کا نام دیا گیا ہے۔ اسرائیل نے اسے آپریشن لیطانی کا نام دیا۔ صیہونی افواج نے اس میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے منتظمہ تحریر الفلسطینیہ (پی ایل او) کے دستوں کو دریا کے شمالی جانب دھکیل دیا۔ تاہم لبنانی حکومت کی جانب سے احتجاج پر "اقوام متحدہ کی عبوری افواج برائے لبنان (UNFIL)" تخلیق کی گئیں اور اسرائیل عارضی طور پر علاقے سے دستبردار ہوگیا۔

اسرائیلی مقاصد[ترمیم]

عرب اسرائیل تنازع
عرب اسرائیل جنگ 1948سوئز بحران6 روزہ جنگجنگ استنزافجنگ یوم کپورجنوبی لبنان تنازعہ 1978جنگ لبنان 1982جنوبی لبنان تنازعہ 1982-2000انتفاضہ اولجنگ خلیجالاقصی انتفاضہ2006 اسرائیل لبنان تنازعہ

اسرائیل کی جانب سے اس کا مقصد پی ایل او اور دیگر فلسطینی گروپوں کی مزاحمت کو توڑنا تھا جو شمالی اسرائیل میں اپنے حملوں کے لئے جنوبی لبنان میں زیر تربیت تھے۔

آپریشن سے قبل اہم ترین واقعات[ترمیم]

  • 26 دسمبر 1968ء کو بیروت سے ایتھنز جانے والی اسرائیلی قومی ایئر لائن پر حملہ تھا جس میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ اسرائیل نے اس کے جواب میں 28 دسمبر کو بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بمباری کرکے 13 مسافر جہازوں کو تباہ کردیا۔
  • 10 اپریل 1973ء کو اسرائیلی کمانڈوز (جن میں بعد ازاں وزیراعظم بننے والے ایہود بارک بھی شامل تھے جنہوں نے آپریشن میں عورت کا بہروپ بدل رکھا تھا) نے بیروت میں پی ایل او کے تین رہنماؤں یوسف النجار، کمال ادوان اور کمال ناصرین کو قتل کردیا۔
  • اس سلسلے کا آخری اور اہم ترین واقعہ 11 مارچ 1978ء کو پیش آیا جب الفتح کے 11 ارکان جن کی قیادت ایک 18 سالہ لڑکی دلال مغربی کررہی تھیں لبنان سے روانہ ہوئے اور اسرائیلی قصبے حیفہ کے قریب تل ابیب جانے والی ایک بس کو اغواء کرلیا۔ ایک طویل تعاقب کے بعد ہونے والے مقابلے میں 37 اسرائیلی مارے گئے اور 76 زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے صرف تین دن بعد اسرائیل نے لبنان پر چڑھائی کردی۔

واقعات[ترمیم]

اس آپریشن میں اسرائیل کے 25 ہزار فوجیوں نے حصہ لیا جنہوں نے 14 مارچ 1978ء کو دریائے لیطانی کا جنوبی علاقہ قبضے میں لے لیا۔

اس جارحانہ آپریشن میں دو لاکھ 85 ہزار افراد بے گھر ہوئے اور 1100 سے 2000 لبنانی شہری مارے گئے۔ جبکہ اسرائیل کے 20 فوجی ہلاک ہوئے۔

اسرائیلی اقدامات پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد 425 اور 426 منظور کرکے اسرائیل سے لبنان سے فوجیں نکالنے کا مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ کی عبوری افواج برائے لبنان UNFIL کو اس پر عملدرآمد،امن کے قیام اور لبنان کی سالمیت کے لئے تخلیق کیا گی۔ اقوام متحدہ کی افواج 23 مارچ 1978ء کو لبنان میں داخل ہوئیں۔ اسرائیلی افواج نے بعد ازاں انخلاء شروع کیا۔