عرب اسرائیل جنگ 1948

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عرب اسرائیل جنگ 1948ء
بسلسلۂ: عرب اسرائیل جنگیں
1948 Arab Israeli War - May 15-June 10.svg
حملے 15 مئی تا 10 جون 1948ء
تاریخ نومبر 1947ء تا مارچ 1949ء
مقام مشرق وسطی
نتیجہ عارضی صلح کا معاہدہ 1949ء
متحارب
Flag of Egypt (1922–1958).svg مصر
شام
Flag of Jordan.svg اردن
Flag of Lebanon.svg لبنان
Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب
Flag of Iraq.svg عراق
جیش الجہاد المقدس
عرب لبریشن آرمی
Flag of Israel.svg اسرائیل
قائدین
گلب پاشا
عبدالقادر الحسینی
حسن سلامہ
فوزی القاؤقجی
یاکوو ڈوری
یگائل یاڈن
قوت
مصر:10 تا 20 ہزار
عراق: 5 تا 81 ہزار
شام: ڈھائی تا 5 ہزار
اردن:6 تا 12 ہزار
لبنان: ایک تا دو ہزار
سعودی عرب:800 سے 1200
عرب لبریشن آرمی:3 ہزار 500 تا 6 ہزار
ابتدائی طور پر 29 ہزار 677، مارچ 1949ء تک 115،000
نقصانات
نامعلوم (5 سے 15 ہزار کے درمیان) 6 ہزار 373 ہلاکتیں (4 ہزار فوجی اور 2 ہزار 400 شہری)

1948ء میں ریاست اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی عرب اور اسرائیلی میں پہلی بار ایک دوسرے سے ٹکراۓ اور اس ٹکراؤ کو عرب اسرائیل جنگ 1948ء کا نام دیا گیا جبکہ اسرائیلی اسے "جنگ آزادی" کہتے ہیں۔ اسرائیل نے فلسطین پر قابض ہوتے ہی علاقے کی عرب اقلیت پر ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے جس کی وجہ سے عربوں کو مجبوراً اپنا وطن چھوڑنا پڑا۔ بے خانماں عربوں کی تعداد جلد ہی 10 لاکھ تک پہنچ گئی۔ عرب پوری طرح مسلح یہودی دستوں کا مقابلہ نہ کرسکے اور 15 مئی 1948ء تک اندرون فلسطین عربوں کی مزاحمت ختم ہوگئی۔ 14 اور 15 مئی کی درمیانی شب 12 بجے یہودیوں نے تل ابیب میں ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلان کردیا۔

عرب اسرائیل تنازع
عرب اسرائیل جنگ 1948سوئز بحران6 روزہ جنگجنگ استنزافجنگ یوم کپورجنوبی لبنان تنازعہ 1978جنگ لبنان 1982جنوبی لبنان تنازعہ 1982-2000انتفاضہ اولجنگ خلیجالاقصی انتفاضہ2006 اسرائیل لبنان تنازعہ

عربوں نے اس ریاست کو تسلیم کرنے انکار سے کردیا اور مصر، شام، اردن، لبنان اور عراق کی افواج نے اسرائیل پر حملہ کردیا۔ یہ جنگ 1949ء کے امن معاہدوں کے تحت ختم ہوگئی۔

پس منظر[ترمیم]

پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد جمعیت الاقوام نے موجودہ ترکی کے جنوب کے اضلاع فرانس اور برطانیہ کے قبضے میں دے دیے۔ دونوں قوتوں نے ان علاقوں کو سرحدوں میں تقسیم کرتے ہوئے عراق، شام اور لبنان تشکیل دیے جو آج بھی قائم ہیں۔ چوتھا علاقہ فلسطین کا تھا اور دریائے اردن کے ایک جانب فلسطین اور دوسری جانب اردن تھا۔

مصر میں برطانیہ کے ہائی کمشنر ہنری میک موہن نے 1916ء میں وعدہ کیا کہ عربوں کے وہ علاقے جو سلطنت عثمانیہ میں شامل تھے آزاد کردیئے جائیں گے مگر برطانیہ نے عیّاری برتتے ہوۓ ایک خفیہ معاہدہ "سائیکس پِیکاٹ" کیا جس کی رو سے برطانیہ اور فرانس نے عربوں کے علاقہ کو اپنے مشترکہ اِنتظام کے تحت تقسیم کر لیا

واقعات جنگ[ترمیم]

چنانچہ مصر سے بدعہدی کرتے ہوۓ انگریزوں نے پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر 1918ء میں فلسطین پر قبضہ کر لیا ۔ جمعیت الاقوام (لیگ آف نیشنز) نے 25 اپریل 1920 کو فلسطین پر انگریزوں کے قبضہ کو جائز قرار دے دیا ۔ برطانیہ نے مزید عیّاری یہ کی کہ 1917ء میں برطانیہ کے وزیر خارجہ آرتھر بیلفور نے برطانیہ کی طرف سے لارڈ راتھ شِلڈ نامی صیہونی لیڈر کو ایک خط لکھا جس میں فلسطین میں یہودی ریاست بنانے کی یقین دہانی کرائی۔ اس طرح 14 مئی کو ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلان کردیا۔ کیونکہ عربوں کی مزاحمت ختم ہوچکی تھی اس لیے 15 مئی کی صبح مصر، اردن اور عراق کی فوجیں عربوں کے مفاد کے تحفظ میں فلسطین میں داخل ہونا شروع ہوگئیں۔ بعد میں سعودی عرب ایک دستہ بھی مصری فوج سے آن ملا لیکن عربوں کی اس متحدہ فوج کو بھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ شام اور لبنان جو ایک سال قبل آزاد ہوئے تھے ان کے حملے بھی قطعی بے اثر رہے۔ مصری فوج غزہ شہر اور اس سے متصل مختصر علاقے کے علاوہ اور کسی علاقے پر قبضہ نہیں کرسکی۔ تاہم اردن کے عرب لیجن نے وسطی فلسطین کے بیشتر حصے اور بیت المقدس کے قدیم شہر کو یہودیوں کے قبضے میں جانے سے بچالیا۔

اس دوران سلامتی کونسل کے حکم پر 11 جون 1948ء کو طرفین نے جنگ بندی کردی۔ اس کے بعد جنگ شروع اور بند ہوتی رہی یہاں تک کہ 1949ء میں عرب ملکوں کو اسرائیل سے علیحدہ علیحدہ جنگ بندی کے معاہدے کرنا پڑے اور اسرائیل کے وجود کو عملا تسلیم کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ 11 مئی 1949ء کو اسرائیل اقوام متحدہ کا رکن بنالیا گیا۔

اس جنگ میں اسرائیل کے 6 ہزار 373 باشندے مارے گئے جن میں 4 ہزار فوجی اور باقی شہری تھے۔ عربوں کے جانی نقصان کے حتمی اعداد و شمار آج تک معلوم نہیں ہوسکے تاہم یہ تعداد 5 سے 15 ہزار کے درمیان ہے۔

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔