جونس سالک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جونس سالک
Dr Jonas Edward Salk (cropped).jpg
Jonas Salk at Copenhagen Airport (May 1959)
پیدائش جونس ایڈورڈ سالک
28 اکتوبر 1914 (1914-10-28)
New York, New York
وفات جون 23, 1995 (عمر 80 سال)
La Jolla, California,
United States
سکونت New York, New York
Pittsburgh, Pennsylvania
La Jolla, California
قومیت American
میدان طبّی تحقیق,
virology and epidemiology
ادارے University of Pittsburgh
Salk Institute
University of Michigan
مادر علمی City College of New York
New York University
University of Michigan
علمائی مشیر Thomas Francis, Jr.
وجہِ معروفیت برائے First polio vaccine
اہم انعامات Lasker Award (1956)
شریک حیات Donna Lindsay (شادی 1939–1968) «start: (1939)–end+1: (1969)»"Marriage: Donna Lindsay to جونس سالک" Location:سانچہ:Placename/adr (linkback://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D9%86%D8%B3_%D8%B3%D8%A7%D9%84%DA%A9)
Françoise Gilot (شادی 1970–1995) «start: (1970)–end+1: (1996)»"Marriage: Françoise Gilot to جونس سالک" Location:سانچہ:Placename/adr (linkback://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D9%86%D8%B3_%D8%B3%D8%A7%D9%84%DA%A9)
دستخط

جونس ایڈورڈ سالک (28 اکتوبر 1914 - 23 جون 1995 لا ہویا میں) (انگریزی: Jonas Edward Salk) ایک امریکی طبی محقق اور وائرالوجسٹ تھا۔ اس نے پولیو کے خلاف پہلی کامیاب ویکسین دریافت کر کے ٹیکہ بنایا۔ اس کی پیدائش نیویارک شہر میں یہودی والدین کے ہاں ہوئی۔ اگرچہ اس کے والدین کی رسمی تعلیم واجبی سی تھی لیکن انہوں نے اپنے بچوں کو کامیاب بنانے کی ہرممکن کوشش کی۔ نیویارک یونیورسٹی سکول آف میڈیسن میں تعلیم کے دوران سالک اپنے ہم عصروں سے الگ روش پر چل نکلا کیونکہ اس نے اپنی تعلیم کو کمائی کا ذریعہ بنانے کی بجائے تحقیق کا شعبہ اپنایا۔

پولیو سے متاثرہ بچوں کو مشینی طریقے سے مصنوعی سانسیں دی جا رہی ہیں۔1952

1957 میں سالک کی ویکسین متعارف کرائے جانے سے قبل پولیو اس وقت کے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی عوامی صحت کے لئے سب سے بڑا خطرہ تھا۔ ہر سال پولیو کی وبائیں زیادہ سے زیادہ جان لیوا ہوتی جا رہی تھیں۔ امریکی تاریخ میں 1952 کی وباء سب سے تباہ کن ثابت ہوئی۔ اس سال تقریباً 58،000 مریضوں میں پولیو کا مرض پایا گیا جن میں سے 3145 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 21،269 افراد مختلف نوعیت کی معذوریوں کا شکار ہوئے، جن کی اکثریت بچوں کی تھی۔ عوام میں اس کی دہشت ایسی پھیلی جیسے یہ طاعون کا مرض ہو۔ 2009 کی ایک ڈاکومنٹری کے مطابق امریکیوں کا سب سے بڑا خوف ایٹم بم جبکہ پولیو دوسرے نمبر پر تھا۔ نتیجتاً سائنس دان اس سے بچاؤ یا علاج کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔ امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ پولیو کے سب سے مشہور شکار تھے۔ انہوں نے "مارچ آف ڈائمز" نامی ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس نے پولیو کے خلاف ویکسین کی تیاری کے لئے امداد مہیا کی۔

1947 میں سالک نے یونیورسٹی آف پٹز برگ کے سکول آف میڈیسن میں ملازمت اختیار کی۔ 1948 میں اس نے ایک منصوبے کی نگرانی شروع کی جس کے لئے امداد ایک قومی ادارے نے مہیا کی تھی۔ اس منصوبے میں پولیو وائرس کی مختلف اقسام کا پتہ لگانا تھا۔ اس منصوبے سے دوہرا فائدہ اٹھانے کے لئے سالک نے پولیو کی ویکسین بنانے کا بھی سوچا۔ قابل ترین محققین کی جماعت بنا کر سالک نے سات سال تک تحقیق جاری رکھی۔ اس پروگرام کے آخری مرحلے کو امریکی تاریخ کا سب سے بڑا امتحان کہا جاتا ہے جس میں لگ بھگ 20،000 ڈاکٹروں اور صحتِ عامہ کے افسران، 64،000 سکول اور 2،20،000 رضاکار شامل ہوئے۔ اس امتحان میں کل 18،00،000 بچوں نے حصہ لیا۔ 12 اپریل 1955 کو جب اس ویکسین کی کامیابی کی خبر شائع ہوئی تو سالک ایک قومی ہیرو بن کر سامنے آیا اور پورے ملک میں جشن منائے گئے۔ سالک کا منصوبہ پولیو کے خلاف قابلِ عمل اور تیز ویکسین کی تیاری تھی جس سے اس نے کوئی مالی فائدہ نہیں اٹھایا۔ جب سالک سے اس کے حقوق محفوظ کرنے کی بات ہوئی تو سالک کا جواب تھا کہ "اس کا کوئی پیٹنٹ نہیں۔ کیا آپ سورج کا پیٹنٹ کرا سکتے ہیں؟" اندازہ ہے کہ اگر اس ویکسین کو پیٹنٹ کرایا جاتا تو اس سے لگ بھگ 7 ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی۔

1960 میں سالک نے لا جولا، کیلیفورنیا میں سالک انسٹی ٹیوٹ فار بائیولوجیکل سٹڈیز کی بنیاد رکھی جو آج طبی اور سائنسی تحقیق کا مرکز ہے۔ اس نے اپنی تحقیق جاری رکھی اور کتابیں بھی لکھیں۔ آخری سالوں میں سالک نے ایڈز کے خلاف ویکسین کی تیاری کی کوششیں جاری رکھیں۔ اس کے ذاتی مسودات یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی سان ڈیئگو لائبریری میں محفوظ ہیں۔

ابتدائی ایام[ترمیم]

جونس سالک نیویارک شہر میں 28 اکتوبر 1914 کو پیدا ہوا۔ والدین کے نام ڈینیئل اور ڈورا سالک تھے جو اشکینازی یہودی تارکین وطن تھے اور ان کی رسمی تعلیم معمولی تھی۔ مؤرخ ڈیوڈ اوشینسکی کے مطابق سالک نیویارک کے یہودی تارکین وطن ماحول میں پروان چڑھا۔ سالک کے دو چھوٹے بھائی بھی تھے جن کے نام ہرمین اور لی تھے۔ خاندان ایسٹ ہارلم سے دی برانکس منتقل ہوا اور کچھ عرصہ کوئینز میں بھی گذارا

تعلیم[ترمیم]

جب سالک کی عمر تیرہ برس ہوئی تو اسے ٹاؤنسینڈ ہیرس ہائی سکول میں داخل کرایا گیا جو ذہین بچوں کے لئے مختص تھا۔ یہ سکول نیویارک کے سٹی کالج کے بانی کے نام پر رکھا گیا تھا اور تارکین کے وطن کے ذہین مگر غریب بچوں کو بہترین تعلیم دینے کے لئے بنایا گیا تھا۔ ہائی سکول میں سالک کو کمال پرست مانا جاتا تھا۔ اس کا شمار ان طلباء میں ہوتا تھا جو ہاتھ آئی ہر تحریر پڑھ ڈالتے تھے۔ اس سکول میں طلباء کو چار سال کا نصاب تین سال میں پورا کرنا ہوتا تھا۔ نتیجتاً زیادہ تر طلباء یا تو خارج ہو جاتے تھے یا نکال دیئے جاتے تھے۔ تاہم کامیاب ہونے والے زیادہ تر طلباء اپنے نمبروں کے بل بوتے پر سٹی کالج آف نیویارک میں داخل ہونے کے قابل ہوتے تھے جو کہ انتہائی سخت مقابلے والا کالج شمار ہوتا تھا۔

کالج[ترمیم]

سالک نے سٹی کالج آف نیویارک میں داخلہ لیا اور بیچلر آف سائنس کی ڈگری کیمسٹری میں 1934 میں مکمل کی۔ ایک مؤرخ کے مطابق سٹی کالج تارکین وطن بچوں کے لئے بہترین جگہ تھی۔ داخلہ بہت مشکل سہی لیکن تعلیم مفت تھی۔ مقابلہ بہت سخت لیکن اصول سب کے لئے یکساں تھے۔ کسی کو اس لئے فائدہ نہیں پہنچتا تھا کہ اس کی پیدائش کہاں اور کیسے ہوئی ہے۔

اپنی والدہ کے اصرار پر جونس نے وکالت کی بجائے طب کی تعلیم کے لئے درکار نصاب پڑھنا شروع کر دیا۔ سالک سٹی کالج میں 15 سال کی عمر میں داخل ہوا۔

بچپن میں سالک کو طب یا سائنس سے کوئی خاص رغبت نہیں تھی۔ ایک انٹرویو میں اس کا کہنا تھا کہ "بچپن میں مجھے سائنس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میری دلچسپی کا محور انسان، اشیاء اور ان سے متعلق پہلو تھے۔"

میڈیکل سکول[ترمیم]

سٹی کالج کے بعد سالک نے نیویارک یونیورسٹی میں طب کی تعلیم کے لئے داخلہ لیا۔ فیس نسبتاً کم تھی اور تعلیم بہتر تھی جبکہ یہودیوں کے خلاف نفرت بھی نہیں تھی جبکہ آس پاس کے دیگر طبی تعلیمی اداروں میں یہودیوں کے لئے مخصوص کوٹے ہوتے تھے۔ تعلیم کے دوران سالک نے لیبارٹری ٹیکنیشن اور کیمپ کاؤنسلر کے طور پر بھی کام کیا۔

طب کی تعلیم کے دوران سالک نے اپنی الگ شناخت بنائی۔ اس نے طب کو بطور پیشہ اختیار کرنے کی بجائے تحقیق پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا۔ تحقیق کی وجہ سے اس نے ایک سال تعلیم سے رخصت لے کر بائیوکیمسٹری پڑھی۔ بعد میں تحقیق کا مرکز بیکٹریالوجی بن گئی۔ سالک کے بقول وہ اپنے کام سے اکا دکا مریضوں کی نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کرنا چاہتا تھا۔ لیبارٹری کے کام سے ہی سالک کو نئی جہت ملی۔

پوسٹ گریجویٹ ریسرچ[ترمیم]

1941 میں وائرلوجی میں پوسٹ گریجویٹ تحقیق کے دوران سالک نے دو ماہ یونیورسٹی آف مشی گن میں ڈاکٹر تھامس فرانسز کے ساتھ گذارے۔ فرانسز نے راکفیلر کارپوریشن کے ساتھ کام کر کے انفلوئنزا کی ب قسم دریافت کی اور حال ہی میں اس یونیورسٹی کو منتقل ہوا تھا۔ ان دو ماہ کے کام کے دوران سالک ہمیشہ کے لئے وائرلوجی کا ہو کر رہ گیا۔ یہیں سے اس کا پہلا تنازعہ شروع ہوا جس میں فرانسز اور سالک نے نفسیاتی امراض کے ہسپتال میں کئی مریضوں کو جان بوجھ کر انفلوئنزا کی بیماری لگائی۔

گریجویشن کے بعد سالک نے نیویارک کے ماؤنٹ سینائی ہسپتال میں ریزیڈنسی شروع کی۔ یہ ہسپتال اس وقت قابل ترین ڈاکٹروں کے حوالے سے مشہور تھا۔

تحقیق کے علاوہ امراض کی تشخیص اور جراحت کے شعبے میں بھی سالک نے خوب نام پیدا کیا۔

ریسرچ کیریئر[ترمیم]

ریزیڈنسی کے اختتام پر سالک نے مختلف جگہوں پر تحقیق سے متعلق ملازمتوں کے لئے درخواستیں دینی شروع کر دیں۔ ان میں سے کئی جگہوں پر یہودی ہونے کی وجہ سے اسے ملازمت نہ ملی۔ ماؤنٹ سینائی ہسپتال کا یہ قانون تھا کہ وہ اپنے انٹرنز کو نوکری نہیں دیتے۔ آخرکار سالک نے ڈاکٹر فرانسز سے مدد چاہی لیکن ڈاکٹر سالک بھی ایک سال قبل یونیورسٹی آف مشی گن کے پبلک ہیلتھ سکول کو جا چکا تھا۔

تاہم فرانسز نے کہیں نہ کہیں سے رقم جمع کر کے ایک فوجی منصوبے میں سالک کو نوکری مہیا کر دی جس کا کام انفلوئنزا کی ویکسین تیار کرنا تھا۔ ان دونوں کی تیار کردہ ویکسین جلد ہی فوجی مراکز پر عام استعمال ہونے لگی۔

1947 میں سالک نے اپنی تحقیق کے لئے مختلف اداروں سے رابطہ کیا اور آخرکار یونیورسٹی آف پٹس برگ سکول آف میڈیسن نے اسے قبول کر لیا اور مشی گن چھوڑ کر پینسلووینیا منتقل ہو گیا۔ تاہم اسے ایک پرانے ہسپتال کے تہہ خانے میں غیر تسلی بخش جگہ دی گئی۔ بعد میں میلون خاندان سے پیسے مانگ کر سالک نے اپنی لیبارٹری بنائی اور فلو ویکسین پر کام شروع کر دیا۔

سالک کے انفلوئنزا پر کئے گئے کام پر اخلاقی مسائل موجود ہیں۔ سالک کی نگرانی اور منظوری سے حکومتی نگرانی میں چلنے والے ذہنی ہسپتال کے مریضوں پر تجربات کئے گئے۔ پہلے انہیں ویکسین دی گئی اور پھر چند ماہ بعد انفلوئنزا کے جراثیم ان کے جسموں میں داخل کئے گئے تاکہ ویکسین کی کارکردگی کو جانچا جائے۔

بعد میں نیشنل فاؤنڈیشن فار اینفینٹائل پیرالسز کے ریسرچ ڈائریکٹر نے سالک سے رابطہ قائم کر کے پوچھا کہ کیا وہ اس منصوبے کا حصہ بننا چاہے گا؟ اس منصوبے کی منظوری پہلے ہی امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ دے چکے تھے۔ سالک نے فوراً حامی بھر لی۔

پولیو کے خلاف جدوجہد میں شمولیت[ترمیم]

جنگِ عظیم کے بعد بد ترین بیماری[ترمیم]

پولیو نے محققین کو برسوں پریشان کئے رکھا تھا۔ پہلی بار اس کی تصدیق 1835 میں ہوئی اور آہستہ آہستہ یہ پھیلتا چلا گیا۔ کافی عرصے بعد یہ بات معلوم ہوئی کہ پولیو مریض کے فضلے اور ناک اور گلے کے مواد سے پھیلتا ہے۔ پولیو مریض کے منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اور آنتوں کے راستے ہوتا ہوا دماغ یا حرام مغز تک جا پہنچتا ہے۔

20ویں صدی کے آغاز میں 1914 اور 1919 میں پھیلنے والے وباؤں کی وجہ سے ڈاکٹر اور نرسیں گھر گھر جا کر مریض تلاش کرتے تھے اور جہاں بھی مرض کا شک ہوتا، بچوں کو ہسپتال بھیج کر گھر والوں کو اس وقت تک قرنطینہ بھیج دیا جاتا جب تک بچے میں پولیو کا مرض متعدی رہتا۔ اگر بچے مر جاتے تو والدین کو جنازے میں شرکت بھی اجازت نہیں ہوتی تھی۔

جنگ کے بعد ریاستہائے متحدہ امریکہ میں پولیو سب سے زیادہ دہشت پھیلانے کا سبب رہا ہے۔ ہر بار اس کی وباء بد سے بدتر ہوتی گئیں اور زیادہ تر مرض بچوں میں ہوتا تھا۔ 1952 تک پولیو کسی بھی دوسرے متعدی مرض کی نسبت زیادہ اموات کا سبب بن چکا تھا۔ تاہم 1921 میں جا کر پولیو کو ملک گیر اہمیت ملی جب نائب صدارت کے امیدوار فرینکلن روزویلٹ کو پولیو ہوا۔ اس وقت ان کی عمر 39 سال تھی اور وہ باقی ساری عمر کے لئے معذور ہو کر رہ گئے۔

سالک کی شمولیت[ترمیم]

سالک اپنی لیبارٹری کے لئے پرامید ہو گیا اور آخرکار یونیورسٹی آف پٹس برگ نے اس کی منظوری دے دی۔ تاہم اس بارے اسے کافی مایوسی ہوئی کیونکہ لیبارٹری نہ صرف بہت چھوٹی تھی بلکہ یونیورسٹی نے کئی ایسے اصول بھی لاگو کر دیئے جو اس کی تحقیق کی راہ میں رکاوٹ بنے۔

1948 میں نیشنل فاؤنڈیشن فار انفینٹائل پیرالسز کے ڈائریکٹر نے سالک کو اپنے پروگرام شمولیت کی دعوت دی جو سالک نے فوراً قبول کر لی۔ اس وقت تک پولیو کی 3 اقسام دریافت ہو چکی تھیں اور مزید کی تلاش جاری تھی۔ اگرچہ اس طرح کی تحقیق لمبی اور سالک کے مقصد سے ہٹ کر تھی لیکن فاؤنڈیشن نے مزید جگہ، آلات اور محقیقین مہیا کرنے کا وعدہ کیا۔ جونہی یہ تحقیق مکمل ہوئی، سالک نے اپنی تحقیق پھر سے شروع کر دی۔

جدوجہد کا آغاز[ترمیم]

پولیو کے خلاف جدوجہد کا اصل آغاز 1938 سے ہوا جب نیشنل فاؤنڈیشن فار انفینٹائل پیرالسز وجود میں آئی۔ اس کا سربراہ امریکی صدر روزویلٹ کا قانونی مشیر تھا۔ روزویلٹ پولیو کا شکار ہوئے تھے۔ اسی سال مارچ آف ڈائمز کے نام سے مہم شروع ہوئی اور عوام نے چندہ دینا شروع کر دیا۔

چونکہ پولیو کا خوف ہر سال بڑھتا جاتا تھا، اس لئے چندے کی مقدار 18 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 1955 تک 6 کروڑ 70 لاکھ تک جا پہنچی۔ تاہم اس وقت سائنسدانوں کے پاس بنیادی معلومات ہی غلط تھیں۔ کئی بار ویکسین میں زندہ وائرس استعمال ہوئے جس سے بچے یا تو مر گئے یا دائمی معذوری کا شکار ہو گئے۔

سالک نے اس وقت کی متنازعہ ویکسین متعارف کرائی جس میں مردہ وائرس استعمال ہوتے تھے۔ 2 جولائی 1952 میں 43 بچوں کو یہ ویکیسن لگائی گئی اور پھر چند ہفتے بعد ذہنی اور جسمانی معذور افراد کے سکول میں بھی یہ تجربہ دہرایا گیا۔ نومبر 1953 میں سالک نے اس ویکسین کو اپنی ذاتی ذمہ داری قرار دیا اور بتایا کہ اس کی بیوی اور تین بیٹے اس ویکسین کو آزمانے والے اولین رضاکاروں میں شامل تھے۔

تاہم وسیع پیمانے پر قبولیت کے لئے اس ویکسین کے مزید تجربات ضروری تھے۔

سالک کے ابتدائی نتائج کی روشنی میں 1954 میں پولیو سے کسی دوسری متعدی مرض کی نسبت زیادہ امریکی بچے مر رہے تھے، سالک کی ویکسین فیلڈ ٹیسٹ کے لئے تیار تھی۔

فیلڈ ٹیسٹ[ترمیم]

فیلڈ ٹیسٹ میں 20٫000 سے زیادہ ڈاکٹر اور پبلک ہیلتھ افسران، 64٫000 تدریسی عملہ اور 2٫20٫000 رضاکار شامل تھے اور یہ پروگرام اپنی نوعیت کا سب سے بڑا پروگرام تھا۔ اس دوران 18٫00٫000 بچوں نے حصہ لیا۔ 1954 کے گیلپ پول کے مطابق امریکی صدر کے پورے نام کی نسبت پولیو ویکیسن کے تجربات کے بارے زیادہ امریکی باخبر تھے۔

تاہم سالک کی تحقیق پر اعتراضات بھی اٹھے۔ مشہور وائرلوجسٹ ایستھر لیڈربرگ کے مطابق سالک کو زیادہ تفصیلی نتائج دینے چاہیئے تھے تاکہ ویکسین کی افادیت کے دعوے کو پوری طرح ثابت کیا جا سکے۔


ویکسین کی تیاری[ترمیم]

ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان[ترمیم]

12 اپریل 1955 کو تھامس فرانسز جونیئر جو کہ یونیورسٹی آف مشی گن سے تعلق رکھتا تھا اور ٹیسٹ کے نتائج کی نگرانی کر رہا تھا، نے ویکسین کو محفوظ اور مؤثر قرار دیا۔

بقول نیویارک ٹائمز، رپورٹ کے مطابق ویکیسن 80 سے 90 فیصد مؤثر ثابت ہوئی ہے اور یہ ٹیسٹ 11 ریاستوں میں ہوئے تھے۔ تاہم 4٫40٫000 بچوں کو یہ ویکسین 44 امریکی ریاستوں، کینیڈا کے 3 صوبوں اور فن لینڈ کے درالحکومت ہیلسنکی میں دی گئی تھی۔

پوری قوم کی کامیابی[ترمیم]

سالک کی نئی ویکیسن کو برطانوی کمپنی گلیکسو نے ایسی شکل دی کہ جسے دنیا بھر میں انتہائی وسیع پیمانے پر تیار کیا جا سکتا تھا۔ فرانسز کے اعلان کے چند منٹ کے اندر اندر امریکہ بھر میں یہ خبر پھیل گئی۔ ہر طرف جشن کا سماں بندھ گیا اور کاروبارِ زندگی تھم گیا۔

اس کامیابی کو پوری قوم کی کامیابی کہا گیا اور ڈاکٹر جونس سالک راتوں رات دنیا بھر میں مشہور ہو گیا۔

عالمی قبولیت اور امید[ترمیم]

سالک کے اعلان سے 6 ماہ قبل ہی یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ پولیو فنڈ سے امریکہ نے پہلے ہی اتنی ویکسین خریدنے کا فیصلہ کر لیا تھا جو 90 لاکھ بچوں اور حاملہ خواتین کے لئے کافی رہتی۔ اس کے علاوہ دنیا بھر سے بھی اس ویکسین کی خریداری میں انتہائی دلچسپی سامنے آئی۔ کینیڈا، سوئیڈن، ڈنمارک، ناروے، مغربی جرمنی، ہالیند، سوئٹزرلینڈ اور بیلجئم نے فوری طور پر ویکسین کی خریداری کا اعلان کر دیا۔ جونس سے قبل ایزابیل مورگن مردہ وائرس سے پولیو کی ویکسین کی تیاری کی بابت نظریہ پیش کر چکی تھی لیکن اس نے یہ طریقہ انسانوں پر نہیں آزمایا تھا۔ مورگن کا کام ہی دراصل سالک کے کام آیا۔

1957 کے گرما تک امریکہ بھر میں پولیو ویکسین کی 10 کروڑ خوراکیں تقسیم ہو چکی تھیں۔ جینیوا میں ہونے والی انٹرنیشنل پولیو کانفرنس کے مطابق ویکسین کے بعد ہونے والی پیچیدگیاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ ڈنمارک میں 25 لاکھ افراد میں چند ہی پولیو کے کیسز ہوئے۔ آسٹریلیا میں پولیو ختم ہو گئی۔

تاہم جن ممالک میں ویکسین استعمال نہیں ہوئی، وہاں پولیو کا زور بڑھتا گیا۔

دنیا بھر بیماری کے خاتمے میں کامیابیاں اور ناکامیاں[ترمیم]

1990 کے اواخر تک ایک تخمینے کے مطابق سالانہ بنیادوں پر دنیا بھر سے کم از کم پانچ لاکھ افراد کو پولیو سے ہونے والی معذوری سے بچایا جاتا ہے۔ 1991 میں مغربی نصف کرے میں پولیو کی منتقلی کو روک دیا گیا تھا۔

ترقی پذیر ممالک میں اندازہ ہے کہ 1988 میں ساڑھے تین لاکھ تک مریض دریافت ہوتے رہے تھے۔ نتیجتاً 2002 میں 93 ممالک کے 50 کروڑ بچوں کو ویکسین دی گئی اور دسمبر 2002 تک پولیو کے کل کیسز کی تعداد 1924 رہ گئی، جن کی اکثریت انڈیا سے تھی جبکہ دیگر چھ ممالک یعنی افغانستان، مصر، نائجر، نائجیریا، پاکستنا اور صومالیہ میں پولیو ابھی تک موجود ہے۔ 2014 کے شروع میں محض تین ممالک رہ گئے جہاں پولیو ابھی تک موجود ہے۔ ان ممالک میں پاکستان، نائجیریا اور افغانستان شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پاکستانی شہر پشاور کو دنیا بھر میں پولیو کا دارلحکومت قرار دیا گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ سی آئی اے کی جانب سے اسامہ بن لادن کی تلاش میں چلائی گئی جعلی پولیو مہم بھی ہے، جسے مذہبی شدت پسند اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

چین

1993 میں چین نے 8 کروڑ سے زیادہ بچوں کو دو روز کی مدت میں پولیو کی ویکسین دی اور اگلے سال پولیو کے محض پانچ کیس سامنے آئے۔

انڈیا

ہندوستان میں 1981 میں پولیو کے 38٫000 کیسز درج ہوئے اور پھر ملک گیر پولیو مہمات کے بعد 13 جنوری 2011 کو پولیو کا آخری کیس سامنے آیا۔ جنوری 2014 میں انڈیا کو پولیو سے پاک ملک قرار دے دیا گیا۔

افریقہ

2003 کی وباء کے بعد بین الاقوامی اداروں نے نائجیریا اور اس کے ہمسائیہ ممالک میں پولیو مہم کے لئے 1 کروڑ ڈالر خرچ کئے۔

لاطینی امریکہ

1970 کی دہائی میں لاطینی امریکہ میں پولیو کے 15٫000 کیس سامنے آئے تھے اور ان سے 1٫750 اموات ہوئیں۔ تاہم لاطینی امریکہ میں کیریبئن میں پولیو کا آخری کیس 1991 میں سامنے آیا اور اب پورا خطہ پولیو سے پاک ہے۔

خاتمے کی کوششیں[ترمیم]

نئی طبی تحقیق اور کاوشیں[ترمیم]

پولیو کے خلاف آخری فتح اور سبین ویکیسن اختلافات[ترمیم]

دی کٹر حادثہ[ترمیم]

10ویں سالگرہ کی تقریبات[ترمیم]

30ویں سالگرہ، یوم جونس سالک[ترمیم]

عوامی شخصیت[ترمیم]

شہرت بمقابلہ ذاتی زندگی[ترمیم]

انفرادیت برقرار رکھنا[ترمیم]

سالک انسٹی ٹیوٹ کا قیام[ترمیم]

ایڈز ویکسین پر کام[ترمیم]

سالک کا بائیو فلسفہ[ترمیم]

ذاتی زندگی[ترمیم]

اعزازات[ترمیم]

ڈاکومنٹری فلمیں[ترمیم]

سالک کی تصانیف[ترمیم]