روبالہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Featured article candidate.svg
یہ مضمون منتخب مقالہ بنائے جانے کے لیے امیدوار ہے۔ اس لیے اس مضمون کو خاص توجہ کی ضرورت ہے۔
Padlock.svg اس صفحہ کو ترامیم کیلیے نیم محفوظ کر دیا گیا ہے اور صارف کو اندراج کر کے داخل نوشتہ ہونا لازم ہے؛ (اندراج کریں یا کھاتہ بنائیں)
ہنڈا نامی ادارے کی جانب سے تیار کیا گیا ایک انسان نما روبوٹ یا روبالہ ، جو ASIMO کہلاتا ہے

غالباً اردو زبان میں روبوٹ کا کوئی قابلِ ذکر ترجمہ موجود نہیں لہذا لفظ robot کا ایک متبادل اردو نام --- روبالہ --- متعارف کروایا جارہا ہے۔ robot کو روبالہ کہنے کی وجہ (بشمول انگریزی وجۂ تسمیہ) اس مضمون کے قطعہ بنام وجۂ تسمیہ میں درج کردی گئی ہے اور مختصراً ذیل کی سطر میں بھی لکھا جارہا ہے۔

  • رو + بہ + آلہ = روبالہ

بیان

جدید دور میں روبالہ سے مراد ایک آلاتی یا غیر ماہیتی، مصنوعی سازندہ (agent) ہے۔ بالعموم روبوٹ ایک ایسے آلاتی و برقی نظام کو کہا جاتا ہے، جس کی حرکات و سکنات اور شکل و صورت سے یوں لگے جیسے اس میں خود سے قوت ارادہ یا قوت تغیر موجود ہو۔ غیر ماہیتی روبالہ سے مراد مصنع لطیف سازندے (soft ware agents) ہیں، جن کے لیے ”بوٹ” کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہر خودکار نظام یا آلے کو روبوٹ نہیں کہا جاتا۔ ایک خودکار آلے اور روبالہ کا فرق سمجھنے کے لیے روبالہ کی مندرجہ ذیل خصوصیات کو مد نظر رکھیں۔

روبالہ کو مصنوعی طور پر بنایا جاتا ہے، یہ قدرتی طور پر موجود نہیں ہو سکتا۔ وہ نہ صرف اپنے ماحول کو محسوس کر سکتا ہے بلکہ اس میں تبدیلی بھی لا سکتا ہے۔ اس میں کسی قسم کی ذہانت موجود ہونی چاہیے، جس کو بروئےکار لا کر وہ اپنے ماحول میں تبدیلی لانے کا لائحہ عمل منتخب کرے اور پھر اس لائحہ عمل کو اپنے افعال کے ذریعے عملی جامہ پہنا سکے۔ مزید یہ کہ اس کو برنامج یا پروگرام کیا جا سکے، یعنی اس کی ذہانت و انتخاب اور قابوِافعال میں بدرجہِ صلاحیت تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ اس میں جنبش و حرکت کی صلاحیت ہو جس سے وہ نقل و حمل کر سکے۔

وجۂ تسمیہ

روبالہ (robot) ایک آلاتی و مجازی، اصطناعی سازندہ ہوتا ہے۔ یعنی اسکو آسان الفاظ میں یوں کہ سکتے ہیں کہ robot ایک ایسا سازندہ (کام کرنے والا) ہوتا ہے جو کہ آلات سے بنا ہوا ہوتا ہے اور اسی لیۓ اسکو مصنوعی طور پر بنایا گیا ایک مجازی (virtual) کارندہ یا سازندہ کہتے ہیں۔

  • وجۂ تسمیہ انگریزی نام یعنی روبوٹ :

روبوٹ کا لفظ سب سے پہلے Karel Capek نے استعمال کیا اور یہ زمانہ 1920ء کا ہے جب پہلی بار ایک اصطلاح جو آگے چل کر سائنس میں داخل ہوگئی انگریزی زبان میں دیکھنے میں آئی ۔ درحقیقت اس لفظ کی ماخوذیت بہت پیچیدہ اور طویل سفر رکھتی ہے اور گمان غالب ہے کہ یہ لفظ اصل میں چیک زبان (Czech language) کے لفظ robota سے آیا ہے جسکے معنی کارندہ ، غلام ، سازندہ اور عمالی وغیرہ کے ہوتے ہیں۔ پھر 1941 میں آئزک ایسیموو نے اسی لفظ سے وہ لفظ ڈھالا جو کہ آج نہ صرف طرزیات کی انتہائی حدود پر قائم ہے بلکہ ایک مکمل علم کی حیثیت اختیار کرگیا ہے ، یعنی Robotics۔

  • وجۂ تسمیہ اردو نام یعنی روبالہ :

اردو میں robot کو روبالہ کہا جاتا ہے اور جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ robot دراصل ایسا mechanical سازندہ یا کارندہ ہوتا ہے کہ جو آلات کی مدد سے حرکت کرتا ہے ان آلات میں پرزے بھی شامل ہیں اور شمارندی آلات و مصنع لطیف بھی۔ اور اس طرح ہم کہ سکتے ہیں کہ حیات اصطناعی دراصل آلات سے چلتی ہے۔ اسی لیۓ robot کو روبالہ کہا جاتا ہے ۔

  • رو ، چلنے کو کہتے ہیں (جیسے پیادہ رو ، پیدل چلنے والا)
  • بہ ، ساتھ ، بوسیلہ اور ذریعہ کو کہتے ہیں (جیسے بوسیلہ ، بشمول وغیرہ)
  • آلہ ، آلات یعنی مشین کی واحد ہے

لہذا اردو قواعد کے مطالق اگر مندرجہ بالا تین الفاظ کو یکجا کرکہ لکھا جاۓ تو یوں ہوگا

  • رو + بہ + آلہ = رو بہ آلہ = روبالہ --- یعنی آلات سے چلنے والا --- بہ فارسی میں اکثر ہ کھو دیتا ہے جبکہ عربی یہ وضاحت بھی بیکار ہوجاتی ہے کیونکہ عربی میں تو ب بصورت ب ہی زبر کے اضافہ کیساتھ جڑ جاتا ہے اور آ جب جڑتا ہے تو مد کھو دیتا ہے۔

توصیفِ روبالہ

گو یہ بات قابل بحث ہی ہے کہ کونسے خواص یا اوصاف ایسے ہیں کہ جن کی بنا پر ایک آلہ ، روبالہ کہلایا جاسکتا ہے۔ عمومی طور پر ایک روبالہ میں مندرجہ ذیل خواص میں سے کئی موجود ہونے چاہیے ، یہ ضروری نہیں کہ اس فہرست کے تمام کے تمام اوصاف موجود ہوں۔


  • روبالہ کہلائی جانے والی چیز قدرتی نہ ہو بلکہ مصنوعی طور پر تیار کردہ ہو۔
  • وہ آلہ اپنے ماحول کو کسی حد تک محسوس کرسکتا ہو۔
  • اپنے ماحول کی اشیاء پر کام کرسکتا ہو۔
  • اس میں کسی نہ کسی حد تک خصوصیت ذکاء (intelligence) ہونا چاہیۓ۔ اگر یہ نہ ہو تو کم از کم اس میں ماحول کے مطابق کوئی انتخاب کرنے کی صلاحیت (جو خود کار تضبیط (automatic control) اور یا پھر کسی پیش برمجہ متوالیت (preprogrammed sequence) کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے)۔
  • وہ آلہ ، ایک یا زائد محورِ گردش یا تـرجـمہ پر حرکت کرسکتا ہو۔
  • وہ آلہ ، باہم مربوط اجادی (dexterous) حرکات انجام دے سکتا ہو۔
  • اس میں ایک نیت (intent) اور وکالت (agency) کا اظہار محسوس ہوتا ہو۔
  • وکالت میں درج ذیل تین اوصاف شامل ہوسکتے ہیں۔
(ان تینوں اوصاف کی مزید تفصیل انکے مخصوص صفحات پر دیکھیۓ)

خصوصیاتِ روبالہ

ایک بہت اہم خصوصیت جو کہ (موجود تصور کے مطابق) روبالہ کہلاۓ جانے کیلیۓ ایک آلہ میں ہونا ضروری ہے وہ وکالت (agency) ہی ہے اور جس قدر زیادہ کوئی آلہ ، اوپر بیان کردہ تین خصوصیات کی حامل وکالت میں قوی ہوگا اسی قدر اسکے روبالہ ہونے کا تصور واضح اور نمایاں ہوگا۔

عقلی وکالت

KITT عقلی تجسیمہ نمونے یعنی
anthropomorphic model کی ایک مثال ہے

عقلی وکالت (mental agency) سے مراد کسی روبالہ کی ذکاء اور عقلی صلاحیت سے ہوتی ہے اور یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ایک ماہرروبالیات اور روبالی مہندس کے لیۓ ایک روبالہ کی ظاہری وکالت سے زیادہ اس بات کی اہمیت ہوتی ہے کہ اسکے افعال اور حرکات وسکنات کو کس طرح اور کس خوبی سے قابو یا تضبیط کیا جاسکتا ہے۔ جس قدر زیادہ ایک تضبیطی نظام یعنی control system کی وکالت یا agency ہوتی ہے اسی قدر زیادہ ایک مہندس کی نظر میں اس آلہ کی حقیقی روبالہ کی حیثیت سے دیکھنے کا امکان ہوتا ہے۔ ایک اور اہم خصوصیت جو کہ عقلی وکالت میں پائی جاتی ہے وہ اس وکالت کے لیۓ موجود انتخابات کی ہے، جس قدر زیادہ کسی آلے میں مختلف انتخابات یا چناؤ کی صلاحیت ہوتی ہے اسی قدر زیادہ اسکی عقلی وکالت کو سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر

جسمانی وکالت

جسمانی وکالت (physical agency) سے مراد کسی روبالہ کے جسم کی ساخت یا اظہار ہوتا ہے۔ ماہرین روبالیات (robotics) کے نقطۂ نظر سے تو اوپر بیان کردہ روبالہ کی عقلی وکالت اہمیت رکھتی ہے مگر اکثر افراد کے لیۓ ایک روبالہ کا انسَنَہ (anthropomorphic) اور یا پھر حیَونہ (zoomorphic) سے تجسیم کا قریب ہونا زیادہ اہم خصوصیت ہے۔ مثال کے طور پر اگر وہ آلہ کوئی طرف یعنی limb رکھتا ہو یا ایک جاندار کی طرح سے چل پھر سکتا ہو تو اسکے روبالہ ہونے کا تصور زیادہ ابھرتا ہے ، جیسے Asimo اور Aibo نامی روبالات۔ مثال کے طور پر

مختلف تعریفیں

گھریلو کام کاج میں ہاتھ بٹانے والے ایک روبالہ کی مثال؛ یہ روبالہ دراصل ایک برقی جھاڑو (vacuum cleaner) ہے جسے صرف فرش پر ڈال دینا کافی ہے، پھر یہ خود چکر لگا لگا کر تمام علاقہ صاف کرتا رہتا ہے

جیسا کہ اب تک کہ بیان سے اندازہ ہوچکا ہوگا کہ روبالہ کی کوئی ایک مستحکم اور متعین تعریف نہیں ہے ، مختلف ماہرین اور مختلف ادارے اسکی مختلف تعریفیں بیان کرتے ہیں مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ انکا بنیادی مفہوم ایک ہی ہوتا ہے جو کہ اوپر توصیف روبالہ کے قطعہ میں پیش کیا گیا ہے۔

  • ایک خود تضبیطی، قابل ِبرنامج ِمکرر، کثیرالمقاصد، تین یا مزید الجہتی قابل ِصارفی ترامیم ؛ جو کہ صنعتی خودکار استعمالات کیلیۓ ثابت بھی ہوسکتا ہے اور یا پھر متحرک بھی [1]
    An automatically controlled, reprogrammable, multipurpose, manipulator programmable in three or more axes, which may be either fixed in place or mobile for use in industrial automation applications.
  • صنعتی روبالیات کے بانیوں میں سے ایک، Joseph Engelberger کا کہنا ہے کہ
  • میں روبالہ کی تعریف تو نہیں کرسکتا ، ہاں جب اسے دیکھتا ہوں تو پہچان جاتا ہوں [2]
    I can't define a robot, but I know one when I see one."
  • خودکار کام انجام دینے کیلیۓ ایک آلہ ، جو کہ شمارندے سے تضبیط کیا جاتا ہے۔ [3]
    A machine used to perform jobs automatically, which is controlled by a computer.

تاریخ

ایک آلاتی نظام رکھنے والے جاندار اور بطور خاص انسان کا تصور بہت قدیم ہے اور دنیا کے مختلف ممالک کی افسانوی اور دیومالائی داستانوں میں ملتا ہے۔ مگر حقیقی اور سائنسی معنوں میں ایک روبالہ کا قدیم ترین تصور جابر بن حیان نامی ایک مسلم سائنسدان کے یہاں ملتا ہے جس نے انسان سمیت مختلف الانواع جانداروں کو آلاتی طور پر بنانے کے بارے میں طریقۂ کار بیان کیۓ (انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق) اور غالب امکان ہے کہ اس نے یقیناً کسی نہ کسی درجہ (گو ابتدائی ہی صحیح) پر روبالات کی تیاری کی عملی کوشش بھی کی ہوگی کیونکہ ایک سائنسدان کی فطرت اسے صرف لکھنے تک محدود نہیں رکھ سکتی، لیکن اسکے اس کام کا کوئی نمونہ دستیاب نہیں (کم از کم اس تحریر کے وقت تک)۔

غرض یہ کہ روبالہ کا تصور انسانی تاریخ میں بہت قدیم ہے۔ 450 قبل مسیح ایک یونانی Archytas نے ایک ایسے پرندے کا تذکرہ (یا تصور) کیا کہ جو بھاپ سے متحرک ہوسکتا تھا۔ Heron نامی اسکندریہ کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے 10 تا 70 سال بعد المسیح متعدد خودکاریہ (automata) بناۓ۔ مسلم سائنسدان ، الجزاری نے کئی خودکاریہ مثلا ساعت الماء (آبی گھڑی) ، گھریلو استعمال کی نیم خودکار اشیاء ، اور موسیقی کے آلات کو خودکار (جو آبی قوت سے چلتے تھے) تیار کرنے کے تجربات کیۓ [4]

1950ء میں دریافت ہونے والے لیونارڈو ڈاونچی کے ایک کتابچے میں ایک 1495ء میں تخیل کیۓ جانے والے ایک آلاتی انسان کا خاکہ پایا گیا ہے جو کہ خود کار طریقے پر اٹھ کر بیٹھ سکتا تھا (یہ صرف ایک خاکہ یا تصور ہے اسکے عملی حصول کی کسی کوشش یا تجربے کا کوئی ثبوت نہیں)۔ 1738ء میں Jacques de Vaucanson نے ایک آلاتی بطخ بنائی جو کہ دانہ منہ میں ڈال سکتی تھی اور پر پھڑپھڑا سکتی تھی۔

دور جدید کے مفہوم میں پہلا روبالہ 1898ء میں Nikola Telsa کی تیار کردہ ایک بعید عالجہ کشتی (teleoperated boat) کو مانا جاتا ہے۔ 1930ء Westinghouse والوں نے ایک انسان نما روبالہ تیار کیا جسکا نام Elektro رکھا گیا۔ پھر 1940ء میں پہلے برقیاتی اور خودکار روبالے کو W. Grey نے جامعۂ برسٹل برطانیہ میں تیار کیا۔ صنعتی روبالوں میں پہلا صنعتی روبالہ George Devol نے تیار کیا۔

کسی روبالے سے کے ہاتھوں ہلاک ہونے والا پہلا انسان Robert Williams کو کہا جاتا ہے [5] ، جبکہ اکثر Kenji Urada بھی اسی قسم کے حادثے کا شکار ہونے والا پہلا شخص کہا جاتا ہے۔ لیکن دستاویزات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ولیئم کے ساتھ یہ حادثہ 1979ء میں جبکہ کینجی کے ساتھ 1981ء میں پیش آیا [6] ۔

فی زمانہ استعمالات

روبالات کی پیچیدگی اور استعمالات دونوں میں (وقت کے ساتھ ساتھ) اضافہ ہورہا ہے اور صنعتوں میں انکا کردار بڑھتا جارہا ہے۔ اب تک انکا زیادہ استعمال کثیرپیداواری کارخانوں میں خودکاریت پیدا کرنے کیلۓ ہوتا رہا ہے جہاں کوئی ایک متعین اور لگا بندھا کام تکرار کے ساتھ کیا جاتا ہو جسکو روبالات دھراتے رہیں۔ اسطرح کے کام کی ایک عام مثال پیداوارِ سیارہ (car production) کے شعبہ میں ملتی ہے جہاں روبالات ، رنگائی (painting) ، جوشکاری (welding) اور پیچ جڑھانے جیسے کام تکرار کے ساتھ انجام دیتے رہتے ہیں۔

روبالات کا ایک اور اہم کام ، انسان کے لیۓ پرخطر اور یا پھر ناگوار حالات میں ہوتا ہے۔ مثلا تلافی قنبلہ (bomb disposal) یا خلاء ، زیرآب اور کان کنی وغیرہ کے شعبہ جات میں کام اور زہریلے مادوں کے ساتھ کام کرنا وغیرہ۔ اس مقصد کیلیے چند روبالے Robowatch OFRO اور Robowatch MOSRO ہیں۔ ارتجالی منفجر اختراعات (improvised explosive devices) کو ہٹانا بھی اسی قسم کی ایک مثال ہے اس قسم کے کام کو EOD بھی کہا جاتا ہے۔

روبالات کا ایک اور استعمال خود امامی ناقلات (AGVs) میں بھی بکثرت کیا جارہا ہے۔ اس قسم کا کام بڑے بڑے ذخیرہ خانوں اور کارخانوں میں دیکھنے میں آتا ہے جہاں روبالہ کو اشیاء ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کیلیۓ استعمال کیا جاتا اس سے نہ صرف کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ انسانی حفاظت میں بھی۔ یہ روبالات یا تو اپنی تضبیط کے لیۓ تاروں اور یا پھر لیزر کی امامت (guidance) پر انحصار کرتے ہیں۔ اسی نظریہ کے تحت چند جگہوں پر روبالات کو شفاخانوں میں بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

گھریلو استعمال میں روبالات ابھی صرف ان کاموں تک محدود ہیں جو کہ تواتر رکھنے کے ساتھ ساتھ سادہ بھی ہوں مثلا برقی جھاڑو دینا (مثال کے طور پر اسکوبا اور رومبا نامی روبالات) اور یا پھر باغ میں گھانس تراشی کرنا وغیرہ۔ اسکے علاوہ باورچی خانوں میں کام کرسکنے والے روبالات کے بھی تجرباتی نمونے خاصی کامیابی سے مکمل کرلیۓ گۓ ہیں جن پر ابھی مزید تحقیق جاری ہے۔

گھریلو استعمال کی ایک اور قسم ان روبالات کی ہے جو کہ ہمجولی یا دوست کی حیثیت سے استعمال کیۓ جاسکیں (مثلا آئبو (AIBO))، اور یا پھر انکو کھیل میں حریف بنایا جاسکے (مثلا ludobots)۔ ایسے روبالات ، معاشی روبالہ کے زمرے میں آجاتے ہیں۔ مزید یہ کہ کچھ رولابات ، نحیف اور اپنا جسم درست استعمال نہ کرسکنے والے افراد کیلیۓ بھی خاصی کامیابی سے تیار کیۓ جاچکے ہیں جن کی مثالیں واکامارو اور پارو ہیں۔

حوالہ جات

  1. ^ روبالہ کی تعریف کے بارے میں ایک دستاویز (پی ڈی ایف ملف)
  2. ^ چیزیں کیسے کام کرتی ہیں، کہ بارے میں ایک موقع روۓ خط
  3. ^ کیمبرج لغت کا موقع روۓ خط: روبالہ کے بارے میں
  4. ^ الجزاری کی خودکاریہ (automata) تحقیق پر ایک حوالہ
  5. ^ روبالے کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے پہلے انسان کے بارے میں ایک صفحہ
  6. ^ کینجی کے بارے میں اکنامسٹ ڈاٹ کام پر ذکر