شرلاک ہولمز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
شرلاک ہولمز
Sherlock Holmes Portrait Paget.jpg
1904ء میں شائع ہونے والے ایک نقش۔
پہلی کہانی اے اسٹڈی ان سکارلٹ
تخلیق کار سر آرتھر کونن ڈویل
دیگر معلومات
جنس مرد
پیشہ مشورہ گیر سراغ رساں
خاندان مائکروفت ہولمز (بھائی)
قومیت برطانوی

شرلاک ہولمز (انگریزی: Sherlock Holmes) ایک تصوراتی سراغ رساں اور معالج ہے جو کہ مصنف سر آرتھر کونن ڈویل کا تخلیق کردہ کردار ہے۔ لندن میں رہائش پذیر یہ ایک زبردست محقق ہے جو کہ منطقی استدلال کی مدد سے تحقیقات کرتا ہے۔ اِس کی صلاحیتوں اور مہارتوں میں بھیس بدلنا اور طب الشرعی کی مدد سے مشکل گتھیاں سلجھانا شامل ہے۔

شرلاک کے متعلق پہلی کہانی 1887ء میں شائع ہوئی۔ اِس کردار کو استعمال کرتے ہوئے ڈویل نے دیگر 4 کتب لکھیں اور 56 افسانوں میں بھی اِسے شمار کیا۔ لندن کے ایک مقامی رسالے میں چھپنے والی کہانی اے اسٹڈی ان سکارلٹ میں اِس کردار کو پہلی دفعہ قارئین میں متعارف کرایا گیا۔

کردار کی تشکیل[ترمیم]

ڈویل کے مطابق شرلاک ہولمز کا کردار ڈاکٹر جوزف بیل پر مبنی ہے۔ ڈویل اسکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا کی رائل انفرمری میں ڈاکٹر بیل کیلئے ایک کلرک کے طور پر کام کیا کرتے تھے۔ شرلاک ہولمز کی طرح ڈاکٹر بیل بھی عام مشاہدات کی مدد سے کسی بھی بات کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت کے حامل تھے۔ ڈویل کو ڈاکٹر بیل کی اِس صلاحیت نے اتنا متاثر کیا کہ اُنہوں نے جب ایک سراغ رساں کے کردار کو تخلیق کرنے کا سوچا تو ڈاکٹر بیل کی دیگر اور صلاحیات کو اِس کردار کی عکس بینی کیلئے استعمال کر ڈالا۔

کردار کی عکاسی[ترمیم]

ڈویل کے لکھے ناول اور افسانوں میں ہولمز کی کہانیاں دراصل ایک اور کردار، ڈاکٹر واٹسن، کی زبانی ایک داستان کے طور پر پیش کی گئی ہیں۔ اِن کے علاوہ ناول میں، شاذ و نادر، کچھ ہی ایسے واقعات ہیں جہاں ہولمز کی زندگی کی عکاسی مل سکتی ہو۔ اِن واقعات کو واٹسن کی داستانوں کے ساتھ جوڑ کر ہولمز کی ابتدائی زندگی کا عکس پیش کیا جا سکتا ہے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

شرلاک ہولمز کے متعلق چھپنے والی پہلی کہانی، اے اسٹڈی ان سکارلٹ، 1887ء میں شائع ہوئی۔

1917ء میں لکھی کہانی ہز لاسٹ باؤ میں ہولمز کی عمر 60 برس بتائی گئی ہے۔ چونکہ یہ کہانی اگست 1914ء کے وقت کو بیان کرتی ہے اسلئے یہ اندازہ لگانا مناسب ہو گا کہ ہولمز کی پیدائش 1854 میں ہوئی۔ شرلاک ہولمز کی کہانیوں کا مکمل جائزہ لینے کے بعد مصنف لیزلی کلنگر نے اپنی کتاب میں یہ بھی انکشاف کیا کہ ہولمز کی پیدائش دراصل 6 جنوری 1854ء کو ہوئی۔

ایک کہانی میں ہولمز کی زبانی پتا چلتا ہے کہ اِسکی جانچ پڑتال کی صلاحیت کو تب فروغ ملا جب یہ یونیورسٹی میں طالب علم تھا۔ اِسکا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ہولمز کے پہلے کچھ کیس اسے یونیورسٹی کے دیگر طلبہ و طالبات سے ہی ملے۔ ہولمز کے مطابق، ایک ساتھی طالب علم کے والد سے گفتگو میں پہلی مرتبہ ہولمز کو یہ سوجھا کہ کیوں نہ گتھیاں سلجھانے کو ایک پیشہ ہی بنا لیا جائے۔ یونیورسٹی ختم کرنے کے چھے سال بعد تک ہولمز دیگر کیسوں میں پولیس کی مشاورت کرتا رہا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ہولمز کی پاس پیسوں کی حد درجہ قلت ہو گئی۔ یوں ہولمز نے جب اپنے ساتھ رہنے کیلئے ایک کرایدار ڈھونڈنا شروع کیا تو واٹسن سے ملاقات ہو گئی۔ واٹسن اور ہولمز کے اس ملاپ کے بعد سے ہی کہانیوں کا آغاز ہوتا ہے۔

1881ء کے بعد سے ہولمز 221-بی بیکر سٹریٹ، لندن میں رہائش پذیر تھا جہاں سے وہ اپنی مشورہ گیر سراغ رساں خدمات پیش کیا کرتا تھا۔ کہانیوں میں 221-بی، لندن کی بیکر سٹریٹ نامی سڑک کے شمال میں ایک دکان کے اوپر کوٹھی تھی جہاں، واٹسن کے مطابق، داخل ہونے کے لئے "17 سیڑھیاں عبور کرنی پڑتی تھیں"۔ واٹسن کے ہولمز کی زندگی میں آنے سے پہلے، ہولمز اکیلا ہی سارے کام کرتا تھا۔ جہاں ضرورت درکار ہوتی وہاں ہولمز کبھی کبھار شہر کے پسماندہ اور بے گھر لوگوں کے چھپے نیٹ ورک سے بھی رجوع کر لیتا تھا۔ یہ نیٹ ورک ہولمز کے لئے مخبری کیا کرتے تھے اور اِن میں اکثر بچے بھی شامل ہوتے تھے۔ تقریباً تین کہانیوں میں – جن میں اے اسٹڈی ان سکارلٹ، دی سائن آف فور اور دی ایڈونچر آف دی کروکڈ مین شامل ہیں – اِن بچوں کا کردار نمایاں رہا ہے؛ ہولمز انہیں بیکر سٹریٹ کے بے قاعدہ ٹولے کی حیثیت سے جانتا تھا۔

کہانیوں میں ہولمز کے والدین کے متعلق کچھ خاص نہیں لکھا گیا؛ ہولمز کے مطابق فرانسیسی مصّور ہوریس وارنیٹ اِسکا دوروں کا رشتہ دار تھا۔ ہولمز کے بھائی مائکروفت کا ذکر تین کہانیوں میں آتا ہے۔ مائکروفت کو ہولمز سے سات سال بڑا اور اِس سے کہیں زیادہ ہنرمند اور حاضر دماغ بتایا گیا ہے۔ اگر مائکروفت کے پاس کسی چیز کی کمی ہے تو وہ ہے شرلاک کا جذبہ۔

ڈاکٹر واٹسن کے ساتھ رفاقت[ترمیم]

دی سٹرینڈ میگزین میں شائع ہونے والی، سڈنی پیگٹ کی نقش کردہ ایک تصویر۔ 1891ء میں یہ دی مین ود دی ٹوسٹڈ لپ کی کہانی کیلئے استعمال کی گئی تھی۔

ہولمز نے اپنی بیشتر پیشہ ورانہ زندگی اپنے عزیز دوست اور وقائع نگار، ڈاکٹر واٹسن، کے ساتھ بسر کی۔ 1887ء میں اپنی شادی سے پہلے، واٹسن نے کئی سال ہولمز کے ساتھ گزارے۔ اپنی زوجہ کی وفات کے بعد پھر واٹسن نے ہولمز کے ساتھ گزر بسر برکرر رکھا۔ اپنی کوٹھی کی مالکین، مسز ہڈسن، کو یہ دونوں ایک رشتہ دار کی طرح سمجھتے تھے۔ واٹسن کے ہولمز کی زندگی میں دو ہی پہلو تھے۔ پہلا، واٹسن ہولمز کا نہ صرف دوست تھا بلکہ اکثر کیسوں میں ہولمز کی عملی مدد بھی کرتا تھا؛ دوسرا، وہ ہولمز کی زندگی کے واقعات کو قلم سے کاغذ پر قید بھی کرتا رہتا تھا۔

ہولمز سے متعلق اکثر کہانیاں دراصل واٹسن کی زبانی چند داستانیں ہیں اور اکثر واٹسن کے ہی نقطۂ نظر سے لکھی گئی ہیں۔ ہولمز اکثر واٹسن کی اِن تحریروں کو حامئی عواميت یا سنسنی خیز کہ کر اِنکی تنقید کرتا رہتا تھا۔ ہولمز کو واٹسن کی اِن تحریروں سے بس یہی شکایات رہتی تھی کہ یہ کبھی ٹھیک اور درست ترین الفاظ میں اِسکے سائنسی کام کی طہارت کو بیان نہ کرتی تھیں۔

خیرباد اور آخری الوداع[ترمیم]

ہز لاسٹ باؤ کی کہانی کے مطابق، 1903ء تا 1904ء کے دورانئے میں ہولمز جرائم کی دنیا اور اپنے پیشے کو خیرباد کہہ کر ساسیکس ڈاؤنز کے ایک چھوٹے سے فارم پر رہنے لگ جاتا ہے۔ یہاں ہولمز کچھ شہد کی مکھیاں بھی پالتا ہے اور اِنکی دیکھ بھال کے طور طریقوں پر ایک کتاب بھی لکھ ڈالتا ہے۔ اِس کہانی میں ہولمز اور واٹسن ایک آخری مرتبہ مل کر جنگی کاوشوں میں برطانیہ کی حکومت کی مدد کرتے ہیں۔ ہولمز کی ریٹائرمنٹ کے بعد ایک اور کہانی (دی ایڈونچر آف دی لائنز) ایسی بھی تھی جو کہ ہولمز کی زبانی اپنی ہی داستان تھی۔ ہولمز کی وفات سے متعلق کوئی بھی تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔