عبدالکریم سروش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ابتدائی زندگی[ترمیم]

عبدالکریم سروش کا اصل نام حسین حاج فرج دباغ ہے۔ تاہم وہ اپنے قلمی نام سے معروف ہیں۔ وہ 1945ء میں تہران میں پیدا ہوئے۔ہائی سکول تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد فارمیسی کے طالب علم بن گئے ۔ بعد ازاں وہ لندن چلے گئے تاکہ مزید تعلیم حاصل کر سکیں اور جدید دنیا سے آشنا ہو سکیں۔ لندن گریجویٹ سکول سے انہوں نے کیمسٹری کی تعلیم حاصل کی اور پھر چیلسیا یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ اور فلسفہ سائنس میں داخلہ لے لیا۔ اگلے ساڑھے پانچ برس انہوں نے اسی درس گاہ میں گزارے ۔ ان برسوں میں ان کے دیس ایران میں شاہ اورعوام کے درمیان تصادم سنگین سے سنگین تر ہورہا تھا۔ ایران سے لوگ بھاگ کر امریکہ ، برطانیہ سمیت کئی یورپی ملکوں کا رخ کرنے لگے ۔


انقلاب کے بعد[ترمیم]

انقلاب برپا ہوا تو سروش واپس وطن لوٹے اور انہوں نے اپنی پہلی کتاب ’’علم اور قدرو قمیت‘‘ شائع کی ۔ اس کے بعد وہ تہران میں ٹیچر ٹریننگ کالج میں اسلامک کلچر گروپ کے ڈائریکٹر تعینات ہو گئے ۔ اس دوران تہران ہی میں فلسفہ اور تاریخ کے تعلیمی ادارے بھی قائم کیے۔

اگلے سال ملک بھر کی یونیورسٹیاں بند ہو گئیں اور ایران کی انقلابی قیادت نے ثقافتی انقلاب کا ایک ادارہ قائم کیا۔ اس کی سات رکنی باڈی پروفیسر سروش بھی شامل تھے۔ سب ارکان کی تعیناتی براہ راست امام آیت اللہ خمینی نے کی تھی۔ اس ادارے کے مقاصد میں نیا نصاب تشکیل دینا تھا۔ 1983 میں ان کے ٹیچرٹریننگ کالج کی انتظامیہ سے اختلافات ہوگئے انہوں نے اپنا تبادلہ اسٹی ٹیوٹ فار کلچرل ریسرچ میں کروا لیا۔ وہ اب بھی اسی ادارے کے ساتھ بطور ریسرچ ممبر کے وابستہ ہیں۔


علمی سرگرمیاں[ترمیم]

90ء کی دہائی میں انہوں نے ملکی سیاست پر تنقید شروع کر دی ۔ ان کی زیر ادارت شائع ہونے والے جریدے ’’کیان‘‘ میں ان کے تنقیدی مضامین شائع ہوئے ۔ 1998 میں ایران کے سپریم لیڈر کے براہ راست حکم کے نتیجے میں یہ جریدہ بند ہوگیا۔ تاہم اس وقت پروفیسر سروش کے ہزاروں تقاریر کی آڈیو کیسٹس پورے ایران میں پھیل چکی تھیَں۔ اس میں انہوں نے مختلف سیاسی ، مذہبی اور ادبی مسائل پر بحث کی تھی ۔ کچھ ہی عرصہ گزرا کہ پروفیسر سروش کو ریاستی اداروں کی طرف سے نہ صرف ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا بلکہ انہیں ملازمت سے بھی سبگدوش کر دیا گیا۔ ان سے حفاظتی گارڈز بھی واپس لے لیے گئے ۔ ایران کی مختلف یونیورسٹیوں میں ان کے لیکچرز کا سلسلہ جاری تھا تاہم اب انصار حزب اللہ نامی ایک تنظیم کے کارکنوں نے ان کے لیکچرز کی تقاریب کو الٹنا شروع کردیا۔ بعد ازاں ہر جمعرات کے روز ہونے والے ان کے لیکچرز پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ۔ انہیں ہدایات جاری کی گئی کہ وہ اپنا کوئی مضمون شائع نہ کروائیں ۔ کئی مرتبہ ایرانی اینٹلی جنس حکام نے انہیں طلب کرکے انٹرویوز کے نام پر انہیں طویل ترین تفتیشی عمل سے گازار ۔ ایک عرصہ تک ان پر سفر کی پابندی رہی۔ اور ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا۔ بعد ازاں ان پر یہ پابندیاں ختم کر دی گئیں۔


ہارورڈ یونیورسٹی میں آمد[ترمیم]

2000ء سے اب تک پروفیسر سروش ہارورڈ یونیورسٹی میں مولانا روم کی شاعری ، اسلام اور جمہوریت ، مطالعہ قرآن اور اسلامی قانون کا فلسفہ پڑھا رہے ہیں۔ 2002،3 میں پرنسٹن یونیورسٹی میں فلسفہ اسلامی ریاسیت کی تعلیم دیتے رہے ہیں۔ 2003،4 میں برلن کی ایک یونیورستی سے بھی وزیٹنگ سکالر کے طور پر منسلک رہے۔ ان دونوں جارج ٹاؤں یونیورسٹی واشنگٹن ڈی سی کے برکلے سنٹر فار ریلیجن پیس اینڈ ورلڈ افئیرز میں وزٹنگ سکالر کے طور پر کام کررہے ہیں۔


نظریات[ترمیم]

اصلاح پسند پروفیسر سروش بنیادی طور پر فلسفہ سائنس ، فلسفہ مذہب ،مولانا روم کے نظام فلسفہ اور مختلف فلسفیوں کے درمیان تقابل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ مولانا روم اور ایرانی صوفیا کی شاعری پر ان کی مہارت کو عالمی شہرت حاصل ہے۔پروفیسر سروش کی سیاسی فکر ہابس اور امریکی آئین بنانے والوں سے ملتی جلتی ہے۔ وہ شخصی آزادی اور جمہوریت کے زبردست حامی ہیں۔ انہوں نے مذہبی جمہوریت کے نام سے ایک نیا طرز فکر متعارف کرایا ۔ ان کا کہنا ہے کہ سیکولر جمہوریت بھی ہوتی ہے اور مذہبی جمہوریت بھی۔ قدیم یونان سے اب تک جمہوریت کی مختلف اقسام دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ان کے نظریے کے بابت ایران کے دانشوروں کے حلقوں میں مسلسل بحث و مباحثہ ہو رہا ہے ۔ پروفیسر سروش کا کہنا ہے کہ اللہ تعالٰیٰ کی خوبصورت اور شاندار مخلوقات میں سے ایک آزادی فکر و عمل بھکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں پھول کی خوبصورتی کا احترام کرتے ہوئے کانٹے کو بھی برداشت کرنا چاہیے۔