محمود ممدانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Mahmood Mamdani.jpg

محمود ممدانی 1947ء میں پیدا ہوئے۔ وہ مشرقی افریقی اور جنبوی افریقی آباؤاجداد کی تیسری نسل میں سے ہیں۔ 1962ء میں جب یوگینڈا نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی تو ممدانی کو امریکی حکومت کی طرف سے سکالرشپ کی پیشکش ہوئی جسے انہوں نے قبول کیا ۔ انہوں نے 1967ء میں یونیورسٹی آف پیٹرز برگ سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ 1969ء میں یونیورسٹی آف ہارورڈ یونیورسٹی سے پی اپچ ڈی کیا ۔ یہاں انہوں نے ایک طلبہ تحریک میں بھی حصہ لیا جس کا مقصد تعلیمی فیسوں میں کمی کروانا تھا۔ 1974ء میں انہوں نے ڈاکٹریٹ کیا۔

تعلیم مکمل ہونے پر وہ وطن واپس آئے تو اس وقت کے آمر عیدی امین نے انہیں جلاوطن کردیا ۔ وہاں سے نکلنے کے بعد محمود ممدانی سیدھے برطانیہ گئے ۔ پھر انہیں تنزانیہ کی درالسلام یونیورسٹی میں ملازمت مل گئی۔ جب عیدی امین کا تختہ الٹ دیاگیا تو محمد ممدانی واپس یوگینڈا آگئے ۔ یہاں انہوں نے تعلیم بالغان کا ایک پروگرام شروع کر دیا۔ بعد ازاں وہ کمپالا کی مکریر یونیورسٹی میں ملازمت اختیار کی۔

ان دنوں وہ امریکہ میں کولمبیا یونیورسٹی کے بشریات اور سیاسیات کے شعبہ جات میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ کولمبیا انسٹی ٹیوٹ آف افریقین سٹڈیز کے ڈائریکٹر ہیں اور کونسل فار ڈیویلپمنٹ آف سوشل ریسرچ ان افریقہ کے سربراہ بھی ہیں۔

محمود ممدانی کو افریقہ کی تاریخ، سیاسیات اور اس کے بین الاقوامی تعلقات پر ملکہ حاصل ہے۔ ان موضوعات پر تحقیقی کام کرنے پر انہیں متعدد ایوارڈ بھی حاصل ہو چکے ہیں۔ وہ انگریزی زبان کے علاوہ فرنچ ، یوگنینڈا ،گجراتی ، ہندی ، پنجابی ، سواحلی اور اردو زبانوں پر بھی عبور رکھتے ہیں۔ محمود ممدانی کی شائع شدہ کتابوں میں ’’اچھے اور برے مسلمان ، امریکہ سرد جنگ اور دہشت کی جڑیں ، جب مظلوم قاتل بنتے ہیں۔ بحران اور تعمیر نو افریقی تناظر میں ، یوگینڈا میں سیاست اور طبقاتی تقسیم اور شہرت اور مہاجرت تک شامل ہیں۔