مصطفی اول، پورا نام مصطفی اول ابن محمد ثالث ابن مراد خاں ثالث۔ خلافت عثمانیہ کا پندرہواں حکمران۔ سلطان احمد نے اپنی وفات کے وقت ۷ (سات) لڑکے چھوڑے جن میں سے ۳ (تین) تخت نشین ہوئے لیکن مصطفی اول کو سلطان احمد اپنا جانشین کرگیا تھا۔ اب تک ۱۴ (چودہ) پشتوں سے خلافت عثمانیہ کی وراثت باپ سے بیٹے کو منتقل ہوتی تھی۔ یہ پہلا اتفاق تھا کہ بیٹے کی بجائے بھائی وراست تخت ہوا۔[1] یہ اس لیے ہوا کیونکہ سلطان احمد کا بیٹا عثمان اس وقت کم عمر تھا۔[2]
مصطفی اول کی عمر زیادہ تر حرم میں گزری تھی، اس وجہ سے ضعیف العقل اور امور سلطنت سے بے خبر تھا۔ مصطفی کی نااہلیت کے واضح ہو جانے کے بعد امراء سلطنت نے یہ حال دیکھ کر اس کو تین ماہ بعد ۱۶ فروری ۱۶۱۸ء کو تخت سے اتار کر سلطان احمد کے ۱۴ سالہ بڑے بیٹے عثمان خان کو تخت پر بٹھا دیا۔[3] انکشاریہ کی سعی کو اس واقعہ میں زیادہ دخل تھا۔[4] ۱۶۱۷ء سے ۱۶۱۸ء تک خلافت عثمانیہ کی باگ ڈور سنبھالنے والا سلطان تھا۔ وہ ۱۵۹۱ء کو مانیسا میں پیدا ہوا اور ۲۰ جنوری ۱۶۳۹ء کو توپ کاپی محل، استنبول میں وفات پائی۔ وہ محمد سوم کا بیٹا تھا۔ ان کی والدہ سلطان حاندان سلطان تھیں۔
حوالہ جات [ترمیم]
یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔