کائنات کا مکمل ترین نظریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کتاب کا سرورق
طبیعی علم الکائنات
WMAP 2010.png
کائنات · انفجارِ عظیم
[[عمر

کائنات|عمرِ کائنات]]
Timeline of the Big Bang
Ultimate fate of the universe

یہ کتاب معروف برطانوی ماہر فلکیات سٹیفن ہاکنگ کے لیکچروں کا مجموعہ ہے، جو اس نے مختلف مواقع پر دیئے تھے۔ان لیکچروں میں ہاکنگ نے فلکی طبیعیات اور کونیات کا احاطہ کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ کائنات کے مکمل ترین اور حتمی نظرئیے تک پہنچنے کے لئے اب تک کیا کوششیں کی جاتی رہی ہیں، اور آنے والے سالوں میں اس حوالے سے کیا امیدیں وابستہ ہیں۔ ان لیکچروں کے ذریعے مصنف نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ بگ بینگ (Big Bang) سے لے کر بلیک ہولز تک ، کائنات کی تاریخ کے بارے میں ہم کیا سوچتے ہیں اور کیا سوچتے چلے آ رہے ہیں۔ اس کا اردو میں ترجمہ گلوبل سائنس کے مدیر علیم احمد نے کیا ہے۔

کائنات کا مکمل ترین نظریہ[ترمیم]

کتاب میں کل سات لیکچر شامل ہیں۔

کائنات کے بارے میں تصورات[ترمیم]

پہلے لیکچر میں کائنات کے متعلق گزشتہ نظریات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ کائنات کی موجودہ تصویر تک ہماری رسائی کیسے ہوئی۔ اسے تاریخِ کائنات کی تاریخ کہا جا سکتا ہے۔

پھیلتی کائنات[ترمیم]

دوسرے لیکچر میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ نیوٹن اور آئن سٹائن ، دونوں کے نظریاتِ ثقل کس طرح ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتے ہیں کہ کائنات ساکن نہیں ہو سکتی۔ یعنی یہ نتیجہ کہ کائنات کو لازما پھیلنا یا سکڑنا چاہیے۔ اسی تصور سے یہ خیال اخذ کیا گیا ہے کہ ماضی بعید میں ، آج سے دس یا بیس ارب سال قبل ، ایک موقع ایسا بھی تھا جب کائنات کی کثافت (density) لامتناہی تھی۔

بلیک ہول[ترمیم]

تیسرے لیکچر میں بلیک ہولز کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ یہ تب بنتے ہیں جب کمیت والا کوئی ستارہ یا اس سے بڑا کوئی جسم ، اپنی ہی قوت ثقل کے زیر اثر ، اپنے ہی وجود میں منہدم (collapse ) ہوتا ہے۔ آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کے مطابق ، بلیک ہول میں جا گرنے والا کوئی احمق ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا؛ وہ بلیک ہول سے باہر آنے کے کے قابل نہیں رہے گا۔ اس کے برعکس ، بلیک ہول میں گرنے والے کسی شخص کے لیے تاریخ کا خاتمہ ایک ایسے مقام پر ہوگا جسے وحدانیت کہتے ہیں لیکن عمومی نظریہ اضافیت ایک کلاسیکی نظریہ ہے یعنی اس میں کوانٹم آلاتیات کے اصول عدم یقین کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

بلیک ہولز اتنے بھی سیاہ نہیں[ترمیم]

چوتھا لیکچر یہ واضح کرتا ہے کہ کوانٹم آلانیات کس طرح توانائی کو یہ اجازت دیتی ہے کہ وہ رس رس کر بلیک ہول سے باہر نکلتی رہے یعنی بلیک ہولز ایسے سیاہ و تاریک نہیں جیسے کہ ان کی تصویر کشی کی جاتی ہے۔

کائنات کا آغاز اور انجام[ترمیم]

پانچواں لیکچر اس پہلو کا احاطہ کرے گا کہ بگ بینگ اور ابتدائے کائنات جیسے مواقع پر میکانیاتی تصورات کا اطلاق کیسے کیا جاتا ہے۔ اسی اطلاق کی وجہ سے یہ خیال سامنے آتا ہے کہ زمان و مکان اس انداز سے متناہی finite ہو سکتے ہیں کہ ان کا کوئی سرا یا کنارہ نہ ہو ۔ یہ ( زمان و مکان ) زمین کی سطح جیسے ہوں گے مگر ان میں دو اضافی جہتیں (dimensions) ہوں گی۔

وقت کی سمت[ترمیم]

چھٹے لیکچر میں بتایا گیا ہے کہ حد بندی والا یہ نیا تصور کس طرح اس امر کی وضاحت کر سکتا ہے کہ قوانین طبیعیات ، وقت کے اعتبار سے متشاکل (symmetric) ہی کیوں نہ ہو لیکن پھر بھی ماضی اور مستقل ایک دوسرے سے کس طرح مختلف ہوں گے۔

حتمی کائناتی نظریہ[ترمیم]

ساتویں لیکچر میں اس بابت گفتگو ہے کہ کیونکر کائنات کا مکمل ترین ، حتمی اور متحد نظریہ کھوجنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایک ایسا نظریہ جس میں کوانٹم آلاتیات ، ثقل اور طبیعیات کے دیگر عوامل کا احاطہ کیا جائے گا۔ اگر یہ نظریہ حاصل ہو گیا تو ہم واقعتا کائنات کو سمجھ لیں گے اور یہ بھی جان لیں گے کہ کائنات میں ہمارا مقام کیا ہے۔

مزید دیکھیں[ترمیم]

بگ بینگ وحدانیت