آفاق صدیقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آفاق صدیقی
معلومات شخصیت
پیدائش 4 مئی 1928  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
فرخ آباد،  وبرطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 17 جون 2012 (84 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کراچی،  وپاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن سخی حسن،  وکراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ علی گڑھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مترجم،  وشاعر،  ونقاد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو،  وسندھی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
P literature.svg باب ادب

پروفیسر آفاق صدیقی (پیدائش: 4 مئی 1928ء — وفات: 17 جون 2012ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور سندھی زبان کے نامور شاعر، نقاد، مترجم اور پروفیسر تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

آفاق صدیقی 4 مئی، 1928ء کو فرخ آباد، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا پورا نام محمد آفاق احمد صدیقی تھا۔[1][2][3] وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ تقسیم ہند کے بعد وہ سکھر میں آباد ہوئے اور انہوں نے تدریس کے شعبے سے وابستگی اختیار کی۔[3]

ادبی خدمات[ترمیم]

آفاق صدیقی کی مادری زبان اگرچہ اردو تھی لیکن انہیں فارسی، ہندی اور سندھی زبانوں پر بھی دسترس حاصل تھی۔ شاید اسی بنا پر انہیں تحقیق اور ترجمے سے بھی رغبت تھی اور ان کے قریبی دوستوں کے مطابق انہوں نے چالیس کے لگ بھگ تصانیف چھوڑی ہیں جن میں اٹھارہ تصانیف سندھی زبان میں ہیں۔ ان کے تحقیقی کام اور تراجم کو اردو اور سندھی ادب کے حوالے سے نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست اور شیخ ایاز کی شاعری کو بھی اردو میں منتقل کیا۔ ان کی ان خدمات کی بنا پر انہیں سندھی اور اردو بولنے والوں کے درمیان ایک پل بھی قرار دیا جاتا تھا۔[3]۔1951ء میں انہوں نے رسالہ کوہ کن نکالا۔ 1953ء میں سندھی ادبی سرکل قائم کیا۔[2]

آفاق صدیقی نے مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے نام سے ایک تنظیم قائم کی جس نے سکھر اور شہر کے نواح میں چودہ ایسے اسکول قائم کیے جن میں کم اور اوسط آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو تعلیم دی جاتی تھی۔ تدریسی فرائض سے ریٹائر کیے جانے کے بعد وہ کراچی منتقل ہو گئے اور اردو سندھی ادبی فاؤنڈیشن کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ اس تنظیم کے قیام کا مقصد ایسے ادیبوں کی کتابیں شائع کرانا تھا جو اپنی کتابیں خود شائع کرانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔[2]

آفاق صدیقی کی تصانیف میں پاکستان ہمارا ہے، کوثر و تسنیم، قلب سراپا، ریزہ جاں، تاثرات، عکس لطیف، شاعر حق نوا، پیام لطیف، اقوال سچل، بساط ادب، بابائے اردو وادی مہران میں، ادب جھروکے ، گلڈ کہانی، ادب گوشے، ریگزار کے موتی، ماروی کے دیس میں اور جدید سندھی ادب کے اردو تراجم شامل ہیں۔ ان کی خود نوشت سوانح عمری صبح کرنا شام کا کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔ ۔[3]

تصانیف[ترمیم]

  • ارمغان عقیدت
  • ادب زاویے (مضامین)
  • شاہ لطیف اور عصر حاضر (لطیفیات)
  • سندھی ادب کے اُردو تراجم (ترجمہ)
  • جدید سندھی ادب (تنقید)
  • ریگزار کے موتی (شمالی سندھ کے شعرا)
  • بابائے اُردو وادیٔ مہران میں
  • بوئے گل و نالۂ دل (شیخ ایاز کا اُردو کلام) (ترتیب)
  • ادب جھروکے (مضامین)
  • شخصیت ساز (مضامین)
  • احوال سچل()انتخاب کلام سچل سائیں
  • پیام لطیف (شاہ لطیف کا پیام و کلام)
  • شاعر حق نما (سچل سرمت کی شاعری اور شخصیت)
  • تاثرات (تنقیدی مضامین)
  • پاکستان ہمارا ہے (ملی نغمے)
  • بڑھائے جا قدم ابھی
  • صبح کرنا شام کرنا (خود نوشت سوانح عمری)
  • سُر لطیف(گیت)
  • کوثر و تسنیم (حمد،نعت و منقبت)
  • عکس ِلطیف (لطیفیات)
  • ریزہ جاں (شاعری)
  • قلب سراپا (شاعری)
  • محمد عثمان ڈیپلائی : شخصیت اور فن

اعزازات[ترمیم]

حکومت پاکستان نے آفاق صدیقی کی خدمات کے صلے میں صدارتی اعزاز برائےحسن کارکردگی سے نوازا[2]۔ اس کے علاوہ انہوں نے لطیف ایکسیلینس ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

ہوک سی اٹھی دل میں آنسوؤں نے شہ پائی دیکھ اے غمِ دوراں پھر کسی کی یاد آئی
بے کھلی کلی دل کی بے کھلے ہی مرجھائی تم کہاں تھے گلشن میں جب نئی بہار آئی
اب کسے گراں گزرے کاررواں کی رسوائی راہبر تماشا ہیں، راہرو تماشائی
صبح کے اجالوں پر چھا گیا اندھیرا سا یاسفید آنچل پر تیری زلف لہرائی
غم گسار گردانیں کس کو موردِ الزام حیف میری بے تابی ہائے تیری خود رائی
دل کے ایک گوشے میں تیرے پیار کی حسرت جیسے شہرِ خوباں میں کوئی شام تنہائی
کون، ہاں وہی آفاق، جانتے ہیں ہم اس کو ہوشیار، دیوانہ، باشعور، سودائی

عظمتِ قُرآن​

نُورِ وحدت کا ہے گھر قرآن میں کُھل گئے رحمت کے در قرآن میں​
خود ہی فرما دی بیاں اللہ نے عظمتِ خیر البشر قرآن میں​
فیض ختم المرسلیں کی مدحتیں جا بجا ہیں جلوہ گر قرآن میں​
معجزہ ہے معنی و الفاظ کا ہر پیامِ معتبر قرآن میں​
آگیا تہذیبِ انساں کا سفر منزلِ مقصود پر قرآن میں​
علم و حکمت کی اچھوتی وسعتیں پا رہے ہیں دیدہ ور قرآن میں​
عام ہے اہلِ بصیرت کے لیے راحتِ قلب و نظر قرآن میں​
سنگ و آہن موم ہو کر ہی رہے ہے کچھ ایسا بھی اثر قرآن میں​
اپنی ہر مشکل کا حل موجود ہے ڈھونڈنا چاہیں اگر قرآن میں​​
کیوں نہ ہو آفاق یہ اُم الکتاب ہے دو عالم کی خبر قرآن میں​​

وفات[ترمیم]

آفاق صدیقی نے 17 جون،2012ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پائی اور کراچی ہی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔[1][2][3]

خارجی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]