اسلام اور رقص

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسلام رقص کومکمل ناجائز کہتا ہے اور اس پر اجماع امت ہے۔ اصل میں مختلف لوگوں کا رقص کے حوالے سے موقف مختلف ہے۔ بعض لوگ صوفیا کرام کے مزارات پر رقص کو جائز سمجھتے ہیں تو بعض ناجائز۔ تحریک طالبان پاکستان بھی انہی لوگوں میں شامل ہے جو مزارات پر رقص کو بھی حرام سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے مطابق جو اسے جائز کہتے ہیں وہ سماع وجد تواجداوررقص کوایک ہی جانتے ہیں۔ اُن کے مطابق اسلامی رقص یا صوفی رقص کے الفاظ استعمال کرنے کے لیے رقص اور وجد کے بنیادی فرق کو واضح کرنا بہت ضروری ہے۔

رَقْص[ترمیم]

معانی[ترمیم]

اصولِ نغمہ یا فطری امنگ اور جوشِ مسرت میں تھرکنے اور ناچنے کا عمل یا کیفیت، ناچ، ناچنا۔

مترادفات[ترمیم]

ناچ، مُجْرا، نَرْت، ڈانْس، پاکوبی۔[1] رقص اچھلنا، کودنا ،کود پھاند ناچ اصول نغمات کے موافق تھِرکنا۔[2]

وجد[ترمیم]

1. غمگینی، شیفتگی، مجازاً حالت ذوق و شوق جو صوفیان سماع پسند پر وارد ہوتی ہے، حال، جذبہ، حالت، بے خودی، سرمستی، جوش، وراگ، خوشی۔

مترادفات[ترمیم]

مَحْوِیَّت، کَیف، رِقَّت[3]۔[4] رقص کی کچھ اقسام ایسی بھی ہیں جو بہت سے لوگوں کے نزدیک جائز سمجھی جاتی ہے۔ رقص اور وجد کے معانی اور مترادفات کی وضاحت کے بعد لازم ہے کہ رقص کے ساتھ اسلامی کا لفظ کی بجائے وجد کے الفاظ استعمال کیے جائیں

رقص اور اس کا حکم[ترمیم]

درج بالا معانی کے ساتھ رقص کو تمام مکاتب فکر اہلسنت والجماعت بریلوی دیوبندی اہل حدیث شیعہ نے حرام کہا ہےحنفی مالکی شافعی اورحنبلی سب نے متفقہ طور پر حرام قرار دیا جیسے شراب اور ستر عورت[5]

مکاتب فکر کا مؤقف[ترمیم]

إجْمَاعَ الْأَئِمَّةِ عَلَى حُرْمَةِ هَذَا الْغِنَاءِ وَضَرْبِ الْقَضِيبِ وَالرَّقْصِ( یہ راگ، ضرب قضب اور رقص حرام ہے ا س پر اجماع امت ہے۔[6] مکتب فکر بریلوی کے احمد رضا خان لکھتے ہیں فسق کے میلوں اور رقص کے جلسوں میں جانا حرام ہے۔ اپنی تقریبوں میں ڈھول جس طرح فساق میں رائج ہے بجوانا، ناچ کرانا حرام ہے[7]

مُرَوَّجَہ ڈانس کو جائز کہنا[ترمیم]

دیوبند کے خالد سیف اللہ رحمانی لکھتے ہیں رقص کی مروجہ کیفیت جس میں تھرکنے اور لچکنے کی کیفیت پائی جاتی ہے بالکل حرام اور ناجائز ہے اور مخنث لوگوں کے طریقہ سے مماثلت رکھتا ہے عورتوں کے لیے تو رقص کا عمل شدید گناہ اور معصیت ہے (شرح مھذب) مردوں کے لیے بھی صحیح یہی ہے کہ اس طرح کا عمل جائز نہیں اس نیں شبہ نہیں کہ بعض فقہا نے اسے جائز قرار دیاہے لیکن اس سے مقصود رقص کی وہ کیفیت نہیں جو آج کل مروج ہے علامہ قرطبی نے ولا تمش فی الارض مرحا اس رقص سکی ممانعت پر استدلال کیا ہے(الشرح الصغیر)فقہا مالکیہ میں علامہ صاوی نے رقص کے سلسلے میں فقہاءکے مذہب اس طرح نقل کیے ہیں رقص و حال کے بارے علما کا اختلاف ہے ایک گروہ کراہت کا قاءل ہے بعض لوگ اباحت کے قائل ہیں اور بعض حضرات کا خیال ہے کہ جن لوگوں پر واقعی حال طاری ہوتا ہے ان کا اوردوسرے لوگوں کا حکم مختلف ہے ارباب حال کے لیے جائز ہے دوسروں کے لیے جائز نہیں یہی پسندیدہ قول ہے اور جن فقہا نے اشعار کے سماع کی اجازت دی ہے عام طور پر ن کا بھی یہی نقطہ نظر ہے اور یہی مشائخ صوفیہ کا مذہب ہے[8]۔

رقص کو حلال جاننا[ترمیم]

گانا بجانا اور رقص سرود از روئے شرع ناجائزو حرام ہے مگر اس کے ارتکاب سے ایک مسلمان دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا البتہ جو شخص کسی حرام فعل کو حلال سمجھ کر کرے اور اس کو حرام نہ سمجھے تو یہ موجب کفر ہے لہذا جو شخص رقص و سروداور گانے بجانے کو حلال اور جائز سمجھتا ہو تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔[9]مَنْ يَسْتَحِلُّ الرَّقْصَ قَالُوا بِكُفْرِهِ جو رقص کو حلال جانے اس کا کفر علما نے بیان کیا ہے فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلام فرماتے ہیں :جو رقص کرنے کو جائز سمجھے اُس پر حکمِ کف رہے (دُرِّمُختار ج6 ص 396 )

رقص اور وجد میں فرق[ترمیم]

یہاں رقص سے مُراد لچکے توڑے کے ساتھ کیا جانے والا وہ ناچ (ڈانس)ہے جو شَرعاً ناجائزہے۔ عشقِ حقیقی کے باعِث بے خودی میں جھومنا، وجد طاری ہونا یا تَواجُد یعنی عاشقانِ خدا و رسول کے وجدِ صادِق کی مُخلِصانہ نَقّالی مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ کفر نہیں بلکہ عین سعادت ہے۔ اسی ضمن میں جب ایک سوال پوچھا گیاکہ جس شادی میں رقص اور باجا وغیرہ ممنوعات شرعیہ ہوں وہاں نکاح ہوجاتا ہے یا نہیں؟ توجواب میں لکھا اس میں شک نہیں کہ یہ ناچ اور اکثر باجے شرعاً حرام ہیں اور ان کے دیکھنے سننے کا مرتکب فاسق وگنہگار، مگر کفر نہیں کہ نکاح ہی نہ ہو تمام فقہا وائمہ نے سجدہ تحیت وغنا و رقص کو حرام لکھا ہے اور اس پر امت کا اجماع بھی ہو گیا ہے …………………………. اضطراری حالت میں رقص ووجد وتواجد یعنی بہ تکلف اپنے کو وجد میں لانا سچی نیت سے محمود ہے ورنہ مذموم ہے۔[10]

وَجْد[ترمیم]

معانی[ترمیم]

غمگینی، شیفتگی، مجازاً حالت ذوق و شوق جو صوفیان سماع پسند پر وارد ہوتی ہے، حال، جذبہ، حالت، بے خودی، سرمستی، جوش، وراگ، خوشی۔

مترادفات[ترمیم]

مَحْوِیَّت، کَیف، رِقَّت[3]۔ وجد:غمگینی وشیفتگی، مجازاً حالت ذوق و شوق جو صوفیا سماع پسندپر وارد ہوتی ہے۔ حال، جذبہ، حالت، بیخودی، سرمستی، جوش، وراگ، خوشی۔[11] وجد کے معانی میں کہیں بھی رقص کا ذکر نہیں لہذا اگر عوام اور رسومات کے تحت یہ کہا جائے کہ یہ رقص کا نام ہے ورنہ امام غزالی نے واضح کیا کہ جو شخص اللہ کی محبت میں جلتا ہے اس کا وجد اس کی سمجھ کے مطابق ہوتا اور اس کی سمجھ اس کے خیال کے مطابق ہوتی ہے اور تخیل کے لیے یہ شرط نہیں کہ وہ شاعر کی مراد اور زبان کے موافق ہو تو یہ وجد حق ہے اور سچ ہے اور جس آدمی کو آخرت کی ہلاکت کے خطرہ کا شعورحاصل ہو جائے تو وہ اس بات کے لائق ہے کہ اس کی عقل تشویشناک ہو جائے اور اعضاء میں اضطراب پیدا ہوتو اس صورت میں الفاظ میں تبدیلی کا کوئی بڑا فائدہ نہیں بلکہ جس آدمی پر مخلوق کا عشق غالب ہو اسے سماع سے پ رہی ز کرنا چاہیے اس کے الفاظ کوئی بھی ہوں ۔[12] اسی کے متعلق احمد رضا خان نے ایک سوال کے جواب میں کہ مجلسِ سماع میں اگر مزا میر نہ ہو ں(اور)سماع جائز ہوتو وجد والوں کا رقص جائز ہے یا نہیں؟لکھااگر وجد صادِق (یعنی سچا)ہے اور حال غالب اور عقل مستور(یعنی زائل) اور اِس عالَم سے دُور تو اُس پر تو قلم ہی جاری نہیں کہ سلطان نگیرد خراج از خراب یعنی بادشاہ تباہ حال لوگوں سے خراج نہیں لیتا۔ اور اگر بہ تکلُّف وجد کرتا ہے تو' تَثَنِّی اور تَکَسُّریعنی لچکے توڑے کے ساتھ حرام ہے اور بغیر اِس کے اگر رِیا واِظہار کے لیے ہے تو جہنم کا مستحق ہے۔ اور اگر صادِقین کے ساتھ تَشَبُّہ بہ نیتِ خالصہ مقصود ہے کہ بنتے بنتے بھی حقیقت بن جاتی ہے تو حَسَن ومحمود ہے۔ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ جو کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ اُنہیں میں سے ہے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، باب فی لبس الشہرۃ، الحدیث4031، ج4، ص62) اِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا مِنْھُمْ فَتَشَبَّھُوْا اِنَّ التَّشَبُّہَ بِاْلکِرَامِ فَلاَحٌ اگر تم صادِقین میں سے نہ ہو تو ان کی مشابہت ہی اختیار کر لو کیونکہ اچھوں کی مشابہت میں کامیابی ہے۔[13]

تَواجُد[ترمیم]

حالت ذوق و شوق، سرور، وجد۔[14] تواجد جو اس کیفیت کی طلب کے لیے اور یہ اخلاص کے لیے ہو تو رقص میں بھی دو صورتیں ہیں اگر بیخودانہ ہے تو سلطان گیر وخراج ازخراب ( اس لیے کہ بادشاہ کسی غیر آباد اور ویران زمین میں کسی سے ٹیکس نہیں لیتا۔ ت) وہ کسی طرح زیر حکم نہیں آ سکتا اور اگر بالاختیار ہے تو پھر اس کی دو صورتیں ہیں اگر تثنی وتکسر کے ساتھ ہے تو بلاشبہہ ناجائز ہے۔ تکسر لچکاتثنی توڑا یہ رقص فواحش میں ہوتے ہیں اور ان سے تشبہ حرام۔ اور اگر ان سے خالی ہے تو اہل بیعت کو مجلس عالم ومحضر عوام میں اس سے احتراز ہی چاہیے کہ ان کی نگاہوں میں ہلکاہونے کا باعث ہے۔ اور اگر جلسہ خاص صالحین و سالکین کا ہو تو داخل تواجد ہے۔ تواجد یعنی اہل وجد کی صورت بننا، اگر معاذاللہ بطور ریا ہے تو اس کی حرمت میں شبہ نہیں کہ ریا کے لیے تو نماز بھی حرام ہے۔ اور اگرنیت صالحہ ہے تو ہر گز کوئی وجہ ممانعت نہیں، یہاں نیت صالحہ دو ہوسکتی ہے ں ایک عام یعنی تشبہ بصلحائے کرام ؎ ان لم تکونوا مثلھم فتشبھوا ان التشبہ بالکرام فلاح (اگر تم ان کی مثل نہیں ہو تو پھر ان سے مشابہت اختیار کرو کیونکہ شرفاء اور معزز لوگوں سے تشبہ کا میابی کا ذریعہ ہے۔[15] تاہم موجودہ زمانے کے صوفیاء جس طرح مصنوعی حالت اپنے اوپر طاری کر لیتے ہیں اس کا کوئی شرعی جواز نہیں اس سلسلے میں فتاویٰ عالمگیری کی صراحت بڑی چشم کشا ہے سماع قوالی اور رقص جو ہمارے زمانے کے صوفیا کرتے ہیں حرام ہے اس میں شرکت اور بیٹھنا جائز نہیں۔ یہ سماع اورنغمہ و مزامیر برابر ہے۔ بعض اہل تصوف نے اس کو جائز قرار دیا ہے اور پہلے کے مشائخ کے قول سے استدلال کیا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ ان لوگوں کا عمل ان مشائخ کے عمل سے مختلف ہے سلف کے زمانہ میں بعض اوقات ایک شعر پڑھا جاتا ،جس میں ان کے موافق حال کوءی بات ہوتی تو وہ اس شعر سے ہم آہنگی کا احساس کرتا اور جو لوگ رقیق القلب ہوتے جب وہ ایسا شعر سنتے تو بسا اوقات ہوش و حواس کھو دیتے بے اختیار کھڑے ہوجاتے اور غیر اختیاری طور پر ان سے مختلف حرکتیں صادر ہوتیں اور یہ بات مستبعد نہیں کہ یہ ان کے حق میں جائز ہو لیکن دوسروں کے لیے قابل اخذ نہ ہو مشائخ کے بارے میں یہ بات نہیں سوچی جاسکتی کہ ہمارے زمانے کے فاسق اور احکام شرع سے ناواقف لوگوں کی طرح اس فعل کے مرتکب ہوتے رہے ہوں اور اہل دین ہی کا فعل قابل پیروی ہے رقص کو فقہا نے مروت اورشروفت کے خلاف بھی مانا ہے اور ایسے شخص کی گواہی کوناقابل قبول قرار دیا ہے(فتاویٰ قاضی خان)[8] رقص اگرمعاذاﷲ بروجہ تصنّع وریاء ہے حرام قطعی وجریمہ فاحشہ ہے اور بطورلہوولعب بھی ناجائزومسقط عدالت اور تمایل کے ساتھ مثل رقص فواحش اشد حرام، نصاب الاحتساب باب سادس پھرتاتارخانیہ پھرفتاوٰی خیریہ میں ہے: مسئلۃ ھل یجوز الرقص فی السماع الجواب لایجوزوذکرفی الذخیرۃ انہ کبیرۃ ومن اباحہ من المشائخ فذٰلک الذی صارت حرکاتہ کحرکات المرتعش الخ۔[16]

سَماع[ترمیم]

معانی[ترمیم]

کان لگانا، سننا، شنید۔

مترادفات[ترمیم]

شَنْوائی، راگ، قَوّالی، شَنِید معرفت کے لیے سماع ارواح کی غذا ہے کیونکہ یہ ایک ایسا وصف ہے جو تمام اعمال سے باریک ہے اور اس باریکی کی وجہ سے رقیق طبیعت سے ہی اس کا ادراک ہوتا ہے اور چونکہ یہ اپنے اہل لوگوں کے لیے لطیف اور صاف شفاف ہے اس لیے باطن صاف ہو تو اس کا ادراک ہوتا ہے[17]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. رقص - اردو_لغت
  2. فرہنگ آصفیہ جلد دوم صفحہ363
  3. ^ ا ب وجد - اردو_لغت
  4. طالبان کا رقص کے حوالے سے موقف
  5. الموسوعة الفقهية الكويتية وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت
  6. رد المحتار على الدر المختارالمؤلف: محمد أمين بن عمر بن عبد العزيز عابدين الدمشقي الحنفي الناشر: دار الفكر بيروت
  7. فتاوی رضویہ احمد رضاخان جلد 99 صفحہ 99رضا فاؤنڈیشن لاہور
  8. ^ ا ب قاموس الفقہ جلد سوم صفحہ491خالد سیف اللہ رحمانی زمزم پبلشر
  9. فتاویٰ حقانیہ مولانا عبد الحق جلد 1ص 194دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک
  10. فتاوی رضویہ احمد رضاخان جلد 11 صفحہ 110رضا فاؤنڈیشن لاہور
  11. فرہنگ آصفیہ جلد چہارم صفحہ645
  12. احیاء علوم الدین امام غزالی صفحہ 640 پروگریسو بک لاہور
  13. ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت صفحہ 231 مولانااحمد رضاخان
  14. تواجد - اردو_لغت
  15. فتاوی رضویہ احمد رضاخان جلد 22 صفحہ 551 تا552رضا فاؤنڈیشن لاہور
  16. فتاوی رضویہ احمد رضاخان جلد 24 صفحہ 89رضا فاؤنڈیشن لاہور
  17. احیاء علوم الدین امام غزالی صفحہ 659 پروگریسو بک لاہور