اسم صفت کی اقسام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسم صفت کی چھ اقسام ہیں۔ صفت ذاتی، صفت تفضیلی، صفت نسبتی، صفت عددی، صفت مقداری اور صفت مقداری معین۔ صفت تفضیلی کے تین درجے، تفضیل نفسی، تفصیل بعض اور تفصیل کُل ہوتے ہیں۔

اسم صفت کی اقسام[ترمیم]

اسم صفت کی چھ اقسام ہیں

  1. صفت ذاتی
  2. صفت تفضیلی
  3. صفت نسبتی
  4. صفت عددی
  5. صفت مقداری
  6. صفت مقداری معین

صفت ذاتی کا مفہوم[ترمیم]

ایسا صفت جو اپنے موصوف کی ذاتی خصوصیات کو بیان کرے اُسے صفت ذاتی کہتے ہیں۔

یا

وہ اسم جو اپنے موصوف کی ذاتی فضیلت یا خصوصیات کو بیان کرے اُسے صفت ذاتی کہتے ہیں۔ صفت ذاتی کو صفت مشبہ بھی کہتے ہیں۔

مثالیں

دانا، شریف، شریر، بہادر، بزدل، امیر، غریب، دولت مند، وغیرہ

عمران بہت دانا ہے، جھگڑالو آدمی سے بچو، اکرم محنتی لڑکا ہے، فصیح شریف لڑکا ہے۔ اِن جملوں میں دانا، جھگڑالو، محنتی اور شریف اسم صفت ذاتی ہیں۔

صفت تفضیلی کے درجے[ترمیم]

صفت تفضیلی کے تین درجے ہوتے ہیں۔

  1. تفضیلِ نفسی
  2. تفضیل بعض
  3. تفضیل کُل

صفت تفضیل نفسی[ترمیم]

جب کسی دوسرے شخص یا چیز سے مقابلہ کیے بغیر کسی شخص یا چیز کی ذاتی صفت بیان کی جائے تو ایسے صفت کو تفضیل نفسی کہتے ہیں۔

یا

یہ صفت نفسی کا وہ درجہ ہے جس میں کسی شخص یا چیز کا دوسرے سے مقابلہ کیے بغیر موصوف کی صفت بیان کی جاتی ہے۔

مثالیں

ثاقب بہادر لڑکا ہے، منتظرنیک لڑکا ہے۔ اِن جملوں میں بہادر اور نیک تفضیل نفسی ہیں جو صفت کے پہلے درجات ہیں۔

تفضیل بعض[ترمیم]

جب دو ہم جنس چیزوں کا مقابلہ کرنے کے بعد ایک کو دوسری سے گھٹایا جائے یا بڑھایا جائے تو ایسے صفت کو تفضیل بعض کہتے ہیں۔

یا

یہ صفت ذاتی کا وہ درجہ ہے جس میں کسی خاص صفت کے لحاظ سے ایک موصوف کا دوسرے موصوف سے مقابلہ کرنے کے بعد ایک کو دوسرے سے گھٹایا جائے یا بڑھایا جائے اسے صفت بعض کہتے ہیں۔

مثالیں

اکرم، اسلم سے زیادہ بہادر ہے، عمران، عرفان سے زیادہ نیک ہے۔ اِن جملوں میں زیادہ بہادر، زیادہ نیک تفضیل بعض ہیں اور یہ صفت کے دوسرے درجات ہیں۔

تفضیل کُل[ترمیم]

یہ صفت ذاتی کا وہ درجہ پے جس میں کسی خاص صفت کے لحاظ سے ایک موصوف کو سب سے بڑھایا جائے تو صفت ذاتی کے اِس درجے کو تفضیل کُل کہتے ہیں۔

یا

جب ایک چیز کو اُس کی تمام ہم جنس چیزوں ے بڑھایا یا گھٹایا جائے تو اسے تفضیل کُل کہتے ہیں۔

مثالیں

عدیل سب لڑکوں سے لائق ہے، اِس طرح زیادہ لائق، بہت لائق، لائق تر تفضیل کُل ہیں۔

صفت نسبتی[ترمیم]

صفت نسبتی اُس صفت کو کہتے ہیں جو کسی اسم کا کسی شخص، چیز یا جگہ سے تعلق یا نسبت ظاہر کرے۔

یا

صفت نسبتی وہ صفت ہوتی ہے جو کسی شخص یا چیز کا تعلق کسی دوسرے شخص، مقام یا چیز سے ظاہر کرے۔

مثالیں

ایرانی قالین، ترکی ٹوپی، پاکستانیفوج، عربی لباس، پہاڑی چشمہ، ریشم کا کیڑا، پاکستانی، لاہوری۔ عربی وغیرہ

چند صفات نسبتی
اسم صفت نسبتی اسم صفت نسبتی اسم صفت نسبتی
پاکستان پاکستانی لاہور لاہوری سائنس سائنسی
ایران ایرانی عمل عملی ہوا ہوائی
دریا دریائی دہلی دہلوی علم علمی
دُنیا دُنیاوی جسم جسمانی روح روحانی
نور نورانی ارض ارضی یورپ یورپی

صفت عددی[ترمیم]

صفت عددی اُس اسم صفت کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کی گنتی اُس چیز کے رتبے یا درجے کے لحاظ سے معلوم ہو۔

یا

صفت عددی وہ صفت ہوتی ہے جس میں کسی اسم کی تعداد، گنتی یا ترتیب ظاہر ہو۔

مثالیں

عدنان نے پانچ کلو آم خریدے، منتظر نے دس سوال حل کیے، آج چاند کی گیارھویں ہے، اسلم کے پاس نو کتابیں ہیں، عرفان ساتویں جماعت کا طالب علم ہے، یہ کمرا اُس کمرے سے دو گُنا بڑا ہے، عقیل کو لاہور آئے دسواں سال ہے۔ اِن جملوں میں پانچ، دس، گیارھویں، نو، ساتویں، دو گُنا، دسواں صفت عددی ہیں۔

صفت مقداری[ترمیم]

ایسے تمام الفاظ جو کسی چیز کی مقدار کو ظاہر کریں صفت مقداری کہلاتے ہیں۔

یا

صفت مقداری وہ صفت ہوتی ہے جس میں کسی اسم کی مقدار کو ظاہر کیا جائے۔

مثالیں

انور نے ایک کلو آم خریدے، نیلم کی طبعیت کچھ خراب ہے، تھوڑا انتظر کرو، ایک لٹر دودھ لائو۔ اِن جملوں میں کلو، کچھ، تھوڑا، لٹر صفت مقداری ہیں۔

صفت مقداری معین[ترمیم]

صفت مقداری معین وہ اسم صفت ہے جو کسی چیز کی معین مقدار کو ظاہر کرے۔

مثالیں

پائو بھر، سیر بھر، کلو بھر وغیرہ

حوالہ جات[ترمیم]

[1][2]

  1. آئینہ اردو قواعد و انشاء پرزادی
  2. آئینہ اردو