اصلاح نفس کا آئینہ حق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اصلاح نفس کا آئینہ حق
سرورق طبع شدہ کتاب
مصنف شیخ اکبر محی الدین محمد ابن العربی
اصل عنوان روح القدس فی مناصحة النفس
مترجم اردو: ابرار احمد شاہی
ملک Flag of Syria.svg سوریہ
زبان عربی
موضوع تصوف
صنف اسلامی تصوف
ناشر اردو:ابن العربی فاؤنڈیشن پاکستان،

روح القدس شیخ اکبر کی کتابوں میں ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہے ؛ یہ آسان ہے، کیونکہ اس میں واقعات سے بات سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں تصوف کو معاشرتی پہلو سے جوڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں آپ نے اپنے دور میں موجود تصوف کی خرابیوں کی طرف نہ صرف اشارہ کیا ہے بلکہ اُن نام نہاد صوفیوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے جو دنیاوی یا نفسانی اغراض کے لیے تصوف کا لبادہ اوڑھے بیٹھے ہیں۔ پھر آج کل، بلکہ شروع سے ہی یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ معاشرے کا کوئی طبقہ – چاہے وہ صوفیا اور ان سے متعلق لوگ ہی کیوں نہ ہوں – کسی قاعدے کا پابند ہونا ہی نہیں چاہتا بلکہ زیادہ تر لوگ تو ایسی پابندیوں کو اپنے لیے باعث آزار سمجھتے ہیں۔ بیشک جنید بغدادی  بھی حق بجانب تھے جب انہوں نے کہا “اب تصوف ایک جام، ایک گدی اور ایک چوغہ ہو گیا، اب تصوف ایک نعرہ ایک وجد اور ایک رسم ہو گیا۔ ” امام قشیری  کا یہ قول بھی حق ہے : “ہمارے زمانے میں اہل طریقت کا صرف نشان ہی باقی رہ گیا ہے۔ طریقت میں کمزوری آ گئی، نہیں بلکہ طریقت در حقیقت مٹ گئی۔ ” اور شیخ اکبر بھی سچ کہتے ہیں کہ اہل سماع اور وجد نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے۔ یہ اس لیے کہ ان لوگوں کی ہمیشہ یہی کوشش رہی کہ لوگوں کو ایک قاعدے میں لایا جائے۔

کتاب کے پانچ حصے[ترمیم]

اس کتاب کی خصوصیت ہی یہی ہے کہ شیخ اکبر نے اس کتاب میں مختلف طریقوں سے دین اور تصوف کے اسی ظاہری اور سماجی پہلو کو باطنی پہلو کے ساتھ ساتھ اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ کتاب کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر حصے کو کتاب میں ایک مناسب ترتیب سے لایا گیا ہے۔ جس طرح کسی کھیتی کو تیار کرنے کے لیے مختلف مراحل میں مختلف قسم کے کام کرنا پڑتے ہیں ویسے ہی اس نفس کو قابو کرنے کے لیے کبھی جذبات کا سہارا لینا پڑتا ہے کبھی واقعات سے عبرت دلانی پڑتی ہے اور کبھی دلیل اور حجت سے اس کا منہ بند کرنا پڑتا ہے۔ شیخ اکبر نے اس کتاب میں یہ تمام ذرائع استعمال کیے ہیں جس کی وجہ سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نفس کو راہ پر لانے کے لیے یہ ایک حکیم حاذق کا نسخۂ کیمیا ہے۔ کتاب کے مختلف حصوں کا بنیادی تعارف کچھ یوں ہے :

پہلا حصہ[ترمیم]

کتاب کے پہلے حصے میں طریقت اور اہل طریقت کی خرابیوں اور کوتاہیوں کی جانب توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔ نام نہاد صوفیا، جعلی پیر یا وہ لوگ جنہوں نے نفس کے جھانسے میں اس تصوف کو دنیاداری کا ذریعہ بنا رکھا ہے ان کو شرم دلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ معاصرین کا حال کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے اور متقدمین کے احوال سے ان کا موازنہ کیا گیا ہے بلکہ یوں کہیے کہ نفس سے مناظرے کے لیے میدان تیار کیا گیا ہے۔

دوسرا حصہ[ترمیم]

کتاب کا دوسرا حصہ نفس سے مناظرے پر مبنی ہے جس میں صحابہ کرام میں سے دس گواہ لائے گئے ہیں اور ہر ایک گواہی کو ایک دلیل کے طور پر نفس کے سامنے پیش کیا گیا ہے اور اس گواہی پر نفس کا جواب اور رد عمل طلب کیا گیا ہے۔ ان دس کی دس گواہیوں میں فقر و فاقہ، عاجزی اور انکسار، اللہ کی رضا، دین پر ڈٹ جانا اور دنیا سے منہ موڑ لینے جیسے مضامین ملتے ہیں۔ بعض اوقات نفس کے پیچید ہ سوالوں کے آسان فہم جوابات بھی دیے گئے ہیں۔ آخر میں ایک حدیث کو نہایت ہی ادیبانہ انداز میں پیش کر کے دنیا میں پیش آنے والی تکالیف کی حقیقت واضح کی گئی ہے تا کہ یہ نفس ان حقائق سے آگاہ ہو اور پھر اس پر ان سب باتوں کا قبول کرنا آسان ہو۔ اس حصے کے آخر میں جب نفس نے فرماں برداری قبول کر لی تو اس کا دل بہلانے، اس کی ہمت بندھانے اور حوصلہ افزائی کے لیے حضرت اویس قرنی کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔

تیسرا حصہ[ترمیم]

کتاب کا تیسرا حصہ شیخ اکبر کے شیوخ کے واقعات پر مشتمل ہے۔ یہ واقعات اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ زمانہ کبھی بھی نیک اور صالح ہستیوں سے خالی نہیں ہوتا۔ نفس کو یہ ترغیب دلائی گئی ہے کہ ان نیک ہستیوں کی صحبت اختیار کرنا، ان کا ادب کرنا اور ان کے اخلاق سے سیکھنا ہی اس راہ میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ ان بزرگوں کے احوال بیان کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیا گیا بلکہ واقعاتی پیرائے میں حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ حصہ کتاب میں سبق آموز حکایات کی سی حیثیت رکھتا ہے جو نفس کو طاعت کے بعد نیک عمل پر اکساتا ہے۔

چوتھا حصہ[ترمیم]

چوتھا حصہ کتاب کا نچوڑ ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ شیخ نے اس حصے میں اپنا منہج یکسر تبدیل کیا ہے پہلے حصے میں آپ نے نفس کی کوتاہیوں کو سامنے کیا یہ وہ حالت تھی جب نفس آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ تھا ایسی صورت میں وہ نصیحت کیسے قبول کر سکتا ہے۔ دوسرے حصے میں نفس سے مناظرہ تھا۔ ظاہر سی بات ہے مناظرے میں تو ہر کوئی اپنی بات کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اگر وہ سامنے والے مناظر کی بات قبول کرے بھی تو بس رسمی طور پر قبول کرتا ہے لہذا اس حصے میں بھی نصیحت اس طرح اثر انداز نہیں ہو سکتی تھی۔ اب چونکہ دوسرے حصے کے آخر میں نفس نے فرماں برداری اور اطاعت شعاری کا اعلان کیا تو اب موقع تھا کہ اس کو نصیحت کی جائے چنانچہ تیسرے حصے میں اپنے شیوخ کے احوال کا تذکرہ کر کے اس کے سامنے ایک نمونہ عمل رکھا گیا اور اسے محبت اور جذبات سے مغلوب کرنے کی کوشش کی گئی لیکن یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ جذبات اور محبت کے تحت عمل میں جان اسی وقت تک رہتی ہے جب تک یہ محبت اور جذبات قائم رہیں جیسے ہی ان جذبات میں فرق آتا ہے ان کے نتائج اور اعمال میں بھی فرق آنے لگتا ہے۔ تو لازمی تھا کہ نفس کو مکمل حقائق اور علم سے مغلوب کیا جائے تا کہ وہ صرف جذباتی عمل ہی نہ کرے بلکہ پوری بصیرت پر ہو اور ایسی حالت میں اب کوئی اسے اس راہ پر چلنے سے ہٹا نہیں سکے گا۔ یہ حصہ انہی حقائق اور معارف پر مبنی ہے جس میں انسان اور اس کائنات کی حقیقت کو کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ باری تعالیٰ ربُ العزت کی جانب سے انسان کا دوسری مخلوقات پر فضل ثابت کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ کس طرح ہر چیز انسان میں موجود ہے اور کس طرح انسان سے اس ہر چیز کی عبادت چاہی گئی ہے۔ پھر کیا احسان کا بدلہ احسان نہیں والی آیت کے تحت اللہ تعالی کے اُن اَن گنت احسانات کو دہرایا گیا ہے جو انسان سے اُس ذات کا شکر گزار ہونے اور اُس کی عبادت کا تقاضا کرتے ہیں۔ اسی حصے میں راہ طریقت اور حقیقت کی ایک رمزکا – یعنی کہ انسان میں رمز الوہیت کا ہونا – بھی ذکر کیا گیا ہے۔ انسان میں اس رمز کے ہونے کی علامات، اس کے نقصانات اور اس سے لاحق بیماریوں اور ان کے علاج کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ یعنی سادہ الفاظ میں توحید اور شرک کا حقیقی مفہوم بیان کیا گیا ہے۔

پانچواں حصہ[ترمیم]

5. کتاب کا پانچواں حصہ نصیحت اور وصیت پر مبنی ہے۔ ایام گم گشتہ میں ہونے والی کوتاہیوں پر آہ و زاری کی گئی ہے اور عمر قصیر و پُر تقصیر کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ اپنے نفس کو اللہ سے شرم دلائی گئی ہے اور اس کتاب کو اللہ کا احسانِ عظیم اور بابرکت تحفہ کہا گیا ہے۔ اس حصے میں ایک طویل حدیث ذکر کر کے دنیا میں اولیا اللہ کو پیش آنے والی مشکلات کا ایک نقشہ کھینچا گیا ہے اور نفس کو یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر اُس نے اللہ کی راہ پر چلنا ہے تو صرف یہی ایک راستہ ہے جس پر اللہ اپنے انبیا اور اولیا کو چلاتا ہے، بلکہ دوسرے الفاظ میں اسے ایک نئے سفر کے لیے تیار کیا گیا ہے جو سفر طریقت ہی ہے۔ یوں اس مقام پر یہ کتاب اختتام پزیر ہوتی ہے لیکن ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ شیخ اکبر نے اپنے یار شیخ المہدوی کی خاطر اس کتاب کے آخر میں حروف اور ان کے اسرار و رموز سے متعلق اپنے وہ اشعار بھی شامل کر دیے ہیں جو آپ نے فتوحات مکیہ میں درج کیے ہیں۔ ان اشعار کو یہاں درج کرنے کا مقصد شاید یہی تھا کہ چونکہ یہ رسالہ فوراً ہی شیخ المہدوی کی طرف روانہ کرنا تھا تو آپ نے یہ مناسب سمجھا کہ حقائق اور معارف سے لبریز ان اشعار کو بھی اس میں شامل کر دیا جائے تا کہ شیخ المہدوی بھی اسرار کے پردے تلے چھپے انوار سے فیض یاب ہو سکیں۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ انہی اشعار کے اختتام پر شیخ اکبر نے لکھا ہے کہ اب پانچواں حصہ مکمل ہوا اور یوں کتاب مکمل ہوئی، چنانچہ یہ اشعار اس کتاب کاحصہ ہیں اور ان کو کسی صورت اس سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔

بیرونی روابط[ترمیم]

ناشر : ابن العربی فاونڈیشن پاکستان

حوالہ جات[ترمیم]