افضال احمد (اداکار)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

افضال احمد (انگریزی: Afzaal Ahmad) پاکستانی راؤنڈ فلم اداکار تھا، جو پاکستانی تھیٹر اور سنیما میں ایک اہم شخصیت تھا۔ انہوں نے اس وقت کے قابل ذکر کھیلوں کے ساتھ کام کیا۔ انہیں پاکستانی سنیما کے ساتھ ساتھ دیگر پاکستانی اور بین الاقوامی فلم صنعتوں میں غیر معمولی کردار ادا کیے۔ افضال احمد نے 1968ء اور 2012ء کے درمیان 384 سے زائد فلموں میں کام کیا اور لولی وڈ میں سب سے زیادہ کامیاب ھلنایک میں سے ایک تھا۔ انہوں نے فلمی کیریئر کی شروعات پاکستانی لولی وڈ فلم ” دھوپ اور سویرا “ سے کی۔ جو 1968ء میں ریلیز ہوئی، 60ء کی دہائی میں اپنی آواز کے ذریعے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا۔ ان کی چند فلمیں یہ ہیں ’’ہاشو خان، انسان اور گدھا، پہلاوار، خبردار، سدھا رستہ، سستا خون مہنگا پانی، بابل صدقے تیرے، شریف بدمعاش، وحشی جٹ، ہتکھڑی، شوکن میلے دی، دو سوہنی مہیوال، جیرا سائیں، حاجی کھوکھر، رنگا ڈاکو، گوگا شیر، وحشی گجر، قربانی، چن وریام، مفت بر، قانون شکن، چڑھدا سورج، دیس پردیس، لگان، عجب خان، غلامی، باغی سپاھی، یہ آدم، پتر جگے دا‘‘ اور ’’ریاض گجر‘‘ کے علاوہ بھی بے شمار فلمیں ہیں جن میں انہوں نے کام کیا۔ فلم انڈسٹری پر کئی عشروں تک راج کرنے والے افضال احمد نے جہاں فلموں میں اداکاری کے اَن مٹ نقوش چھوڑے ہیںوہاں ان کی تھیٹر کے لیے خدمات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے پاکستان میںتھیٹر کونئی جہت دی اور جدید تھیٹر روشناس کرایا۔ وہ پاکستانی سٹیج ڈراموں کو عالمی معیارتک لے جانے کے خواہش مند تھے مگر 22 نومبر 2001ء کو فالج کے حملے نے ان کی آواز کو متاثر کر دیا تاہم وہ قوت گویائی سے محروم ہونے کے باوجود تھیٹر کی ترقی و ترویج کے لیے آج بھی پرعزم ہیںاور تھیٹر کو ایک بار پھر جگمگاتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ این سی اے سے فائن آرٹس میں گریجویٹ ہیں۔ اپنے بھائی کی ترجمانی کرتے ہوئے انہوںنے بتایا کہ اپنا ذاتی تھیٹر ہال افضال احمد کا ایک خواب تھا جس کا ماڈل وہ لندن سے بنواکر لائے تو سب سے پہلے انہیں دکھایا اور اس کے شروع ہونے سے لے کر تکمیل تک ان سے مشاورت کرتے رہے۔ تماثیل کے ریسٹورنٹ کاشیش محل انہوں نے افضال احمد کے ساتھ مل کر ڈیزائن کیا تھا اور ڈراما ’’جنم جنم کی میلی چادر ‘‘ کے سیٹ کی ڈیزائنگ بھی انہوں نے کی۔ وہ دونوں شیش محل میں لگائی گئی لکڑی اور کشیدہ کاری کے نمونوں کا انتخاب کرنے کے لیے چنیوٹ گئے تھے۔ تماثیل ہماری والدہ، افضال احمد اور ان کی برسوں کی محنت اور کوششوں کی بدولت وجود میں آیا ہے۔ افضال احمد نے پاکستان میںجدید تھیٹر کے قیام کے لیے شب و روز محنت کی۔ تھیٹر کی تعمیر کے دوران وہ اکثر شوٹنگ میں مصروف ہوتے تو والدہ تمام کاموںکی نگرانی کیا کرتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے تھیٹر میں پہلا ڈراما’’محبتوںکے مسافر‘‘ کا پیش کیا گیا جس کی ڈائریکٹر تجمل ظہوربالم تھے۔ اس ڈرامے کو شائقین کی جانب سے بہت پزیرائی ملی تاہم کچھ عرصے بعد جب اداکار امان اللہ اور دیگر فن کاروںکی ایک الگ ٹیم بن گئی تو آرٹسٹوں کی عدم دست یابی کے باعث تین برس تک تھیٹر کو نقصان برداشت کرنا پڑا۔ پھر افضال احمد نے آغا حسن امتثال، ناصر ادیب اور محمد پرویز کلیم سے’’جنم جنم کی میلی چادر‘‘ کا سکرپٹ تیار کروایا وہ سکرپٹ لکھوانے کے لیے تینوں مصنفین کو الگ الگ بٹھانے کا اہتمام کرتے تھے۔ انہوں نے ڈرامے کے لیے نئے فن کاروںپر محنت شروع کی۔ ڈرامے کی 6 ماہ تک ریہرسل ہوتی رہی اس دوران تمام فنکاروں کو معاوضہ باقاعدگی کے ساتھ ادا کیا جاتا رہا، جب ڈرامے کو پیش کیا گیا تو کام یابی کا ریکارڈ قائم گیا ہو جسے آج تک کوئی نہیں توڑ سکا۔ افضال احمد تھیٹر کے فروغ کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں انہوں نے لائیٹ افیکٹس اور تھیٹر کی ڈیزائننگ کے لیے آسٹریلیا اور برطانیہ کے ماہرین کی خدمات حاصل کی تھیں۔ سردار کمال ،عجب گل ،مدیحہ شاہ ،میگھا ،چاندنی ، سخاوت ناز اور بہت سے فنکاروں کو ایک بڑا پلیٹ فارم مہیا کیا تاہم فالج کے اٹیک نے ان کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا اور ان کے کئی منصوبے پہ یہ تکمیل تک پہنچ نہ پائے۔ افضال احمد کو شروع شروع میںتو ان کی عیادت کے لیے فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ آتے تھے مگر آہستہ آہستہ ان کی توجہ کم ہو گئی۔ مرحوم خواجہ پرویز ان کے گہرے دوست تھے وہ جب بھی ان سے ملنے گھر آتے تو کسی نہ کسی گلوکار کو ساتھ لے کر آتے اور گھر میں موسیقی کی محفل سج جاتی۔ اداکار محمد علی مرحوم بھی جب تک حیات رہے ان کی خبر گیری کرتے رہے۔ ندیم جب کبھی لاہور آتے ہیں وہ ان سے ضرور ملتے ہیں۔ ہدایت کار سید نور اور عرفان کھوسٹ نے انہیں کبھی فراموش نہیں کیا وہ ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ سید نور نے انہیں اپنی دوفلموں میں کاسٹ کیا۔ کچھ عرصہ قبل ریلیز ہونے والی فلم ’’شریکا ‘‘میں شائقین نے ان کی اداکاری کو بہت سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ افضال احمد ورسٹائل اداکار ہیں اور انہوں نے ایک عرصہ تک فن کی خدمت کی لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ انہیں پرائیڈ آف پر فارمنس سے نوازے۔

بیرونی روابطہ[ترمیم]