امراؤ جان ادا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
امراؤ جان ادا
مصنف مرزا محمد ہادی رسوا
اصل عنوان امراؤ جان ادا
ملک برطانوی راج
زبان اردو
صنف ناول
تاریخ اشاعت
1899
تاریخ اشاعت انگریری
1970

امراؤ جان ادا مرزا محمد ہادی رسوا لکھنوی (1857–1931) کا معرکہ آرا معاشرتی ناول ہے جس میں انیسویں صدی کے لکھنؤ کی سماجی اور ثقافتی جھلکیاں بڑے دلکش انداز میں دکھلائی گئی ہیں۔ لکھنؤ اُس زمانے میں موسیقی اور علم و ادب کا گہوارہ تھا۔ رسوا نے اس خوب صورت محفل کی تصویریں بڑی مہارت اور خوش اسلوبی سے کھینچی ہیں۔ اس ناول کو ہمارے ادب میں ایک تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ عبد الحلیم شرر کے خیالی قصوں اور نذیر احمد دہلوی کی اصلاح پسندی کے خلاف یہ ناول اردو ناول نگاری میں زندگی کی واقعیت اور فن کی حسن کاری کو جنم دیتا ہے۔

یہ ناول سنہ 1899ء میں پہلی بار منظر عام پر آیا۔

فنی جائزہ[ترمیم]

کردار نگاری[ترمیم]

فنی لحاظ سے ناول امراؤ جان ادا میں بہت زیادہ کردار ہیں۔ ناول کا مطالعہ کرتے ہوئے احساس ہونے لگتا ہے کہ اس ناول میں قدم قدم پر نئے نئے کردار رونما ہوتے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ کرداروں کے نام ان گنت ہو کر رہ گئے ہیں۔ اتنے زیادہ کردار شاید ہی اردو کے کسی ناول میں ہوں۔ لیکن اتنے زیادہ کردار ہونے کے باجود کرداروں کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے ہر لحاظ سے مکمل نباہ کیا گیا ہے۔ رسوا کے ہاں اس ناول میں بڑا کردار ہو یا چھوٹا کردار، ناول نگار نے اسے اپنے تمام تر نفسیات و جذبات، عادات و اطوار، خاندانی پس منظر اور موجودہ حیثیت و عمر کے ساتھ پیش کر دیا ہے۔

امراؤ جان ادا[ترمیم]

ناول کا سب سے بڑا کردار امراؤ کا ہے۔ اس کی اہمیت مسلم ہے۔ وہ قصے کی ہیروئن ہے۔ اس لیے پورے قصے پر چھائی ہوئی ہے۔ بقول ڈاکٹر میمونہ انصاری:

امراؤ جان ادا کا کردار اردو زبان میں اہم ترین کردار ہے۔ یہ پہلا سنجیدہ کردار ہے جو اپنی زندگی کا ضامن ہے۔ اب تک اس کردار کا ثانی کردار تخلیق نہیں ہوا۔

امراؤ جان پیدائشی طوائف نہ تھی، وہ شریف ذادی تھی اور شریف گھرانے میں پیدا ہوئی تھی۔ دس برس تک شریف والدین کے زیر سایہ زندگی بسر کی۔ پھر ایک منتقم مزاج شخص کے انتقام کی بھینٹ چڑھ کر اغوا ہوئی اور خانم کے کھوٹے پر پہنچی جہاں تعلیم و تربیت پا کر طوائف بنا دی گئی۔ شاعرہ تھی، ادب سے مس تھا۔ قبول صورت تھی، رقص و سرور میں ماہر تھی۔ ان خوبیوں کی بنا پر خاصی مشہور ہوئی۔ جہاں جاتی سر آنکھوں پر بٹھائی جاتی۔ امراؤ جان ادا کے کردار پر مراز رسوا نے بڑی محنت کی ہے۔ امراؤ کے کردار میں تدریجی تبدیلیاں دراصل اس کی فطرت کے شریفانہ جوہر کی پیداوار ہیں۔ یہ جوہر اسے ورثہ میں ملا تھا۔ اب اس کی زندگی میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب وہ چکلے کے گھناونے ماحول سے متنفر ہو چکی ہے اور اسے رنڈی بن کر جینا پسند نہیں۔ اس کردار کا یہ ارتقا اس کی شخصیت و کردار میں عجیب مقناطیسی کشش پیدا کر دیتا ہے اور وہ قاری کی نظر میں مطعون اور مقہور ہونے کی بجائے رحم اور ہمدردی کی مستحق ٹھہرتی ہے۔ آخری عمر میں وہ سب کچھ ترک کر دیتی ہے۔ اور عام لوگوں سے بھی ملنے جلنے سے احتراز کرتی ہے۔ اور نماز روزے کی سختی سے پابندی کرنے لگتی ہے۔ آخری عمر میں کربلائے معلی کی زیارت سے بھی فیض یاب ہوئی۔ اس طرح اس کردار کی تشکیل میں رسوا نے گہرے نفسیاتی مطالعے سے کام لیا ہے۔

خانم[ترمیم]

خانم کا کردار اس ناول میں ایک خاص مقام کا حامل ہے۔ اپنے کردار کے حوالے سے گناہ کی دنیا میں وہ ایک سردار اور پیش رو کی حیثیت رکھتی ہے۔ ناول کی فضا میں خانم جان نوابین کے لیے قدم قدم پر سامان تعیش فراہم کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ملک کے طول و عرض سے بہلا پھسلا کر لائی گئی یا اغوا شدہ لڑکیوں کو اونے پونے داموں خرید لینا خانم کا شیوہ ہے۔ وہ اپنے مکروہ عزائم اور ناپاک ارادوں کی تکمیل کی غرض سے خریدی ہوئی لڑکیوں کی پرورش کرتی ہے۔ جوان ہو جانے پر وہ ان کی آبرو کی دکان لگاتے ہوئے اپنا کاروبار چمکاتی ہے۔ اس کے کردار میں تضاد بھی پایا جاتا ہے؛ ایک طرف تو وہ طوائفوں کو قرآن پڑھانے کے لیے مولوی کا انتظام کرتی ہے اور دوسری طرح اس گھناؤنے دھندے پر بھی انھیں مجبور کرتی ہے۔ وہ ایک مکار عورت ہے اور مکمل طوائف بھی۔ پیسے کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتی ہے، حتیٰ کہ اپنی بیٹی کی تربیت بھی انہی خطوط کرتی ہے۔

بسم اللہ جان[ترمیم]

یہ خانم کی بیٹی ہے، اسی وجہ سے بسم اللہ جان کو ہم خاندانی طوائف کہہ سکتے ہیں۔ دوسری نوچیوں کے مقابلے میں اس پر اپنی ماں کا بہت زیادہ اثر ہے۔ چنانچہ دوسری طوائفوں کی نسبت اپنے پیشے میں یہ سب سے زیادہ کامیاب ہے۔

خورشید جان[ترمیم]

جہاں تک خورشید جان کا تعلق ہے وہ امراؤ جان ادا کی طرح ایک شریف گھرانے کی بیٹی ہے۔ کسی زمیندار کی لڑکی ہے اغوا کرکے لکھنؤ کے شہر میں خانم کے ہاتھ بیچ دی جاتی ہے اور خانم اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اس کے کردار میں تھوڑا بہت تضاد بھی ہے۔ کبھی تو ناول نگار اسے خوبصورت کہنے کے ساتھ ساتھ ناچ گانے کی ماہر ثابت کرتا ہے مگر کبھی کہتا ہے کہ خوبصورت مگر ناچنے گانے میں پھوہڑ، بہر حال اس کی رگوں میں شریف خاندان کا خون ہے۔ گناہ کے دھندے کو تہ دل سے قبول نہیں کرتی۔

گوہر مرزا[ترمیم]

گوہر مرزا بنو ڈومنی کا بیٹا ہے۔ اس کی عادات و اطوار، حرکات و سکنات، نشست و برخاست اور گفتگو سے اس کے خاندانی پس منظر کا ثبوت ملتا ہے۔ یہ وہ کردار ہے جس کاکوئی ضمیر نہیں، پرلے درجے کا شرارتی، بیکار اور بے غیرت قسم کا کردار اگر کوئی ہے تو گوہر مرزا ہے۔

نواب سلطان[ترمیم]

نواب سلطان کے کردار میں خاندانی وجاہت اور شرافت کا عنصر پایا جاتا ہے۔ ٹھیک ہے وہ چھپتے چھپاتے، اندھیرے میں امراؤ جان سے ملنے آتے ہیں جو ایک بدی ضرور ہے لیکن انہیں اس کا احساس بھی ہے۔ نواب سلطان کے کردار میں ہمیں ایسا کردار نظر آتا ہے جو دوسروں پر اپنی شرافت و نیک نامی ثابت کرتا ہے۔ بے شک بہت سی دیگر خصلتوں کے پیش نظر نواب سلطان ایک شریف انسان ہے۔ لیکن ہم یہ ضرور کہیں گے کہ طوائف کے کوٹھے پر جانا اُن کے کردار کا ایک بہت بڑا عیب ہے۔

نواب چھبن[ترمیم]

مصنف نے ان کی گوری رنگت، کسرتی بند اور بسم اللہ جان کا دم بھرنے کا نقشہ کھینچا ہے۔ اس سے نواب چھبن کے ظاہری خد و خال ہماری آنکھوں کے سامنے پھر جاتے ہیں۔ بسم اللہ جان کے دام میں اس قدر پھنسا ہوا ہے کہ اپنی منگیتر بڑے چچا کی بیٹی کو بھی ٹھکرانے پر تلا ہوا ہے۔ لیکن یہ بھی ہے کہ نواب چھبن کا ضمیر اور غیرت کس قدر زندہ ہے۔ اس لیے خانم کی طعن و تشنیع سے دل برداشتہ ہو کر پانی میں ڈوب مرنے کی ٹھان لیتا ہے۔ مگر زندہ بچ جانے کے باوجود دوبارہ خانم کے نگار خانے پر حاضری نہیں دیتا۔

پلاٹ[ترمیم]

ناول کا پلاٹ انتہائی رواں دواں سیدھا سادہ اور ہرقسم کی پیچیدگی سے مبرا ہے۔ کہانی کے سبھی حالات و واقعات ایک خاص تسلسل کے ساتھ یکے بعد دیگرے ظہور پزیر ہوتے چلے جاتے ہیں اور قاری کے ذہن پر مختلف نقوش ثبت کرتے رہتے ہیں۔ ناول کے پلاٹ میں سے گزرتے ہوئے ہماری آنکھوں کے سامنے مختلف حالات و واقعات مختلف اوقات میں وقوع پزیر ہوتے رہتے ہیں۔ مختلف مناظر اور نظارے پل بھر کے لیے بہار دکھاتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ مختلف زندگیاں مختلف کردار کی صورت میں اپنی اپنی بولی بول کر اوجھل ہو جاتی اور پڑھنے والے کو سوچوں کی اتھاہ گہرائیوں میں چھوڑ جاتی ہیں۔ ناول کے پلاٹ میں ایک ہی قصے کے باوجود بہت سے چھوٹے چھوٹے واقعات ہیں جو باہم مربوط ہو کر ایک بڑی کہانی تشکیل دیتے ہیں۔ امراؤ جان کے اغوا سے لے کر آخر تک تمام واقعات فنکارانہ مہارت و چابک دستی سے باہم منسلک کر دیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ناول میں خرابی یا جھول محسوس نہیں ہوتا۔

اسلوب[ترمیم]

ناول نگارنے سادہ سلیس عبارت سے کام لیا ہے جو پڑھنے والے کو ذہنی دباؤ یا اکتاہٹ سے دور رکھتا ہے۔ سادہ و سلیس عبارت کے نتیجے میں یہ ناول انتہائی پر کشش اور دلآویز دکھائی دیتا ہے۔ جابجا چبھتے ہوئے فقرے سونے پر سہاگے کا کام دیتے ہیں۔ ناول کے حالات و واقعات سبھی عوامی ہیں۔ سادہ وسلیس عبارت نے ناول کو اور بھی ادبی بنا دیا ہے۔

تجسّس و جستجو[ترمیم]

ناول میں قدم قدم پر بلا کی سنسنی خیزی پائی جاتی ہے۔ اغوا کے دوران میں بات بات پر امراؤ جان کو دلاور خان کی طرف سے ذبح کرنے کی کوشش کرنا قارئین دل و دماغ پر پریشانی کے نقوش ثبت کر دیتا ہے۔ قارئین ہر موقع پر سوچنے لگتے ہیں کہ ابھی دلاور خان چھری چلاتے ہوئے امراؤ جان کا سر تن سے جدا کر ڈالے گا۔ اسی طرح خانم کے کوٹھے پر مختلف لڑکیوں کا بکنا، ان کے گاہکوں کے درمیان بحث و تکرار اور لڑائی جھگڑا۔ مثلاً نواب سلطان کا خانصاحب کو گولی مارنا۔ نواب چھبن کا کوٹھے پر سے چلے جانا اور نہاتے ہوئے پانی سے نہ نکلنا یہ تاثر دیتا ہے کہ نواب چھبن ڈوب کر مر گیا ہوگا۔ اسی طرح فیضو ڈاکو کے آدمیوں کا نواب سلطان کے گھر پر ڈاکہ ڈالنا، جنگ آزادی کے حالات و واقعات کا ذکر، بھائی کا امراؤ جان پر چھری اٹھانا ایسے حالات و واقعات ہیں جو ہر وقت ناول کی فضا میں تجسّس و جستجو اور سنسنی خیزی کا بارود بھرتے رہتے ہیں اور قاری ہمیشہ تجسّس و جستجو کا شکار رہتا ہے۔ یہ اس ناول کی ایک بہت بڑی خصوصیت ہے۔

فکری جائزہ[ترمیم]

فکری طور پر دیکھا جائے تو امراؤ جان ادا بیک وقت سماجی، معاشرتی، نفسیاتی اور تاریخی ناول ہے۔ ناول نگار نے اس ناول میں انتہائی فکر انگیز حالات و واقعات پیش کیے ہیں۔ یہ ایسے حالات ہیں جن کے اندر ہمیں سماجی و معاشرتی حقائق کے ساتھ ساتھ معاشرے و سماج میں رہنے والے لوگوں کی نفسیات اور جذبات بھی نظر آ رہے ہیں۔ اس ناول میں جہاں بہت سے ناگفتہ بہ حالات و واقعات پیش کیے گئے ہیں وہیں یہ حالات و واقعات جن لوگوں کو درپیش آئے ان کے دھڑکتے دل، سوچیں، آتی جاتی اور ٹوٹتی سانسیں، خدشات، تجربات اپنے اپنے احساسات و جذبات کے ساتھ ساتھ انتہائی موثر انداز میں پیش کر دیے گئے ہیں۔ یہ ایک سچا اور حقیقی ناول ہے جو اپنے وقت کے معاشرے کی ایک مکمل تصویر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناول نگار نے کہانی کے انداز میں معاشرے اور سماج کی عکاسی کرتے ہوئے طوائفوں کے کوٹھے کو مرکز بنا کر پڑھنے والوں کو بھی وہیں بٹھا کر پورے لکھنؤ کے در و دیوار، بازار اور گلی کوچے دکھائے ہیں۔ طوائفوں کا یہ بالاخانہ ایسا مقام ہے جہاں سے ہم پورے معاشرے کا نظارہ کر سکتے ہیں۔

سب سے پہلے یہی کہ بہت سے شریف گھرانوں کی امراؤ جان جیسی بچیاں اغوا کرکے اپنے دام کھڑے کرنے کی غرض سے گناہ کے دلدل میں دھکیل دی جاتی ہیں جہاں وہ تمام عمر چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتیں۔ امراؤ جان ادا کے علاوہ رام دئی آبادی جان اور خورشید جان درحقیقت ایسی بے شمار لڑکیوں کی نمائندگی کرتی ہیں جنہیں اغوا کرکے اونے پونے داموں طوائفوں کے ہاتھ بیچ دیا جاتا ہے۔ اس سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس وقت بردہ فروشی کا ایک باقاعدہ نظام تھا۔ معاشرتی و سماجی حقیقت نگاری کا قرض ادا کرتے ہوئے ناول نگار نے یہ حقیقت ثابت کر دکھائی ہے کہ اس وقت کی لکھنوی معاشرت میں طوائف کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ طوائف مالدار لوگوں کی ایک لازمی ضرورت تھی۔ اسے سوسائٹی کا اٹوٹ انگ سمجھا جاتا تھا۔ طوائف کے ہاں آنا جانا اور اسے اپنی داشتہ بنا کر رکھنا فخر اور نمود و نمائش کا درجہ رکھتا تھا۔ اس زمانے کے لکھنوی سماج میں طوائف کا وجود ایک مقبول فیشن کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ناول کی فضا میں ان گنت نوابوں اور خوانین طوائفوں کے درباروں میں سجدہ ریزی کرتے دکھائے دیتے ہیں۔ اس میں اٹھارہ انیس سال کے نوجوان نوابوں سے لے کر ستر برس کے نواب جعفر علی خان جیسے کمر خمیدہ اور سفید ریش نواب بھی نظر آتے ہیں۔ نوجوان نوابوں میں نواب چھبن، راشد علی راشد اور نواب سلطان پیش پیش ہیں۔ نواب سلطان ایسے لوگوں کی نمائندگی کرتے دکھائی دیتے ہیں جو منافق قسم کے سفید پوش ہوتے ہیں اور دنیا کی نظروں سے چھپ کر گناہ کرنا پسند کرتے ہیں تاکہ شرافت کا لبادہ بھی نہ اترے اور نفسانی خواہشوں کی تکمیل بھی ہو جائے۔

ناول نگار نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ پورا معاشرہ ایک طرح سے طوائف کا بالا خانہ بنا ہوا ہے۔ طوائفوں نے مختلف لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانے کی خاطر ایک مخصوص منشور بنا رکھا ہے۔ وہ منشور ”مسی“ کی رسم سے شروع ہوتا ہے جو صرف اور صرف کوئی نواب ہی سر انجام دے سکتا ہے اور جس کی منہ مانگی قیمت وصول کی جاتی ہے۔ اس طرح معصوم بچیوں کی عزت و آبرو کی قیمت خانم جیسی گھاک طوائف کے صندوق میں پہنچ جاتی ہے۔

ناول سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ لکھنؤ کی زوال پزیر معاشرت میں طوائفوں کا دور دورہ تھا۔ نوابوں کے محلوں اور عملداری پر طوائفوں کا سکہ چلتا تھا۔ نوابین سیر و سیاحت، شکار اور کھیل تماشوں کے موقعوں پر طوائفوں کی فوج ظفر موج اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ بڑی بری ڈیرہ دار طوائفوں کا ساز و سامان نوابوں کے خرچ پر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جاتا تھا۔ نوابزادے بلکہ حرامزادے طوائفوں کے نخرے اٹھانے کے لیے ہمہ وقت مستعد رہتے۔ طوائف اس وقت کی معاشرت میں اس قدر سرایت کر چکی تھی کہ طوائفوں کے کوٹھوں اور بالاخانوں کو تہذیب کا مرکز سمجھا جانے لگا۔ شرفا اپنی اولاد کو گناہ کی ان بھٹیوں میں آداب سکھانے بھیجا کرتے تھے۔ تاکہ وہ کندن بن کر نکلیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو فکری لحاظ سے ناول امراؤ جان ادا لکھنوی معاشرت کے زوال کی داستان ہے لیکن اگر ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں تو اس ناول میں ہمیں الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ اپنی معاشرت اور سماج کی زوال پذیری بھی دکھائی دینے لگتی ہے۔ عظیم ادب وہی ہوتا ہے جو نہ صرف اپنے عہد بلکہ آنے والے ادوار کی بھی ترجمانی کرتا ہے۔

رسوا نے اصلاحی انداز میں یہ تاثر دیا ہے کہ گناہ کی زندگی ایک لعنت ہے۔ ہر عورت کو چاہیے کہ وہ ازدواجی زندگی اختیار کرتے ہوئے گھر کی چار دیواری کے اندر عصمت اور پاکیزی کا تقدس برقرار رکھے۔ یہی سب سے بڑی دولت ہے۔ سکوں کی جھنکار جوانی تک ہے۔ اس کے بعد دین و دنیا کی رسوائی ہے اور پچھتاوا ہے۔ پشیمانی ہے، نفسیاتی توڑ پھوڑ ہے۔ رسوا نے اصلاحی پیغام بڑے دلدوز انداز سے دیا ہے۔

ابلاغ میں[ترمیم]