تحریک لبیک احتجاج، 2017ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
2017ء تحریک لبیک کا دھرنا
مضامین بسلسلہ تحریک ختم نبوت
تاریخ 5 نومبر 2017ء - 27 نومبر 2017ء
مقام فیض آباد انٹرچینج
وجوہات آئین میں ختم نبوت کے حلف نامے میں رد و بدل
اہداف ختم نبوت بل کی پہلے والی حالت میں واپسی
زاہد حامد کا استعفا
نتائج جنرل فیض حمید کا دستخط شدہ معاہدہ
فریق تنازع
سرکردہ رہنما
متاثرین
اموات 5+
زخمی 200+
معاہدے کے تحت تمام گرفتار کارکنان کو رہا کر دیا گیا ہے۔

تحریک لبیک پاکستان اور تحریک لبیک یا رسول اللہ[1] نے احتجاج شروع کیا کیوں کہ آئینی ترمیم الیکشن بل 2017 میں حلف نامہ کے الفاظ کو بدل دیا گیا تھا۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وزیر قانون زاہد حامد سے استعفا لے۔[2][3][4] حکومت نے 25 نوبمر کو ایک ناکام آپریشن کیا، جس کے بعد ملک بھر میں مظاہر شروع ہو گئے اور حکومت مزید دباؤ میں آگئی، کئی شہروں میں اہ مشاہراہوں کو مظاہرین نے بند کر دیا اور ذرائع نقل و حمل روک دی، آخر کار حکومت نے 27 نومبر کو مذاکرات کے بعد ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کے بعد زاہد حامد نے استعفا دے دیا اور دھرنا ختم کر دیا گیا۔ جب کہ دوسری طرف لاہور میں اشرف آصف جلالی نے دھرنا دیا ہوا ہے، جن کا مطالبہ ہے کہ ہم دھرنا میں جان بہ حق ہونے والے کارکنان کا قصاص لیں گے۔

مقدمہ و عدالتی کارروائی[ترمیم]

  • 9 نومبر کو اسلام آباد پولیس نے تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مرکزی رہنما خادم حسین رضوی کے خلاف ایف آئی آر درج کی جس میں انھیں دھرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے ٹریفک جام کے باعث ایک نومولود بچے کی موت کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔
  • 15 نومبر دھرنہ دینے والے مظاہرین نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی جس میں انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کا مطالبہ منظور کرایا جائے۔
  • 16 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے دھرنے میں موجود مظاہرین اور ان جماعتوں کے رہنماؤں کو دھرنہ ختم کرنے کا حکم دیا۔
  • 21 نومبر کو عدالت عظمیٰ پاکستان نے مذہبی جماعتوں کے دھرنے سے متعلق از خود نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ کے علاوہ اسلام آباد اور پنجاب پولیس کے سربراہوں سے اس کے بارے میں جواب طلب کیا۔
  • 24 نومبر اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر داخلہ پاکستان کو دھرنا ختم کرنے کے عدالتی حکم کی تعمیل نہ کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ۔[5]
  • 27 نومبر کو فوج اور حکومت کے مشترکہ معاہدے پر عدالت عالیہ کے منصف، شوکت صدیقی نے پاکستان فوج کے اس معاملے میں شریک ہونے پر شدید رائے دی اور اسے خلاف آئین قرار دیا۔

Hjcghvfjxhgv== مذاکرات ==

آپریشن[ترمیم]

جانی نقصانات[ترمیم]

اب تک 5 افراد کے ہلا ہونے اور 200 سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ اشرف آصف جلالی و سنی تحریک 40 شہادتوں کا دعوی کر رہے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ، وہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے۔

رد عمل[ترمیم]

ذرائع ابلاغ[ترمیم]

25 نومبر کو دھرنے پر ہونے والے آپریشن کے بعد پاکستانی ٹی وی چینلوں کے براہ راست مناظر دکھانے پر پیمرا نے تمام خبروں کے چینل آف ائیر کر دیے اور فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب کو بھی بند کر دیا، اس پابندی پر تنقید کے بعد اگلے روز 26 نومبر کو ایک ضابطہ کار کا پابند بنا کر ٹی وی چینلوں کی نشریات بحال کر دی گئیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تحریک لبیک یا رسول اللہ کے نام پر جھگڑا، تو حکومت نے معاہدہ کس سے کیا؟ بی بی سی
  2. "Pasroor: Law Minister Zahid Hamid's house attacked"۔ www.thenews.com.pk۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. "Religious activists attack Law Minister Zahid Hamid's house, injure PML-N MNA Javed Latif"۔ www.pakistantoday.com.pk۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. "Enraged-protestors-attack-residence-of-Law-Minister-Zahid-Hamid"۔ dunyanews.tv۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  5. "مذہبی جماعتوں کا دھرنا: کب کیا ہوا اور حالات اس نہج تک کیسے پہنچے؟"۔ بی بی سی اردو۔ 25 نومبر 2017ء۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 نومبر 2017ء۔
  6. ذیشان ظفر (25 نومبر 2017ء)۔ "اکستان کی بّری فوج کے سربراہ کی جانب سے فیض آباد میں جھڑپ پر بیان"۔ بی بی سی اردو۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 نومبر 2017ء۔