جان نکلسن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جان نکلسن
John Nicholson by Kilburn.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 11 دسمبر 1821[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈبلن[3]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 23 ستمبر 1857 (36 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش ڈبلن
کولکاتا
غزنی (1841–)  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United Kingdom.svg متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ فوجی[4]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں جنگ آزادی ہند 1857ء،  پہلی انگریز افغان جنگ  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

بریگیڈیئر جنرل جان نکلسن برطانوی ہند کے وکٹورین دور میں سلطنت برطانیہ کے لیے اپنی خدمات کے لیے مشہور ہے۔


جان نکلسن 11 دسمبر 1822 ٕٕٕء کو لسبرن شہر آٸرلینڈ میں پیدا ہوا۔۔۔ 1839ٕء کو ہندوستان چلا آیا۔۔اور بطور لیفٹینٹ جنگ کابل اول میں حصہ لیا۔۔جون 1847 ٕٕء میں سندھ ساگر دو آب [ درمیان جہلم و سندھ ] کے علاقہ کے سکھ گورنر کا ریزیڈنٹ مقرر ہوا۔۔اس نے اور ہزارہ باٶنڈری کمیشن کے سربراہ میجر جیمس ایبٹ نے سکھوں کے خلاف بغاوت میں بنیادی کردار ادا کیا۔۔اس دوران اس علاقہ میں نکلسن کی سکھوں سے بہت سی لڑاٸیاں ہوٸیں جن کا زکر کتب تواریخ میں موجود ہے۔۔۔جن میں سے ایک لڑاٸی یہاں مارگلہ میں سکھ فوجیوں سے ایک مینار (جہاں اب نکلسن کی لاٹ ہے ,) چھیننے پر ہوٸی۔ (جو اس زمانے میں دن کو نگرانی اور رات کو لاٸٹ لگا کر مسافروں کی راہنماٸی کا کام کرتا تھا ) ۔جس کے اوپر سےایک پھتر لگنے سے وہ یہاں زخمی ہوا تھا۔۔۔جس کا زکر اس نے اپنی ماں کے نام ایک خط میں بھی کیا جو 27/ستمبر 1848 ٕ کو لکھا۔۔[ بحوالہ دی ہیرو آف ڈلہی ص103] پنجاب کی فتح کے بعد یہ راولپنڈی ضلع کا [ جس میں آج کل کے اضلاع راولپنڈی ۔ اسلام آباد اور اٹک شامل تھے ] پہلا ڈپٹی کمشنر بنا۔۔۔۔۔ سکھ عہد میں اس کی فوج میں سردار کرم خان کھٹڑ آف واہ گاٶں کے مزارعین سردار کرم خان کی قیادت میں لڑتے تھے۔۔۔ سردارکرم خان کو اس کے بھاٸی سردار فتح خان نے جو سکھوں کا طرف دار تھا اس کی انگریزوں سے وفاداری کی بنا پر سکھ دور میں ہی قتل کرادیا تھا۔۔ان دنوں سردار کرم خان کا بیٹا محمد حیات خان اپنے ننہال موضع ترچھٹی گندگڑھ پہاڑ ہزارہ میں تھا۔۔ 1849 ٕ میں انگریزوں کے پنجاب پر قبضہ کے بعد محمد حیات خان واہ گاٶں واپس آگیا۔۔۔1857 ٕ میں جنگ آزادی کے دوران جان نکلسن پشاور سےایک فوجی دستہ لے کر دہلی میں انگریز فوجوں کی مدد کو چلا ۔۔راستہ میں اکیس سالہ نوجوان محمد حیات خان حسن ابدال ۔ واہ اور گرد ونواح سے تین سو آدمی ساتھ لے کر نکلسن کے اے ڈی سی کی حیثیت سے ساتھ چل پڑا۔۔۔ 14/ ستمبر کو نکلسن کشمیری دروازے سے دہلی میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا کہ ایک مجاہد کالے خان کی گولی اس کی باٸیں بغل سے داخل ہو کر داٸیں بغل سے نکل گٸ۔۔محمد حیات خان اور دیگر فوجی اس کو أٹھا کر پہاڑی پر انگریزی فوج کے کیمپ میں لے گۓ۔۔جہاں 23 ستمبر 1857 ٕ کو برگیڈٸر جنرل جان نکلسن پینتیس سال کی عمر میں مر گیا۔۔ اس دوران جان نکلسن نے اپنے خون سے اپنی قمیض کے قف پر سردار محمد حیات خان کی وفاداری پر مبنی ایک تحریر لکھ کر دی۔۔۔۔ بعد ازاں مارگلہ کے اس مقام پر نکلسن کے دوستوں نے اس کی یاد میں یہ لاٹ ایک فوارہ ایک حوض ۔ایک کمرہ اور ساتھ ہی ایک باغ بنوایا تھا[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب عنوان : Oxford Dictionary of National Biography — ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس
  2. بنام: John Nicholson — Dictionary of Irish Biography ID: https://doi.org/10.3318/dib.006208.v1 — عنوان : Dictionary of Irish Biography
  3. Encyclopædia Britannica
  4. http://www2.canada.com/nanaimodailynews/news/story.html?id=1515578
  5. تحقیق و تحریر، راجہ نور محمد نظامی , اس حوالے پر بہت سی کتب تواریخ و تزکرہ کتب خانہ راجہ نور محمد نظامی بھوٸی گاڑ نزد ٹیکسلا میں موجود ہیں۔