حجامہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حجامہ

حجامہ نشتر لگانا۔ یہ ایک علاج ہے جو سنت بھی ہے۔ الحجامہ یعنی بعض امراض میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے اس کو سینگیاں کھچوانا بھی کہتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

یہ طریقہ علاج 3500 سال سے بھی پرانا ہے۔ اس طریقہ علاج کا ذکر Ebers Papyrus نامی کتاب میں بھی ہےجو 1550 قبل مسیح کی مشہور طبی کتاب ہے۔

طریقہ کار[ترمیم]

اس کا طریقہ یہ ہے کہ مقام مطلوب پر کسی نشتر سے خفیف نشتر لگا کر کپ یعنی سینگی لگا کر کھینچا جاتا ہے۔

سنت رسول[ترمیم]

پچھنا لگانا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے اور ایک بہترین علاج بھی ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود پچھنے لگوائے اور دوسروں کو ترغیب دی۔ امام بخاری اپنی صحیح میں حجامہ پر پانچ ابواب لائے ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب معراج پر تشریف لے گئے تو ملائکہ نے ان سے عرض کی کہ اپنی امت سے کہیں کہ وہ پچھنے لگوائیں۔

حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ حَدَّثَنَا کَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِمَلَإٍ إِلَّا قَالُوا يَا مُحَمَّدُ مُرْ أُمَّتَکَ بِالْحِجَامَةِ
ترجمہ:حبارہ بن مغلس، کثیر بن سلیم، حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شب معراج میں جس جماعت کے پاس سے بھی میں گزرا اس نے یہی کہا اے محمد! اپنی امت کو پچھنے لگانے کا حکم فرمائیے [1]۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَکْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ الْعَبْدُ الْحَجَّامُ يَذْهَبُ بِالدَّمِ وَيُخِفُّ الصُّلْبَ وَيَجْلُو الْبَصَرَ
ترجمہ: ابوبشر بکر بن خلف، عبد الاعلیٰ، عباد بن منصور، عکرمہ، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اچھا ہے وہ بندہ جو پچھنے لگاتا ہے۔ خون نکال دیتا ہے۔ کمر ہلکی کر دیتا ہے اور بینائی کو جلا بخشتا ہے۔ [2]

تنقید[ترمیم]

کسی بھی مروجہ طریقے سے علاج کرانا سنت ہے۔ اب بہت سے نئے طریقے آ چکے ہیں تو ان سے بھی علاج کرایا جا سکتا ہے۔

استعمال[ترمیم]

پچھنا ایک قدیم علاج ہے جو بہت مفید ہے۔ یہ گرم اور سرد دونوں علاقوں میں مفید ہے۔ چین کا یہ قومی علاج ہے اور پورے ملک میں یہ علاج کیا جاتا ہے۔ یہ عرب ممالک کے علاوہ جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں میں بھی رائج ہے۔ امریکا اور یورپ کے یونیورسٹیوں میں ان طلباء کو جو آلٹرنیٹیو میڈیسن پڑھ رہے ہیں حجامہ پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے۔

فوائد[ترمیم]

  • خون صاف کرتا ہے، حرام مغز کو فعال بناتا ہے اور شریانوں پر اچھا اثر ڈالتا ہے۔
  • پٹھوں کے اکڑاؤ کو ختم کرنے کے لیے مفید ہے۔
  • دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض اور انجائنا کے لیے مفید ہے۔
  • سر درد، سر اور چہروں کے پھوڑوں، درد شقیقہ اور دانتوں کے درد کو آرام دیتا ہے۔
  • آنکھوں کی بیماریوں میں مفید ہے ۔
  • رحم کی بیماریوں اور ماہواری کے بند ہوجانے کی تکالیف اور ترتیب سے آنے کے لیے مفید ہے۔
  • گھٹیا، عرق النساء اور نقرس کے دردوں میں مفید ہے۔
  • فشار خون میں آرام پہنچاتا ہے۔
  • کندھوں، سینہ اور پیٹھ کے درد میں مفید ہے۔
  • کاہلی، سستی اور زیادہ نیند آنے کی بیماریوں میں مفید ہے۔
  • ناسور، دنبل، مہاسوں اور خارش میں مفید ہے۔
  • دل کے غلاف اور ورمِ گردہ میں مفید ہے۔
  • زہر خورانی میں مفید ہے۔
  • مواد بھرے زخموں کے لیے مفید ہے۔
  • الرجی میں مفید ہے۔
  • جسم کے کسی حصہ میں درد ہو تو اس جگہ پچھنا لگانے سے فائدہ ہوگا۔

صحت یاب لوگ بھی حجامہ کرا سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ سنت ہے اور اس میں بیماریوں سے روک ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سنن ابن ماجہ :جلد سوم، باب طب:حدیث نمبر 360
  2. سنن ابن ماجہ:جلد سوم، طب کا بیان:حدیث نمبر 359