حسن بن فضل طبرسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حسن بن فضل طبرسی
کوائف
مکمل نامحسن بن فضل بن حسن طبرسی
نامور اقرباءامین الاسلام طبرسی، علی بن حسن طبرسی
علمی معلومات
اساتذہشیخ طبرسی
تالیفاتمکارم الاخلاق
خدمات

حَسَن بنِ فَضلِ طَبَرسی چھٹی صدی ہجری کے شیعہ محدثین میں سے ہیں۔ آپ تفسیر مجمع البیان کے مصنف فضل بن حسن طبرسی کے صاحبزادے ہیں۔ آپ طبرسی خاندان کے علما میں سے ہیں۔ کتاب مکارم الاخلاق آپ کے مشہور قلمی آثار میں سے ہے۔

زندگی‌ نامہ[ترمیم]

ابو نصر حسن بن فضل طبرسی خاندان[1] کے علما میں سے ہیں آپ تفسیر مجمع البیان کے مصنف فضل بن حسن طبرسی (متوفی 548ھ) کے صاحبزادے ہیں۔ کتاب مشکاۃ الانوار کے مصنف علی بن حسن طبرسی آپ کے صاحبزادے ہیں۔[2]

آپ کی زندگی، تاریخ پیدائش اور وفات سے متعلق دقیق معلومات میسر نہیں ہیں۔[3] آپ کو اپنے والد محترم کے شاگردوں میں سے جانا جاتا ہے[4] اور کہا جاتا ہے کہ آپ کے والد نے تفسیر جوامع الجامع نامی کتاب آپ ہی کی درخواست پر تحریر کی تھی۔[5] آپ کے خاندان کو طبرسی کہنے کی علت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، بعض اسے طبرس (تفرش)[6] سے جبکہ بعض طبرستان[7] سے منسوب سمجھتے ہیں۔

تألیفات[ترمیم]

کتاب مکارم الاخلاق آپ کی سب سے مشہور تألیفات میں سے ہے جو اخلاقیات میں شیعوں کی ایک نایاب تألیفات میں شمار ہوتی ہے۔[8] اسی طرح کتاب جامع الاخبار بھی آپ کی طرف نسبت دی گئی ہے۔[9] لیکن سید محسن امین اور آیت اللہ جعفر سبحانی اس نسبت کو رد کرتے ہیں۔[10] ابوالقاسم گرجی جوامع الجامع کے مقدمے میں کتاب اسرار الامامۃ کو آپ کی طرف نسبت دینے کی بات کرتے ہیں۔[11] آپ کے فرزند ارجمند علی بن حسن طبرسی کے بقول کتاب مکارم الاخلاق کو لوگوں کی طرف سے خوب پزیرائی ملنے کے بعد آپ نے کتاب "جامع لسائر الاقوال و حاو لمحاسن الافعال" کی تحریر شروع کی تھی لیکن اسے اختتام تک پہنچانے سے پہلے آپ کی وفات ہوئی۔[12]

آپ نے اپنے والد سے احادیث بھی نقل کی ہیں اسی طرح مہذب‌ الدین حسین بن ابو الفرج نے آپ سے حدیث نقل کی ہیں۔[13]

متعلقہ صفحات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. طبرسی، جوامع الجامع، 1377ش، ج1، مقدمہ گرجی، ص دو.
  2. سبحانی، موسوعۃ طبقات الفقہا، 1418ق، ج6، ص77؛ حسینی جلالی، فہرس التراث، 1422ق، ج1، ص566.
  3. طبرسی، جوامع الجامع، 1377ش، ج1، مقدمہ گرجی، ص 9.
  4. طبرسی، جوامع الجامع، 1377ش، ج1، مقدمہ گرجی، ص 2.
  5. طبرسی، جوامع الجامع، 1377ش، ج1، ص2.
  6. طبرسی، جوامع الجامع، 1377ش، ج1، مقدمہ گرجی، ص دو؛ امین، اعیان الشیعہ، 1406ق، ج3، ص29.
  7. مدرس تبریزی، ریحانۃ الادب، 1369ش، ج4، ص33-32.
  8. امین، اعیان الشیعہ، 1406ق، ج1، ص158.
  9. حر عاملی، امل الامال، 1385ق، ج2، ص75.
  10. امین، اعیان الشیعہ، 1406ق، ج5، ص225-226؛ سبحانی، موسوعۃ الطبقات الفقہاء، 1418ق، ج6، ص77.
  11. طبرسی، جوامع الجامع، 1377ش، ج1، مقدمہ گرجی، ص 9.
  12. طبرسی، مشکاۃ الانوار، 1385ق، ص1.
  13. حر عاملی، امل الآمل، 1385ق، ج2، ص93؛ سبحانی، موسوعة طبقات الفقہا، 1418ق، ج6، ص76.

مآخذ[ترمیم]

  • امین، سید محسن، اعیان الشیعہ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1406ق۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، امل الآمل، بغداد، مکتبۃ الاندلس، 1385ق۔
  • حسینی جلالی، سید محمدحسین، فہرس التراث، قم، انتشارات دلیل ما، 1422ق۔
  • سبحانی، جعفر، موسوعۃ الطبقات الفقہاء، قم، مؤسسہ امام صادق، 1418ق۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، تفسیر جوامع الجامع، تصحیح ابوالقاسم گرجی، قم و تہران، مرکز مدیریت حوزہ علمیہ قم و انتشارات دانشگاہ تہران، 1377ش۔
  • مدرس تبریزی، محمدعلی، ریحانۃ الادب، تہران، کتابفروشی خیام، 1369ش۔