خواجہ حبیب اللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خواجہ حبیب اللہ
معلومات شخصیت
پیدائش 26 اپریل 1895  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
احسان منزل،  ڈھاکا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 21 نومبر 1958 (63 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شاہ باغ،  ڈھاکہ،  مشرقی پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
والد خواجہ سلیم اللہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

نواب خواجہ حبیب اللہ بہادر(1895–1958)[1] ڈھاکہ کے پانچویں نواب تھے۔ وہ خود سے زیادہ ممتاز باپ نواب سر خواجہ سلیم اللہ بہادر کے بیٹے تھے۔ ان کی حکمرانی کے تحت ڈھاکہ کی نواب ریاست ،پاکستان ریاست کے حصول کے ایکٹ کے تحت 1952 میں اپنے حقیقی استحکام تک جا پہنچی۔ خواجہ حبیب اللہ ڈھاکہ میں 26 اپریل 1895 میں پیدا ہوئے ان کے والد ڈھاکہ نواب خاندان کے نواب سلیم اللہ بہادر تھے۔ حبیب اللہ دارجلنگ میں سینٹ پالاسکول گئے اور اس کے بعد انگلینڈ میں اپنی تعلیم جاری رکھی۔ 1915 میں اپنے والد کی وفات پر انہیں نواب آف ڈھاکہ کی گدی سنبھالنی پڑی۔ 1918 میں وہ برطانوی ہندوستانی آرمی پلاٹون میں شامل ہوئے انہوں نے برطانوی مینڈیٹ میسوپوٹیمیا میں اعزازی لیفٹیننٹ کے طور پر خدمات سر انجام دی۔ انہوں نے ڈھاکہ ڈسٹرکٹ بورڈ اور میونسیپلٹی بورڈ کی خدمات بھی انجام دی۔ انہوں نے تحریک خلافت میں بھی حصہ لیا۔ وہ 1924 سے 1932 تک بنگال کے قانون ساز کونسل میں ڈھاکہ کی نمائندگی کرتے رہے۔ حبیب اللہ نے 1932 میں برطانوی حکومت کی کمیونل ایوارڈ کی پیش کش کی طرف داری کی۔ 1935 میں وہ بنگال مسلم لیگ کے صدر تھے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے ایگزیکٹیو کے رکن تھے۔

1937 سے 1941 تک وہ اے کے فاضل الحق کی کابینہ میں وزیر تھے۔انہوں نے مسلم لیگ کی خواہشات کے خلاف حق کی دوسری کابنیہ میں شمولیت اختیار کی جس پر وہ 1946 تک مسلم لیگ سے معطل رہے۔ 1946 میں وہ بنگال کے انتخابی انتخابات میں ایک آزاد امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے۔ لیکن اپنے رشتہ دار خواجہ خیر الدین کے ہاتھوں بھاری شکست کا سامنا ہوا، جو مسلم لیگ کی ٹکٹ پر تھے۔ انہوں نے اس کمیشن کی بھی صدارت کی جس نے ڈھاکہ میں پاکستان کی آزادی کی تقریب کا دورہ کیا۔ اور 15 اگست 1947 کو لال باغ قلعہ میں پاکستان کا پرچم بلند کیا۔ بھارت کی تقسیم کے بعد وہ مشرقی پاکستان میں مسلم لیگ کے نائب صدر کی حیثیت رکھتے تھے۔ ڈھاکہ کے نواب کے طور پر اپنی حکمرانی کے دوران میں انہوں نے اپنے والد کے تحت شروع ہونے والے ریاست کے لقب کو جاری رکھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. S. D. Punekar؛ Robert Varickayil؛ Manorama Savur؛ Sunil Dighe؛ Kamala Ganesh؛ Indian Council of Historical Research۔ Labour Movement in India: 1937-1939 (انگریزی زبان میں)۔ Indian Council of Historical Research۔ صفحہ 1117۔ آئی ایس بی این 9788173071065۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
خواجہ حبیب اللہ
ماقبل 
Nawab Sir خواجہ سلیم اللہ Bahadur
نواب ڈھاکہ
1915–1952
Abolished