صوفی محمد سرور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
صوفی محمد سرور
معلومات شخصیت
پیدائش 7 دسمبر 1933  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ضلع ڈیرہ غازی خان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 15 مئی 2018 (85 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ اشرفیہ
جامعہ خیر المدارس  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استاذ ‏مولانا خير محمّد جالندھرى،  محمد شفیع عثمانی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ عالم،  شیخ الحدیث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعہ اشرفیہ،  جامعہ خیر المدارس  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

صوفی محمد سرور (پیدائش؛ 7 دسمبر 1933 - 15 مئی 2018) ایک پاکستانی اسلامی سکالر, مصنف اور جامعہ اشرفیہ میں شیخ الحدیث تھے۔ انہوں نے جامعہ خیر المدارس اور جامعہ اشرفیہ میں تعلیم حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں خیر محمد جالندھری اور مفتی محمد شفیع بھی شامل ہیں۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

سرور 7 دسمبر 1933ء کو ضلع ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوا۔ انہوں نے میڑک کے بعد بانی جامعہ اشرفیہ مولانا مفتی محمد حسن سے دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ اور پھر مولانا خیر محمد جالندھری کے جامعہ خیر المدارس ملتان میں دینی کتب کی تعلیم حاصل کی. پھر جامعہ اشرفیہ لاہور میں حدیث کے کورس میں داخلہ لیا اور کامیابی سے فارغ التحصیل ہوئے۔ جس کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ کراچی میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع کے زیر سایہ بھی تعلیم حاصل کی۔[1][2]

تعلیم سے فراغت کے بعد تین سال جامعہ خیر المدارس ملتان میں اور دس سال دارالعلوم عیدگاہ کبیروالا میں گزارے، جامعہ اشرفیہ لاہور میں حدیث اور دیگر علوم و فنون کی کتابیں پڑھائیں۔ انہوں نے مشہور کتاب ابو داؤد پھر بخاری شریف شروع کی، جب کہ وہ اپنی وفات تک ہر روز عصر کی نماز کے بعد مولانا اشرف علی تھانوی کے ملفوظات پڑھاتے رہے۔[1]

تصانیف[ترمیم]

وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ بشمول;

  • الخیر الجاری فی شرح صحیح البخاری (2001)[3]
  • علم و عمل

وفات[ترمیم]

ان کا انتقال 15 مئی 2018 کو لاہور میں مختصر علالت کے بعد ہوا۔ ان کے صاحبزادے مولانا صوفی عتیق الرحمن نے جامعہ اشرفیہ لاہور میں نماز جنازہ پڑھائی. انہیں شیر شاہ قبرستان لاہور میں سپرد خاک کیا گیا۔ انہوں نے پسماندگان میں تین بیٹے مولانا صوفی عتیق الرحمن، مولانا شفیق الرحمن اور مولانا عبدالرحمٰن، تین بیٹیاں اور اہلیہ چھوڑے ہیں۔[1][4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ "جامعہ اشرافیہ کے شیخ الحدیث مولانا صوفی محمد سرور 85سال کی عمر میں انتقال کر گئے قبرستان شیر شاہ میں سپرد خاک". Daily Pakistan. 16 مئی، 2018. 
  2. ٹاؤن، جامعہ علوم اسلامیہ بنوری. "شیخ الحدیث صوفی محمد سرورؒ کی رحلت | جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن". www.banuri.edu.pk. 
  3. "Alk̲h̲air aljārī fe sharḥ Ṣaḥīḥulbuk̲h̲ārī | WorldCat.org". www.worldcat.org. 
  4. "مولانا صوفی محمد سرور سپردخاک وزیراعلیٰ پنجاب اور علماء کا اظہار تعزیت". Nawaiwaqt. 16 مئی، 2018.