طبیعی مقدار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

طبیعی مقدار (انگریزی: Physical Quantity) کسی شے کی وہ طبیعی خاصیت ہے جو پیمائش کے ذریعے قابل تعین ہو. طبیعی مقدار کو عام طور پر عددی مقدار (جو عام طور پر حقیقی عدد ہوتا ہے) اور اکائی کے مجموعہ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ ریاضیاتی طور پر اسے (nu) کی علامت سے لکھا جائے گا۔ جہاں (n) سے مراد عددی مقدار اور (u) سے مراد اکائی ہے۔ مثال کے طور پر نیوٹران کی کمیت 27-^10×1.6749275 کلوگرام ہے۔ جہاں 27-^10 × 1.6749275 عددی قیمت اور ( کلوگرام) کیمیت کی اکائی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح روشنی کی رفتار 299792458 میٹر فی سیکنڈ ہے۔ جہاں (299792458) عددی قیمت اور (میٹر فی سیکنڈ) رفتار کی اکائی کو ظاہر کرتا ہے۔ مختلف نظاماتِ اکائیات میں ایک جیسی طبیعی مقداروں کو مساویانہ طور پر x سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ جسے ریاضیاتی طور پر یوں لکھا جاتا ہے۔ x = n1u1= n2u2.

سادہ الفاظ میں طبیعی مقدار ایسی مقدار ہوتی ہے جس کی پیمائش کی جاسکے، مثال کے طور پر وزن، درجہ حرارت، وقت وغیره. کسی بھی طبیعی مقدار میں دو خصوصیات مشترک ہوتی ہیں ایک اس کی عددی قیمت اور دوسری خصوصیت وه اکائی جس میں اسے بیان کیا گیا ہو۔ مثال کے طور پر اگر ہم کہیں 5 کلوگرام چینی تو اس میں 5 عددی قیمت جب کہ کلوگرام اکائی ہے۔

علامات اور اسم بندی[ترمیم]

بین الاقوامی طور پر طبیعی مقداروں کی علامات بین الاقوامی تنظیم برائے معیاریت ISO/IEC 80000، بین الاقوامی اتحاد برائے خالص و اطلاقی طبیعیات کی سرخ کتاب اور بین الاقوامی اتحاد برائے خالص و اطلاقی کیمیاء کی سبز کتاب کی سفارشات کے مطابق منتخب کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر طبیعی مقدار کیمیت کے لیے عالمی طور پر m اور چارج کے لیے Q کی علامت کو منتخب کیا گیا ہے۔

طبیعی مقداروں کی اقسام[ترمیم]

طبعی مقداریں دو قسم کی ہوتی ہیں

بنیادی مقداریں[ترمیم]

ایسی طبیعی مقداریں جن کو جاننے کے لیے کسی دوسری مقدار کی ضرورت نہ پڑے بنیادی مقداریں کہلاتی ہیں۔ بنیادی مقداریں دوسری مقداروں کو بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ بنیادی مقداروں کی تعداد سات ہے۔ (1) لمبائی، (2) وقت، (3) وزن، (4) درجہ حرارت، (5) برقی رو، (6) روشنی کی شدت، (7) شے کی مقدار۔

ماخوذ مقداریں[ترمیم]

ایسی طبیعی مقداریں جو بنیادی مقداروں سے اخذ کی جائیں ماخوذ مقداریں کہلاتی هیں۔ مثال کے طور کسی شے کی رفتار معلوم کرنے کے لیے بنیادی مقداروں (لمبائی اور وقت) کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ رقبہ، حجم، رفتار، توانائی اور دباؤ وغیره ماخوذ مقداروں کی مثالیں ہیں۔