عالمی اسلامی ٹکسال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عالمی اسلامی ٹکسال
صنعت طلائی دینار اور نقرئی درہم
قیام 1993
بانی شیخ عمر واڈیلو
صدر دفتر ابوظہبی، متحدہ عرب امارات
علاقہ خدمت
ملایشیا، انڈونیشیا، سنگاپور، خصوصاً اور پوری دنیا عموماً
ویب سائٹ www.islamicmint.com

عالمی اسلامی ٹکسال (انگریزی:World Islamic Mint) کا ادارہ پوری دنیا میں اسلامی طلائی دینار اور نقرئی درہم کے معیارات کا تعین کرتی ہے۔[1] ملایشیا کے صوبے کیلانتن میں زر قانونی کے حییثیت پانے والے اکثر طلائی دینار اور نقرئی درہم عالمی اسلامی ٹکسال کے بنائے ہوئے ہیں۔ اس کی بنیاد 1993ء میں شیخ عمر واڈیلو نے رکھی۔ اس کا مرکزی دفترابوظہبی، متحدہ عرب امارات میں ہے۔ جبکہ اس کے ذیلی دفاتر دنیا کے کئی ممالک میں ہیں۔ اور اس ادارے کے بنائے ہوئے طلائی دینار اور نقرئی درہم بائیس (22) سے زیادہ ممالک میں استعمال ہوتے ہیں۔[2][3]

معیارات[ترمیم]

عالمی اسلامی ٹکسال کی تحقعقاتی ٹیم طلائی دینار اور نقرئی درہم کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالتی ہے۔ اسلامی فقہ کی روشنی میں ایک دینار کا وزن ایک مثقال ہونا چاہیے۔ جو 72 جو(جو) کے دانوں کے وزن کے برابر ہوتاہے۔ اور جدید معیار وزن کے مطابق اس کا وزن تقریبا 4.25 گرام ہوتاہے۔ حضرت عمر کے دور میں ان سکّوں کو کاٹھا گیا اور اس کے وزن کوایک مثقال تک لایاگیا۔ اورحضرت محمّد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک معیار قائم کیا کہ سات دینار کا وزن دس دراہم کے برابر ہو۔ لہذا ایک درہم کا وزن تقریبا 2.975 گرام (تقریبا 3 گرام) ہوتاہے۔ حضرت عمر کے دور میں اس پر بسم اللہ لکھا گیا۔ حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت امیر معاویہ نے پہلی مرتبہ اپنے سکّے جاری کیے۔ بعد میں عبدالملک بن مروان نے مسلمانوں میں باقائدہ طورسے اپنے سکّے ڈھالنے شروع کیے۔ جس کاوزن نہایت احتیاط کے ساتھ 4.25 گرام رکھا گیا۔[4] اس لیے عالمی اسلامی ٹکسال نے ایک طلائی دینار کا وزن 4.25 گرام اور ایک نقرئی درہم کا وزن 2.975 گرام رکھا ہے۔ اور طلائی دینار کی خالصیت 22 قیراط (7۔91 فیصد) ہے۔ جبکہ نقرئی درہم کی خالصیت 24 قیراط (9۔99 فیصد) ہے۔

مختلف سکّوں کااجراء(Denominations)[ترمیم]

عالمی اسلامی ٹکسال طلائی دیناراور نقرئی درہم کے مختلف سکّوں کااجراء کرتی ہیں۔
دنانیر: 1/2 دینار، 1 دینار، 2 دنانیر، 5 دنانیر، 8 دنانیر، 10دنانیر
دراہم: 1/2 درہم، 1 دراہم، 2 دراہم، 5 دراہم، 8 دراہم، 10 دراہم

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Hackers and the Alternatives to the Global Financial System"۔ The Market Oracle۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 دسمبر 2014۔
  2. "Kelantan makes dinar and dirham legal tender"۔ AsiaOne News۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 دسمبر 2014۔
  3. "2013 Jadi Tahunnya Dinar"۔ Repbulika Online Ekonomi۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 دسمبر 2014۔
  4. Ibn Khaldun, The Muqaddimah, ch. 3 pt. 34.