عاملین نخر الورم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

عامل نخر الورم ، جیسا کہ نام سے ظاہر ہوتا ہے اصل میں ایک ایسے عامل کے طور پر دریافت کیا گیا وراثی سالمہ ہے کہ جو ورم (یا سرطانی خلیات) کی تنخر (necrosis) کرتا ہے۔ تنخر کا لفظ ، نخر سے بنا ہے[1] (اور اردو میں بھی مستعمل ہے [2]) نخر علم طب میں ایسی تسوس[3] (بوسیدگی ، گلاؤ سڑاؤ) کو کہا جاتا ہے کہ جو عمومی طور پر واقع ہو۔ عامل نخر الورم کو انگریزی میں tumor necrosis factor کہا جاتا ہے۔ فی الحقیقت ، یہ متعدد عاملین (factors) کا ایک گروہ یا خاندان ہے جو کہ سالماتی حیاتیات میں متعدد الافعال اور پیش التہاب، خلحراکین (cytokines) تسلیم کیۓ جاتے ہیں [4] اور مناعی نظام کے متعدد خلیات سے افراز (secrete) ہوتے ہیں جن میں وحیدات (monocytes) اور حجیم خور (macrophages) کے نام نمایاں ہیں۔

اختصار[ترمیم]

عام طور پر انگریزی مضامین سائنس میں اس کے لیۓ TNF کا اختصار اختیار کیا جاتا ہے اور جیسا کہ یہ اصل میں کوئی ایک عامل نہیں بلکہ عاملوں کا ایک گروہ (عاملین) ہے لہذا اگر ضرورت محسوس ہو تو TNF کے ساتھ s کا استعمال بھی دیکھنے میں آتا ہے یعنی کہ TNFs لکھ دیا جاتا ہے۔ اردو میں اسکا اختصار بھی اوائل الکلمات کے زریعے حاصل کیا جاتا ہے یعنی عاملین سے عین ، نخر سے نون اور ورم سے واؤ اور رے کو لے کر اسکا اردو اختصار ----- عنور ----- بنتا ہے۔ گویا کہہ سکتے ہیں کہ TNF = عنور۔

دریافت[ترمیم]

مناعی نظام کی جانب سے نمودار ہونے والے in vivo قدرتی ضد الورم (anti-tumoral) مظہر کی موجودگی کا انکشاف کوئی سو سال قبل 1890ء میں William Coley نامی سائنسدان کر چکا تھا۔ 1968ء میں سیالویات سے افراز کیۓ جانے والے ایک سم الخلیہ (cytotoxin) کی دریافت ہوئی جسے سیالویات کی نسبت سے سم سیالویہ (lympho-toxin) کا نام دیا گیا اور اسکے لیۓ LT کا اختصار استعمال ہوا [5]۔ اس کے بعد 1975ء میں ایک اور سم الخلیہ کی دریافت عمل میں آئی جو کہ حجیم خور خلیات سے پیدا ہو رہا تھا ، اس نئی دریافت کو عامل نخر الورم یعنی tumor nacrosis factor کا نام دیا گیا اور اسکا اختصار TNF اختیار کیا گیا[6]۔ مذکورہ بالا بیان میں درج دونوں ہی سموم الخلیہ اپنی اس خصوصیت کی بنیاد پر دریافت کیۓ گۓ کہ وہ چوہوں کے ایک سرطان (جو انسان میں بھی ہوتا ہے) کے تجرباتی خلیات L-929 کو فنا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے ، سرطان کی اس قسم کو چوہوں اور انسانوں دونوں میں ریشی لحمومہ (fibrosarcoma) کا نام دیا جاتا ہے اور یہ بذات خود لحمومہ (sarcoma) سرطان کی ایک ذیلی قسم ہے۔ مذکورہ بالا دونوں عاملین (یعنی TNF اور LT) کی فردا فردا دریافت کے بعد پھر 1984ء میں جب ان کی تشفیر (encoding) عمل میں آئی[7] تو انکشاف ہوا کہ ان دونوں کے درمیان باھم متوالی مماثلیت (sequential homology) پائی جاتی ہے اور اس متوالی مماثلیت کے بعد یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ عنور (TNF) کے اپنے حاصلہ سے اتصال کے بعد سم سیالویہ (lymphotoxin) کے زریعے اس کا ہٹاؤ عمل میں آجاتا ہے یعنی سم سالویہ کے سالمات ، عنور کے سالمات کے ساتھ مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کو اپنے مقام سے ہٹا کر خود اس کی جگہ لے سکتے ہیں ، اس انکشاف سے ان دونوں سموم الخلیہ کی آپس میں فعلیاتی مماثلیت بھی ثابت ہوگئی اور متوالی اور فعلیاتی مماثلیت کے بعد ان کے ناموں کو از سر نو منتخب کیا گیا ؛ TNF کو TNFα اور LT کو TNFβ کہا جانے لگا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ایک عربی لغت میں نخر کا مفہوم
  2. ^ ایک اردو لغت میں نخر کا اندراج
  3. ^ ایک اردو لغت میں تسوس کا اندراج
  4. ^ ایک روۓ خط معطیاتِ وراثہ پر عاملین نخر الورم کا بیان
  5. ^ Kolb WP, Granger GA (1968). Lymphocyte in vitro cytotoxicity: characterization of human lymphotoxin.
    Proc. Natl. Acad. Sci. U.S.A. 61 (4): 1250-5.
  6. ^ Carswell EA, Old LJ, Kassel RL, Green S, Fiore N, Williamson B (1975). An endotoxin-induced serum factor that causes necrosis of tumor.
    Proc. Natl. Acad, Sci. U.S.A. 72 (9): 3666-70.
  7. ^ Pennica D, Nedwin GE, Hayflick JS, Seeburg PH, Derynck R, Palladino MA, Kohr WJ, Aggarwal BB, Goeddel DV (1984). "Human tumour necrosis factor: precursor structure, expression and homology to lymphotoxin". Nature 312 (5996): 724–9. doi:10.1038/312724a0. PMID 6392892.