فصوص الحکم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فصوص الحکم
Fusus al Hikam by Ibn al Arabi.jpg
مصنف شیخ اکبر محی الدین محمد ابن العربی
اصل عنوان فصوص الحکم و خصوص الکلم
مترجم اردو:ابرار احمد شاہی
ملک Flag of Syria.svg سوریہ، (دمشق)
زبان عربی
موضوع تصوف
صنف اسلامی ادب
ناشر اردو: ابن العربی فاؤنڈیشن Flag of Pakistan.svg پاکستان، عربی:دار الكتب العلميہ Flag of Lebanon.svg لبنان
تاریخ اشاعت
اردو:2015ء (ابن العربی فاؤنڈیشن)

فصوص الحکم شیخ اکبر ابن عربی کی تالیف کردہ تصوف اسلامی پر اہم ترین کتب میں سے ایک کتاب ہے۔ پختہ عمری میں لکھی گئی اس کتاب کے مقدمے میں شیخ خود لکھتے ہیں کہ آپ کو خواب میں نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت کروائی گئی، ان کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی، وہ بولے یہ لو اور لوگوں تک پہنچاؤ تاکہ وہ اس سے نفع اٹھائیں۔ اِس کے ستائیس ابواب میں پیغمبران خدا پر ظاہر کی گئی الہامی حکمتوں کی ہیئت پر بات کی گئی ہے۔ ہر پیغمبر کوودیعت کی گئی حکمت کسی مختلف الہامی صفت سے منسوب ہے اور یوں ہر پیغمبر فہم کی ایک جدا صورت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ابن عربی کی اس کتاب پر سو سے زائد شروحات لکھی گئیں ہیں۔ اردو میں اس کا ترجمہ قیام پاکستان سے قبل عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد کے الہیات کے پروفیسر محمد عبد القدیر صدیقی قادری حسرت نے کیا تھا، [1]جبکہ حالیہ جدید ترجمہ مع تحقیق شدہ عربی متن 2015ء میں ابرار احمد شاہی نے ابن العربی فاونڈیشن سے شائع کیا ہے۔

وجہ تصنیف[ترمیم]

فصوص الحکم شیخ اکبر کی اہم ترین کتابوں میں سے ایک کتاب ہے۔ یہ ایک مبارک خواب کی صورت میں آپ کو دی گئی۔ اس خواب کے بارے میں شیخ فصوص کے مقدمے میں لکھتے ہیں: میں نے ایک بشارت دینے والے خواب میں نبی کریم کا دیدار کیا، یہ خواب مجھے سن 627 ھ اخیر عشرہ محرم، شہر دمشق میں دکھلایا گیا۔ آپ کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی، مجھے بولے: “یہ کتاب فصوص الحکم ہے، اسے پکڑو اور لوگوں تک پہنچاؤ تاکہ وہ اِس سے فائدہ اٹھائیں۔” میں نے کہا: جیسا ہمیں حکم دیا گیا ہے ہماری کامل فرماں برداری اللہ، اُس کے رسول اور وقت کے حاکموں کے لیے ہے۔ سو میں نے اِس خواہش کو پورا کیا، نیت کو خالص کیا اور اپنی توجہ اور مقصد اِس کتاب کو کسی کمی بیشی کے بغیر ویسے منظر عام پر لانا بنا لیا جیسا کہ مجھے رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم نے کہا۔[2] اب جبکہ اس کتاب کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب ہے تو پھر احتیاط کا تقاضا یہی تھا کہ اس کو منظر عام پر لانے کے لیے حتی الامکان احتیاط سے کام لیا جاتا۔ اس بارے میں شیخ فرماتے ہیں: “پھر میں نے اللہ سے یہ دعا مانگی کہ اِس (کتاب کے ) معاملے میں، بلکہ میرے تمام احوال میں مجھے اپنے ان بندوں میں شامل کر لے کہ جن پر شیطان کا کوئی زور نہیں اور جو کچھ میری انگلیاں لکھیں، میری زبان بولے یا میرے دل میں آئے؛ عیب سے منزّہ القا کی صورت یا نفسی شعور میں روحی الہام کی مانند، تو اِس سب میں مجھے اُس (تائید خدائی) سے مخصوص کر کہ میں اِس (القا اور الہام) کو گرفت میں لے سکوں؛ تاکہ میں (رسول خدا کا) ترجمان بنوں اور اپنی ذات سے اِس میں تصرف نہ کروں۔” اور فرمایا: جب اللہ تعالی نے مجھے باطنی طور پر اُن باتوں پر مطلع کیا جو اِس امام اور والد اکبر میں ودیعت کی گئیں، تو میں نے اِس کتاب میں اِن میں سے وہی کچھ ذکر کیا جس کی مجھے اجازت دی گئی، نہ وہ کہ جن پر میں مطلع ہوا؛ کیونکہ یہ کتاب اور آج کا یہ عالم اِن (اسرار) کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ پس جس کا میں نے مشاہدہ کیا اور جو میں اِس کتاب میں لکھوں گا وہ اسی قدر ہو گا جس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے لکھنے کا حکم دیا۔” اِن عبارات سے واضح ہے کہ شیخ بھی اس کتاب کو لکھنے میں رسول اللہ کے ترجمان ہیں نہ کہ مولف۔ آپ کو انہی دقتوں کا سامنا ہے جو ایک مترجم کو ہوتا ہے۔ اس کتاب کی عبارات بھی اسی بات کی غماز ہیں اور یہی تو مولف اور مترجم کا فرق ہے۔ اور اس کتاب کے مشکل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ایک ترجمہ ہے۔

مخطوطات فصوص الحکم[ترمیم]

ابن عربی سوسائٹی ارکائیو کی آرکائیو میں فصوص الحکم کے 40 سے زائد مخطوطات کا حوالہ ملتا ہے، جن میں سے 7 نسخے تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایفکاف موسیسی 1933 اس کتاب کا اب تک ملنے والا بہترین نسخہ ہے، یہ شیخ صدر الدین قونوی کی روایت ہے جس پر دو سے زائد سماعات ثبت ہیں۔ اِس جدید متن کی تحقیق میں ہم نے مندرجہ ذیل مخطوطات کا سہارا لیا ہے۔ اس سلسلے میں ہم ابن عربی سوسائٹی اوکسفورڈ میں محترمہ جین کلارک کے مشکور ہیں کہ انہوں نے نہ صرف ہمیں یہ مخطوطات ارسال کیے بلکہ اپنی مکمل حمایت کا بھی یقین دلایا۔ مجلس شوری ملی ایران کا نسخہ ارسال کرنے پر ہم ابو احمد الانصاری کا دلی شکریہ ادا کرتے ہیں۔

مخطوط ایفکاف موسیسی 1933[ترمیم]

یہ اِس کتاب کا بیش قیمت مخطوط ہے، اگرچہ یہ شیخ اکبر کے ہاتھ سے لکھا نسخہ نہیں لیکن اصلی نسخے کی عدم موجودگی میں اور آپ کے شاگرد رشید شیخ صدر الدین قونوی کے خط میں ہونے کی وجہ سے یہ نسخہ اِس کتاب کا بہترین نسخہ معلوم ہوتا ہے، اِس کی ایک وجہ تو یہ عبارت ہے جو نسخے کے سرورق پر شیخ صدر الدین قونوی اور شیخ اکبر ابن العربی  کے خط میں درج ہے:
«إنشاء سيّدنا وشيخنا الإمام العالم الراسخ الفرد المحقّق محيي الملّة والدين أبو عبد الله محمد بن علي بن العربي الطائي الحاتمي الأندلسي رضي الله عنه وأرضاه رواية صدر الدين محمد بن إسحق بن محمد القونوي عنه (هذه العبارة والتي تليها بخط الشيخ الأكبر نفسه)
قرأ عليّ هذا الكتاب، من أوّله إلى آخره، الولد العارف المحقّق، المشروح الصدر، المنوَّر الذات، محمد بن إسحق بن محمد القونوي، مالك هذا الكتاب، وأذنت له في الحديث به عنّي، وكتب منشئه محمد ابن العربي في (غرة) جمادى الآخرة سنة ثلاثين وستمائة۔»
کتاب کے پہلے صفحے پر حاشیے میں وقف کی یہ عربی عبارت درج ہے: وقف الشيخ الإمام العالم الراسخ العلم الفرد وصدر الدين أبو المعالي محمد بن إسحق - رضي الله عنه وعن سلفه - هذا الكتاب على الدار الكتب المنشأة عند قبره، وشرطه أن لا يخرج منها بل ينتفع به هناك، فمن بدّله بعد ما سمعه فإنما إثمه على الذين يبدلونه إنّ الله سميع عليم۔ یہ بالکل ویسی ہی عبارت ہے جس کی مثال ہمیں فتوحات مکیہ کے اس مخطوط پر ملتی ہے جو شیخ اکبر نے اپنے ہاتھ سے لکھا۔ لہذا ہم نے اپنی تحقیق میں اسے نسخہ اصلی کا درجہ دیا ہے۔ نسخے کی کتابت میں سیاہ روشنائی کا استعمال کیا گیا ہے، عنوانات جلی حروف سے لکھے گئے ہیں جبکہ متن بھی واضح اور نمایاں ہے۔ مخطوط میں جا بجا حاشیے پر تصحیح کے آثار نظر آتے ہیں جن سے واضح ہے کہ – شیخ صدر الدین قونوی کے بیان کے مطابق – یہ نسخہ متعدد بار اصل سے ملا کر پڑھا گیا اور اس کی تصحیح کی گئی۔
مخطوط کے آخر میں یہ سماع درج ہے: سمع جميع هذا الكتاب على منشئه سيّدنا وإمامنا الإمام العالم الراسخ الفرد المحقّق محيي الملّة والدين أبي عبد الله محمد بن علي بن العربي الطائي الحاتمي الأندلسي أصحابُه الجماعةُ الجلة: زين الدين يوسف بن إبراهيم الشافعي، وجمال الدين محمد بن شرف الدين عبد القادر بن عبد الخالق بن خليل الأنصاري، وولد المسمَّع عماد الدين محمد بن سيّدنا الشيخ، وموفق الدين أبو القاسم أحمد بن علي (بن يهم) الأشبيلي القيسي، وسيف الدين علي بن عبد العزيز الحميري، وتقي الدين أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن علي اللواتي، صاحب الشيخ أكرمه الله وأرضاه، وذلك بقراءة تاج الدين عباس بن عمر السراج الأنصاري، وسمعه بالقراءة المذكورة وبقراءته أيضا غير مرّة كاتب الأحرف محمد بن إسحق بن محمد بن يوسف بن علي خادم الشيخ، وكان السماع بمجالس سيّدنا المسمَّع بدمشق، وكمل في يوم الجمعة في العشر الآخر من جمادى الأولى سنة ثلاثين وستمائة، والحمد لله وحده۔ بلغ سماعا وتصحيحا على الشيخ في العشر الآخر من جمادى الأولى سنة ثلاثين وستمائة، والحمد لله، وسلام على عباده الذين اصطفى۔
ہماری رائے میں اصل نسخے کی عدم موجودگی میں یہ اِس کتاب کا بہترین نسخہ ہے جو نہ صرف ہر طرح سے اسے شیخ کی کتاب ثابت کرتا ہے، بلکہ اغلاط سے پاک متن اور آسانی سے سمجھ میں آنے والے رسم الخط کی بدولت اپنے قاری کو اس کتاب کی حقیقی معرفت سے بھی قریب کرتا ہے۔

مخطوط مجلس شوری ملی ایران 2522[ترمیم]

خط نسخ میں لکھا یہ نسخہ مکتبہ مجلس شوری ملی ایران میں موجود ہے۔ نسخے پر جا بجا حاشیے میں موازنہ کیے جانے کے آثار موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نقل کرنے کے بعد اِس کو اصل نسخے سے چیک کیا گیا ہے۔ کاتب کا خط بہت نفیس ہے جس سے عبارت آسانی سے پڑھی جا سکتی ہے۔ اس نسخے میں جزوی اعراب لگائے گئے ہیں جو الفاظ کو متعین کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ عنوانات جلی حروف سے ممتاز کیے گئے ہیں جبکہ باقی متن سیاہ روشنائی سے لکھا گیا ہے۔
یہ نسخہ ایک ایسے مخطوط سے نقل شدہ ہے جو شیخ اکبر کے سامنے پڑھا گیا اور جس پر ان کے دستخط موجود تھے، یہ نسخہ سن 682 ھ میں نقل ہوا یعنی شیخ کی وفات کے 44 سال بعد۔ مخطوط کے آخر میں ہمیں یہ عبارت ملتی ہے: تمّ الكتاب، والحمد لله على كل حال، وصلواته على خير خلقه ومظهر حقّه، محمد صلّى الله عليه وعلى آله وأصحابه وأتباعه ومحبّيه وسلّم تسليما كثيرا۔ ووقع الفراغ من تحريره في يوم السبت التاسع من شہر الله الحرام ذي القعدة سنة اثنين وثمانين وستمائة، ونُسخ من نسخة قرئت منتسخها على منشئها وعليها خطّه۔ غفر الله تعالى لكاتبه ولصاحبه ولقارئه ولجميع المؤمنين والمؤمنات والمسلمين والمسلمات إنّه هو الغفور الرحيم الجواد الكريم الوهاب التوّاب۔

نسخہ شہید علی 1351[ترمیم]

ہماری تحقیق میں یہ نسخہ تیسرے نمبر پر ہے۔ پہلے دو مخطوطات کی طرح یہ بھی اِس کتاب کا ایک قدیمی نسخہ ہے۔ کتابت میں سرخ اور سیاہ روشنائی استعمال کی گئی ہے۔ عنوانات کو سرخ روشنائی سے واضح کیا گیا ہے جبکہ متن سیاہ روشنائی میں ہے۔ کتاب کے اختتام پر یہ عبارت درج ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ مخطوط وسط ربیع الاول سن 689 ہجری میں شہر کرمان میں نقل کیا گیا۔ اور اس نقل کے فوراً بعد اس کو اصل نسخے سے ملا کر مکمل طور پر جانچا گیا۔
اتّفق الفراغ من انتساخه في المدينة القطبية بكرمان لا زالت محفوفة بالميامن أختا للبلد الآمن، في أواسط شہر ربيع الأول لسنة تسع وثمانين وستمائة۔ اللهم انفع به الكاتب وكلّ من نظر فيه۔ وصلّى الله على نبيّه محمد وآله أجمعين الطاهرين۔
قوبل مرّة في أواخر ربيع الآخر التالي للشهر الذي انتسخ فيه۔
مخطوط میں کہیں کہیں نقص ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ عربی متن میں کیا ہے وہاں دیکھ لیا جائے۔ یہ نسخہ ایک ایسے مجموعے کا حصہ ہے جس میں شیخ اکبر کے 7 کتب ور سائل کو نقل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شیخ صدر الدین قونوی کی شروحات اور سعد الدین حمویہ کی چند کتب بھی اس مجموعے کا حصہ ہیں۔ شیخ اکبر کی کتب اور رسائل میں مواقع النجوم، کتاب الحجب، فصوص الحکم، نقش الفصوص، کتاب المبشرات، رسالہ الی امام الرازی شامل ہیں اور اصطلاحات صوفیہ نامی رسالہ شامل ہے۔

نسخہ فخر الدین خراسانی[ترمیم]

خط نسخ میں لکھا یہ نسخہ پاکستان کے ایک نجی کتب خانے کی زینت ہے، ابن العربی فاؤنڈیشن کے پاس اس نسخے کا ایک ڈیجٹیل سکین امیج موجود ہے جس کی بنا پراس سے موازنہ کیا گیا ہے۔ یہ نسخہ سن 814 ھ میں یمن کے شہر زبید میں نقل کیا گیا ہے اور کاتب نے اسے شیخ اکبر کی دیگر بہت سی کتب و رسائل کے ساتھ نقل کیا جن کی تعداد 60 سے زائد ہے۔ مکمل مجموعہ بڑے صفحے پر نقل کیا گیا ہے۔ اس مجموعے میں “فصوص الحکم” صفحہ نمبر 13 سے لے کر 55 تک ہے۔ نسخے کی تحریر آسانی سے پڑھی جا رہی ہے۔ حواشی میں موازنہ کیے جانے کے آثار بھی واضح ہیں جس سے اس کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ اِس نسخے کی عبارت کافی حد تک اصل کے قریب ہے اِس لیے یہ اس رسالے کا ایک بہترین نسخہ ہے۔ نسخے میں سرخ اور سیاہ دو طرح کی روشنائی استعمال کی گئی ہے۔ عنوانات کو سرخ روشنائی سے جلی حروف میں جبکہ متن سیاہ روشنائی سے لکھا گیا ہے۔ اس نسخے میں اشعار کو اصل عبارت کے ساتھ ہی لکھا گیا ہے اور انہیں علاحدہ سے ممتاز نہیں کیا گیا۔ کتاب کے آخر میں 21 جمادی الآخرة سن 814 ہجری کی تاریخ درج ہے اور کاتب کانام نسر بن محمد بن نسر المہجمی لکھا ہے۔
نسخے کے اختتام پر ہمیں یہ عبارت ملتی ہے: الحمد لله ربّ العالمين۔ وقع الفراغ من تنميق هذا الكتاب المبارك آخر نهار الثلاثاء الحادي عشر من شہر جمادى الأخرى سنة أربع عشرة وثمانمائة على يد العبد الفقير إلى ربه، الراجي غفران ربّه لذنبه، نسر بن محمد بن نسر المهجمي مولدا، الزبيدي مسكنا، الشافعي مذهبا، الزُّبيدي نسبا، حامدا لله ومصليا على رسوله محمد عليه أفضل الصلاة وأتم السلام، نفع الله لكاتبه ومن كُتب بسببه، ورزق فهم معانيه والعمل بما فيه، وختم للجميع بخير، آمين۔

نسخہ لندن[ترمیم]

یہ نسخہ لندن کے ایک نجی کتب خانے میں موجود ہے۔ صفحہ اول کے ایک حاشیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی دور میں یہ طریقہ خلوتیہ کے سید محمود الشریف کی ملکیت تھا۔ کتابت میں سرخ اور سیاہ روشنائی استعمال کی گئی ہے، عنوانات سرخ روشنائی سے جلی اور واضح ہیں۔ شروع میں فص ادریسی تک نسخہ صرف فصوص الحکم کا متن نقل کرتا ہے لیکن اس کے بعد یہی نسخہ اس کی شرح بن جاتا ہے، حاشیے میں کثرت سے فصوص کے متن کی شرح کی گئی ہے جس سے اس نسخے کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔
نسخے کے آخر میں یہ عبارت درج ہے جس سے اس کی تاریخ کتابت 797 ھ معلوم ہوتی ہے: تمّ بعون الله وحسن توفيقه على يد أفقر عبيده إلى عفوه وغفرانه بتفضله وامتنانه، إبراهيم بن محمد، غفر الله له ولوالده ولسائر المؤمنين أجمعين عامة ولمن قال آمين ۔۔ إنّه على ذلك قدير۔ وقت المغرب من يوم الاثنين التاسع عشر من ذي الحجة عمّت بركاته من شهور سنة سبع وتسعين وسبعمائة الهجرية، والحمد لله ربّ العالمين، وسلامه على سيدنا محمد وآله أجمعين۔

نسخہ اوقاف اسلامی 1882[ترمیم]

خط نسخ میں لکھا گیا یہ نسخہ اِس کتاب کا اچھا نسخہ ہے، کاتب مصطفی بن مصطفی بن محمد نے اسے محرم الحرام سن 815 ہجری میں نقل کیا ہے۔ عبارت میں سرخ اور سیاہ روشنائی استعمال کی گئی ہے۔ عنوانات سرخ اور متن سیاہ روشنائی سے لکھا گیا ہے۔ کہیں کہیں حاشیے میں تصحیح اور شرح کے آثار نمایاں ہیں۔
کتاب کے آخر میں یہ عبارت درج ہے: تمّت بعون الوجود، وهو يفيض الخير والجود، على يدي أفقر العباد، الذي لم يوجد مثله في الافتقار في البلاد، مصطفى بن سيّدي بن مصطفى بن سيّدي بن محمد، عفا الله عنهم، في شہر محرم الحرام في سنة خمسة عشر وثمان مائة۔

نسخہ میشیگن یونیورسٹی[ترمیم]

یہ کاتب احمد بن احمد بن ابی الخیر الشہیر بالحولی کے ہاتھ سے سن 1017 ہجری کا لکھا نسخہ ہے۔ دیگر نسخوں کی طرح اس میں بھی سرخ اور سیاہ روشنائی استعمال کی گئی ہے۔ کتاب کے آخر میں یہ عبارت درج ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ فقیر علی بن المعلم محمد الدمیاطی نے سن1026 ھ میں اس کا مطالعہ کیا : كمل الكتاب المبارك، بحمد الله وعونه وحسن توفيقه، يوم الأحد ثالث عشرين الحجة سنة سبعة عشر بعد الألف، أحسن الله عاقبته في خير، على يد أفقر عباد الله، أحمد بن أبي الخير الشهير بالحَوْلي، عفا الله عنا وعنه وعن المسلمين أجمعين، آمين۔
طالع في هذا الكتاب الفقير علي بن المعلم محمد الدمياطي سنة ستة وعشرين وألف من الهجرة النبوية، والحمد لله وحده۔

عربی و فارسی شروحات[ترمیم]

  • شرح جندی
  • مشارق النصوص الباحث عن غوامض الفصوص
  • شرح قیصری
  • شرح بابارکنا
  • شرح خواجہ پارسا
  • شرح الجامی علی فصوص الحكم
  • شرح نابلسی
  • تجليات عرائس النصوص فی منصات حكم الفصوص
  • الجانب الغربی فی مشكلات محيی الدين بن عربی
  • مجمع البحرين فی شرح الفصوص
  • بنصوص الخصوص
  • شرح کاشانی، عبد الرزاق کاشانی

ہند میں شرح فصوص کی روایت[ترمیم]

  • شرح فصوص الحکم از میر سید علی ہمدانی آپ 714ھ کو ایران میں پیدا ہوئے اور ==ہندوستان میں شرح فصوص کی روایت ==
  • شرح فصوص الحکم از میر سید علی ہمدانی آپ 714ھ کو ایران میں پیدا ہوئے اور 781ھ میں وطن چھوڑ کر کشمیر میں بسیرا ڈالا۔ آپ کثیر التصانیف بزرگ تھے اور آپ نے فصوص الحکم کی عربی میں شرح لکھی۔
  • شرح عین الفصوص از ابو المحاسن شرف الدین دہلوی (المتوفی 795ھ) اس شرح کا ایک قلمی نسخہ کتب خانہ حیدرآباد میں ہے۔
  • سید محمد گیسو دراز کی شرح فصوص: آپ چراغ دہلوی کے خلیفہ تھے۔ سن 721ھ میں پیدا ہوئے اور سن 825ھ میں وفات پائی۔ مولانا سلیمان ندوی ان کو چشتیہ سلسلہ کا "سلطان قلم" کہتے ہیں۔ انہوں نے فصوص الحکم کی ایک شرح لکھی۔ ان کے ملفوظات "جوامع الکلم" میں شیخ اکبر کا متعدد جگہ تذکرہ ملتا ہے۔
  • خصوص النعم فی شرح فصوص الحکم از شیخ مخدوم علی مہائمی آپ ہندوستان کے نہایت ہی مایہ ناز علما اور صوفیا میں سے تھے۔ شیخ اکبر کی تصانیف پر ان کو ایسا عبور تھا کہ بقول حکیم سید عبد المحئ انہیں "ابن عربی ثانی" کہا جا سکتا ہے۔ آپ کی شرح فصوص الحکم دار الکتب العلمیة بیروت سے شائع ہو چکی ہے اور فصوص الحکم کے مضامین کو سمجھنے کے لیے ایک بہترین کتاب ہے۔
  • شرح فصوص الحکم از شیخ عبد القدوس گنگوہی آپ چشتیہ صابریہ سلسلہ کے مشہور بزرگ تھے۔ آپ پر شیخ اکبر کے نظریات کا گہرا اثر تھا۔ محمد غوثی کے بیان کے مطابق آپ نے فصوص الحکم کی ایک شرح لکھی تھی۔[3]
  • شرح فصوص الحکم از شیخ عماد الدین عارف المعروف بہ عبد النبی شطاری آگرہ کے مشہور بزرگ شیخ عبد اللہ شطاری کے مرید تھے۔ آپ نے بھی فصوص الحکم کی شرح لکھی۔
  • جوامع الکلم فی شرح فصوص الحکم از شیخ علی اصغر قنوجی (1051–1140) آپ قنوج کے مشہور علما میں سے تھے۔ آپ نے فصوص الحکم کی ایک شرح لکھی جس کا ایک نادر نسخہ انڈیا آفس کے کتب خانہ میں ہے۔ نسخہ نمبر 1278۔
  • شرح فصوص الحکم از محمد افضل الہ آبادی آپ میر سید محمد کالپی کے مرید تھے۔ آپ نے بھی فصوص الحکم کی ایک شرح لکھی جو نہایت مقبول ہوئی۔ اب یہ شرح نایاب ہے۔
  • طریقة الامم فی شرح فصوص الحکم از شیخ نور الدین احمد آبادی آپ کا شمار گجرات کے مشاہیر علما میں ہوتا تھا۔ حکیم سید عبد الحی ان کے بارے میں لکھتے ہیں: علامہ وجہیہ الدین کے بعد گجرات میں باعتبار درس و تدریس و کثرت تصانیف ان سے بڑھ کر کوئی نہ ہوا۔[4]
  • شرح فصوص الحکم از شیخ محب اللہ الہ آبادی (متوفی سن 1058ھ) آپ کو ہندوستان میں ابن عربی ثانی کہا جاتا تھا۔ آپ نے عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں فصوص الحکم کی شرح لکھی۔[5] میں وطن چھوڑ کر کشمیر میں بسیرا ڈالا۔ آپ کثیر التصانیف بزرگ تھے اور آپ نے فصوص الحکم کی عربی میں شرح لکھی۔
  • شرح عین الفصوص از ابو المحاسن شرف الدین دہلوی (المتوفی 795ھ) اس شرح کا ایک قلمی نسخہ کتب خانہ حیدرآباد میں ہے۔
  • سید محمد گیسو دراز کی شرح فصوص: آپ چراغ دہلوی کے خلیفہ تھے۔ سن 721ھ میں پیدا ہوئے اور سن 825ھ میں وفات پائی۔ مولانا سلیمان ندوی ان کو چشتیہ سلسلہ کا "سلطان قلم" کہتے ہیں۔ انہوں نے فصوص الحکم کی ایک شرح لکھی۔ ان کے ملفوظات "جوامع الکلم" میں شیخ اکبر کا متعدد جگہ تذکرہ ملتا ہے۔
  • خصوص النعم فی شرح فصوص الحکم از شیخ مخدوم علی مہائمی آپ ہندوستان کے نہایت ہی مایہ ناز علما اور صوفیا میں سے تھے۔ شیخ اکبر کی تصانیف پر ان کو ایسا عبور تھا کہ بقول حکیم سید عبد المحئ انہیں "ابن عربی ثانی" کہا جا سکتا ہے۔ آپ کی شرح فصوص الحکم دار الکتب العلمیة بیروت سے شائع ہو چکی ہے اور فصوص الحکم کے مضامین کو سمجھنے کے لیے ایک بہترین کتاب ہے۔
  • شرح فصوص الحکم از شیخ عبد القدوس گنگوہی آپ چشتیہ صابریہ سلسلہ کے مشہور بزرگ تھے۔ آپ پر شیخ اکبر کے نظریات کا گہرا اثر تھا۔ محمد غوثی کے بیان کے مطابق آپ نے فصوص الحکم کی ایک شرح لکھی تھی۔[3]
  • شرح فصوص الحکم از شیخ عماد الدین عارف المعروف بہ عبد النبی شطاری آگرہ کے مشہور بزرگ شیخ عبد اللہ شطاری کے مرید تھے۔ آپ نے بھی فصوص الحکم کی شرح لکھی۔
  • جوامع الکلم فی شرح فصوص الحکم از شیخ علی اصغر قنوجی (1051–1140) آپ قنوج کے مشہور علما میں سے تھے۔ آپ نے فصوص الحکم کی ایک شرح لکھی جس کا ایک نادر نسخہ انڈیا آفس کے کتب خانہ میں ہے۔ نسخہ نمبر 1278۔
  • شرح فصوص الحکم از محمد افضل الہ آبادی آپ میر سید محمد کالپی کے مرید تھے۔ آپ نے بھی فصوص الحکم کی ایک شرح لکھی جو نہایت مقبول ہوئی۔ اب یہ شرح نایاب ہے۔
  • طریقة الامم فی شرح فصوص الحکم از شیخ نور الدین احمد آبادی آپ کا شمار گجرات کے مشاہیر علما میں ہوتا تھا۔ حکیم سید عبد الحی ان کے بارے میں لکھتے ہیں: علامہ وجہیہ الدین کے بعد گجرات میں باعتبار درس و تدریس و کثرت تصانیف ان سے بڑھ کر کوئی نہ ہوا۔[4]
  • شرح فصوص الحکم از شیخ محب اللہ الہ آبادی (متوفی سن 1058ھ) آپ کو ہندوستان میں ابن عربی ثانی کہا جاتا تھا۔ آپ نے عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں فصوص الحکم کی شرح لکھی۔[5]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://humshehrionline.com/?p=9594#sthash.qCIKkePQ.dpuf
  2. Empty citation (معاونت)
  3. ^ ا ب گلزار ابرار
  4. ^ ا ب یاد ایام
  5. ^ ا ب مقالہ شیخ اکبر محی الدین بن عربی اور ہندوستان از جناب خلیق احمد صاحب، مجلہ ب رہان دہلی۔