قاسم خاں جوینی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قاسم خاں جوینی
معلومات شخصیت
مقام پیدائش دکن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 28 ستمبر 1632  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ہوگلی-چنچرا،  وباندل،  وپرتگیزی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
گورنر صوبہ بنگال، مغلیہ سلطنت   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
فروری 1628  – 28 ستمبر 1632 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png مرزا فدائی خاں 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
پیشہ جرنیل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

قاسم خاں جوینی (وفات: 28 ستمبر 1632ء) مغلیہ سلطنت کا ایک امیر اور مغل جرنیل تھا جس نے عہد شاہجہانی اور عہدِ جہانگیری میں مغل دربار میں پنج ہزاری کے منصب پر اپنی خدمات سر انجام دیں۔

سوانح[ترمیم]

خاندان[ترمیم]

قاسم خان کے والد کا نام میر مراد جوینی تھا جو ایران کے جُوَین کے بزرگ سادات سے تعلق رکھتے تھے اور وہیں پیدا ہوئے تھے۔ بعد ازاں میر مراد دکن آگئے اور بڑی مدت تک دکن میں مقیم رہے جس کی نسبت اُنہیں میر مراد دَکنی بھی کہا جاتا ہے۔ شجاعت اور بہادری میں امتیاز رکھتے تھے۔ تیر اندازی کے فن میں لوگ اِنہیں اُستاد سمجھتے تھے۔ مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر نے اِنہیں شاہ جہاں کی تعلیم کے لیے مقرر کیا تھا اور 1602ء میں اِن کا اِنتقال لاہور میں ہوا۔[1]

ابتدائی حالات اور دربارِ شاہی میں ترقی[ترمیم]

قاسم خان کا سال پیدائش نامعلوم ہے، البتہ اُس کی پیدائش دکن میں ہوئی۔ اُس کی تعلیم اور اِبتدائی زِندگی کے متعلق شواہد موجود نہیں ہیں۔ ابتدا میں اسلام خاں چشتی فاروقی کی صوبیداریٔ بنگال صوبہ کے زمانہ میں بنگال صوبہ کا خزانچی تھا۔ اسلام خاں چشتی نے قاسم خاں اور اُس کے بھائی کی تربیت میں کافی کوشش کی۔ اسلام خاں چشتی خود نیک سیرت امیر تھا، لہٰذا اُس کی سرپرستی میں دونوں بھائیوں نے خوب ترقی کی۔ بعد ازاں قاسم کی شادی ملکہ نورجہاں کی بہن منیجہ بیگم سے ہو گئی تو اُسے مغل شہنشاہ نورالدین جہانگیر کی طرف سے ترقی کی امارت کے ساتھ ساتھ طبل و عَلَم کا عہدہ بھی دے دیا گیا۔ دربارِ شاہی کے ظریف لوگ اُسے ’’قاسم خاں منیجہ‘‘ بھی کہا کرتے تھے۔[2]

عہد جہانگیری میں[ترمیم]

مغل شہنشاہ نورالدین جہانگیر کے اواخر عہدِ حکومت میں وہ صوبہ آگرہ کی نظامت، قلعہ آگرہ اور اُس کے خزانوں کی حفاظت داری پر مقرر ہوا۔ 1627ء میں جب نورالدین جہانگیر کا اِنتقال ہوا تو شاہ جہاں تخت نشینی کے لیے چُنَیر (دکن) سے آگرہ کو روانہ ہوا تو قاسم خاں شاہ جہاں کے حضور حاضر ہوا اور شاہی عنایات سے سرفراز ہوا۔[2]

عہد شاہ جہانی میں[ترمیم]

شاہ جہاں کے پہلے سالِ جلوس (یعنی 1628ء) میں قاسم خاں پانچ ہزاری ذات اور پانچ ہزار سوار کے منصب پر فائز ہوا اور اُسے مرزا فدائی خاں کی بجائے صوبہ بنگال کا ناظم (گورنر) مقرر کر دیا گیا۔[2]

نظامت بنگال[ترمیم]

بنگال صوبہ کی نظامت میں قاسم خاں کو خاصی دشواری پیش آئی جب وہاں پرتگیزیوں نے لوٹ مار مچانی شروع کی۔ شاہ جہاں تخت نشیں ہونے سے قبل جب ہوگلی گیا تھا تو بندرگاہ پر انگریزوں پر پرتگالیوں کے مظالم سے آگاہ ہوا تھا۔ جب قاسم خاں کو گورنر مقرر کیا گیا تو اُسے حکم دیا گیا کہ وہ پرتگالیوں کو وہاں سے نکال باہر کرے۔1631ء میں قاسم خاں نے اپنے لڑکے عنایت اللہ کو اللہ یار خاں کے ہمراہ روانہ کیا۔قاسم خاں نے ہوگلی کا محاصرہ کرنے کے لیے فوج روانہ کی جنہوں نے کشتیوں کے ایک بیڑے سے دریاء کے راستے بند کردیے۔ لشکر نے ایک دم یلغار کرکے ہوگلی کا محاصرہ کر لیا۔ تقریباً ساڑھے تین مہینے یہ محاصرہ جاری رہا۔ آخر کار خندقوں سے قاسم خاں کے لشکر نے پرتگالیوں پر یورش کردی اور فتح یاب ہو گئے۔ ہوگلی پر مغلوں کا قبضہ 25 ستمبر 1632ء کو ہوا۔[2][3][4]

وفات[ترمیم]

ہوگلی کی فتح کے تین دِن بعد 28 ستمبر 1632ء کو قاسم خاں نے طبعی وفات پائی۔[5]

ماقبل 
مرزا فدائی خاں
ناظم صوبہ بنگال
(مغلیہ سلطنت)

فروری 1628ء28 ستمبر 1632ء
مابعد 
میر محمد باقر اعظم خاں

مزید دیکھیے[ترمیم]

  • صمصام الدولہ شاہنواز خان: مآثر الامراء، جلد 3، صفحہ 55۔ مطبوعہ لاہور
  • ^ ا ب پ ت صمصام الدولہ شاہنواز خان: مآثر الامراء، جلد 3، صفحہ 56۔ مطبوعہ لاہور
  • S. M. Ikram۔ Muslim Civilization in India۔ Columbia University Press۔ صفحات 175–188۔ آئی ایس بی این 978-0-231-02580-5۔
  • William J. Duiker؛ Jackson J. Spielvogel۔ World History: From 1500۔ Cengage Learning۔ صفحات 431, 475۔ آئی ایس بی این 978-0-495-05054-4۔
  • صمصام الدولہ شاہنواز خان: مآثر الامراء، جلد 3، صفحہ 58۔ مطبوعہ لاہور