مسجد الجن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مسجد الجن سعودی عرب میں واقع ایک مسجد ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جِنوں کے ایک گروہ کو دین اور توحید کی دعوت دی ،اور وہ قرآن پاک پر ایمان لائے۔آج کل وہاں ایک مسجد "مسجد الجن" کے نام سے تعمیر کی گئی یہ اس کا نام ہے۔

اس کی شروعات ان کے قرآن مجید سننے اور اس سے متاثر ہونے کے واقعہ سے ہوئی ،مزید تفصیل سورةالجن کی آیت میں ملاحظہ ہو: جنوں کی ملاقات کا تذکرہ سورۂ احقاف میں بھی آیا ہے (آیت نمبر : 29 ) اکثر مفسرین کے نزدیک یہ دو الگ الگ واقعے ہیں ، سورۂ احقاف میں جن جنوں کی آمد کا تذکرہ ہے ، وہ اہل کتاب تھے اور یہاں جن جنوں کا ذکر آیا ہے ، وہ مشرکین تھے ، مفسرین کے یہاں اس سلسلہ میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جو جن آئے ، کیا آپ ﷺ نے ان کو دیکھا بھی تھا یا صرف انھوں نے آپ ﷺ کی بات سنی تھی ؟ حضرت عبد اللہ بن عباس ﷟ کی روایت ہے کہ آپ نے جنوں کو دیکھا نہیں تھا ، صرف ان کی آواز سنی تھی اور حضرت عبد اللہ بن مسعود ﷟ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے جنوں کو دیکھا بھی ہے اور آپ ﷺ سے ان کی ملاقات بھی ہوئی ہے ؛ اس لیے مفسرین نے دونوں کے درمیان تطبیق کی یہ شکل اختیار کی ہے کہ ایک موقع پر آپ ﷺ نے جنوں کو دیکھا ہے اور یہ وہ موقع ہے جب حضرت عبد اللہ بن مسعود آپ کےساتھ تھے اور یہاں جس واقعہ کا ذکر ہے ، اس میں جنوں سے آپ ﷺ کی ملاقات نہیں ہوئی ہے ، انھوں نے صرف آپ ﷺ کی آواز سنی ہے ۔

حدیث سے اس واقعہ کی یہ تفصیل معلوم ہوتی ہے کہ یوں تو آغاز کائنات ہی سے یہ نظم کیا گیا ہے کہ آسمان تک شیطان کی رسائی ہ ہو ، جب وہ آسمان کی طرف چڑھتا تو اس پر شہاب ثاقب کے گولے پھینکے جاتے تھے ، جس کی وجہ سے ان کا وہاں چڑھنا آسان نہیں ہوتا تھا ؛ لیکن پھر بھی شیطان اور اس کے چیلوں کو روکنے میں اتنی سختی نہیں برتی جاتی تھی ، بعض جِنات چوری چُھپے کہیں بیٹھ کر عالَم غیب کی باتیں سن لیا کرتے تھے ؛ لیکن اُن کو اندازہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اب اس نظام کو اور سخت کر دیا گیا ہے اور اب کسی کے چوری چھپے بھی وہاں پہنچنے کی گنجائش نہیں یا یہ ہے کہ پہلے بھی ’’ شہاب ثاقب ‘‘ گراکرتے تھے ؛ لیکن ان سے شیطان کو بھگانے کا کام نہیں لیا جاتا تھا ، اب یہ کام لیا جانے لگا ہے ، اس نئے نظام کو دیکھ کر انھیں خیال ہوا کہ شاید اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص بات آئی ہے ، جبھی تو عالم بالا کے نظام کی حفاظت بڑھادی گئی ہے ؛ چنانچہ انھوں نے اس کی کھوج میں زمین پر چکر لگانا شروع کیا اور دیکھتے دکھاتے ان کا گزر اس مقام سے ہوا ، جہاں رسول اللہ ﷺ قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے ، قرآن کی کشش ، اس کی اثر انگیزی اور اس کے مضامین کی وجہ سے جنوں نے فوراً اندازہ لگالیا کہ یہ ربانی کلام ہے ؛ چنانچہ انھوں نے پوری توجہ سے قرآن کریم سنا اور پھر انھوں نے یہاں تک پہنچنے کی جو داستان سنائی اور باہمی مشورے کیے ، سورہ کے آغاز سے لے کر آیت نمبر : 14 تک اسی کو نقل کیا گیا ہے ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جنات نے اپنے قبیلے میں واپس پہنچ کر بتایا کہ ہم نے ایک عجیب و غریب کلام سنا ہے ، جو ہدایت کا راستہ بتاتا ہے ؛ اس لیے ہم تو اس پر ایمان لاچکے اور ہم نے طے کر لیا ہے کہ ہمیں شرک نہیں کرنا چاہیے اور یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہم میں سے جو لوگ ناروا باتیں کیا کرتے تھے ، وہ بے وقوف ہیں ، یوں تو انسانوں اور جنوں دونوں ہی میں ایسے لوگ موجود ہیں ؛ لیکن جنوں کو بگاڑنے اور ان کے غرور کو بڑھانے میں انسانوں کا بھی حصہ ہے ؛ کیوں کہ وہ مصیبتوں میں اور ایسے ویرانوں میں جہاں انسان کو گھبراہٹ ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ کی بجائے جنات کی پناہ لینے لگتے ہیں ؛ چنانچہ عربوں کا طریقہ تھا کہ اگر دورانِ سفر ان کسی ویران وادی میں رات بسر کرنی پڑتی تو وہ جناتوں کی پناہ کے کلمات کہا کرتےتھے ، پھر انھوں نے اپنے آنے کا سبب بتایا کہ ہم نے دیکھا کہ آسمانوں کا پہرا سخت ہو گیا ہے اور ہم جہاں چوری چھپے بیٹھ جایا کرتےتھے ، وہاں بھی ’’ شہاب ثاقب ‘‘ کا حملہ ہورہا ہے تو ہم نے سمجھا کہ ضرور کوئی بات ہوئی ہے ؛ لیکن یہ اندازہ نہیں ہو سکا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین میں بسنے والوں کے لیے کسی برائی کا فیصلہ کیا گیا ہے یا بھلائی کا ؟ یعنی ہوسکتا ہے کہ کسی نبی کی بعثت ہوئی ہو اور اس پر فرشتے کلام الٰہی بے روک ٹوک لے کر جائیں ، اس لیے خصوصی حفاظتی انتظام کیا گیا ہو ، انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہم میں اچھے لوگ بھی ہیں اور بُرے لوگ بھی ؛ لیکن ہمیں یقین ہے کہ اللہ کی تدبیر کے مقابلہ ہم بالکل عاجز ہیں ؛ اس لیے اس پیغام ہدایت کو سنتے ہی بلا تاخیر ہم اس پر ایمان لے آئے ، آگے انھوں نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے گا ، وہ نقصان سے محفوظ رہے گا اور حق کی راہ پالے گا ۔ [1] [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر قرطبی : 19؍ 1 تا 16
  2. تفسیر کبیر : 15؍ 755 تا 774