مصطفٰی زیدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مصطفٰی زیدی
معلومات شخصیت
پیدائش 16 اکتوبر 1930  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الہ آباد  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 12 اکتوبر 1970 (40 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعۂ پشاور  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
تمغائے قائد اعظم   ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

اردو کے جدید شعرا میں ایک اہم نام۔ جن کی نظمیں داخل اور خارج کا حسین امتزاج ہیں۔ تیغ الہ آبادی کے نام سے بھی لکھتے رہے۔

تعارف[ترمیم]

سید مصطفٰی حسین زیدی کی پیدائش 10 اکتوبر 1930ء کو ایک متمول خاندان میں ہوئی تھی ان کے والد سید لخت حسین زیدی سی آئی ڈی کے ایک اعلیٰ افسر تھے۔ مصطفٰی زیدی بے حد ذہین طالب علم تھے۔ الہ آباد یونیو رسٹی سے انہوں نے گریجویشن کیا تھا اور صرف 19 سال کی عمر میں ان کا شعری مجموعہ ”موج مری صدف صدف“ کے عنوان سے شائع ہوا تھا جس کا دیباچہ فراق گورکھپوری نے لکھا تھا اور فراق صاحب نے ان کی شکل میں ایک بڑے شاعر کی پیش گوئی کی تھی۔ کسی حد تک تو یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی لیکن بے وقت موت نے ان کا شعری سفر اچانک ختم کر دیا۔ چالیس سال کی زندگی میں ان کے چھ مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے مرنے کے بعد ان کی کلیات کلیاتِ مصطفٰی زیدی کے نام سے شائع ہوئی۔

معاشقے[ترمیم]

مصطفٰی زیدی اسلامیہ کالج کراچی اور اسلامیہ کالج پشاور میں انگریزی کے استاد رہے۔ اس زمانے میں بیرون ملک سے اساتذہ بالخصوص خواتین تعلیمی اداروں میں پڑھانے پاکستان آتی تھیں۔ پشاور یونیورسٹی اسلامیہ کالج میں بھی ایک خوبرو امریکن استانی پروفیسر مس سمتھ پر زیدی کی دل پھینک طبیعت نے پیش دستی کی اور ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان کے بقول، 'فنکار کی ہر خواہش جائز ہے'

اپنے ایک مضمون 'پاگل خانہ' میں لکھتے ہیں، 'میں چھبیس سال کا ہو چلا تھا اور مزاج کے اعتبار سے عشق پیشہ بھی۔ پچھلے پانچ سالوں میں میں نے سات لڑکیوں سے محبت کی تھی اور ان میں سے تین کے لیے خودکشی کی نوبت آ چکی تھی'

زیدی کے وہ معاشقے جو بدنامی کی حد تک مشہور ہوئے ان میں سے سروج بالا سرن (آلہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شنکر سرن کی بیٹی)، سرلا کپور (کرسچن کالج الہ آباد کی ہم جماعت طالبہ)، پریم کمار جین (کرسچن کالج الہ آباد میں ہم جماعت خوبرو لڑکا جس کے نام مجموعہ روشنی معنون ہے)، مس سمتھ (شعبہ جغرافیہ، پشاور یونیورسٹی کی استانی)، ویرا فان (جرمن دوشیزہ جس سے شادی کی)، دختر صادق (مسعود اشعر کے نام خط میں زیدی نے اس کا ذکر کیا ہے)، شہناز گل (گوجرانولہ کے کشمیری خاندان سے تعلق رکھنے والی اور کراچی جمخانہ کے ممبر سلیم کی بیوی) شامل ہیں۔

کراچی آمد[ترمیم]

مصطفٰی زیدی 1951ء میں کراچی چلے گئے تھے۔ کچھ دن وہ اسلامیہ کالج پشاور میں بطور استاد تعینات رہے۔ وہاں سے نکالے گئے۔ پھر انہوں نے سی ایس پی کا امتحان دیا جس میں کامیابی حاصل کی اور اہم عہدوں پر کام کیا۔ لیکن بار بار کے مارشل آزادیِ فکر کا گلا گھونٹ دیا تھا جس کی باز گشت ان کے اشعار میں سنی جا سکتی ہے۔

جس دن سے اپنا طرزِ فقیرانہ چھٹ گیا
شاہی تو مل گئی دلِ شاہانہ چھٹ گیا

موت یا خودکشی[ترمیم]

وہ جب کراچی میں اسسٹنٹ کمشنر تھے اسی وقت جنرل یحییٰ خاں کے عتاب کے بھی شکار ہوئے اور یحییٰ خاں نے جو 303 افسران کی ہٹ لسٹ تیار کر رکھی تھی اس میں مصطفٰی زیدی کا نام بھی تھا مگر فوجی آمر کی گولیوں سے قبل وہ کسی بڑی سازش کا شکار ہو گئے اور اس کا سبب بنی ایک خاتون شہناز گل، جس کے باعث مصطفٰی زیدی کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ان کی لاش 12 اکتوبر 1970ء کو کراچی کے ان کے دوست کے بنگلے سے ملی تھی۔ جس پر بعد میں تحقیقاتی کمیشن بھی بنا تھا اور مقدمہ بھی عدالت میں گیا تھا۔ یہ مقدمہ اخبارات نے اس قدر اچھالا کہ مہینوں تک اس پر دھواں دھار بحثیں ہوتی رہیں۔ عدالت نے طویل رد و کد کے بعد فیصلہ دیا کہ یہ قتل نہیں بلکہ خودکشی تھی اور شہناز گل کو بری کر دیا۔

کمرے میں مردہ پائے گئے۔ اس وقت ان کی عمر چالیس برس تھی۔ ایک خوبرو عورت شہناز گل کو پو لیس نے حراست میں لے کر شامل تفتیش کیا۔ یہ خاتون وہی شہناز تھی جو ان کی چند معروف نظموں کا عنوان ہے۔ مصطفٰی زید ی کی مو ت کے بارے میں دو آرا سامنے آئیں۔ اول یہ کہ شہناز گل نے انہیں زہر دیا اور دوم یہ کہ نامور شاعر نے خودکشی کی تھی۔ لیکن اس پراسرار مو ت کی وجہ آج تک معلوم نہ ہو سکی۔ شہناز گل کو رہا کر دیا گیا۔ اس رات کو کیا ہو ا جب یہ نامور شاعر ہوٹل میں ٹھہرا تھا۔ کوئی گواہ یا ایسی شہادت نہ مل سکی جس سے اس راز سے پر دہ اٹھ سکتا۔ اسی کا کہا ہوا شعر اس پر صادق آیا۔

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

شہناز[ترمیم]

شہناز گل کے لیے مصطفٰی زیدی نے کئی غزلیں اور نظمیں کہی تھیں جن میں یہ شعر بہت مشہور ہے:

فنکار خود نہ تھی مرے فن کی شریک تھی
وہ روح کے سفر میں بدن کی شریک تھی

نمونہ کلام[ترمیم]

مصطفٰی زیدی کو جس درد و کرب سے گزرنا پڑا اس کی باز گشت ان کی غزلوں کے اشعار میں سنائی دیتی ہے۔ خاص طور پر ان کی مشہور غزل میں تو یہ کرب بار بار اتر آتا ہے:

کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے
غمِ دل مرے رفیقو غمِ رائیگاں نہیں ہے
کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی ہم زباں نہیں ہے
فقط ایک دل تھا اب تک سو مہرباں نہیں ہے
مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو
مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے
کسی آنکھ کو صدا دو کسی زلف کو پکارو
بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

مصطفٰی زیدی جوش ملیح آبادی سے متاثر تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی شاعری میں جوش جیسی گھن گرج نہیں ہے۔ لیکن زیدی نے بھی کربلا کے استعارے کو بہت خوبصورتی سے استعمال کیا ہے:

ایسی سونی تو کبھی شامِ غریباں بھی نہ تھی
دل بجھے جاتے ہیں اے تیرگیِ صبح وطن

میں اسی کو ہ صفت خون کی ایک بوند ہوں جو
ریگ زارِ نجف و خاکِ خراساں سے ملا

جدید غز ل کی تشکیل میں مصطفٰی زیدی کا بہت اہم حصہ ہے اور ان کے شعری مجموعے موج مری صدف صدف، شہر آرزو، زنجیریں، کوہ ندا اور قباے سازاردو کے شعری ادب میں اضافہ کی حیثیت رکھتے ہیں:

غمِ دوراں نے بھی سیکھے غم جاناں کے چلن
وہی سوچی ہوئی چالیں وہی بے ساختہ پن
وہی اقرار میں انکار کے لاکھوں پہلو
وہی ہونٹوں پہ تبسم وہی ابرو پہ شکن

حدیث ہے کہ بھولا گناہ گار نہ ہو
گناہ گار پہ پتھرسنبھالنے والے
خود اپنی آنکھ کی شہتیر کی خبر رکھیں
ہماری آنکھ سے کانٹے نکالنے والے

اب تو چبھتی ہے ہوا برف کے میدانوں کو
ان دنوں جسم کے احساس سے جلتا ہے بدن<br /

مجھ کو اس شہر سے کچھ دور ٹھہر جانے دو
میرے ہم راہ میری بے سرو سامانی ہے
اس طرح ہوش گنوانا بھی کوئی بات نہیں
اور یوں ہو ش میں رہنے میں بھی نادانی ہے

طالب دستِ ہوس اور کئی دامن تھے
ہم سے ملتا جو نہ یوسف کے گریباں سے ملا

لوگوں کی ملامت بھی ہے ِ خود درد سری بھی
کس کام کی اپنی یہ وسیع النظری بھی
کیا جانیئے کیوں سست تھی کل ذہن کی رفتار
ممکن ہوئی تاروں سے مری ہم سفر ی بھی