مفتی صابر محمود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

پیدائش:[ترمیم]

مفتی صابر محمود صاحب صدر جمیعت علما اسلام ضلع گلگت حاجی جمعہ خان صاحب (صدر انجمن تاجران گلگت بلتستان)کے سب سے چھوٹے فرزند اور استاذ جامعہ فارقیہ کراچی ابوالخیر مفتی عارف محمود صاحب کے چھوٹے بھائی ہیں۔آپ کی  پیدائش 1 مارچ 1985 کو پاکستان کے پانچویں صوبے گلگت بلتستان کے مشہور شہر گلگت ،محلہ کشروٹ میں ہوئی۔آپ کے سب سے بڑے بھائی مولانا خالد محمود صاحب فاضل جامعہ فاروقیہ کراچی ایک جید عالم ہیں اور آرمی پبلک اسکول اینڈکالج گلگت میں پروفسر ہیں۔[1]

تعلیم:[ترمیم]

آپ نے ناظرہ قرآن پاک مرکزی جامع مسجد محمدی کشروٹ میں حضرت قاری سلیم صاحب سے حاصل کی۔اور مقامی ایک اسکول سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ اسی تعلیمی درانیہ میں آپ نے تبلیغی جماعت کے ساتھ چارماہ لگائے۔اور آپ نےافغانستان کادروہ بھی فرمایا۔

اور پھراعلی تعلیم کے لئےآپ جامعہ فاروقیہ کراچی چلے گئے جہاں آپ نے اپنے بڑےبھائی مولانا خالد محمودصاحب اورابوالخیر مفتی عارف محمود صاحب کی نگرانی میں جامعہ فاروقیہ کراچی سے درس نظامی کی تعلیم مکمل کی جس کے بعدجامعہ عمرگڈاپ ٹاؤن فقہ میں تخصص کیا۔ درس نظامی کے ساتھ ساتھ کراچی  یونیورسٹی سے BA کا امتحان دیا۔اور اردو یونیورسٹی کراچی سے ایم فل کر رہے ہیں۔

اساتذہ:[ترمیم]

مفتی صاحب نے جن سلاطین علم سے استفادہ کیا ہے ان حضرات میں مشہور اساتذہ میں سےشیخ الکل حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب،شیخ الحدیث حضرت مولانامحمد انور صاحب،حضرت مولانا ڈاکٹر عادل خان صاحب ،حضرت مولانا یوسف افشانی صاحب،حضرت مولاناعبیداللہ خالد صاحب،حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب،حضرت مولانا نور البشر صاحب ،حضرت مولانا منظور احمد مینگل صاحب،حضرت مولانا محمدعظیم صاحب وغیرہ ہیں۔

اجازت:[ترمیم]

آپ بخاری شریف درسًاشیخ الکل حضرت مولانا سلیم صاحب رحمہ اللہ سے پڑھی اور اجازت حدیث بھی حاصل کی اور ان کے علاوہ آپ نے اپنے وقت کے تقریباً تمام جید علما کرام سے حدیث کی اجازت حاصل کی۔ ان علماءمیں مولاناحبیب اللہ گلگتی صاحب رحمہ اللہ (فاضل دار العلوم دیوبند) اور ان میں مفتی محمدتقی عثمانی کے علاوہ بھی شامل ہیں۔

تدریس:[ترمیم]

مفتی صابر محمود صاحب تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں۔ آپ فراغت کے بعدایک سال تک جامعہ طیبہ گلشن اقبال 13D2 میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔اس کے بعد حضرت مناظر اسلام حضرت مولاناڈاکٹر منظور احمد مینگل صاحب کے مدرسے(جامعہ صدیقیہ نزد گلشن معمار کراچی) میں تدریس کی اور نائب ناظم تعلیمات کے فرائض انجام دیتے رہے ہیںاور آپ چند سالوں سے جامعہ انوارالعلوم شاد باغ ملیر ہالٹ میںشرح معانی الاثار کا درس دے رہے ہیں۔

زیردرس کتب:[ترمیم]

مفتی صاحب اپنے تدریسی زمانے میں مختلف کتب پڑھاتے رہے ہیں جو درجہ ذیل ہیں

ارشاد صرف،نحومیر،اجرا الصرف ،زادالطالبین،مختصر القدوری ،معلم الانشاء،تیسیرالمنطق ،المرقات،ایساغوجی ،القرأۃ الراشدہ،کنزالداقائق ،اصول الشاشی،قطبی ،شرح تہذیب ،،ریاض الصالحین،شرح الوقایہ،منتخب الحسامی،ھدایہ ،مسند امام اعظم،شرح معانی الاثار۔

  اس کے علاوہ مختلف جامعات(کراچی  یونیورسٹی،اردو یونیورسٹی کراچی اور علامہ اقبال اوپن اردو یونیورسٹی) کے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کے لیے مقالہ نویسی کی تربیتی مجالس کا اہتمام وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔جس میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ آپ سے اپنےمقالات کے سلسلے میں استفادہ کرتے ہیں۔

تصانیف:[ترمیم]

مفتی صاحب کو تصانیف کا ذوق و شوق زمانہ طالبعلمی ہی سے تھا،چنانچہ زمانہ طالبعلمی اپنے مادرعلمی جامعہ فاروقیہ کراچی کے جداریہ ”روشنی“ کے مدیر رہے اور موقع بموقع طلبہ کرام کو مضمون نویسی کی مشق کرواتے تھے، زمانہ طالبعلمی ہی اپنے اساتذۃ کے دروس کو لکھنے کا خوب اہتمام کیا کرتے تھے آپ کی تصنیف ”درس مسند امام اعظم“ اور دروس ترمذی (جو حضرت مولانا منظور احمد مینگل کے دروس کا مجموعہ ہے) شرح ترمذی اس کی نظیر ہے۔

آپ کی تصانیف کی تفصیل درجہ ذیل ہے

  • تبلیغی جماعت(حضرت مولانا و مفتی محمود حسن گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات، فتاویٰ اور بیانات کے روشنی میں)
  • درس مسند امام عظم
  • آسان اصطلاحات حدیث
  • تذکرہ شیخ الکل مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہ
  • سفر کے آداب و مسائل
  • حیض و نفاس کے شرعی احکام(زیر طبع)
  • شعبان المعظم کے فصائل و مسائل
  • تجلیات شرح مختارات
  • قربانی کے فضائل و مسائل(رسالہ)
  • دروس ترمذی (جومولانا منظور احمد مینگل صاحب کے دروس کا مجموعہ ہے،زیر طبع)
  • محرم الحرام کے فصائل و مسائل
  • صفرالمظفر کے فصائل و مسائل
  • شیخ الکل مولانا سلیم اللہ خان صاحب کی تحریکی خدمات (زیر طبع)
  • مُظہر الانوار اردو شرح نورالانوارز(زیر طبع)
  • سجدہ سہو کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا(زیر طبع)[2]

تبلیغی خدمات[ترمیم]

مفتی صاحب نےسن 2000ء میں تبلیغ جماعت کے چہار ماہ کا سفر فرمایا،اور فراغت کے متصل بعد ایک سال تبلیغی جماعت کے ساتھ سفر فرمایا۔جس میں پاکستان کے پانچوں صوبوں میں عامۃ الناس کو دعوت دین کی اہمیت اور دین کی حقیقت اور دین کی محنت کے سلسلے میں جمع فرماتے رہے اور لوگوں کو اس مبارک عمل میں وقت لگانے کی ترغیب دیتے رہے ۔

  1. Empty citation (معاونت)
  2. Empty citation (معاونت)