وامق جونپوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وامق جونپوری
Wamik Jaunpuri.jpg
پیدائش سید احمد مجتبیٰ
23 اکتوبر 1909(1909-10-23)ء
کجگاؤں، جونپور، اترپردیش، برطانوی ہندوستان
وفات 21 نومبر 1998(1998-11-21) (عمر  89 سال)
جونپور، اترپردیش، بھارت
قلمی نام وامق جونپوری
پیشہ شاعر
زبان اردو
شہریت Flag of بھارتبھارتی
تعلیم ایل ایل بی
مادر علمی لکھنؤ یونیورسٹی
اصناف نظم، غزل
ادبی تحریک ترقی پسند تحریک
نمایاں کام چیخیں
شبِ چراغ
سفرِ ناتمام
اہم اعزازات اترپردیش اردو اکادمی ایوارڈ
سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ

دستخط

احمد مجتبیٰ المعروف وامق جونپوری (انگریزی: Wamiq Jaunpuri)، (پیدائش: 23 اکتوبر، 1909ء - وفات: 21 نومبر، 1998ء) بھارت کے ممتاز ترقی پسند شاعر تھے۔ وہ اپنی نظم بھوکا بنگال سے شہرت رکھتے ہیں۔

حالات زندگی و فن[ترمیم]

وامق جونپوری 23 اکتوبر، 1909ء کوکجگاؤں، جونپور، اترپردیش،برطانوی ہندوستان کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے[1][2][3]۔ ان کا اصل نام سید احمد مجتبیٰ زید الواسطی تھا اور والد کا نام سید محمد مصطفی خاں تھا۔ ان کی ابتدائی تعلیم اردو فارسی عربی ( میزان منشعب تک) اورانگریزی مکتبی صورت میں گھرپر ہوئی۔ بعد ازاں وہ اپنے آبائی جونپور سے بارہ بنکی چلےگئے جہاں ان کے والد صوبائی سول سروس میں تھے اور یہاں اردو، فارسی اور عربی کے عالم مولوی متوسط حسین زید پوری ان کے اتالیق مقرر ہوئے۔ بارہ بنکی سے ہائی اسکول کی تعلیم، فیض آباد گورنمنٹ انٹر کالج سے انٹر میڈیٹ کیا اور لکھنؤ یونیورسٹی کیننگ کالج سے بی اے اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کر کے 1937ء میں تعلیم کا سلسلہ ترک کر دیا۔ اس کے بعد ضروری ٹریننگ لے کر 1939ء میں فیض آباد میں وکالت شروع کردی۔[1]

انہوں نے ایک آسودہ حال زمینداراور سرکاری نوکری پیشہ خاندان میں آنکھ کھولی تھی۔ شعور تک پہنچتے پہنچتے انہوں نے ماحول کی قدیم روایت پسند اور انگریز پرست ذہنیت سے مزاجاًمتنفر ہو گئے۔ لیکن مزاج میں خاندانی تہذیب میں حفظ مراتب اور بزرگوں کے احترام کا رنگ اس قدرپختہ تھا کہ انحراف یا بغاوت تو درکنار اپنے خیالات کا اظہار بھی بعد از تصور تھا۔ البتہ جب وہ لکھنؤ یونیورسٹی میں داخل ہوئے تو وہاں آزادی اور غلامی کا براہ راست تصادم دیکھنے میں آیا۔ یونیورسٹی میں بھی اور اس کے باہر بھی آرگینک کمسٹری کے ان کے استاد ڈاکٹر حسین ظہیر آئے دن قید ہو کر جیل جایا کرتے تھے اور تحریک آزادی شباب پر تھی۔ انہیں ڈاکٹر حسین ظہیر نے انہیں پروفیسر ڈی پی مکرجی سے ملوایا۔ ان کی قربتوں اور صحبتوں نے آزادی فکر و نظر کا وہ راستہ دکھایا۔ ان کے سیاسی، سماجی اور جمالیاتی شعور کو نئی جلا نصیب ہوئی۔ یہ وہی زمانہ تھا جب سجاد ظہیر نے ادبی محاذ پر رجعت پرستی اور غلامی کے خلاف منشی پریم چند کی صدارت میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی لکھنؤ میں بنیاد رکھی تھی۔ وکالت کی ٹریننگ کے بعد جب فیض آباد میں انہوں نے پریکٹس شروع کی تو وہاں اچھا خاصہ ادبی ماحول ملا۔ یہاں شعری نستیں اورمشاعرے ہوتے تھے۔ فیض آباد سے قربت کی وجہ سے اکثر جگر مراد آبادی، مجروح سلطانپوری، خمار بارہ بنکوی اور مسعود اختر جمال و دیگر شعرا وہاں آجایا کرتے تھے۔ 1941ء میں گورکھپور کے ایک مشاعرہ میں انجمن ترقی پسند مصنفین کا باقاعدہ ملی ممبر بن گئے۔[1]

1942ء میں وکالت ترک کرکے تلاش معاش کے سلسلے میں دہلی چلے گئے۔ دوسری عالمی جنگ اپنے پورے شباب پر تھی۔ یہاں تلا ش معاش سے کم شعر و شاعری سے زیادہ سروکار رہا۔ دہلی سے بے نیل مرام 1943ء میں جونپور واپس آگئے۔ جونپور میں ایک دن گذارنے کے بعد وہ کلکتہ چلے گئے جہاں قحط بنگال کے دل خراش مناظر دیکھے، واپسی پر نظم بھوکا بنگال لکھی جس کے بعد ان کا شمار صف اول کے ترقی پسند شعرا میں ہونے لگا۔ بیکاری سے تنگ آکر انہوں نے بنارس کے محکمہ سپلائی وارشننگ میں نوکری کر لی اور ایک سال میں ترقی کرکے راشننگ افسر بن گئے۔ مگر اپنی تخلیقات پر اس نوکری کو حاوی نہیں ہونے دیا۔ وہ بالاعلان مشاعروں اور جلسوں میں اپنی انقلابی نظمیں پڑھتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ اور ہندستان تقسیم ہو چکا تھا۔ تقسیم ہند کے نتیجے میں ہجرت اور فسادات کا حشر برپا تھا۔ ان دنوں وامق الہ آباد میں متعین تھے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ چیخیں 1948ء میں وہیں سے شائع ہوا تھا جس میں تقسیم، فسادات اور مہاتما گاندھی کے قتل پر نظمیں شامل تھیں۔ 1950 ء میں نوکری سے مستعفی ہو گئے اور اسی سال ان کی نظموں کا دوسرا مجموعہ جرس دانش محل سے شائع ہوا۔ 1952ء تک بے روزگاری کی وجہ سے گھر پر رہے۔ زمینداری بھی ختم ہو چکی تھی مگر جب فاقو ں کی نوبت آگئی تو میں پھر دہلی چلے گئے اور ڈھائی سو روپے ماہوار پر ماہنامہ شاہراہ کا مدیر مقرر ہوئے۔ 1943ء - 1944ء تک وہیں دہلی میں رہے، بعد ازاں ڈاکٹر ذاکر حسین انہیں اپنے ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی لے گئے اور انجینئری کالج کے دفتر کا سپرنٹنڈنٹ بنا دیا۔ یہاں رہائش کے لیے انہیں ایک مکان مل گیا، اہل و عیال بھی یہیں آگئے اور بچوں کی باقاعدہ تعلیم بھی شروع ہو گئی۔[1]

1961ء میں علی گڑھ سے کشمیر چلے گئے اور نو برس وہاں نوکری کرکے 1970ء میں ریٹائر ہو کر اپنے آبائی وطن واپس آگئے۔ 1979ء میں ان تیسرا شعری مجموعہ شب چراغ شائع ہوا جس پر انہیں اتر پردیش اردو اکادمی کا پہلا ایوارڈ ملا اور 1980ء میں ادبی خدمات پر سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ ملا۔ ان کا چوتھا شعری مجموعہ سفر نا تمام 1990ء میں شائع ہو کرمنظر عام پر آیا۔[1]

شعری مجموعے[ترمیم]

اعزازات[ترمیم]

  • اترپردیش اردو اکادمی ایوارڈ
  • سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ
  • میر اکادمی ایوارڈ

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

دل کے ویرانے کو یوں آباد کر لیتے ہیں ہمکر بھی کیا سکتے ہیں تجھ کو یاد کر لیتے ہیں ہم
جب بزرگوں کی دعائیں ہو گئیں بیکار سبقرض خواب آور سے دل کو شاد کر لیتے ہیں ہم
تلخی کام و دہن کی آبیاری کے لیےدعوت شیراز ابر و باد کر لیتے ہیں ہم
کون سنتا ہے بھکاری کی صدائیں اس لیےکچھ ظریفانہ لطیفے یاد کر لیتے ہیں ہم
جب پرانا لہجہ کھو دیتا ہے اپنی تازگیاک نئی طرز نوا ایجاد کر لیتے ہیں ہم
دیکھ کر اہل قلم کو کشتۂ آسودگیخود کو وامقؔ فرض اک نقاد کر لیتے ہیں ہم[4]

غزل

ابھی تو حوصلۂ کاروبار باقی ہے یہ کم کہ آمد فصل بہار باقی ہے
ابھی تو شہر کے کھنڈروں میں جھانکنا ہے مجھےیہ دیکھنا بھی تو ہے کوئی یار باقی ہے
ابھی تو کانٹوں بھرے دشت کی کرو باتیںابھی تو جیب و گریباں میں تار باقی ہے
ابھی تو کاٹنا ہے تیشوں سے چٹانوں کوابھی تو مرحلۂ کوہسار باقی ہے
ابھی تو جھیلنا ہے سنگلاخ چشموں کوابھی تو سلسلۂ آبشار باقی ہے
ابھی تو ڈھونڈنی ہیں راہ میں کمیں گاہیںابھی تو معرکۂ گیر و دار باقی ہے
ابھی نہ سایۂ دیوار کی تلاش کروابھی تو شدت نصف النہار باقی ہے
ابھی تو لینا ہے ہم کو حساب شہر قتالابھی تو خون گلو کا شمار باقی ہے
ابھی یہاں تو شفق گوں کوئی افق ہی نہیںابھی تصادم لیل و نہار باقی ہے
یہ ہم کو چھوڑ کے تنہا کہاں چلے وامقؔابھی تو منزل معراج دار باقی ہے[5]

وفات[ترمیم]

وامق جونپوری 21 نومبر، 1998ء کو جونپور، بھارت میں وفات پا گئے۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]